قرآنی معارف کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس معاشرے کی ذہنی فضا کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی دعوت کو پیش کیا۔ اسی طرح ہم جان سکیں گے کہ آپ ؐ کے مخالفین کے تکبر کی وجہ کیا تھی اور ان کے ذہنوں پر کیسی گرہیں لگی ہوئی تھیں کہ وہ آپ ؐ کے جانی دشمن بن گئے۔ نہ صرف آپ ؐ کو کتاب اللہ کی تنزیل پر قتال کرنا پڑا، بلکہ آپ ؐ کے بعد امیرالمؤمنین علی ؑ کو کلامِ الٰہی کی درست تاویل کی خاطر بھی قتال کرنا پڑا۔ (1) باقی آئمۂ اہلبیت ؑ کو بھی قرآن کو تفسیر بالرائے اور معنوی تحریف سے بچانے کیلئے قربانیاں دینا پڑیں۔ مشرکینِ مکہ کے فلسفے کو سمجھنے کیلئے اس دور کے تاریخی پس منظر، قرآن کی روشنی میں مشرکین کے عقائد، آثارِ قدیمہ کے شواہد اور دورِ جاہلیت کے فلسفیوں کے خیالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
فہرست
تاریخی پس منظر
عیسوی تقویم کے مطابق رسول اللہ ؐ کی پیدائش سنہ 570ء میں ہوئی اور آپ نے سنہ 632ء میں دنیا سے پردہ فرمایا۔ حضرت عیسٰی ؑ کے اٹھائے جانے سے آپ ؐ کی آمد تک کا دور، جس میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا، زمانۂ فترت ہے۔ زمانۂ فترت میں چوتھی سے ساتویں صدی عیسوی تک کے تین سو سال بعثتِ پیغمبرِ اعظم ؐ کے زیادہ قریب ہیں، جنہیں اسلامی ثقافت میں زمانۂ جاہلیت اور آج کل کی اصطلاح میں عہدِ قدیمِ متأخر (Late Antiquity) کہا جاتا ہے۔
اس دور کا آغاز رومی سلطنت کے دو حصوں میں بٹنے سے ہوا۔ مشرقی حصہ قسطنطنیہ کے دربار کے ماتحت ہو گیا اور مغربی حصہ روم کے دربار کے زیر نگین رہا، جس میں جنوبی یورپ کے علاقے شامل تھے۔ یہ لوگ یونانی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے جبکہ شمالی یورپ میں بالٹک اور جرمن قبائل آزاد تھے اور وہ اپنے اپنے دیوی دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے۔ 313ء میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کی اور یوں تین سو سال سے مسیحیوں پر جاری بت پرستوں کے مظالم کا خاتمہ ہوا۔ 325ء میں چرچ اور دربار میں ملاپ ہوا، یوں مسیحیت اور رومی سلطنت، ہر دو میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ 390ء میں مسیحیت کو سرکاری مذہب کا درجہ دے کر بت پرستی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
اس دوران ایران میں ساسانی سلطنت کا زور تھا جہاں اکثر لوگ زرتشت کے مذہب پر تھے۔ یہاں بھی مذہب اور دربار میں وحدت قائم ہو چکی تھی۔ جبکہ کچھ لوگ مانی (متوفیٰ 277ء) کو نبی مانتے تھے۔ یمن میں حِمیَر سلطنت قائم تھی۔ چوتھی صدی عیسوی میں یمن کا حکمران خاندان یہودی ہو گیا۔ اس کے بعد یہاں کی اکثریت یکتا پرست ہو گئی۔ چھٹی صدی عیسوی میں یمن پر مسیحیوں کی حکومت قائم ہوئی۔ حجاز کا علاقہ ان تینوں سلطنتوں کے بیچ میں ایک آزاد قبائلی علاقہ تھا۔ بحیرہ احمر کے اس پار ایتھوپیا میں سلطنتِ حبشہ قائم تھی۔ ان سلطنتوں میں جنگیں بھی ہوتی تھیں اور ایک سلطنت میں معتوب قرار پانے والے دوسری سلطنت میں پناہ گزین ہوتے یا حجاز چلے جاتے۔
حجاز میں اس دور کے سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ رہا کرتے تھے۔ مکہ ایک نہایت اہم تجارتی شاہراہ پر واقع شہر تھا۔ اس دور میں چین، وادئ سندھ اور جنوبی ہندوستان سے تجارتی قافلے کشتیوں کے ذریعے یمن جاتے تھے اور وہاں سے زمینی راستے پر مکہ سے ہو کر رومی سلطنت کے صوبے شام اور بحیرۂ احمر کے پار ایتھوپیا تک اپنا مال پہنچاتے تھے۔ رومی سلطنت اور افریقہ سے تجارتی مال بھی اسی راستے برصغیر اور چین تک جاتا تھا۔ اس لین دین میں سکے کے طور پر رومی سلطنت کے سونے کے بنے دینار یا تانبے کے بنے فلس اور ساسانی سلطنت کے چاندی سے بنے درہم یا ورق استعمال ہوتے تھے۔ صدیوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔
عربی زبان کو ابھی تک معیاری زبان کا درجہ نہیں ملا تھا، اس کی کوئی گرامر تدوین نہیں ہوئی تھی اور مختلف علاقوں میں اس کے مختلف لہجے رائج تھے۔ یہ شعر و شاعری اور بول چال کی زبان تھی۔ اس میں مختصر تحریریں تو لکھی جاتی تھیں لیکن عربی میں پہلی باقاعدہ کتاب قرآنِ مجید ہی تھی۔ عربی میں کتب لکھنے، دوسری زبانوں سے اس میں تراجم کرنے، اس کے قواعد کی تدوین اور یہاں تک کہ عربی میں کرنسی جاری ہونے اور اس کے سرکاری زبان کا درجہ پانے کا عمل بنی عباس کے دور میں مکمل ہوا۔ تب تک عرب سرداروں، شام اور یمن جانے والے تاجروں اور پڑھے لکھے افراد کیلئے کسی حد تک یونانی، رومی یا سریانی زبانیں جاننا ضروری ہوتا تھا۔ طب، کتابت اور ریاضی سے مربوط کام وہی لوگ انجام دیتے تھے جو یونانی یا رومی زبان جانتے تھے۔ کچھ لوگ پہلوی زبان سے بھی واقفیت رکھتے تھے جو ایران میں رائج تھی۔ چنانچہ عربوں کے اذہان ان زبانوں میں لکھے گئے فلسفوں سے متاثر تھے۔ سب سے پہلا عرب سکہ 697ء میں عبدالملک بن مروان (متوفیٰ 705ء) کے دور میں ڈھالا گیا جسے اموی دینار کہا جاتا ہے۔ ایک اموی دینار پر ایک مثقال سونا خرچ ہوتا تھا۔
