مراجع کی تحریریں اور بیانات

اللہ موجود ہے، اسے وجود کہنا درست نہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

88 ملاحظات

موجود (existent) اور وجود (existence) دو الگ الفاظ ہیں جن کے جداگانہ معنی ہیں۔ حدیث میں اللہ کیلئے موجود کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً

سُبْحانَكَ يا مَعْبُودُ، تَعالَيْتَ يا مَوْجُودُ، أَجِرْنا مِنَ النّارِ يا مُجِيرُ.(1)

ترجمہ: ”تو پاک ہے اے معبود، تو بلند ہے اے موجود، ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے!“

آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی فرماتے ہیں:

”بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اللہ کو موجود کہنے اور اللہ کو وجود کہنے میں کوئی فرق نہیں اور ان دونوں جملوں میں اللہ کے بارے میں گفتگو تو کی جا رہی ہے لیکن اللہ کی ذات کی حقیقت کی خبر نہیں دی جا رہی۔

جبکہ اگر ہم یہ کہیں کہ «اللہ وجود ہے»، یعنی ہستی ہی خدا ہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حقیقتِ وجود ہی خدا ہے۔ یعنی وجود، خدا کی ذات کا کنہ ہے۔ یہ اللہ کی ذات کے راز کے بارے میں گفتگو کرنا ہی ہے، جس سے احادیث میں روکا گیا ہے۔ (2)

لیکن اگر وجود کے لفظ کو کسی چیز کے ثبوت اور تحققِ خارجی کے بیان کیلئے استعمال کریں کہ جس کا معنی اس چیز پر خارج میں تحقق اور ثبوت کا حمل ہونا ہو، یعنی ایسا امر جو خارج میں تحقق رکھتا ہے لیکن عینِ شے اور کنہِ شے نہیں، تو پھر اس لفظ کا استعمال ٹھیک ہو گا۔

لیکن یہ کہنا کہ «اللہ موجود ہے»، یعنی خدا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ خدا ثابت اور متحقق ہے۔ خدا ہے اور ثبوت رکھتا ہے اور ذی التحقق ہے۔ اس جملے میں اس کے کنہ اور اس کی ذات کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ تاہم اگر ہم وجود کو ایک ایسا حقیقی امر قرار دیں جو سبھی اشیاء کی حقیقت اور ان کا کنہ ہے، پھر «اللہ موجود ہے» کہیں تو اس سے ترکیب کا شائبہ ہو گا، مگر یہ کہ ہم وجود اور موجود کے الفاظ کو مترادف قرار دیں۔ بہر حال باری تعالٰی پر لفظ موجود کے اطلاق میں باب اَفعال کا اشتقاقی اور اتحادی معنی مراد نہیں، بلکہ یہ معنی اس سے نکال دیا گیا ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ: اللہ کے کنہ کو متعین کرنا، جیسا کہ عرفانی فلاسفہ خدا کو سبھی اشیاء کی حقیقت کہہ کر اسے متعین کرتے ہیں، شرعاً جائز نہیں۔ اگر حقیقتِ کائنات کو فقط ذاتِ حق کہیں اور اللہ کو اس حقیقت کا تنہا تحقق کہیں، اسے خدا کہیں یا خدا کو وہ کہیں، تو یہ کہنا جائز نہیں ہے۔ (3)

اس بات میں کہ «اللہ کُنہُہُ لا یدرَک»، یعنی خدا کا کنہ قابلِ ادراک نہیں، اور اس میں کہ «الَّذی لا یدرَکُ کُنہُہُ ہُوَ اللہُ»، یعنی وہ جس کا کنہ قابلِ فہم نہیں وہ خدا ہے، بہت فرق ہے۔ اصالتِ وجود کی بنیاد پر «اللہ وجود ٌ او موجود ٌ» کا معنی یہ ہے کہ وہ چیز جس کی حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا، وہ خدا ہے۔ یہ جملہ خدا کے ثبوت پر پوری پوری دلالت نہیں کرتا۔ لیکن اگر وجود کا معنی ہی تحقق کیا جائے تو اس جملے کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا ثابت اور متحقق ہے، اور اس کے خارج میں ثبوت اور تحقق کی خبر دی جا رہی ہے۔

