ڈاکٹر علی شریعتی (متوفیٰ 1977ء) ایران کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہے اور اس کی کئی کتب اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ یہاں اس کی زندگی اور نظریات کا ایک مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔
فہرست
خاندانی پس منظر
ڈاکٹر علی شریعتی کا تعلق خراسان کے ایک تصوف زدہ خاندان سے تھا۔ اس کے پردادا ملا قربان علی حکیم کو اہلِ علاقہ نے دینی رہنمائی کیلئے مزینان آنے کی دعوت دی تھی۔ وہ اپنے دور میں ملا صدرا کے صوفیانہ فلسفے پر یقین رکھنے والے چند ایک علماء میں سے تھے۔ علی شریعتی نے اپنی کتاب ”کویر“ میں اپنے پردادا سے منسوب کی گئی ”کرامات“ بیان کی ہیں۔ اس کے مطابق اس کے پردادا پر ”جذبہ“ کی حالت طاری ہوتی تھی اور قصبے والے انہیں ”ولی اللہ“ سمجھتے تھے۔
مزینان صحرائے کویر کے کنارے پر آباد ایک قصبہ تھا۔ علی شریعتی کے والد محمد تقی مزینانی شریعتی نے مشہد سے سطوح تک دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزینان واپس جانے کے بجائے مشہد کے ایک سکول میں بطورِ استاد ملازمت اختیار کر لی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد سے ایران میں کمیونسٹ حضرات کی تبلیغی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں، جو اسلام کو اسی عینک سے دیکھتے تھے جس عینک سے روسی کمیونسٹ مسیحیت کو دیکھتے تھے۔
استاد محمد تقی شریعتی نے دین پر ان کے اعتراضات کا جواب دینے کیلئے تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا اور 1944ء میں ایک ادارہ ”قانونِ نشرِ حقائقِ اسلامی“ قائم کیا۔ 1953ء میں امریکہ نے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا خاتمہ کروایا تو مشہد میں یہ ادارہ ان کے حامیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ اس دوران جناب محمد نخشب کی سربراہی میں چلنے والی تنظیم ”نہضتِ خدا پرستانِ سوشلسٹ“ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ بیس سالہ جوان علی شریعتی نے بھی اسلام کو سوشلسٹ آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کرنے والی اس تنظیم کی رکنیت اختیار کر لی۔
ابتدائی زندگی
1933ء میں محمد تقی شریعتی اور زہرا شریعتی کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کا نام محمد علی شریعتی رکھا گیا۔ یہ جوڑا پابندِ شرع تھا، گھر کا ماحول روایتی تھا، لیکن اسلام کو اس دور کے سیاسی نظاموں کی طرح کے ایک نظام کے طور پر سمجھنے لگا تھا۔ 1941ء میں علی شریعتی نے اسی پرائیویٹ سکول میں داخلہ لے لیا جس میں اس کے والد ملازمت کرتے تھے۔ پرائمری سکول میں ہی وہ والد سے متاثر ہو کر غیر نصابی مطالعے میں مصروف ہو گیا اور وکٹر ہوگو کے ناول Les Misérables کا فارسی ترجمہ پڑھ ڈالا۔ والد سے ہی اس نے عربی زبان میں مہارت بھی حاصل کر لی۔
ہائی سکول پہنچ کر اس میں قدیم فلسفے اور تصوف میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور والد کے کتب خانے میں ہی اس کا بیشتر وقت گزرنے لگا۔ اس دوران وہ جدید ادب سے بھی آشنا ہوا۔ اس نے ایران کے صادق ہدایت، نیما یوشیج، اخوان ثالث کے علاوہ بیلجیئم کے مسیحی صوفی موریس میٹرلنگ، آسٹرین لکھاری فرانز کافکا اور جرمن لکھاری شوپنہاؤر کی کتابوں کے تراجم بھی پڑھے۔ نوجوان علی اپنے ہم جماعتوں میں اپنی ذہانت کے ساتھ ساتھ ہنسی مذاق اور طنز و ہجو کیلئے بھی مشہور تھا۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد علی شریعتی کیلئے زندگی بے معنی ہو گئی۔ شریعتی کا بچپن رضا خان کی آمریت میں گزرا تھا تو جوانی اس کے بیٹے رضا شاہ پہلوی کی آمریت کی زبان بندی کو جھیل رہی تھی۔ اس گھٹن کی وجہ سے اس کے دماغ میں خودکشی کے خیالات آنے لگے۔ لیکن اسی دوران وہ مولوی رومی کی شاعری پڑھنے لگا۔ اس عمر کے فکری اضطراب کے بارے میں علی شریعتی نے کئی سال بعد اپنی کتاب ”کویر“ میں لکھا:
مرگ و زندگی دو کفۂ ہم سطح بودند اما مثنوی، کفۂ زندگی را سنگینتر کرد و مرگ را که از آن بینصیب بود، محکوم ساخت.