زمانۂ جاہلیت کے حجاز پر کسی سلطنت یا مذہب کی اجارہ داری نہ تھی۔ ظہورِ اسلام کے وقت سکندر کے ایشیاء پر حملے کو نو سو سال بیت چکے تھے۔ یوں زمان و مکان کے اعتبار سے اس دور کا حجاز آخری نبی ؐ کی بعثت کیلئے مناسب ترین مقام بن چکا تھا۔ آپ ؐ کا سامنا تین قسم کے بڑے مذہبی گروہوں سے ہوا: مشرکین، مسیحی اور یہودی۔ اسلام کو ان تینوں گروہوں کے ساتھ فکری اور عملی محاذ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب خدائے واحد پر یقین رکھتے تھے لیکن ان کا ایمان شرک سے آلودہ تھا۔ ان کے علاوہ صابئین اور مانوی بھی پائے جاتے تھے۔ ملحدین یا خدا کے منکر اس دور کے حجاز میں کسی گروہ کی شکل میں موجود نہیں تھے۔
شام کے علاقے میں تو لمبے عرصے تک یونانی اور سریانی زبانیں ہی بولی جاتی رہیں۔ اردن کے شمال مغربی شہر ام قیس کے نزدیک القدرہ کے کھنڈرات سے ملنے والے ایک سرکاری کتبے پر کندہ کی گئی تحریر یونانی زبان میں ہے، جسے معاویہ ابن ابو سفیان (متوفیٰ 680ء) کے دور میں سنہ 662ء میں کندہ کیا گیا تھا ہے۔ اس کتبے پر لکھا ہے:

((+)) Ἐπὶ Ἀβδάλλα Μαάυια ἀμήρα ἀλμουμενὴν ἀπελ<ο>ύθη κ(αὶ) ἀνε νεώθη ὁ κλίβανος τῶν ἐνταῦ θα διὰ Ἀβδάλλα υἱοῦ Ἀβουασέμου συμβούλου, ἐν μηνὴ Δεκεμβρίῳ πέμπτῃ, ἡμέρᾳ δευτέρᾳ, ἰνδ(ικτιῶνος) ς´, ἔτους τῆς κολωνίας ςκψ, κατὰ Ἀράβα(ς) ἔτους μβ´, εἰς ἴασην τῶν νοσούν των, σπουδῇ Ἰωάννου μ(ειζοτέρου) Γαδαρηνοῦ.
Translation: “(Greek Cross) In the days Servant of God Mu’awiya, the commander of the faithful, the hot baths of the people there were saved and rebuilt by Abd Allah son of Abuasemos the Counsellor, on the fifth of the month of December, the second day of the 6th year of the indiction, in the year 726 of the colony, according to the Arabs the 42nd year, for the healing of the sick, under the care of Joannes, the official of Gadara.”
ترجمہ: ”(یونانی میں صلیب کا نشان) خدا کے بندے امیرالمؤمنین معاویہ کے عہد میں کونسلر عبداللہ بن عاصم نے یہاں کے عوام کیلئے قدیم گرم حمام کی حفاظت اور تعمیرِ نو کا کام کیا، تاکہ بیماروں کیلئے شفا کا باعث ہو۔ یہ کام شہر کی تأسیس کے 726 سال بعد، 42 سنہ عربی میں، والئ شہر یوحنا کی زیرِ نگرانی انجام پایا۔“
تحریر کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بجائے صلیب کا نشان اور سنہ ہجری کے بجائے سنہ عربی کے الفاظ کا استعمال باعثِ تعجب نہیں ہونا چاہئے اولاد یہ ایک مسیحی والی نے لکھوائی تھی۔ اگرچہ صدرِ اسلام میں حجاز میں مشرکین کے مذہب کا خاتمہ ہو گیا تھا اور اکثر مشرک قبائل نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اہلِ کتاب کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور تعمیرِ نو کی جاتی تھی۔ ماضی میں رومی سلطنت نے شام اور مصر کے عوام کو زبردستی مسیحی بنایا تھا۔ سنہ 636ء میں جنگِ یرموک کے بعد معاویہ بن ابوسفیان شام اور عمرو ابن عاص مصر کے حاکم ضرور بن گئے تھے مگر وہاں مسلمان اقلیت میں ہی رہے۔ شام میں رہنے والے مقامی عرب قبائل بھی مسیحی تھے۔ کاتب، طبیب، شہروں کے والی اور انتظامیہ کے عہدیدار بھی مسیحی ہی تھے۔ مسیحی قبیلۂ بنو کلب شام کا سب سے بڑا قبیلہ تھا اور اس قبیلے نے جنگِ صفین میں شامی فوج کو ساٹھ ہزار سپاہی فراہم کئے، جن کے دل میں یرموک کی شکست کا انتقام لینے کی آرزو ضرور ہو گی۔ خود ملکہ محسون بنت بحدل کلبی مسیحی تھی اور اسی نے یزید کو جنم دیا اور تربیت کی۔ اس کے بھتیجے حسان ابن بحدل کلبی نے جنگ صفین میں شامی فوج کے سب سے بڑے حصے، جند دمشق، کی قیادت کی۔ یزید کا یہ ماموں زاد بھائی سنہ 661ء سے 683ء تک فلسطین کا گورنر رہا۔ خط و کتابت اور جاسوسی کے ادارے برید میں مسیحی ہی کام کرتے تھے۔ امیر معاویہ کے دور میں تجارت اور سمندر میں بحریہ کا انتظام مسیحیوں ہی کے ہاتھ میں تھا۔ تعلیم و تربیت کے پرانے ادارے آباد تھے۔ مسیحی لوگ رومی دورِ حکومت میں ان سب کاموں کو انجام دینے کی تربیت اور تجربہ حاصل کر چکے تھے۔ شامی فوج کے مسیحی سپاہیوں کو باقی فوجیوں سے دو گنا معاوضہ ملتا تھا۔ وزیرِ خرانہ سرجون ابن منصور مسیحی تھا۔ اس کا ایک بیٹا یوحنا دمشقی (متوفیٰ 749ء) بہت بڑا مسیحی عالم ہوا جس کے لکھے ہوئے نغمے آج بھی کلیساؤں میں گنگنائے جاتے ہیں۔ وہ فلوطین کے فلسفے سے متاثر تھا اور ایک کتاب میں اس نے اسلام پر بھی تنقید کی۔ اموی شام میں عوام کو باقاعدہ اسلام کی تبلیغ کرنے کا کام عمر ابن عبدالعزیز (متوفیٰ 720ء) کے تین سالہ دور میں شروع ہوا، تاہم اکثریت کے مسلمان ہونے کا عمل کئی صدیوں تک جاری رہا۔
قرآن کی روشنی میں مشرکین کے عقائد
مشرکین کے بنیادی نظریات کو جاننے کیلئے سب سے اہم مآخذ قرآنِ کریم ہے۔ قرآن کے مطابق ان کے بنیادی عقائد کچھ یوں تھے:
اللہ پر شرک آلود ایمان
مشرکین خدا کے منکر نہ تھے۔ وہ اللہ کے ایک ہونے پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ لیکن ان کا یہ ایمان خالص نہیں تھا بلکہ شرک سے آلودہ تھا۔ سورہ عنکبوت میں ارشادِ الٰہی ہے:
وَ لَئِن سَاَلتَہُم مَّن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضَ وَ سَخَّرَ الشَّمسَ وَ القَمَرَ لَیَقُولُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤفَکُونَ. (2)
ترجمہ: ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا تو ضرور کہیں گے: اللہ نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں؟“
