0 ایک منٹ مطالعہ
امیرالمؤمنین علی ؑ نے حسن بصری کو امت کا سامری قرار دیا
ابو یحییٰ واسطی کہتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین شہر بصرہ کو فتح کر چکے تو دوسرے روز صبح کچھ لوگ آپ ؑ سے ملاقات کیلئے آئے۔ ان کے درمیان حسن بصری بھی تھا جو ایک کاغذ پر امیر المؤمنین ؑ کے کلمات لکھ رہا تھا۔ امیر المؤمنین ؑ نے بلند آواز سے کہا، کیا کر رہے ہو؟
حسن بصری نے کہا: آپ ؑ کے آثار و کلمات لکھ رہا ہوں تا کہ آپ ؑ کے بعد دوسروں سے بیان کروں۔
امیر المؤمنین ؑ نے فرمایا: آگاہ ہو جاؤ کہ ہر قوم و گروہ میں ایک سامری ہوتا ہے اور یہ شخص تم لوگوں کا سامری ہے۔ موسیٰ ؑ کی امت کا سامری لوگوں کی مصاحبت و ہم نشینی و انس سے محروم ہو گیا تھا۔ جو اس کے پاس پہنچتا اس سے کہتا میرے قریب نہ آؤ، مجھے مت چھوؤ، ملاقات نہ کرو۔ یہ شخص بھی ہمیشہ یہی بات کہے گا اور جو اس کے پاس جائے گا یہ اس سے کہے گا: لا قتال، لا قتال، جنگ نہیں چاہئے، جنگ نہیں چاہئے۔
مآخذ: احتجاج طبرسی، جلد اول، ترجمہ اردو، صفحہ 259، ادارہ تحفظ حسینیت، 2009۔
مزید تفصیل کیلئے مولانا نعمت علی سدھو کی کتاب تحفہ صوفیہ سے رجوع فرمائیں۔