ترجمہ: ”تب میرے لئے زندگی اور موت کے پلڑے برابر تھے لیکن رومی کی مثنوی نے زندگی کے پلڑے کو بھاری کر دیا اور موت کو، کہ جو مثنوی سے دور کر دیتی، میری نظر سے گرا دیا۔“
حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان کو آزادئ اظہار میسر نہ ہو تو وہ ذہن کی پیاس کو تنقیدی فکر سے بجھانے کے بجائے صوفیانہ پہیلیوں سے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔
1950ء میں ہائی سکول سے نکل کر علی شریعتی نے مشہد کے ایک کالج میں داخلہ لیا اور ہوسٹل میں رہنے لگا۔ وہاں دو سالہ قیام کے دوران اس نے حضرت ابوذر غفاری ؓ کو بطورِ خاص پسند کرنا شروع کر دیا۔ تاہم وہ ان کی شخصیت میں تصوف اور سوشلزم کا امتزاج پاتا تھا۔ کالج سے فارغ ہو کر اس نے ایک پرائمری سکول میں بطورِ استاد ملازمت شروع کر دی اور ایک مصری مصنف عبدالحمید جودہ کی کتاب ”أبوذر الغفاری“ کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ گویا وہ پڑھنے کی عمر میں ہی لکھنے لگا تھا۔ ناپختگی کی وجہ سے اس نے اس کتاب میں جگہ جگہ اپنی ذاتی آراء اور تبصروں کو بھی شامل کر دیا جس سے یہ کتاب اصل عربی متن سے بہت مختلف ہو گئی۔ اس کتاب میں حضرت ابوذر غفاری ؓ کی شخصیت کو زمان و مکان سے ہٹا کر سرد جنگ کے کمیونسٹ پروپیگنڈے کے مطابق ڈھال دیا گیا تھا۔
شریعتی کی روح کو چین نہیں تھا۔ مصدق اور پارلیمانی سیاست کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے وہ جمہوریت سے مایوس ہو چکا تھا اور تمامیت خواہی (totalitarianism) کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔ تصوف کی پرانی شراب نے اسے مست کر دیا تھا۔ اس نے جب مصدق کے خلاف امریکہ، فوج اور بعض علماء کو متحد دیکھا تو کمیونسٹوں کی طرح مسلمانوں کے دینی رہنماؤں کو بھی پاپائیت جیسا منظم ادارہ سمجھ لیا جو دولت مندوں اور طاقتوروں کے ساتھ مل کر ایسی مثلث بنا چکا تھا جس نے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہوا تھا۔ 1953ء میں جناب محمد حسین طباطبائی کی کتاب ”اصولِ فلسفہ“ کو حکومت کی طرف سے سال کی بہترین کتاب کا انعام دیا گیا۔ 1954ء میں اکیس سالہ علی شریعتی ڈاکٹر مصدق کی حکومت کی بحالی کیلئے ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے گرفتار ہوا۔
1955ء میں علی شریعتی نے مشہد یونیورسٹی کے شعبہ ادب میں داخلہ لیا اور ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی۔ وہیں علی شریعتی اور فاطمہ پوران نے ایک دوسرے کو ہمسفر کے طور پر پسند کیا اور 1958ء میں دونوں نے شادی کر لی۔ اگلے سال ان کے ہاں بیٹے احسان کی پیدائش ہوئی اور علی شریعتی کو یونیورسٹی کی طرف سے فرانس میں اعلٰی تعلیم کیلئے وظیفے کی پیشکش ہوئی۔ وہ اسے قبول کر کے پیرس چلا گیا۔ ایک سال بعد اس کی بیوی، بچہ اور رومی کی مثنوی بھی اس کے پاس پہنچ گئے۔
پیرس میں
نیا ملک، نئی زبان اور نئی ثقافت، پیرس میں 26 سالہ علی شریعتی کیلئے سب اجنبی تھا۔ عوام کی اکثریت مسیحی تھی، لیکن ان کے مذہب میں شریعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بظاہر دین اور اخلاقیات سے دور معلوم ہوتے تھے۔ یورپ دو تباہ کن جنگوں کے اثرات سے نکل رہا تھا اور دنیا پر اپنا استعماری غلبہ کھو چکا تھا۔ امریکہ اور روس دو نئی طاقتیں تھیں جن میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈے کا مقابلہ بھی جاری تھا۔ تاہم کئی صدیوں پر محیط روشن فکری کا ورثہ ترقی یافتہ زبانوں اور نظامِ تعلیم کی شکل میں ابھی بھی یورپ کے پاس تھا جس کی مدد سے یورپی مفکرین نئی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یورپ کو افلاطون (Plato) اور فلوطین (Plotinus) کی صوفیانہ سوچ کو چھوڑے ہزار سال بیت چکے تھے۔