اسے بھی پڑھئے: اصالتِ وجود کا عقیدہ درست نہیں – آیۃ اللہ سید قاسم علی احمدی

بہر حال اصالتِ وجود کا عقیدہ ایسے کئی پے در پے نتائج رکھتا ہے جن میں سے اکثر یا سبھی قران اور نصوصِ شرعیہ کے ظواہر کے خلاف ہیں۔ اگر یہ لوگ بہت کوشش کر کے کہیں سے کوئی ضعیف حدیث اٹھا لائیں جس کا ظاہری معنی ان کے مطلوبہ عقیدے سے ہم آہنگ ہو تو بھی وہ ان کثیر آیات و احادیث کے ہوتے ہوئے قابلِ اعتناء نہیں ہو گی جو اس کے برعکس پر دلالت کرتی ہیں۔ ان باتوں سے مکتبِ وحی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ باتیں جدید دور کے اکثر فلاسفہ کو بھی قانع نہیں کرتیں۔

جیسا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے، خدا کی پہچان کے معاملے میں اسی حد تک جانا چاہئے جہاں تک انبیاء ؑ نے تبلیغ کی اور بلاغِ مبین فرمایا۔ یہی معرفت کافی ہے۔ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش زندگی ضائع کرنا اور وقت برباد کرنا ہے۔ اس سے یا تو دنیا یا پھر آخرت کے معاملات میں انسان پیچھے رہ جاتا ہے، اور اس کے گمراہ ہونے کا خطرہ مسلسل منڈلاتا رہتا ہے۔ آپ کتنے ایسے فلسفیوں کو جانتے ہیں جو ان گھمبیر بحثوں میں الجھے ہوں اور ان کا ایمان ہر لحاظ سے سلامت رہا ہو؟ یقیناً سب ایسے نہیں ہیں۔

جہاں تک عرفاء کا تعلق ہے، یعنی وہ لوگ جنہوں نے عرفان اور فلسفے کو ملا کر ایک نئی معجون بنا لی ہے، ان کی ذہنی صحت اور عقیدے کی سلامتی پر ذرہ برابر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ میں کتابوں کی ایک دکان کو جانتا ہوں جس پر بکنے والی اکثر کتابیں عرفاء کی کتابیں ہوتی ہیں۔ ان عارفوں میں سے اکثر سنی ہیں، اور جو چند ایک عارف شیعہ ہیں وہ بھی ان سنی عارفوں کی ویسی ہی تکریم و تجلیل کرتے ہیں جیسی وہ آئمۂ اطہار ؑ کی کرتے ہیں۔ ان کی کتابوں کو پڑھیں تو آپکو معلوم ہو گا کہ یہ لوگ انبیاء ؑ اور آئمۂ معصومین ؑ کے مکتب سے کس قدر دور ہو چکے ہیں۔ یہ خود بھی فضول کاموں میں پڑے ہوئے ہیں اور امتِ مسلمہ کو بھی دنیا و آخرت کی ترقی کیلئے لازم اور مفید علوم (sciences) سیکھنے سے باز رکھ رہے ہیں۔“ (4)

آگے چل کر فرماتے ہیں:

”اللہ موجود ہے کا معنی یہ ہے کہ وہ متحقق ہے۔ موجودیت ایک انتزاعی مفہوم ہے جو چیزوں کے خارج میں تحقق پانے سے اخذ ہوتا ہے۔ یہ موضوع سے ماوراء ہے اور خارج میں یا ذہن میں کوئی چیز نہیں کہ اس سے خارجی یا ذہنی ترکیب منسوب ہو سکے جو احدیتِ خدا کے خلاف ہو۔ اس بنا پر وجود خود تحقق سے اخذ ہوتا ہے اور تحقق کے مترادف ہے۔

لہٰذا خدا کو وجود کہنا درست نہیں۔ یعنی جس چیز یا معنی کے اصالتِ وجود کے قائلین تمام اشیاء کے مدِ مقابل تحقق کے قائل ہیں اور تحققِ واقعی کو اسی میں منحصر سمجھتے ہیں، اللہ نہیں ہے۔ وہ ان معنوں میں بھی وجود نہیں جو بعض لوگ کے مطابق کسی چیز کے تحقق اور حصول سے عبارت ہے اور اس سے انتزاع کیا گیا معنی ہے، اس کا عین نہیں۔ یہ بھی درست نہیں کیونکہ کسی چیز کا تحقق اس چیز اور اس کی ذات کا غیر ہوتا ہے۔ اللہ اس معنی میں موجود اور متحقق ہے کہ یہ موجود ہونا اور تحقق نہ عین اس کی ذات ہے، نہ اس کی ذات کا حصہ ہے۔“ (5)

لا وجود الا اللہ کہنے والوں کے جواب میں مرجعِ بزرگوار فرماتے ہیں:

