امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا: میرے آباء و اجداد سے مجھ تک پہنچا ہے کہ حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ یہود، نصاریٰ، دہریہ، مانویہ اور بت پرست، ان پانچ فرقوں کے پیشواؤں میں سے کچھ متفق ہو کر رسول اکرم ؐ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے رسول خدا ؐ سے مناظرہ کرنا شروع کیا۔
پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا: کس بنیاد پر تم کہتے ہو کہ دنیا کی تمام موجودات قدیم ہیں اور ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی، ان کا کوئی آغاز و انجام نہیں ہے؟
دہریوں نے کہا: ہم جو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں اس کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ چونکہ ہم نے کسی چیز کا آغاز نہیں دیکھا اور نہ ان کے انجام وفنا کو دیکھتے ہیں، لہٰذا حکم لگاتے ہیں کہ موجودات عالم ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔
رسول خدا ؐ نے فرمایا: کیا تم نے اپنی آنکھ سے ہر چیز کی ہمیشگی وابدیت اور قدامت کو دیکھا ہے؟ اگر تم مشاہدہ کا دعوی کرتے ہو تو تم کو بھی اس عقل و فکر اور قوت بدنی کے ساتھ از لی وابدی ہونا چاہئے تا کہ تمام چیزوں کی ابدیت و ازلیت کو دیکھ سکو، جبکہ یہ خود بر خلاف حس و حقیقت ہے اور تمام عقلاء و افراد بشر کے علم و مشاہدہ کے خلاف ہے۔ یقینا تم ایسا دعوی ہرگز نہیں کرو گے۔
دہریوں نے کہا: درست ہے، ہم نے موجودات کے قدیم ہونے اور باقی ہونے کا مشاہدہ نہیں کیا ہے۔
رسول خدا ؐ نے فرمایا: اس صورت میں تم توقف کرو اور کسی ایک طرف کا حکم نہ لگاؤ۔ تم نے اپنے دعوی کے مطابق نہ تو اشیاء کے حدوث کو دیکھا ہے اور نہ ان کے قدیم ہونے کو، ایسے ہی ان کی بقا یا فنا کا بھی مشاہدہ نہیں کیا ہے۔ پس تم کیسے ایک طرف کا انتخاب کر کے دوسری طرف کی نفی کرو گے؟
کیا تم شب و روز کو دیکھتے ہو کہ مسلسل پے در پے جاری و ساری ہیں؟
دہریوں نے کہا: ہاں!
رسول خدا ؐ نے فرمایا: کیا رات و دن کا آنا جانا پہلے زمانہ سے تھا اور بعد تک رہے گا؟
انہوں نے کہا ہاں!
رسول خدا ؐ نے فرمایا: کیا ممکن ہے کہ یہ ترتیب بگڑ جائے اور دونوں ایک ساتھ جمع ہو جائیں؟
انہوں نے کہا: ممکن نہیں ہے۔
رسول خدا ؐ نے فرمایا: اس صورت میں دونوں ایک دوسرے سے جدا ہیں اور جب ایک کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو دوسرا اس کے بعد آجاتا ہے۔
انہوں نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے۔
رسول خدا ؐ نے فرمایا: تم نے رات اور دن کے حادث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ کیا تمہارے نزدیک شب و روز کیلئے کوئی ابتداء ہے یا وہ ازلی و غیر متناہی ہیں؟
پہلی صورت میں ان کا حادث ہونا ثابت ہو گا۔ دوسری صورت میں تمہیں کہنا پڑے گا کہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز اختتام و انتہا رکھتی ہو وہ آغاز کے اعتبار سے لامتناہی ہو؟
انہوں نے کہا: درست ہے۔
رسول اکرم ؐ نے فرمایا: تم موجودات کے قدیم ہونے کے معتقد ہو، کیا تم نے تحقیق کی غرض سے اس عقیدے کے بارے میں غور و فکر کیا ہے؟
انہوں نے کہا ہاں، ہم نے غور کیا ہے۔
رسول خدا ؐ نے فرمایا: کیا تم دیکھ رہے ہو کہ تمام موجودات عالم ایک دوسرے کے محتاج اور باہم مرتبط ہیں، یہ اپنی موجودگی اور بقا میں ایک دوسرے کی نیاز مند ہیں؟
جیسا کہ عمارت کیلئے ضروری ہے کہ پتھر، مٹی، پانی اور لکڑی وغیرہ سب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور مددگار ہوں، تاکہ ایک عمارت کھڑی رہ سکے۔ اشیائے عالم بھی ایسے ہی ہیں، جب ہم دنیا کی اشیاء اور تمام موجودات کو باہم مرتبط اور محتاج دیکھ رہے ہیں تو قدیم کیسے مان سکتے ہیں؟
اس صورت میں حادث کے معنی کیا ہوں گے؟ تمہارے عقیدہ میں جو چیزیں قدیم ہیں اگر وہ حادث ہوتیں تو کیسی ہوتیں؟
یہ جماعت بھی رسول اکرم ؐ کے سامنے مغلوب و متحیر ہوگئی اور حادث کے معنی کی وضاحت اور اس کے آثار و علامات کے بیان سے عاجز ہوگئی۔ کیونکہ حدوث کے معنوں کے بارے میں ان کا جو خیال تھا، پیغمبر ؐ نے وہی ان موجودات کے بارے میں ثابت کر دیا جس کو وہ قدیم مانتے تھے۔ اس طرح وہ محزون و مغموم ہوئے اور کہا کہ اس بارے میں غور و فکر کیلئے ہم مزید وقت چاہتے ہیں۔
مآخذ: احتجاج طبرسی، جلد اول، ترجمہ اردو، صفحات 33، 34، ادارہ تحفظ حسینیت، 2009۔
مزید تفصیل کیلئے مولانا نعمت علی سدھو کی کتاب تحفہ صوفیہ سے رجوع فرمائیں۔