رومی سے متاثر ہونے کی وجہ سے علی شریعتی کا ذہن ابھی تک فلوطین کی سوچ کا اسیر تھا۔ اسے یورپ کی تنقیدی سوچ پسند نہ آئی اور وہ اسے مطعون کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اس زمانے میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کمیونزم کے مقابلے کیلئے اخوانی آئیڈیالوجی تشکیل دے رہے تھے۔ لیکن یہ مسلمانوں کے نادان دوست تھے اور اگے چل کر ان کی آئیڈیالوجی سے دہشتگردی کا جنم ہوا۔ روایتی سنی علماء نے دین کی اس نظریاتی تفسیر کی مخالفت کی۔
انسان کا بچپن جس ماحول میں گزرا ہو اس کے اثرات ساری عمر اس کے ذہن پر رہتے ہیں، مگر یہ کہ محمد ؐ وآل محمدؑ کے خالص توحیدی معارف کا جامِ کوثر اس کی روح کو شاداب کر دے۔ تعجب کی بات نہیں کہ جمال الدین افغانی، ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا تعلق بھی تصوف زدہ خاندانوں سے تھا۔ وہ اگرچہ صوفیوں کی بدکاریوں کی مخالفت کرتے تھے لیکن ان کا تصورِ کائنات تصوف زدہ تھا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا تو یہ کہنا ہے کہ اقبال بھی آخری عمر میں وحدت الوجود کے عقیدے کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ خود ڈاکٹر اسرار احمد بھی سیاسی تصوف کے ایک سلسلے کا بانی ہے، جسے تنظیمِ اسلامی کہا جاتا ہے۔
یہ سنئے: ڈاکٹر اسرار احمد کے عقیدۂ وحدت الوجود کا رد – مولانا نعمت علی سدھو
بہرحال سرد جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اخوان المسلمون کی سوچ کو کمیونزم کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایران میں سید قطب جیسے اخوانی مصنفین کی کتب عربی سے فارسی میں ترجمہ ہونے لگیں۔ ادھر پیرس میں علی شریعتی کا ذہن اسی بحران سے دوچار تھا جس بحران سے سید قطب کا ذہن امریکہ میں اس کے قیام کے دوران گزرا تھا۔
پیرس میں وہ مختلف پروفیسروں کے لیکچرز میں جاتا رہا۔ اس نے سوشیالوجی، تاریخ، فلسفہ، تقابلِ ادیان اور اسلام شناسی پر متعدد کورسز پاس کئے۔ یوں وہ فکری انتشار کا شکار رہا اور کسی شعبے میں بھی مہارت حاصل نہ کر سکا۔ 1961ء میں وہ پیٹرس لولمبا کی حمایت میں ایک مظاہرے میں شرکت کر کے گرفتار بھی ہوا۔ تاہم وہ تحقیق کے میدان میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ 1963ء میں اس نے 675 ہجری (تیرہویں صدی عیسوی) میں فارسی میں لکھی گئی ”فضائلِ بلخ“ نامی ایک کتاب کا 155 صفحات پر فرانسیسی زبان میں ترجمہ کر کے اپنے ڈاکٹریٹ کے تھیسز کے طور پر جمع کرایا۔ یونیورسٹی نے اسے قرون وسطیٰ کی مسلم تاریخ پر کمترین درجے کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے دی۔ یوں علی شریعتی کوئی سنجیدہ تحقیقی کام کئے بنا ڈاکٹر علی شریعتی ہو گیا۔ جب وہ واپس آیا تو شاہ ایران کی حکومت کے جاسوسی اداروں نے اسے یونیورسٹی میں ملازمت دے کر کمیونزم کے خلاف استعمال کیا۔ لوہے کو لوہا کاٹے کے مصداق ایک انتہاپسندی کو دوسری انتہاپسندی پھیلا کر روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ایران واپسی
ستمبر 1964ء میں علی شریعتی ایران آیا تو سرحد پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیڑھ ماہ جیل کی ہوا کھانے کے بعد وہ رہا ہو گیا۔ اگلے تین سال بہت مشکل گزرے اور اس نے مختلف ہائی سکولوں میں فارسی پڑھائی۔ وہ بہت پریشان تھا کہ فرانس میں عوام میں الجیریا پر استعماری غلبے کے خلاف کافی بے چینی پائی جاتی تھی لیکن ایرانی عوام کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ الجیریا میں ظلم کرنے والی انتظامیہ فرانس کے عوام کی چنی ہوئی پارلیمنٹ کے ماتحت تھی اور ان کے ملک میں سیاسی عمل پر ان کا اثر و رسوخ تھا۔ جبکہ ایرانی عوام کسی جمہوری معاشرے میں نہیں جی رہے تھے نہ ہی ان کے دیئے ہوئے اختیارات سے کوئی الجیریا پر ظلم کر رہا تھا۔
ان کے ملک میں حکومتی جبر نے انکی سوچنے اور بولنے کی آزادی چھین رکھی تھی اور تصوف نے انہیں جہلِ مرکب میں مبتلا کر کے واقعیت سے کاٹ رکھا تھا۔ ایرانی عوام خود جبر کے شکنجے میں تھے ، وہ الجیریا کیلئے کیا کر سکتے تھے؟
یونیورسٹی کا استاد