”یہ بہت شرمندگی کی بات ہے کہ قرآنِ کریم تو کائنات کی اہم ترین شخصیت اور سرورِ عالم ؐ کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ «فَٱعْلَمْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ» (6) اور کہتا ہے کہ: «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ» (7)، مگر یہ مدعیانِ عرفان کہ جو خود کو اور جن کے مرید ان کو عرفاء کہتے ہیں، کہتے ہیں کہ لا الہٰ الا اللہ عوام کی توحید ہے اور توحیدِ خواص لا موجود الا اللہ ہے۔ (8)

کیا وہ توحید کہ جس کا علم رکھنے کے بارے میں پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے، اگرچہ یہ خطاب در سے کہتا ہوں کہ دیوار سنے کے معنوں میں ہے، اور وہ توحید کہ خدا اور ملائکہ جس کی گواہی دیتے ہیں، عوام کی توحید ہے؟

یہاں یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ اس قسم کی آیات میں «لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ» یا بعض آیات میں «هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ» کے معنی وہی «لا إلهَ إلاَّ اللَّه» کے ہیں۔ جیسا کہ ان دو آیات میں آیا ہے اور یہ معنوی اعتبار سے فرق نہیں رکھتیں۔ الفاظ کا فرق اسلئے ہے کہ اُن دو آیات میں مقدس لفظ «اللہ» پہلے آ چکا تھا اور ہُوَ کی تعبیر تکرار سے بچنے اور توحید پر تاکید کے لئے ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ لفظ «ہو» کسی ایسے معنی کی طرف اشارہ کر رہا ہو جس پر لفظ «اللہ» دلالت نہ کرتا ہو۔

کتنی جسارت کی بات ہے کہ انسان کلمۂ طیبہ «لا إلهَ إلاَّ اللَّه» کو، کہ جس کی اتنی تعظیم کی گئی ہے اور جس سے سنگین اور عظیم کوئی اور کلام انبیاء ؑ و اولیاء کی میزان میں نہیں ہے، حقیر جانے اور اسے عوام کی توحید کہا جائے اور اپنے من گھڑت عقیدے «لا هو بلا هو أِلا هو» کو توحیدِ اربابِ حقائق از انبیاء ؑ و اولیاء سمجھا جائے۔“ (9)، (10)

برائے تفصیل: کتاب ”نگرشی بر فلسفہ و عرفان“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔ (زبان: فارسی)

حوالہ جات

1۔ دعائے مجیر، مفاتیح الجنان
mafatih.net/?p=2877
2۔ تفكّروا في آلاء اللّہ ولا تتفكّروا في ذاتہ. ترجمہ: ”خدا کی نعمتوں کے بارے میں اپنی عقل استعمال کرو مگر اللہ کی ذات میں تفکر نہ کرو۔“ بحار الأنوار، جلد 68، صفحہ 322؛ كنز العمال، جلد 3، صفحہ 106۔
3۔ وَ لَا یُحِیطُونَ بِہٖ عِلمًا. ترجمہ: ”تمہارا علم اللہ کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“ سورہ طٰہٰ، آیت 110۔ امام علی ؑ نے فرمایا: ”تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی معرفت کی حقیقت ظاہر کرنے سے اوصاف عاجز ہیں اور اس کی عظمت و بلندی نے عقلوں کو روک دیا ہے، جس سے وہ اس کی سرحد فرمانروائی تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتیں۔“ نہج البلاغہ، خطبہ 153۔
4۔ آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، ”نگرشی بر فلسفہ و عرفان“، صفحات 192 تا 194، انتشارات دلیل ما، 1399 شمسی۔
5۔ آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، ”نگرشی بر فلسفہ و عرفان“، صفحہ 207، انتشارات دلیل ما، 1399 شمسی۔
6۔ سورہ محمد، آیت 19۔
7۔ سورہ آل عمران، آیت 18۔
8۔ غزالی، مشکاۃ الانوار، صفحہ 278؛ قیصری، رسالۃ فی التوحید والنبوۃ والولایۃ، صفحہ 34؛ میر داماد، جذوات و مواقیت، صفحہ 41؛ ملا صدرا، تفسیر القرآن الکریم، جلد 1، صفحہ 48۔
9۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مروی ہے: میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی نہ مجھ سے پہلے والوں نے ایسی کوئی بات کی ہے جو کلمۂ لا الہٰ الا اللہ کی برابری کر سکے۔ شیخ صدوق، کتاب التوحید، جلد 1، صفحہ 18۔ اس موضوع پر متعدد احادیث مروی ہیں۔
10۔آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، ”نگرشی بر فلسفہ و عرفان“، صفحات 33 تا 36، انتشارات دلیل ما، 1399 شمسی۔

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button