مراجع کے فتاویٰ

آیت اللہ اور علامہ کہلوانے والے صوفیوں کے بارے میں شیعہ مراجعِ عظام کے فتاویٰ

50 ملاحظات

سوال 

جنابِ عالی کی خدمت میں عرضِ سلام اور آداب کے بعد گزارش ہے کہ مشہد شہر میں مدارس کے بعض طلبہ اور عام افراد تصوف کے مسلک میں جذب ہو چکے ہیں اور اس کے ایک خاص شعبے کو عرفان کا نام دے رکھا ہے۔ وہ صوفیوں کے عقائد کی نشر و اشاعت میں زور و شور سے مگن ہیں۔
حضرتِ عالی سے التماس ہے کہ مندرجہ ذیل آراء و نظریات اور یہ جن کتابوں میں آئے ہیں ان کی خرید و فروخت کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں تاکہ حق کے متلاشیوں کو فائدہ ہو:
1۔ لکھتے ہیں: ”یہ گل و سنبل، یہ بلبل اور یہ طوطا، یہ کبوتر اور یہ مرغابی، یہ بوٹا اور درخت، یہ ستارہ اور یہ گھاس اور یہ پودا، یہ پانی اور یہ آبشار، یہ بادل اور یہ ہوا اور بارش، ۔ ۔ ۔ جتنا آپ کا دل چاہے ان چیزوں کو گنتے جائیں یہاں تک کہ آپ کی سانس پھول جائے۔ یہ ایک خدا سے زیادہ کچھ نہیں۔ بس ایک ہے، وحدہٗ لا الہ الا ہو۔“ (محمد حسین طہرانی، اللہ شناسی، جلد 3، صفحہ 311۔)
2۔ اپنے استاد (سید ہاشم حداد) سے نقل کرتے ہیں: ”پانی خدا ہے، وضو خدا ہے، کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہ ہو۔“ (محمد حسین طہرانی، روحِ مجرد، صفحہ 70۔)
3۔ ”اللہ اپنے اعلیٰ مرتبے میں خالق اور اپنے ادنیٰ مرتبے میں مخلوق ہے۔ بالائی مقام پر حکم دینے والا اور زیریں مقام پر حکم کی تعمیل کرنے والا ہے۔ افق مبین میں رحم کرنے والا ہے اور اسفل السافلین کی حالت میں وہ ہے جس پر رحم کیا جاتا ہے۔“ (محمد حسین طہرانی، اللہ شناسی، جلد 3، صفحہ 222۔)
4۔ ”ہم جو دیکھتے ہیں، یا جس کا احساس کرتے ہیں یا جو کچھ ہماری سوچ اور عقل میں آتا ہے، وہ ابداً وجود ہی نہیں رکھتا۔ صرف اللہ جل شانہٗ ہے اور بس۔ ہم عدم ہیں اور ہمارا وجود اس کے وجود کا غیر نہیں۔ ہم عدم ہیں اور ہم ہستی نما ہیں، اللہ وجودِ مطلق ہے اور ہمارا ہونا اس کا ہونا ہے۔ سب کچھ وہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ وحدہٗ لا الہ الا ہو۔“ (محمد حسین طہرانی، اللہ شناسی، جلد 3، صفحہ 205۔)
5۔ ”شیطان اللہ کا ایک مطیع اور فرمانبردار مامور ہے جس کی ذمہ داری خبیث کو طیب سے جدا کرنا ہے۔“ (محمد حسین طہرانی، اللہ شناسی، جلد 3، صفحہ 120۔)
6۔ ”نفوس پر میرا تسلط امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جیسا ہے۔ لوگوں کے خیر و شر سے مطلع اور آگاہ ہوں۔ میں اپنے آپ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی صفات دیکھتا ہوں۔“ (محمد صادق طہرانی، نورِ مجرد، صفحہ 329، طبع اول۔)
آپ کیلئے دعا گو
حوزہ علمیہ مشہد کے طلاب کا ایک گروہ

جوابات

1۔ آیۃ اللہ العظمیٰ لطف اللہ صافی گلپائگانی

”کلی طور پر جو کوئی بھی یہ افکار اور عقائد رکھتا ہو اس کے عقائد باطل اور اسلام اور شیعیت کے صحیح عقائد کے خلاف اور گمراہ کن ہیں۔ دینی مدارس کے علماء و فضلاء پر لازم ہے کہ ان لوگوں کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی کریں۔ خدائے متعال سب کو آخری زمانے کے فتنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔“
اول محرم الحرام، ۱۴۳۷ ہجری
مہر

2۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی

”آپ نے جو کچھ اوپر لکھا ہے، اگر کوئی اس پر ایمان رکھتا ہو تو وہ گمراہی اور ضلالت کی راہ پر چل رہا ہے۔ اگر وہ نصیحت سننے کے قابل ہو تو اسے نصیحت کرنی چاہئے۔ جن کتابوں میں اس قسم کی باتیں لکھی ہیں وہ کتبِ ضلال کا حکم رکھتی ہیں۔ ان شاء اللہ علماء اور فضلاء کے اقدامات سے یہ گروہ ہدایت کی سیدھی راہ پر آئے گا۔ ہمیشہ کامیاب رہیں۔“ ۱۸/۶/۹۴، سوال نمبر 199081۔
مہر

3۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید تقی طباطبائی قمی

”مذکورہ کلمات اور مطالب فاسد اور کفر ہیں۔ خداوند متعال ہم سب کو نفسِ امارہ کے شر سے بچائے۔ آمین یا رب العالمین۔“
مہر و دستخط

4۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالکریم موسوی اردبیلی

”یہ عقیدے باطل ہیں اور ان کی نشر و اشاعت پر پابندی لگنی چاہئے۔ سب مومنین، بالخصوص ذمہ دار علمائے کرام پر واجب ہے کہ اس قسم کی باتوں کا سدباب کریں اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ایک چھوٹا سا منافع خور گروہ معاشرے کو الجھنوں میں ڈال دے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ امید ہے کہ قلیل افراد پر مشتمل یہ گروہ سیدھے راستے پر آ جائے گا اور خدا کی صراطِ مستقیم پر چلے گا۔“
مہر
۱۱/۶/۹۴

5۔ آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین نوری ہمدانی

”بسمہٖ تعالٰی، السلام و علیکم!
سوال میں بیان کردہ مطالب اباطیل ہیں اور ضروری ہے کہ اس ٹولے سے دوری اختیار کی جائے۔“
مہر و دستخط، ۲۵/۹/۹۴

مزید آگاہی کیلئے: سیری در آثار علامہ سید محمد حسین طہرانی

استفتائات کے عکوس

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button