1967ء میں علی شریعتی کو مشہد یونیورسٹی کے شعبہ ادب میں تاریخِ اسلام کے استاد کے طور پر ملازمت مل گئی۔ اب اسکا یونیورسٹی کے نوجوانوں سے رابطہ ہو گیا تھا۔ وہ اب بھی تصوف کے زیرِ اثر تھا اور صوفیوں کی طرح عقل (reason) پر عشق (passion) کو ترجیح دیتا تھا۔ اس کے لیکچرز پر سنجیدگی کے بجائے خطابت اور جذباتیت کا رنگ غالب ہوتا تھا۔ نئی نئی اصطلاحات ایجاد کرتا اور پورے اعتماد اور قاطعیت کے ساتھ ہر نظریئے پر تبصرے کرتا۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اس کی چٹ پٹی لفاظی پسند آنے لگی۔ اسے سمجھنا آسان تھا۔ وہ سوالات کے بہت سطحی (superficial) مگر سادہ حل پیش کرتا اور سننے والوں کی عقل پر کم ہی بوجھ ڈالتا تھا۔
پیرس میں قیام کے دوران اسے متعدد مغربی مفکرین کے نام یاد ہو گئے تھے اور ان کے افکار سے بھی اس نے واجبی سی آشنائی حاصل کر لی تھی۔ یونیورسٹی میں اسلام کی تاریخ پڑھاتے ہوئے وہ یورپی مفکرین کے اقوال کا تڑکا لگاتا تو نوجوان طلبہ حیرت زدہ ہو جاتے۔ کبھی سوشیالوجی کے کسی موضوع کو چھیڑ دیا جاتا تو کبھی فلسفے پر بحث ہونے لگتی۔ کبھی جدید دور کے سیاسی حالات کا ماضی پر قیاس کیا جاتا تو کبھی کسی ماہرِ اقتصادیات کے نظریئے کو تختۂ مشق بنا لیا جاتا۔ اس دوران گہرے پانیوں میں جانے کی ضرورت محسوس نہ کی جاتی۔
ڈاکٹر شریعتی کا ہر خطبہ اپنے آپ میں ایک وقوعہ ہوتا تھا۔ وہ خدا کے دین کو ایک آئیڈیالوجی کی شکل دے رہا تھا۔ یہ نوجوانوں کیلئے ایک نئی چیز تھی، وہ اس کی طرف کھنچے چلے گئے۔ انہی دنوں ڈاکٹر علی شریعتی کی شہرت تہران تک پہنچ گئی۔ تہران کے غیر روایتی امام بارگاہ، حسینیۂ ارشاد، میں گاہے بگاہے اسے خطاب فرمانے کی دعوت دی جانے لگی۔ یہ سلسلہ 1972ء میں حسینیہ ارشاد کی بندش تک جاری رہا۔
جنوری 1969ء میں ڈاکٹر علی شریعتی نے ”اسلام شناسی“ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ اس میں سب سے پہلے اس نے ایرانی یونیورسٹیوں کے پروفیسر صاحبان پر مغرب زدگی کا الزام لگایا۔ اس کے مطابق وہ مغربی علوم میں مہارت کی وجہ سے اسی عینک سے اپنے معاشرے کو دیکھتے تھے۔ اس نے اسے ”اسلام“ کیلئے خطرہ قرار دیا۔ پھر اس نے حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ مشہد کے علماء کی طرف رخ کیا اور ان کو بھی ”اسلام“ کیلئے خطرہ قرار دیا۔ جلد ہی اسے ”اسلام“ کو خطرے سے بچانے کیلئے نوجوان نسل میں سے سر پھرے حامی بھی ملنے لگے جو اس کی سوچ کی نشر و اشاعت کرنے میں مگن ہو گئے۔
بھڑکیلی زبان
وہ زبان کو ابلاغ کے بجائے بھڑکانے کا ذریعہ بنا چکا تھا۔ وہ سادہ لفظوں میں بات کرنے کے بجائے نت نئی اصطلاحات تراشتا۔ یہ نوجوانوں کیلئے ہیجان (thrill) کا باعث ہوتا۔ مولا علی ؑ کے الفاظ میں:
نَصَبَ لِلنَّاسِ اَشْرَاكًا مِّنْ حَبَآئِلِ غُرُوْرٍ، وَ قَوْلِ زُوْرٍ، قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلٰۤی اٰرَآئِہِ، وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلٰۤی اَہوَآئِہِ، یُؤَمِّنُ النَّاسَ مِنَ الْعَظَآئِمِ، وَ یُہَوِّنُ كَبِیْرَ الْجَرَآئِمِ. (نہج البلاغہ، خطبہ 85۔)
ترجمہ: ”اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔“
جب کچھ پروفیسر صاحبان نے اسے تحقیقی مقالے لکھنے پر توجہ دینے اور تحقیقی انداز اپنانے کا مشورہ دیا تو اس نے ان کا مذاق اڑایا اور تحقیق کو وقت کا ضیاع قرار دیا۔ اب شریعتی کا کام تقریریں کرنا اور اس کی لفاظی میں گرفتار نوجوان عقیدت مندوں کا کام انہیں کتابی شکل میں جمع کر کے چھاپنا تھا۔
سیاسی تصوف
سرد جنگ کے دور میں روسی دولت کے زور پر کمیونزم کی جتھے بندی اور تمامیت خواہ آئیڈیالوجی کی تبلیغ پورے ایشیاء میں زوروں پر تھی۔ ایران میں تودہ پارٹی کے ارکان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ اس ماحول میں رومی کی مثنوی کو نوجوانی سے ہی گلے کا تعویذ بنا لینے والے علی شریعتی کیلئے دین کو وحدتِ ارواح پر مبنی جتھہ بندی کا ذریعہ سمجھنا محال نہیں تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب ”مذہب علیہ مذہب“ میں شریعتی نے کہا:
وحدتِ الہی، يعنی، توحيدِ خدا در ہستی، لازمہ اش از نظر منطقی و فکری توحيدِ بشری است در زمين.
