مراجع کے فتاویٰ

صوفیوں سے میل جول رکھنا جائز نہیں ۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای

123 ملاحظات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سوال -1: صوفیوں کی مجالس و محافل میں شرکت اور ان کے مخصوص اعمال و اذکار بجا لانے اور ان کے درباروں میں جانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایسا کرنا جائز نہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ لوگ جو قرآن کریم کے اوامر و نواہی کو مانتے ہیں اور آئمۂ اطہار علیہم السلام کی امامت کے قائل ہیں، غیرضروری طور پر الگ نام اور الگ آداب و رسوم اپنانے کے بجائے، جو نقصان دہ ہیں، ان کو ترک کریں اور خود کو عظیم مسلم ملت کے ساتھ جوڑ دیں۔ (1)

سوال – 2: بعض مدعیانِ عرفان تصوف کی طرف میلان رکھتے ہوئے صوفیوں کے بعض نظریات کی ترویج کر رہے ہیں، جیسے شادی سے پرہیز کرنا، مریدوں کا پیروں سے مناجات کرنا اور شریعت و طریقت جیسے الفاظ کا استعمال، کیا یہ افکار قابلِ قبول ہیں اور ان لوگوں کی مجالس میں شرکت کا کیا حکم ہے؟

جواب: مذکورہ افکار صحیح نہیں ہیں اور باطل کی ترویج جائز نہیں ہے۔ (2)

سوال – 3: خانقاہ میں جانا، صوفیوں کی مجالس میں شرکت اور روحانی مرشد کے دستور العمل کی پیروی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: موارد مختلف ہیں، نجات اور فلاح کا راستہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طریقے پر چلنا ہے جس کی وضاحت بڑے مراجعِ تقلید کرتے ہیں۔ (3)

حوالہ جات:

1۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 1، صفحہ 20۔

2۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 5، صفحہ 29۔

3۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 3، صفحہ 101۔

مندرجہ بالا سوالات اور ان کے جوابات کے عکوس یہاں سے ڈاؤنلوڈ کیجئے:

تصوف کے رد میں رہبر معظم اور مراجع کے فتاویٰ

یہ بھی پڑھئے: صوفیوں کی محافل میں شرکت کے بارے میں مراجعِ کرام کے فتاویٰ

یہ بھی پڑھئے: کسی کو روحانی مرشد بنانے کا مسئلہ – آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button