سورہ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَئِن سَاَلتَہُم مَّن خَلَقَہُم لَیَقُولُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤفَکُونَ. (3)
ترجمہ: ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں: انہیں کس نے خلق کیا ہے؟ تو یہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، پھر کہاں الٹے جا رہے ہیں۔“
سورہ مومنون میں ارشاد ہوتا ہے:
قُل لِّمَنِ الاَرضُ وَ مَن فِیہَاۤ اِن کُنتُم تَعلَمُونَ. سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ ؕ قُل اَفَلَا تَذَکَّرُونَ. قُل مَن رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبعِ وَ رَبُّ العَرشِ العَظِیمِ. سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ ؕ قُل اَفَلَا تَتَّقُونَ. قُل مَن بِیَدِہٖ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیءٍ وَّ ہُوَ یُجِیرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیہِ اِن کُنتُم تَعلَمُونَ. سَیَقُولُونَ لِلّٰہِ ؕ قُل فَاَنّٰی تُسحَرُونَ. بَل اَتَینٰہُم بِالحَقِّ وَ اِنَّہُم لَکٰذِبُونَ. (4)
ترجمہ: ”کہہ دیجئے: یہ زمین اور جو اس پر (آباد) ہیں کس کی ہے اور اگر تم جانتے ہو؟ (تو بتاؤ)۔ وہ کہیں گے: اللہ کی ہے، کہہ دیجئے: تو پھر تم سوچتے کیوں نہیں ہو؟ کہہ دیجئے: سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے: اللہ ہے، کہہ دیجئے: تو پھر تم بچتے کیوں نہیں ہو؟ کہہ دیجئے: وہ کون ہے جس کے قبضے میں ہر چیز کی بادشاہی ہے؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اگر تم جانتے ہو؟ (تو بتاؤ)۔ وہ کہیں گے: اللہ، کہہ دیجئے: تو پھر تمہاری یہ خبطی کہاں سے ہے؟ بلکہ ہم حق کو ان کے سامنے لے آئے ہیں اور یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔“
قرآن مشرکوں کے لئے درسِ عبرت کے طور پر اس خطے میں ان سے پہلے گزرنے والے مشرکین کا بھی ذکر کرتا ہے جن پر اللہ کا عذاب آیا تو انہوں نے شرک سے توبہ کی مگر یہ توبہ ان کے کام نہ آئی:
اَفَلَم یَسِیرُوا فِی الاَرضِ فَیَنظُرُوا کَیفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِینَ مِنۡ قَبلِہِم ؕ کَانُوا اَکثَرَ مِنہُم وَ اَشَدَّ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الاَرضِ فَمَاۤ اَغنٰی عَنہُم مَّا کَانُوا یَکسِبُونَ. فَلَمَّا جَآءَتہُم رُسُلُہُم بِالبَیِّنٰتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَہُم مِّنَ العِلمِ وَ حَاقَ بِہِم مَّا کَانُوا بِہٖ یَستَہزِءُونَ. فَلَمَّا رَاَوا بَاسَنَا قَالُوا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحدَہٗ وَ کَفَرنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشرِکِینَ. فَلَم یَکُ یَنفَعُہُم اِیمَانُہُم لَمَّا رَاَوا بَاسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِی قَد خَلَت فِی عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الکٰفِرُونَ. (5)
ترجمہ: ”کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ تعداد میں ان سے کہیں زیادہ تھے نیز طاقت اور زمین میں (اپنے) آثار چھوڑنے میں بھی ان سے زیادہ تھے، (اس کے باوجود) جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ پھر جب ان کے پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ اس علم پر نازاں تھے جو ان کے پاس تھا، پھر انہیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے: ہم خدائے واحد پر ایمان لاتے ہیں اور جسے ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند نہیں رہے گا، یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں چلی آ رہی ہے اور اس وقت کفار خسارے میں پڑ گئے۔“
ذاتِ الٰہی سے کائنات کا صدور
اللہ کے ایک ہونے پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ مشرکین اس بات کے بھی قائل تھے کہ اس سے کچھ چیزیں صادر ہوئی ہیں جن کو وہ کائنات کی تدبیر میں اللہ کا شریک ٹھہراتے اور لائق عبادت بھی سمجھتے تھے۔ وہ اللہ سے کائنات کے صدور میں جن فرشتوں کو واسطہ سمجھتے تھے، وہ ان کو اللہ کی بیٹیاں کہتے اور ان کے بت بنا کر پوجتے، ان سے دعائیں مانگتے اور ان کے سامنے قربانیاں پیش کرتے تھے۔ گویا وہ خالق و مخلوق میں علت و معلول کے تعلق کے قائل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: فتنۂ فلسفہ و فلاسفہ – آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی
عباسی دور میں یونانی اصطلاح ἀπορροή کا ترجمہ صدور کیا گیا۔ دور جاہلیت میں عربی زبان میں ایسی کسی اصطلاح کا وجود نہیں ملتا البتہ قرآن و میں خدا سے چیزوں کے تولد کی نفی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ صدور ایسا ہی تھا جیسا کہ اولاد پیدا ہونا، کیونکہ کا صدور باقی چیزوں کے صدور سے مختلف ہوتا ہے۔ اولاد اپنے والدین کے خلیوں سے بنی ہوتی ہے۔ وہ ان کی صفات کا مظہر اور ان کی زندگی کا تسلسل ہوتی ہے۔
وہ خدا کی عبادت کیلئے فرشتوں کے بت بنا کر پوجتے تھے کہ وہ عبادت ان واسطوں سے ہو کر ہی خدا تک پہنچے گی۔ ان کے خیال میں اللہ کی الوہیت کا تشکیکی نہ ہونا عقلاً محال تھا، وہ تعجب سے کہتے تھے:
اَجَعَلَ الاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیءٌ عُجَابٌ. (6)