ترجمہ: ”وحدتِ الہی، یعنی وجود میں خدا کے ایک ہونے کا لازمہ زمین پر سب انسانوں کا فکری اور منطقی طور پر ایک ہو جانا ہے۔“
آگے چل کر کہا:
لازمہ توحيدِ خداوند، توحيدِ عالم است، و لازمہ توحيدِ عالم، توحيدِ انسان است.
ترجمہ: ”خدا کی توحید کا لازمہ کائنات کی توحید ہے اور توحیدِ عالم کا لازمہ توحیدِ انسان ہے۔“
یہ قرآن و اہلبیت ؑ کی تعلیم کردہ توحید کی طرف نہیں بلکہ توحیدِ وجودی یعنی وحدت الوجود کی طرف دعوت تھی۔ شریعتی توحید کی اصطلاح کو صوفیانہ معنوں میں استعمال کر کے انسانوں کے درمیان ایک تمامیت خواہانہ (totalitarian) انضمام کو ضروری قرار دے رہا تھا: تو من شدی، من تو شدم۔ یہ سوچ انسانوں کی انفرادیت، فردی آزادیوں اور فطری اختلافات کیلئے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔ تصوف جب سیاست کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو فاشزم اور کمیونزم سے مماثلت پیدا کر لیتا ہے۔ تمامیت خواہی سیاسی شدت پسندی کی بنیاد ہے۔ وحدت الوجود کو حقیقی توحید سمجھنے والے تصوف کے اس خطرناک سماجی اظہار سے غافل رہتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ اس نکتے کو سمجھ جائیں تو وہ رہنما بن کر مریدوں کے منظم جتھے بناتے ہیں اور انہیں اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سیاسی پیر ہٹلر اور سٹالن جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔
اسلام لوگوں میں فطری اختلافات کو قبول کرتا ہے اور گفتگو کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں مباحات بے شمار ہیں۔ اسلام فرقے بنا کر لوگوں کی انفرادیت ختم کرنے سے روکتا ہے۔ اسلام اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر آپس میں برداشت اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام انفرادیت کھو جانے کو حقیقی خدا کو بھول جانے کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اسلام کہتا ہے:
وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الفٰسِقُونَ. (سورہ حشر، آیت 19۔)
ترجمہ: ”اور ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا پھر اللہ نے بھی ان کو (ایسا کر دیا) کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں۔“
شریعتی نے تصوف کے فناء فی اللہ کے عقیدے کو اجتماعی رنگ دے دیا اور کہا انسان کو فناء فی الخلق ہو کر فناء فی اللہ ہو جانا چاہئے۔ صوفیوں نے یہ عقیدہ زمانۂ جاہلیت کے مشرک فلسفی فلوطین (متوفیٰ270ء) کے قوس نزولی و قوس صعودی والے تصورِ کائنات سے لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ افراد کے کسی نظریاتی گروہ میں فناء ہو جانے سے اس کے مخالفین کے خلاف نفرت اور منظم دہشتگردی جنم لیتی ہے جو لوگوں کو خدا کی ذات میں انضمام کی طرف لے جانے کے نام پر ظلم کی توجیہ کر لیتی ہے۔ اس نے ہیگل کی طرح سماجی تبدیلیوں اور تاریخی عمل کو ایک ارتقائی عمل قرار دیا جو ایک مثالی معاشرے کے بتدریج ظہور سے عبارت تھا۔ ”فلسفہ تاریخ در اسلام“ میں اس نے کہا:
تاریخ بشر و بشریت، درست ہمچون یک فرد است، زندگی و طول عمرش، اسمش تاریخ است. و ہمان طور کہ فلسفہ تاریخ در فرد عبارت است از مسؤولیت او و حرکت او از لجن تا خداوند، بشریت ہم در طول عمرش، یعنی در تاریخ، برای یک مہاجرت مسؤول است. در حال ہجرت است از لجن بہ طرف خداوند، رجعت بہ الوہیت (انا للہ و انا الیہ راجعون) و رجعت بہ طرف خداوند، کہ از آنجا منشعب شدیم.
