متفرق شخصیات

امام حسن عسکری ؑ کا فرقۂ فلاسفہ کے بانی سے مناظرہ

1 ملاحظات

تعارف

اسحاق کندی عباسی بادشاہوں مہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے ادوار میں عراق کے شہر کوفہ کا حاکم تھا۔ وہ اشعث ابن قیس کندی کی نسل سے تھا۔ اس کا بیٹا یعقوب بن اسحاق کندی، جو اسحاق کندی کے نام سے بھی مشہور ہے، سنہ 801ء میں پیدا ہوا۔ وہ عرب فلسفے کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ عباسی بادشاہ مامون اور معتصم باللہ کے دربار سے منسلک رہا، لیکن متوکل کے کینے کا نشانہ بنا۔ سید ابن طاوس اور آقا بزرگ تہرانی نے اسے شیعہ قرار دیا ہے، تاہم اس کا مسلمانوں کے فرقۂ فلاسفہ کا بانی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وہ گمراہی کا شکار تھا۔ ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی نے سنہ 873ء میں وفات پائی۔

وہ ان چند افراد میں سے تھا جنہوں نے سریانی اور یونانی زبانوں سے یونانی علوم اور فلسفوں کو عربی زبان میں منتقل کرنے کی مہم میں حصہ لیا۔ مسیحی فلسفی ابن ناعمہ حمصی، جس نے فلوطین کی کتاب تاسوعات کے چند ابواب کو اثولوجیا کے عنوان سے ترجمہ کر کے غلطی سے ارسطو سے منسوب کیا، کندی ہی کی زیرنگرانی کام کرتا تھا۔ فلوطین بابائے تصوف افلاطون کا پیروکار تھا جبکہ ارسطو نے افلاطون کے عالم مثال والے تصور کو رد کیا تھا۔ بہر حال ابن ناعمہ حمصی کی اس فاش غلطی کی وجہ سے مسلم فلاسفہ یونانی فلسفیوں کے اختلافات کو مٹانے میں وقت ضائع کرتے رہے۔

کندی نے یونانی فلسفے کے علاوہ مفید علوم، جیسے حساب، فلکیات، منطق، طب وغیرہ پر بھی کتابیں لکھیں، اگرچہ یہ کتابیں جدید دور میں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔

مناظرہ

ابن شہر آشوب نے مناقب میں اور علامہ مجلسی نے بحار الأنوار میں ابو القاسم کوفی کی کتاب التبدیل سے نقل کیا ہے کہ اسحاق کندی جو کہ فیلسوف عراق تھا، اس نے اپنی عمر کے آخر میں ایک کتاب کی تالیف تناقض قرآن میں شروع کی اور خود کو اس کام میں اتنا مشغول کیا کہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنے گھر میں رہتا اور ہمیشہ اسی کام میں مصروف رہتا۔ یہاں تک کہ اس کا ایک شاگرد امام حسن عسکری ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

حضرت ؑ نے اس سے فرمایا کیا تم میں کوئی شخص رشید نہیں کہ تمہارے استاد کندی کو اس شغل سے روکے کہ جو اس نے اپنے لیے قرار دیا ہے؟ وہ شاگرد کہنے لگا ہم کس طرح اس پر اس امر میں اعتراض کر سکتے ہیں، ہماری طرف سے یہ کام مناسب نہیں ۔

حضرت ؑ نے فرمایا اگر میں تمہیں کوئی بات سمجھاؤں تو تم وہ اس تک پہنچاؤ گے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا اس کے پاس جاؤ اور اس سے انس حاصل کرو، اس کی موانست و اعانت لطف و مدارت کر کے کرو۔ جب تم دونوں میں انس پیدا ہو جائے تو اس سے کہو کہ ایک مسئلہ میری نظر میں آیا ہے میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے پوچھوں۔

پھر اس سے کہو کہ اگر آپ کے پاس کوئی قرآن کے متعلق گفتگو و بحث کرنے والا آئے اور کہے کہ کیا یہ جائز وممکن ہے کہ خداوند عالم نے اس کلام سے جو قرآن میں ہے اس معنی کے علاوہ کسی معنی کا جو آپ نے گمان کیا ہے ارادہ فرمایا ہو؟

وہ جواب میں کہے گا ہاں جائز ہے، کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جو بات کو سمجھ لیتا ہے۔ پس اس سے کہو کہ شاید خداوند عالم نے قرآن میں اس معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد لیا ہو، جو معنی آپ نے اس کا لیا ہے اور اسے خدا کی مراد و مقصد سمجھا ہے اور آپ اس معنی کے علاوہ کچھ اور سمجھ رہے ہیں۔