ترجمہ: ”کیا اس نے بہت سے معبودوں کی جگہ صرف ایک معبود بنا لیا؟ یہ تو یقیناً بڑی عجیب چیز ہے۔“
وہ ایک طرح کے وحدت الوجود کے بھی قائل تھے۔ وہ اللہ کو کُل اور اس سے صادر شدہ چیزوں کو اس کا جُزء سمجھتے تھے۔ سورہ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ جَعَلُوا لَہٗ مِن عِبَادِہٖ جُزءًا ؕ اِنَّ الاِنسَانَ لَکَفُورٌ مُّبِینٌ. اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصفٰکُم بِالبَنِینَ. (7)
ترجمہ: ”اور ان لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے (کچھ کو) اللہ کا جز بنا دیا، یہ انسان یقیناً کھلا ناشکرا ہے۔ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے (اپنے لیے) بیٹیاں بنا لیں اور تمہیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا؟“
سورہ انعام میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ جَعَلُوا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الجِنَّ وَ خَلَقَہُم وَ خَرَقُوا لَہٗ بَنِینَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیرِ عِلمٍ ؕ سُبحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُونَ. (8)
ترجمہ: ”اور ان لوگوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اور نادانی میں اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ ڈالیں، جو باتیں یہ لوگ کہتے ہیں اللہ ان سے پاک اور بالاتر ہے۔“
وہ ان بیٹیوں کو فرشتے سمجھتے تھے:
اَفَاَصفٰىکُم رَبُّکُم بِالبَنِینَ وَ اتَّخَذَ مِنَ المَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُم لَتَقُولُونَ قَولًا عَظِیمًا. (9)
ترجمہ: ”(اے مشرکین) کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹوں کے لیے چن لیا اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا، بتحقیق تم لوگ بہت بڑی (گستاخی کی) بات کرتے ہو۔“
بت ان بیٹیوں کی شبیہ تھے۔ قرآن میں ان نام نہاد واسطوں کے نام بھی آئے ہیں:
اَفَرَءَیتُمُ اللّٰتَ وَ العُزّٰی. وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الاُخرٰی. اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الاُنثٰی. تِلکَ اِذًا قِسمَۃٌ ضِیزٰی. اِن ہِیَ اِلَّاۤ اَسمَآءٌ سَمَّیتُمُوہَاۤ اَنتُم وَ اٰبَآؤُکُم مَّاۤ اَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِن سُلطٰنٍ ؕ اِن یَّتَّبِعُونَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہوَی الاَنفُسُ ۚ وَ لَقَد جَآءَہُم مِّن رَّبِّہِمُ الہُدٰی. (10)
ترجمہ: ”کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا؟ اور پھر تیسری منات کو بھی؟ کیا تمہارے لیے تو بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں؟ یہ تو پھر غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ دراصل یہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا و اجداد نے گھڑ لیے ہیں، اللہ نے تو اس کی کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے، یہ لوگ صرف گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آ چکی ہے۔“
وہ خدا کو قادرِ مطلق نہیں مانتے تھے۔ وہ خود سے اللہ کے بارے میں حضوری، یعنی من گھڑت، معارف بنا کر ان صادر شدہ چیزوں کو خدا کی بارگاہ میں شفاعت کا لازمی وسیلہ سمجھتے تھے:
فَمَن اَظلَمُ مِمَّنِ افتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَو کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفلِحُ المُجرِمُونَ. وَ یَعبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُم وَ لَا یَنفَعُہُم وَ یَقُولُونَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِندَ اللّٰہِ ؕ قُل اَتُنَبِّـُٔونَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الاَرضِ ؕ سُبحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشرِکُونَ. (11)
ترجمہ: ”پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے؟ مجرم لوگ یقینا فلاح نہیں پائیں گے۔ اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور (پھر بھی)کہتے ہیں: یہ اللہ کے پاس ہماری شفاعت کرنے والے ہیں، کہہ دیجئے: کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جو اللہ کو نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک و بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔“
عقیدۂ صدور کا تورات و انجیل میں کوئی ذکر نہیں تھا، لیکن بعد کے علماء نے مشرکین کے فلسفے سے مرعوب ہو کر یہ عقیدہ اپنے دین میں شامل کر دیا۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے:
وَ قَالَتِ الیَہُودُ عُزَیرُ ۨابنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی المَسِیحُ ابنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَولُہُم بِاَفوَاہِہِم ۚ یُضَاہِـُٔونَ قَولَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِن قَبلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤفَکُونَ. اِتَّخَذُوا اَحبَارَہُم وَ رُہبَانَہُم اَربَابًا مِّن دُونِ اللّٰہِ وَ المَسِیحَ ابنَ مَریَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوا اِلَّا لِیَعبُدُوا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبحٰنَہٗ عَمَّا یُشرِکُونَ. (12)