ترجمہ: ”انسانی تاریخ بھی ایک فرد کی زندگی کی طرح ہے۔ جیسا کہ فرد کی زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر شخص کی ذمہ داری مادے سے خدا کی طرف سفر کرنا ہے، ایسے ہی بشریت بھی بطور مجموعی اپنے طول عمر میں، جو کہ تاریخ ہے، ایک ہدف کی طرف بڑھنے کی ذمہ دار ہے۔ وہ مادے سے خدا کی طرف حرکت کر رہی ہے۔ جس خدا سے ہم نکلے ہیں اس خدا کی طرف واپس پلٹنا ہے۔“
سماج پر فرد کا قیاس مغالطہ ہے۔ ایسے مغالطے کو قیاس مع الفارق (false analogy) کہتے ہیں۔ موت کے بعد خدا کی طرف پلٹنا خدا ہو جانا نہیں ہے۔ مشرک فلاسفہ کا یہ عقیدہ قرآن و اہلبیت ؑ کی تعلیمات کے خلاف تھا۔ خدا لم یلد و لم یولد ہے، مخلوق اس سے خارج نہیں ہوئی۔ وہ مخلوق سے جدا ہے اور مخلوق اس میں کبھی ضم بھی نہیں ہو گی۔ خالق و مخلوق میں تباین ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وحدتِ وجود پر ایک وہابی سے مناظرے کی روداد – آیۃ اللہ علامہ سید قاسم علی احمدی
علی شریعتی نے خانقاہی تصوف پر تنقید بھی کی لیکن تصوف کے بنیادی عقائد کا اسیر رہا۔ کبھی وہ کہتا کہ عین القضات ہمدانی اس کے اندر حلول کر جاتا ہے۔ کبھی بایزید بسطامی اور حلاج کے اقوال دہرایا کرتا۔ علی شریعتی صحرا کی تنہائی کو شہری زندگی سے بہتر قرار دیتا۔ وہ حقیقی عقل کا مخالف تھا۔ سہروردی کی طرح اس نے بھی عشق کو عقلِ سرخ کہا۔
یہ سب خیالات قرآن و اہلبیت ؑ کی ہدایات کے برعکس ہیں۔ احادیث میں بڑے شہروں میں زندگی کو دیہاتی زندگی پر فوقیت دی گئی ہے کیونکہ شہر علم اور تہذیب کے گہوارے ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جابجا عقل کو استعمال کرنے اور تنقیدی سوچ اپنانے کی دعوت دی گئی ہے۔ شیخ کلینی نے اصول کافی کا پہلا باب ہی عقل کے بارے میں نقل شدہ احادیث کے لئے مختص کیا ہے۔ افکار و نظریات میں اندھی تقلید کو اسلام حرام سمجھتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:
فَبَشِّرْ عِبَادِ. الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ. (سورہ زمر، آیات 17، 18۔)
ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“
برائے تفصیل: کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔
کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں / آیۃ اللہ العظمیٰ علامہ ناصر مکارم شیرازی
انہی دنوں حسينيۂ ارشاد میں تہران یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کے استاد شیخ مرتضٰی مطہری بھی لیکچر دیتے تھے اور وہ بھی رومی اور ابنِ عربی کو عرفاء کے طور پر پیش کرتے تھے۔ وہ جناب محمد حسین طباطبائی کے شاگرد تھے۔ قم سے دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت حاصل کر رکھی تھی۔ ان کا تعلق بھی خراسان کے قصبے فریمان سے تھا۔ خراسان ہمیشہ سے تصوف کا گڑھ رہا ہے۔
مراجعِ کرام کے فتاویٰ
علی شریعتی کے گمراہ کن خیالات نئی نسل میں عام ہونے لگے تو اس دور کے مراجع عظام سے رہنمائی کے تقاضے بڑھنے لگے۔ مشہد کے حوزے کے سرپرست آیۃ اللہ العظمیٰ میلانی نے پہلے تو علی شریعتی اور ان کے والد کو اپنے گھر بلا کر نصیحت کی، لیکن جب اس کا کوئی اثر نہ ہوا تو لوگوں کے سوالات کے جواب میں اپنا معروف فتویٰ جاری کر دیا۔ بعد ازاں باقی مراجع نے بھی فتاویٰ جاری کئے۔ اس دور کے چند نمایاں مراجعِ کرام کے فتاویٰ بمع عکوس یہاں پیش کئے جا رہے ہیں:-
آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانی
سوال: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے میلانی دام ظلہ!
عرضِ سلام کے بعد خداوند متعال سے آپ کی سلامتی کی دعا ہے۔ کچھ عرصہ قبل آپ کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا تھا جس میں آپ سے حسينيۂ ارشاد کی محفلوں میں شرکت اور اس ادارے کی شائع کردہ کتابوں کے مطالعے کے بارے میں سوال پوچھا تھا۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیے۔
دعاگو
قاسم دماوندی
جواب: بسمہ تعالی شانہ
السلام علیکم، خدا سے آپ کی صحت و سلامتی کی درخواست ہے۔ آپ نے 20/5/51 کو جو خط لکھا تھا وہ مجھے موصول ہو چکا ہے۔ لازم ہے کہ اس جگہ جانے اور مذکورہ کتب کے مطالعے سے پرہیز کی جائے۔ امید ہے کہ آپ اپنی شرعی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ہمیشہ مؤید اور کامیاب ہوں گے۔ حضرت صادق صلوات اللہ علیہ کے حکم کے مطابق شبہات میں پڑنے سے اجتناب کریں اور کتبِ ضالہ کا ہرگز مطالعہ نہ کریں۔
دستخط
سید محمد ہادی میلانی

