متفرق شخصیات

کرامات گھڑنے والوں سے ہوشیار رہیں: رہبرِ معظم سید مجتبیٰ خامنہ ای

52 ملاحظات

رہبرِ معظم سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک ویڈیو بیان میں فرمایا:

”میرے والدِ محترم، رہبرِ شہید سید علی خامنہ ای سے عجیب و غریب اور جھوٹی کرامات منسوب کی جا رہی ہیں۔ لیکن میں خود ان کی ایسی نیکیوں سے آگاہ ہوں جو ان کرامات سے بہتر نہ ہوں تو کمتر بھی نہیں۔ وہ نیکیاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ لیکن یہ کرامات وغیرہ سب من گھڑت ہیں۔

یہ لوگ عجیب باتیں کر رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ سیاسی لڑائی میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت ہوئی اور ان سے رہنمائی ملی۔ بعض مومنین کو جب کسی سے عقیدت ہو جاتی ہے تو اسے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ یوں وہ صحیح سمت سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ عقیدت مندی کی خوبیاں اپنی جگہ ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کرامات گھڑنے والے مومنین نیک نیتی سے اور انجانے میں یہ کام کر رہے ہیں، یعنی جان بوجھ کر یہ جعل سازی نہیں کر رہے۔ بس جذبات میں آ کر کچھ کہہ دیتے ہیں اور بات کہیں اور نکل جاتی ہے۔ جو ان کو جانتے ہیں انہیں تو معلوم ہے کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔

مثلاً کوئی یہ کہے کہ رہبرِ شہید پچاس مربع میٹر کے گھر میں رہتے تھے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ کیسی دروغ گوئی ہے؟ ان کو ملنے والا گھر چھوٹا نہیں تھا، کافی بڑا تھا۔ اس طرح حقیقی خوبیاں بھی مشکوک ہو جاتی ہیں۔

ہم انقلاب کے ابتدائی سالوں، یعنی 1979ء، سے ہی اس قسم کی باتیں سن رہے ہیں۔ تب آج سے تھوڑا مختلف غلو ہوتا تھا۔ مثلاً میرا بھائی محاذِ جنگ پر گیا ہوا تھا۔ وہاں ایک شخص جو اسے نہیں جانتا تھا اس سے کہہ رہا تھا کہ میں ان کے کمرے میں ہوتا ہوں۔ یہ تہجد کی نماز میں روتے روتے غش کھا جاتے ہیں۔ پھر ہوش میں آ کر دوبارہ نماز شروع کرتے ہیں۔ واضح ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔ پھر اسے لوگوں نے بتایا کہ یہ ان کا بیٹا ہے تو وہ بیچارہ بہت شرمندہ ہوا۔ بہرحال بھائی نے اسے کچھ نہ کہا۔

میں یہاں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس مبالغہ آمیزی کا مخالف ہوں۔ اگر رہبرِ شہید کے بیانات کو عنوانات کے تحت کتابی شکل میں جمع کر کے لوگوں تک پہنچایا جائے تو یہی کافی ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: آغا قاضی طباطبائی کی جعلی کرامات: پیر نہیں اڑتے، مرید اڑاتے ہیں۔

ویڈیو ڈاؤن لوڈ کیجئے

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button