ترجمہ: ”اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں ان لوگوں کی باتوں کے مشابہ ہیں جو ان سے پہلے کافر ہو چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کدھر بہکتے پھرتے ہیں؟ انہوں نے اللہ کے علاوہ اپنے علماء اور راہبوں کو اپنا رب بنا لیا ہے اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ذات ان کے شرک سے پاک ہے۔“
جب یونانی اور رومی لوگوں کو مسیحیت اپنانا پڑی تو انہوں نے عہدنامۂ قدیم اور عہد نامۂ جدید میں باپ اور بیٹے جیسے الفاظ کی یونانی تفسیر کر دی۔ قدیم یونانی فلسفیوں کے ہاں دیوتاؤں کا صاحبِ اولاد ہونا، خدا سے چیزوں کا صادر ہونا، خدا نما انسان اور انسان نما خدا جیسے نظریات عام تھے جو عوام میں جڑیں پکڑ چکے تھے۔ عہدِ قدیم متاخر میں خواص نے خدائے واحد سے عقل اور روح کے صدور کا نوفلاطونی فلسفہ اپنا لیا تھا۔ چنانچہ رومی عوام نے بعض اوقات سینٹ برنباس کو زئوس اور سینٹ پال کو ہرمیس کا انسانی روپ قرار دیا۔ ایسے میں ان کا حضرت عیسٰی ؑ کو خدا مان لینا تعجب کی بات نہیں۔ تثلیث کی جڑیں بھی یونانی فلسفے میں ملتی ہیں۔ قرآن میں اس عقیدے کو غلط قرار دیا گیا ہے:
لَقَد کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِن اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِن لَّم یَنتَہُوا عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنہُم عَذَابٌ اَلِیمٌ. (13)
ترجمہ: ”بتحقیق ان لوگوں نے کفر کیا جو کہتے ہیں: اللہ تین میں کا تیسرا ہے جبکہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہیں آتے تو ان میں سے کفر کرنے والوں پر دردناک عذاب ضرور واقع ہو گا۔“
قرآن میں توحید کا سب سے جامع بیان سورہ توحید میں آیا ہے جہاں خدا کے کسی سے صادر ہونے اور خدا سے کسی کے صادر ہونے کی نفی کرتے ہوئے اسے یکتا، بے نیاز اور سب موجودات سے مکمل طور پر الگ تھلگ ذات قرار دیا گیا ہے:
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ. قُل ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ. اَللّٰہُ الصَّمَدُ. لَم یَلِد وَ لَم یُولَد. وَ لَم یَکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ. (14)
ترجمہ: ”بنامِ خدائے رحمان و رحیم۔ کہہ دیجئے: وہ اللہ یکتا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی صادر ہوا اور نہ وہ کسی سے صادر ہوا۔ اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے۔“
احادیث میں اس سورہ کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر شیخ صدوق کی کتاب التوحید میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے:
إن الله عز وجل علم أنہ يكون في آخر الزمان أقوام متعمقون فأنزل الله عز وجل (قل ہو اللہ أحد . اللہ الصمد) والآيات من سورة الحديد – إلى قولہ: (وہو عليم بذات الصدور) فمن رام ما وراء ہنالك ہلك. (15)
ترجمہ: ”بے شک خدائے بزرگ و برتر جانتا تھا کہ آخری زمانے میں مختلف چیزوں کے بارے میں گہری کھوج لگانے والا گروہ آئے گا، چنانچہ اس نے سورۂ توحید اور سورۂ حدید کی و ہو علیم بذات الصدور تک کی آیات نازل کیں۔ پس جو ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا وہ ہلاک ہو گا۔“
اللہ سے قربت کے خود ساختہ طریقے
مشرکین اللہ کی طرف روحانی سفر کیلئے بزعم خود چھوٹے درجے کی چیزوں کی پرستش کو اللہ تک پہنچنے کا ناگزیر واسطہ سمجھتے تھے۔ سورہ زمر میں آیا ہے:
اَلَا لِلّٰہِ الدِّینُ الخَالِصُ ؕ وَ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِہٖۤ اَولِیَآءَ ۘ مَا نَعبُدُہُم اِلَّا لِیُقَرِّبُونَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحکُمُ بَینَہُم فِی مَا ہُم فِیہِ یَختَلِفُونَ ۬ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہدِی مَن ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ. لَو اَرَادَ اللّٰہُ اَن یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصطَفٰی مِمَّا یَخلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ سُبحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الوَاحِدُ القَہَّارُ. (16)
ترجمہ: ”آگاہ رہو! خالص دین صرف اللہ کے لیے ہے اور جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اولیاء بنا لیا ہے (ان کا کہنا ہے کہ) ہم انہیں صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب لے جائیں، اللہ ان کے درمیان یقیناً ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ اللہ جھوٹے منکر کو یقینا ہدایت نہیں کرتا ہے۔ اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب کر لیتا، وہ پاکیزہ ہے اور وہ اللہ یکتا، غالب ہے۔“
زمانۂ جاہلیت میں مسیحیوں نے بھی یونانی روحانیت سے متاثر ہو کر رہبانیت کو اللہ سے قربت کا وسیلہ بنا لیا۔ یہ بدعت ان میں سے اکثر کی زندگی کا توازن بگاڑ کر انہیں فسق و فجور کی طرف لے گئی۔ ارشادِ الٰہی ہے:
ثُمَّ قَفَّینَا عَلٰۤی اٰثَارِہِم بِرُسُلِنَا وَ قَفَّینَا بِعِیسَی ابنِ مَریَمَ وَ اٰتَینٰہُ الاِنجِیلَ وَ جَعَلنَا فِیۡ قُلُوبِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ رَافَۃً وَّ رَحمَۃً وَ رَہبَانِیَّۃَۨ ابتَدَعُوہَا مَا کَتَبنٰہَا عَلَیہِم اِلَّا ابتِغَآءَ رِضوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا فَاٰتَینَا الَّذِینَ اٰمَنُوا مِنہُم اَجرَہُم وَ کَثِیرٌ مِّنۡہُم فٰسِقُونَ. (17)
