کتابیں

کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں / آیۃ اللہ العظمیٰ علامہ ناصر مکارم شیرازی

9 ملاحظات

کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔
تالیف: آیۃ اللہ العظمیٰ علامہ ناصر مکارم شیرازی

ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک

یہ کتاب تصوف کے بارے میں مکتبِ تشیع کی تعلیمات اور جدید تحقیقات کی روشنی میں بحث کرتی ہے۔ اس کتاب میں تصوف کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد اس کی علمی و عملی کمزوریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ تاریخ سے مثالیں لا کر اس میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں اور ملاوٹوں کو نمایاں کیا گیا ہے، نیز صوفیاء کی کرامات کی قلعی بھی کھولی گئی ہے۔

تصوف کی طرف رجحان ہر تہذیب میں رہا ہے کیونکہ ہر جگہ انسان مختلف قدرتی آفات اور نفسیاتی، سیاسی و سماجی مسائل سے دوچار رہتا ہے۔ ان مشکلات سے نمٹنے کا مشکل مگر صحیح طریقہ تو عقل کو بروئے کار لانا ہے۔ قرآن اور اہلبیت علیہم السلام کے فرامین میں ہر انسان پر عقل کے استعمال کے لازم ہونے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ وحی کے منبع سے حاصل ہونے والی ہدایات کی روشنی میں ہی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عقل سے مراد مختلف باتوں میں سے درست بات کی تشخیص دینے اور اخلاقی طور پر درست فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے، جو ظاہر ہے تجربے سے پختہ ہوتی ہے۔ گویا راہِ حق پر چلنے سے ہی عقل بڑھتی ہے۔ لیکن جو لوگ الفاظ و اصطلاحات میں الجھ کر فکری استقلال کھو دیتے ہیں یا عملی انحرافات کا شکار ہو کر توازن کھو دیتے ہیں، وہ راہِ حق سے بھٹک جاتے ہیں۔ ان کی عقل کا چراغ ٹمٹمانے لگتا ہے اور کوئی بھی جھوٹا اور مکار شخص ان کے ذہن کو ماؤف کر کے ان کو غلام بنا لیتا ہے۔

اکثر لوگ سُستی کی بدولت روحانیت کی خیالی دنیا میں فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ واقعیت کو ٹھیک سے سمجھنے اور اخلاقی ذمہ داری کی تشخیص کی زحمت سے بچنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان پر کچھ مکاشفات بھی ہوتے ہیں اور کچھ عجیب و غریب خواب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو سمجھنا ماضی میں ایک معما رہا لیکن خواب اور توہمات پر جدید دور کے ماہرینِ نفسیات کی تحقیقات نے ان کی حقیقت پردہ اٹھا دیا ہے۔ علامہ موصوف نے اس معمے کو بھی اس کتاب میں تفصیل سے حل کر دیا ہے۔

مکتبِ تشیع جہاں ہمیشہ ظالموں کا مخالف رہا وہیں تصوف جیسے جہلِ مرکب کو بھی رد کرتا رہا۔ جدید علوم نے صوفیانہ تفکر کی بنیادیں ہلا کر تصوف کے بارے میں مکتبِ تشیع کے اس موقف کی تائید کی ہے۔ آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام سے منسوب فرمان میں آیا ہے:

لا یقول احد بالتصوف الا لخدعہ او ضلالہ او حماقہ. و اما من سمی نفسہ صوفیا للتقیہ فلا اثم علیہ و علامتہ ان یکتفی بالتسمیہ فلا یقول بشی ء من عقائدہم الباطلہ. (1)

ترجمہ: ”کوئی شخص تصوف کا قائل نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ فریب، جہالت، گمراہی یا حماقت کا شکار ہوتا ہے۔ البتہ اگر کوئی اپنے آپ کو کسی کے شر سے بچانے کے لیے تقیہ کی بنا پر صوفی کہتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ نام کی حد تک صوفی کہلوائے اور ان کے کسی باطل عقیدے کا قائل نہ ہو جائے۔“

مکتبِ تشیع کو ہی یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اچھے صوفی اور برے صوفی کی تفریق نہیں کرتا۔ وہ ابنِ تیمیہ کی طرح اصلی پیر اور جعلی پیر کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا۔ اس مکتب کے عظیم رہنما امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:

الصوفیۃ کلہم من مخالفینا و طریقتہم مغایرۃ لطریقتنا. (2)

ترجمہ: ”صوفی سب کے سب ہمارے مخالف ہیں اور ان کا راستہ ہمارے راستے سے جدا ہے۔“

علامہ موصوف کے طرزِ بیان اور فصاحت و بلاغت نے اس کتاب کو نہایت سلیس اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ علمی گہرائی بھی عطا کی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد کام ہے جو اردو ترجمے کی صورت میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے ہر مذہب و مسلک سے تعلق رکھنے والے متلاشیانِ حق اس کتاب کو پسند کریں گے۔

آج جبکہ دنیا ہر لمحے بدل رہی ہے۔ زبانیں بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی بھرمار نے انسانوں کو جزیروں میں بانٹنا شروع کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ صرف پسندیدہ لوگوں سے ہی میل جول رکھتے ہیں اور مخالفین کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس عدم برداشت نے دہشتگردی کا الاؤ روشن کر دیا ہے۔ ذہنِ انسانی کو ایک تلاطم خیز سمندر کا سامنا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم ماروائیت اور روحانیت کے نام پر اوہام کے سمندر میں غرق ہونے سے بچنے کے لئے نجات کی کشتی پر سوار ہوں اور قرآنی آیات اور اہلبیت علیہم السلام کی تعلیمات سے ہدایت پا کر اپنی عقل کی تربیت اور اس کے استعمال سے کبھی غافل نہ ہوں۔ صوفیاء کی عقل دشمنی نے مسلمان معاشروں کو نہ صرف علمی طور پر پسماندہ کئے رکھا ہے بلکہ جدید دور میں اذہان کو بند کر کے انتہا پسندی اور گروہی تعصب کو بھی ہوا دی ہے۔ انسان کے پاس اس جدید دنیا میں مہذب زندگی کی بقا کو یقینی بنانے اور جنگوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ عقل کا استعمال ہے۔

حوالہ جات:

1۔ مقدس اردبیلی، حدیقۃ الشیعہ، جلد ‏2، صفحہ 803۔
2۔ شیخ عباس قمی، سفينۃ البحار، ج 5، ص 199۔

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button