اس فتوے کے بعد علی شریعتی نے اپنی کتاب ”با مخاطب ہای آشنا“ میں اس عظیم مرجعِ تقلید کو شیعیت سے خارج قرار دے دیا۔ اس نے ان پر تفرقہ بازی کا الزام لگایا۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میلانی، جو کہ پہلے ہی حکومت کے زیرِ عتاب تھے، اب شریعتی کے احمق عقیدت مندوں کے نشانے پر بھی آ گئے۔ آپ کے گھر پر پتھراؤ کر کے کھڑکیوں کے شیشے توڑے گئے۔ بعض انقلابی طلبہ دوسرے طلبہ کو آپ کے درس میں شرکت کرنے سے بھی روکنے لگے۔ 1974ء میں آپ نے رحلت فرمائی تو آپ کے جنازے میں شرکت سے بھی لوگوں کو باز رکھنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی
سوال: بسمہ تعالی شانہ
مرجع عالیقدر شیعیانِ جہان جناب آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی دامت برکاتہ
عرضِ سلام کے بعد استدعا ہے کہ اگر بعض تحریروں میں مندرجہ ذیل جملے لکھے ہوں تو ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
(اس کے بعد سائل نے علی شریعتی کی کتابوں ”اسلام شناسی“ ، ”چہ باید کرد“ اور ”مسئولیت شیعہ بودن“ سے کچھ جملے نقل کئے۔)
جواب: بسمہ تعالی،
مذکورہ خیالات باطل ہیں۔ ہر ایسی کتاب جس میں اس قسم کی گمراہی اور ضلالت کا موجب بننے والی باتیں لکھی ہوں، کی خرید و فروخت اور اسے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے۔ واللہ العالم
مہر و دستخط
ابوالقاسم الموسوی خوئی
23 رجب 98۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفی
سوال: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب آیۃ اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفی
حال ہی میں حسينيۂ ارشاد کی طرف سے علی شریعتی کی یہ کتابیں: ”تشیعِ علوی و تشیعِ صفوی“، ”مسئولیت شیعہ بودن“، ”پدر، مادر، ما متہمیم“ اور ”اسلام شناسی“ شائع ہوئی ہیں۔ ان میں درج بہت سی باتیں مذہبِ تشیع اور حتیٰ عقیدۂ ختمِ نبوت اور شانِ آئمۂ اطہار ؑ کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ ان کتابوں میں مقدساتِ دینی کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے۔ دستخط کنندگان کا تقاضا ہے کہ آپ مذکورہ کتب کے مطالعے اور ادارے میں رفت و آمد رکھنے کے بارے میں اپنی رائے مرقوم فرمائیں تاکہ شرعی ذمہ داری متعین ہو سکے۔
جواب: بسمہ تعالی،
مذکورہ بالا کتابیں کتبِ ضلال ہیں۔ ان کا مطالعہ اور ان سے دینی معارف لینا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کے حضور دعا ہے کہ محمد ؐ و آلِ محمد ؑ کے صدقے جوانوں کو وسوسوں، فضول شبہات، نقصان دہ چیزوں اور زہریلی کتابوں کے شر سے محفوظ رکھے۔
مہر و دستخط
شہاب الدین حسینی مرعشی نجفی

آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبداللہ شیرازی
سوال: محضرِ مبارک جناب آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبداللہ شیرازی دام ظلہ العالی
سلام کے بعد عرض ہے کہ حال ہی میں ہمارے نشریاتی ادارے میں علی شریعتی کی تحریروں کی نشر و اشاعت پر اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ ممکن ہے آپ اس شخص سے آشنا ہوں۔ استدعا ہے کہ اختلاف ختم کرنے اور شرعی ذمہ داری کے تعین کیلئے اس سلسلے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں تاکہ شبہات دور ہو جائیں۔ ہم لوگ آپ کے مقلدین ہیں۔ اللہ آپکی عزت اور برکات کو دوام بخشے!
جواب: بسمہ تعالی شانہ
چونکہ مذکورہ شخص کی کتابوں میں گمراہ کن خیالات پائے جاتے ہیں لہٰذا شرعی اعتبار سے ان کی خرید و فروخت اشکال سے خالی نہیں ہے۔ ہاں ایسے لوگ ان کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو دینی معارف کے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہوں اور جن کے عقائد پختہ ہوں اور ان میں تزلزل نہ ہو۔ لیکن جن افراد کی دینی بنیاد محکم نہیں ہے اور ان کے عقائد کمزور ہیں، ان کیلئے یہ کتابیں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ انہیں ان کتابوں سے پرہیز کرنی چاہئے۔
مشہد مقدس، 17 ج ا، 1398ھ

حسينيۂ ارشاد کی بندش
علی شریعتی کے پیروکاروں نے مختلف عسکری تنظیمیں بنا کر امن و امان قائم کرنے والے اداروں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ آئے دن حسينيۂ ارشاد میں رفت و آمد رکھنے والا کوئی نہ کوئی جوان فائرنگ کے تبادلے میں مارا جاتا یا گرفتار ہو جاتا۔ اس وقت تک حکومت نے اس ادارے کو یہ سوچ کر آزادی دے رکھی تھی کہ یہ جوانوں کو کمیونزم کا ایک متبادل پیش کر رہا تھا۔ لیکن اب اس ادارے کی پھیلائی ہوئی انتہاپسندی بھی ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ معاشرے میں جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے حماقت کیلئے میدان کھلا تھا۔ سیاسی و اجتماعی مسائل پر معقول گفتگو کھلی فضا میں ہی ہو سکتی ہے۔ خفیہ مقامات پر چھپ کر اظہارِ رائے کرنا پڑے تو آراء معقول نہیں رہتیں بلکہ اسرار و رموز بن جاتی ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے زندان میں بند ہو جاتا ہے۔ روحیں تنہا ہو جاتی ہیں اور اندر ہی اندر لاوہ پکنے لگتا ہے۔ صرف یہی نہیں، اس دور کے ایران میں بچوں پر والدین کا تشدد، مار پیٹ اور ان کی انفردیت کو کچلنا عام تھا۔ ایسے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو وہ شدت پسندی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ ذہنی گھٹن تصوف کی پھپھوندی (fungus) کے پھیلاؤ کیلئے نہایت سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