ترجمہ: ”پھر ان کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور انہیں ہم نے انجیل دی اور جنہوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت (ترک دنیا) کو تو انہوں نے خود ایجاد کیا، ہم نے تو ان پر رہبانیت کو واجب نہیں کیا تھا سوائے اللہ کی خوشنودی کے حصول کے، لیکن انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی، پس ان میں سے جنہوں نے ایمان قبول کیا ہم نے ان کا اجر انہیں دیا اور ان میں بہت سے لوگ فاسق ہیں۔“
قرآن باطن گرائی کے بجائے دوسرے انسانوں سے تبادلۂ خیال کی دعوت دیتا ہے اور مختلف آراء میں سے بہتر کو اپنانے کو عقلمندی کہتا ہے۔ قرآن عقل کی تعریف یوں کرتا ہے:
فَبَشِّرْ عِبَادِ. الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ. (18)
ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“
جدید تحقیقات سے بھی یہی معلوم ہوا ہے کہ انسان کا علم مخلوقات تک محدود ہے اور اس کی نوعیت اجماعی ہے۔ یعنی کسی محقق کا مقالہ علم کا حصہ اس وقت تک نہیں بنتا جب تک اس سے باقی محققین متفق نہ ہوں۔ چنانچہ سائنس میں بھی وہی تحقیق قابلِ استناد ہے جسے متعدد سائنسدانوں نے دہرا کر اس کی تصدیق کی ہو۔ بڑے سے بڑے سائنسدان کی ان آراء کو سائنس کا حصہ نہیں سمجھا جاتا جن سے باقی سائنسدان متفق نہ ہوں۔ اسی لئے دینی معارف جیسے حساس معاملے میں انسان وحی کے محتاج ہیں۔
معادِ جسمانی کا انکار
مشرکین اعادۂ معدوم کو محال سمجھتے تھے۔ کچھ تو سرے سے معاد کے منکر تھے۔ وہ کہتے تھے:
وَ قَالُوا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنیَا نَمُوتُ وَ نَحیَا وَ مَا یُہلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہرُ ۚ وَ مَا لَہُم بِذٰلِکَ مِن عِلمٍ ۚ اِن ہُم اِلَّا یَظُنُّونَ. (19)
ترجمہ: ”اور وہ کہتے ہیں: زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے (جس میں) ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف وقت ہی مارتا ہے اور انہیں اس کا کچھ علم نہیں ہے، وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔“
مشرکین روح کے جسم میں قید ہونے کے قائل تھے۔ کچھ موت کے بعد تناسخ کے قائل تھے کہ روح ایک جسم سے نکل کر کسی اور جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔ کچھ روح کو الّو کی شکل والا نامرئی پرندہ قرار دیتے تھے جو موت کے بعد جسم سے نکل کر ویرانوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ لیکن وہ سب اس بات کے منکر تھے کہ انسان کا مادی جسم موت کے بعد روح کے ساتھ دوبارہ حساب و کتاب کیلئے اٹھایا جائے گا۔ مثلاً وہ کہتے تھے:
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلقَہٗ ؕ قَالَ مَن یُّحیِ العِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیمٌ. قُل یُحیِیہَا الَّذِی اَنشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمُۨ. (20)
ترجمہ: ”پھر وہ ہمارے لیے مثالیں دینے لگتا ہے اور اپنی خلقت بھول جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے: ان ہڈیوں کو خاک ہونے کے بعد کون زندہ کرے گا؟ کہہ دیجئے: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کی تخلیق کو خوب جانتا ہے۔“
قرآن نے معادِ جسمانی پر بہت زور دیا ہے اور یہ ایک ایسا موضوع تھا جو مشرکینِ مکہ کے تعلیم یافتہ طبقے کیلئے ناقابلِ یقین تھا۔ چنانچہ قرآن میں حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ بیان ہوا ہے:
وَ اِذ قَالَ اِبرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِی کَیفَ تُحیِ المَوتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَم تُؤمِن ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِن لِّیَطمَئِنَّ قَلبِی ؕ قَالَ فَخُذ اَربَعَۃً مِّنَ الطَّیرِ فَصُرہُنَّ اِلَیکَ ثُمَّ اجعَل عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنہُنَّ جُزءًا ثُمَّ ادعُہُنَّ یَاتِینَکَ سَعیًا ؕ وَ اعلَم اَنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ. (21)
ترجمہ: ”اور (وہ واقعہ یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا : میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، فرمایا: کیا آپ ایمان نہیں رکھتے؟ کہا: ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرے دل کو اطمینان مل جائے۔ فرمایا: پس چار پرندوں کو پکڑ لو پھر ان کے ٹکڑے کرو پھر ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں بلاؤ وہ تیزی سے آپ کے پاس چلے آئیں گے اور جان رکھو اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔“
روح کیا ہے؟
جیسا کہ کارل یونگ (Carl Jung) معترف ہے، اللہ پر ایمان روح کی بنیاد ہے۔
وَ نَحنُ اَقرَبُ اِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ. (22)
ترجمہ: ”ہم رگ گردن سے بھی زیادہ نفسِ انسانی کے قریب ہیں۔“
زمانۂ جاہلیت میں روح اور خدا کے بارے میں فلسفہ بافی عروج پر تھی۔ قرآن نے انسانوں کو ان ناقابلِ تصدیق مفروضوں میں پڑنے سے روک کر روح کو امرِ الٰہی کہا اور خدا اور روح ہر دو کے بارے میں انسانوں کے علم کی رسائی کو محدود قرار دیا:
وَ لَا یُحِیطُونَ بِہٖ عِلمًا. (23)