پس وہ شاگرد کندی کے پاس گیا اور اس سے ملاطفت و موانست کی، یہاں تک کہ اس پر وہ مسئلہ القاء کیا جو حضرت ؑ نے اسے تعلیم دیا تھا۔

کندی کہنے لگا اس مسئلہ کا مجھ پر اعادہ کرو، اس نے دوبارہ اسے بیان کیا۔ اس نے اس میں غور و فکر کیا تو اس نے لغت و نظر کی بناء پر جائز اور متحمل پایا کہ کوئی دوسرا معنی مراد ہو۔ اس نے کہا کہ میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ مجھے بتا یہ مسئلہ تجھے کس نے تعلیم دیا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ ممکن ہے یہ بات میرے دل میں آئی ہو۔ وہ کہنے لگا اس طرح نہیں ہے جو تو کہتا ہے، کیونکہ یہ ایسا کلام نہیں جو تجھ سے سرزد ہو، کیونکہ تو ابھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچا کہ اس کا مطلب سمجھ سکے۔ لہٰذا مجھے بتا کہ تو نے یہ کہاں سے لیا ہے۔

وہ کہنے لگا کہ امام حسن عسکری ؑ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ کندی کہنے لگا اب تو نے حقیقت حال کو بیان کیا ہے۔ اس قسم کے مطالب صرف یہی خانوادہ بیان کر سکتا ہے۔ پھر آگ منگوائی اور جو کچھ اس سلسلے میں تالیف کر رہا تھا سب جلا دیا۔ (1)، (2)

یہ بھی پڑھئے: فتنۂ فلسفہ و فلاسفہ – آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

آخری زمانے کے فلاسفہ اور صوفیاء

امام حسن عسکری علیہ السلام نے آخری زمانے کے فتنوں کے بارے میں فرمایا:

”اے ابو ہاشم ! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اُن کے چہرے ہنستے مسکراتے اور ہشاش بشاش ہوں گے لیکن ان کے دل تاریک اور میلے ہوں گے۔ وہ سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت سمجھیں گے۔ مؤمن ان کے لئے حقیر و خوار ہو گا جبکہ فاسق شخص کی اُن کے یہاں بہت قدر و قیمت ہوگی۔ ان کے حکمران جاہل اور ظالم ہوں گے اور ان کے علماء ظالموں کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے۔ ان کے ثروتمند، فقیر و نادار لوگوں کو لوٹنے والے ہوں گے۔ ان کے کم عمر اور مبتدی لوگ اپنے بزرگوں سے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔ ہر جاہل و نادان ان کے ہاں عالم اور طاقتور ہو گا جبکہ ہر حیلہ باز بھکاری کو وہ مسکین اور نادار سمجھیں گے۔ لوگ خالص دل والے اور شک کرنے والے میں فرق نہیں کر سکیں گے ۔ گویا وہ بھیڑ اور بھیڑئیے کے بیچ فرق نہیں کر سکیں گے۔ اُن کے علماء زمین پر خدا کی بدترین مخلوق ہوں گے کیونکہ وہ فلسفہ اور تصوف کی طرف راغب ہوں گے۔ خدا کی قسم ! یہ ٹیڑھے راستوں کے راہی ہوں گے ۔ وہ ہمارے مخالفین کی محبت میں مبالغے سے کام لیں گے اور ہمارے شیعوں اور موالیوں کو گمراہ کریں گے۔ اگر کوئی عہدہ و منصب اُنہیں مل جائے تو رشوت خوری سے سیر نہیں ہوں گے۔ اور اگر ذلیل و رسوا ہو جائیں تو دکھاوے اور ریا کاری کے لئے عبادت کرنے لگیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ ایسے لوگ مؤمنین کے راستوں کے ڈاکو ہیں۔ وہ الحاد کی طرف بلانے والے ہیں۔ پس جو بھی ایسے لوگوں کو پائے وہ ان سے دوری اختیار کرے اور اپنا دین و ایمان بچائے۔“ (3)

یہ بھی پڑھئے: شیعہ علماء کے لباس میں یونانی تصوف کی ترویج نہ کی جائے۔ آیۃ اللہ سید جعفر سیدان

حوالہ جات

1۔ مولانا سید صفدر حسین نجفی، احسن المقال، جلد 2، صفحہ 273، مصباح القرآن ٹرسٹ، 2014ء۔

2۔ علامہ باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 50، صفحہ 311، موسسۃ الوفاء۔

3۔ محدث نوری، مستدرک الوسائل، جلد 11، صفحہ 380، بیروت۔

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button