اکتوبر 1972ء میں حسينيۂ ارشاد کو بند کر دیا گیا۔ علی شریعتی روپوش ہو گیا۔ حکومت نے پہلے تو اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی اور پھر اس کے والد اور سالے کو گرفتار کر لیا۔ بالآخر ستمبر 1973ء میں اس نے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کر دیا۔ وہ اٹھارہ ماہ جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوا۔ اس کی کتابوں پر پابندی لگی تو نوجوانوں میں تجسس بڑھا۔ زندان کی قید، ادارے کی بندش اور کتابوں پر حکومت کی جانب سے پابندی نے اس کے پیروکاروں کو ردعمل میں مزید انتہا پسند بنا دیا۔ وہ اس کی کتابیں خود لکھ کر تقسیم کرنے لگے۔
وفات
ان حالات میں علی شریعتی نے بہت زیادہ سگریٹ نوشی شروع کر دی۔ 16 مئی 1977ء کو علی شریعتی نے محمد علی مزینانی کے نام سے پاسپورٹ بنوا کر ایران کو خیر آباد کہا اور لندن چلا گیا۔ 18 جون 1977ء کو اس کی بیوی اور تین بیٹیوں نے ملک چھوڑنے کی کوشش کی تو اسکی بیوی اور چھ سالہ بچی کو روک کر دو بڑی بیٹیوں کو جانے دیا گیا۔ شریعتی نے ان کا لندن میں استقبال کیا تو اس کی بیوی اور چھوٹی بیٹی ان کے ہمراہ نہ تھیں۔ یہ علی شریعتی کیلئے ایک اور بڑا صدمہ تھا۔ اگلے دن 19 جون 1977ء کو صبح جب بیٹیاں نیند سے بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ باپ کی لاش فرش پر پڑی تھی۔ وہ دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو چکا تھا۔ 44 سال کی عمر میں اس شعلہ بیان خطیب کی ناگہانی موت نے ایرانی نوجوانوں میں غم و غصے کو جنم دیا۔ 26 جون 1977ء کو علی شریعتی کو دمشق میں سیدہ زینب بنت علی ؑ کے مزار کے احاطے میں دفن کیا گیا۔ اس کی نمازِ جنازہ لبنان کے روشن فکر شیعہ رہنما آیۃ اللہ موسیٰ صدر نے پڑھائی۔ بیروت میں اس کے چہلم کی تقریب سے فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے خطاب کیا۔ ایران میں کئی شہروں میں اس کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس مرتبہ حکومت نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔
یہ بھی پڑھئے: تصوف کا انسانِ کامل اور سیاسی شدت پسندی
میراث
ایک ایسے زمانے میں جب مسلمانوں کو سیاسی شعور اور بصیرت کی ضرورت تھی، علی شریعتی نے جہلِ مرکب (pseudo-scholarship) کو عام کیا۔ اس کی ساری تعلیم ادبیات میں تھی لیکن اس نے سماجیات اور سیاسی معاملات کو تختۂ مشق بنا لیا۔ وہ ایک کم علم اور عوام فریب خطیب تھا۔ اس نے ہر طبقے کو بیوقوف بنایا۔ جیل کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قید کے دوران پہلوی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا تھا۔ اسے آسانی سے سرکاری ملازمت ملتی رہی اور خطبات سے ہونے والی آمدن اس تنخواہ کے علاوہ تھی۔ اس نے اسلام کو ایک آئیڈیالوجی کی شکل میں پیش کر کے کئی شدت پسند تنظیموں کی آبیاری کی۔ معروف دہشتگرد تنظیم مجاہدینِ خلق ان میں سے ایک ہے۔
آج منبر اور میڈیا پر شریعتی جیسے کئی چرب زبان خطیب بیٹھے ہیں جو نوجوان نسل کو سطحی باتوں میں الجھاتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ذہنی توازن بگاڑنے والے خطبوں کو مت سنیں، تعلیم پر توجہ دیں اور اچھی کتب کے مطالعے کا ذوق پیدا کریں۔ اس طرح وہ جعلی مفکرین اور فریبکار حکماء سے بچ سکیں گے۔ بقول مصطفیٰ زیدی:
شہر میں غل تھا کہ بنگال کا ساحر آیا
مصر و یونان کے اہرام کا سیّاحِ عظیم
چین و جاپان کے افکار کا ماہر آیا
ایک ٹیلے پہ طلسمات کا پہرہ دیکھا
میں نے بھی دل کے تقاضوں سے پریشاں ہو کر
آخر اُس ساحر طنّاز کا چہرہ دیکھا
کتنا مغرور تھا اس شخص کا مضبوط بدن
کتنا چالاک تبسّم تھا جواں ہونٹوں پر
کیسے رہ رہ کے لپک جاتی تھی آنکھوں میں کرن
کتنا مرعوب تھا ہر فرد مری ملّت کا
ڈرتے ڈرتے جو چُھوا میں نے تو یہ راز کُھلا
وہ فقط موم کا اک خوف زدہ پُتلا تھا
کتابیات
2۔ خیر اللہ مردانی، ”بررسی و نقد اندیشہ شریعتی“، سپہر آذین، قم۔