ترجمہ: ”تمہارا علم اللہ کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“
وَ یَسـَٔلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ ؕ قُلِ الرُّوحُ مِن اَمرِ رَبِّی وَ مَاۤ اُوتِیتُم مِّنَ العِلمِ اِلَّا قَلِیلًا. (24)
ترجمہ: ”اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے: روح میرے رب کے امر سے متعلق ہے اور تمہیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے۔“
امام رضا ؑ کا فرمان ہے:
الروح مسكنہا في الدماغ و شعاعہا منبثٌ فی الجسد، بمنزلہ الشمس دارَتُہا فی السماء و شعاعہا منبسط علی الارض. فاذا غابت الدارۃ فلاشمس، و اذا قطعت الرأس فلا روح. (25)
ترجمہ: ”روح کا مسکن دماغ (Brain) ہے اور اس کی شعاعیں (Signals) جسم میں منتشر ہوتی ہیں، جیسا کہ سورج کی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں۔ جب سورج غروب ہو تو روشنی نہیں رہتی، جب سر کٹ جائے تو روح نہیں رہتی۔“
روح جسم میں قید نہیں ہوتی بلکہ جسم روح کے زندان میں زندہ رہتا ہے۔ روح بدن پر حاکم ہوتی ہے۔ اسلام روح اور جسم دونوں کی صحت و سلامتی کو اہمیت دیتا ہے۔ اگرچہ زندہ چیزوں کا جسم وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے لیکن اس کی ساخت، یعنی اس کی بناوٹ اور ڈی این اے وغیرہ، میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ موت کے بعد قیامت کے دن جسم دوبارہ اٹھایا جائے گا اور روح کو بھی اس کی طرف پلٹایا جائے گا۔ آیت اللہ جواد تہرانی اسلام کے عقیدۂ معاد کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
«ہر شیئ را کہ ما در نظر بگیریم تشخص او بہ خودِ اوست نہ بہ غیر او. پس تشخص ہر بدن بہ خود ہمان بدن است و ہرگز تشخص بدن بہ نفس نیست، چنانکہ تشخص ہر نفس بہ خود اوست و بہ امر آخرى نیست و تشخص ہر انسان مرکب از روح و بدن اصلى و اجزاى فرعیہ بر سبیل بدایت و تردد کہ در دنیا مورد تکلیف است، ہمان روح و بدن اصلى و اجزاى فرعیہ مبہمہ است. در معاد باید بہ ہمین نحو عود کند تا صدق عینیت کند والاّ فلا.» (26)
ترجمہ: ”ہم جس چیز پر بھی غور کریں، اس کا تشخص خود وہ چیز ہی ہوتا ہے، اپنے علاوہ کسی اور چیز سے اس کی شناخت نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہر جسم کی شناخت خود وہ جسم ہے اور جسم کی تشخیص روح کے ساتھ کبھی نہیں ہوتی۔ ہر روح کی پہچان خود اس روح سے ہوتی ہے، مادّی بدن سے نہیں ہوتی۔ ہر انسان کی شخصیت، جو روح اور جسم کے بنیادی ڈھانچے اور ثانوی اجزاء سے مرکب ہوتا ہے، وہی روح اور جسم کی بنیادی ساخت اور اس کے پیچیدہ ثانوی اجزاء ہیں، جو زندگی کی ابتداء سے ہیں اور تبدیلیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ انسان کو اپنی شرعی ذمہ داریاں انہی تبدیلیوں کے تناظر میں ادا کرنی ہوتی ہیں۔ قیامت میں بھی اسی مجموعی شخصیت کو لوٹنا ہے تاکہ عین اسی شخص کا حساب و کتاب ہو، ورنہ ایسا نہیں ہو گا۔“
روح کی پرورش (Individuation) کیلئے خدا کی یاد میں رہنا لازم ہے:
وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الفٰسِقُونَ. (27)
ترجمہ: ”اور ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا پھر اللہ نے بھی ان کو (ایسا کر دیا) کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں۔“
آثارِ قدیمہ کے شواہد
حال ہی میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے مشرکینِ مکہ کے بارے میں تحقیق کیلئے حجاز میں پتھروں پر لکھی تحریروں کی کھوج لگائی ہے۔ (28) عہدِ قدیم کی تحریروں میں مشرکین مختلف دیویوں سے دعائیں مانگتے ہیں۔
مثلاً مدینہ کے شمال میں واقع قصر البنت سے نبطی خط میں لکھی گئی ایک تحریر میں ایک خاتون اپنے خاندان کا ذکر کرنے کے بعد یہ لکھتی ہے کہ اس پتھر کو اس کی اولاد کے علاوہ جو کوئی اپنی جگہ سے ہٹائے اس پر لات کا غضب نازل ہو۔ (29) اسی طرح تبوک کے نواح سے حسمائی خط میں لکھی گئی ایک تحریر میں ایک مرد لات سے دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے خاندان کا خیال رکھے۔ (30)
البتہ عہدِ قدیم متأخر، یعنی چوتھی صدی عیسوی، میں رومی سلطنت پر فلوطین کے فلسفے کے غلبے اور یمن پر یہودی خاندان کی حکومت آنے کے بعد، حجاز میں چٹانوں پر لکھی گئی تحریروں میں خدائے واحد کا ذکر ہونے لگا۔ جو تحریریں چھٹی صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہیں ان میں خدائے واحد کا ذکر ملتا ہے۔ دوسرے خداؤں کا نام صرف لوگوں کے صدیوں سے چلے آ رہے روایتی ناموں میں شامل ہے، جیسے عبدالشمس، عبد العزیٰ، وغیرہ۔ ان تحریروں میں وہ اللہ سے دعائیں مانگتے اور مغفرت طلب کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ دوسرے دیوتاؤں کو تنزل یافتہ اور ذیلی نوعیت کا معبود سمجھا جانے لگا تھا۔ اس دور میں عربی زبان کا قدیم رسم الخط تشکیل پا رہا تھا، لیکن ابھی اس زبان کے معیارات مقرر نہیں ہوئے تھے۔ اس دور سے تعلق رکھنے والی چالیس تحریریں مل چکی ہیں جن میں سے کچھ قابلِ فہم ہیں۔ مثلاً تبوک کے مغرب سے ملنے والے ایک پتھر پر لکھا ہے:

بسمک اللہم انا عبد شمس بر المغیرہ یستغفر ربہ. (31)
ترجمہ: ”اے اللہ تیرے نام سے، میں عبدِ شمس، مغیرہ کا بیٹا، اپنے رب سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔“
تبوک کے جنوب سے ملنے والی ایک چٹان پر یہ لکھا ہے:

من خلد بر ثعلبہ لبنی لخزرج سلم انتم فاذا اتیتم علی مکن ہذا فلاوصکم بلہ. (32)
ترجمہ: ”ثعلبہ کے بیٹے خالد کا بنی خزرج کے نام پیغام: جب تم اس جگہ پر آؤ تو تم پر سلامتی ہو، میں تمہیں اللہ کو یاد رکھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔“
طائف سے ملنے والے ایک پتھر پر لکھا ہے:

بسمک ربنا انا عبدالعزی بر سفین اوصی ببر اللہ. (33)
ترجمہ: ”اے ہمارے رب تیرے نام سے، میں عبدِ عزیٰ، سفیان کا بیٹا، اللہ سے ڈرنے کی دعوت دیتا ہوں۔“
تاہم ان تحریروں میں اللہ کے علاوہ دیگر معبودوں کے انکار کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ جن تحریروں میں خدا کے علاوہ دوسرے معبودوں کے انکار کا اظہار ہوتا ہے، محققین ان کو ظہورِ اسلام کے بعد کے ادوار سے متعلق سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر بنی امیہ کے دورِ حکومت میں ایجاد ہونے والے عربی زبان کے خطِ کوفی میں جناب عمر کے کسی عقیدت مند کی یہ تحریر مدینہ کے نواح سے ملی ہے:

الله ولی عمر بن الخطاب فی الدنیا والآخرۃ لا الہ الا اللہ
ترجمہ: ”اللہ دنیا و آخرت میں عمر بن خطاب کا ولی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
اس تحریر میں حرف ”د“ خطِ کوفی کے مطابق ہے۔ حرف ”ا“ عمودی ہے، آخر میں دائیں طرف مڑا ہوا ہے اور اس کی بلندی باقی حروف کی بلندیوں کے برابر ہے۔ حرف ”ر“ نیچے کی طرف گرا ہوا نہیں بلکہ د سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر خطِ کوفی میں ہے۔
مدینہ سے مکہ کی طرف جانے والے راستے میں خطِ کوفی میں ہی امام جعفر صادق ؑ سے منسوب یہ تحریر ملی ہے:

”انا جعفر بن محمد اوصی كل مؤمن بتقوى اللہ والعمل بطاعتہ والرضى بقدرہ والصبر على بلائہ والشكر على عطاہ والتوكل عليہ .. وكتب لعشر ليال خلت من شعبان سنۃ عشر ومئۃ“
ترجمہ: ”میں جعفر ابن محمد ہر مؤمن کو اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے، اس کی قدر پر راضی رہنے، مشکلات میں صبر سے کام لینے، اس کی عطا پر شکر کرنے، اس پر توکل کرنے ۔ ۔ ۔ کی وصیت کرتا ہوں۔
یہ تحریر 10 شعبان سنہ 110 ہجری میں لکھی گئی۔“
زمانۂ جاہلیت کا فلسفہ
ماضی میں تجارتی قافلوں کے علاوہ عسکری مہمات بھی ثقافتی تبادلے کا سبب بنتی تھیں۔ تین سو قبلِ مسیح میں سکندر کی فتوحات کے بعد سے یونانی زبان اور فلسفہ مغربی ایشیاء میں پہنچ گیا تھا۔ سنہ 27ء عیسوی میں رومیوں نے یونان کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا اور سنہ 31ء تک مصر میں سکندر کے دور سے قائم یونانی سلطنت بھی رومی سلطنت کا حصہ بن گئی۔ شام اور مصر میں یونانی زبان کو ہی سرکاری زبان کا درجہ حاصل رہا۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ رومی اور سریانی زبانوں میں بھی پڑھنے لکھنے کا رواج ہو گیا۔ یونانی فلاسفہ کے افکار انبیائے بنی اسرائیل کی تعلیمات کے علاوہ ہندو اور بدھ مذاہب کی تعلیمات سے بھی ٹکرائے اور نئے افکار نے جنم لیا۔ یونانیوں کی اخلاقیات، منطق، الٰہیات، طبیعیات، طب، ریاضی اور ہیئت پر لکھی گئی کتب کے رومی اور سریانی زبانوں میں ترجمے بھی ہونے لگے۔
قدیم یونانی فلسفی متعدد خداؤں کے قائل تھے، البتہ ارسطو خدائے واحد کا قائل تھا جسے وہ محرکِ اول قرار دیتا تھا۔ تاہم ارسطو کا خدا کسی بھی کام کیلئے متعدد ثانوی محرکات کا محتاج تھا۔ سکندر کے حملوں کے بعد ہونے والے ثقافتی تبادلے کی بدولت مصر کے شہر سکندریہ (Alexandria) میں جہاں مخلوقات کو سمجھنے کیلئے رائج علوم میں بہت پیشرفت ہوئی وہیں خالق کے بارے میں عرفان بافی بھی عروج پر پہنچ گئی۔
یہاں زمانۂ فترت میں مصر اور شام میں رواج پانے والے اہم فکری دھاروں اور اس دور کے معروف ترین فلسفیوں کا ایک مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ حصہ انٹرنیٹ پر میسر دائرۃ المعارف کی مدد سے لکھا گیا ہے۔
عارفین
اگرچہ ارسطو نے افلاطون کے فلسفے کے بنیادی اصولوں کو رد کیا تھا لیکن پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں افلاطون کے پیروکاروں میں بہت اضافہ ہونے لگا جو مادی اور روحانی دنیا میں تفریق کے قائل تھے۔ طرح طرح کے باطنی علوم اور کائنات کے چھپے رازوں کا علم رکھنے کے دعویدار پیدا ہوئے جن کو عارفین (Gnostics) کہا جاتا ہے۔ ان حضرات کے مطابق خدائے واحد سے روحانی دنیا (Pleroma) نکلی اور سب سے آخر میں عقل (Sophia) نکلی۔ عقل نے کمالِ مطلق کی مکمل معرفت کے حصول کی کوشش شروع کر دی تو اس سے خالق (Demiurge) نکلا۔ اس نے مادے کو خلق کیا اور خود کو خدائے واحد سمجھ لیا۔ یہاں عارفین کے یہودیوں سے اختلاف کا آغاز ہوا۔ یہودیوں کے مطابق خدائے واحد نے کائنات کو عدم سے بلاواسطہ خلق کیا ہے جبکہ عارفین کے خیال میں مادی دنیا عقل کی غلطی کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ یہ کمتر دنیا، حقیقی روحانی دنیا کی نقل ہے اور یہودیوں اور مسیحیوں کی مقدس کتب بھی اس خالق کی پیدا کردہ ہیں جس نے مادی دنیا بنائی تاکہ وہ انسانوں کی روحوں کو قید کر سکے۔
عارفین کے مطابق انسان ان دونوں دنیاؤں کے ملنے کا مقام ہے۔ یہ روحانی بھی ہے اور مادی بھی، روح بدن میں قید ہے اور موت کے بعد روحانی دنیا میں چلی جائے گی اور بدن مادی دنیا میں گل سڑ کرختم ہو جائے گا۔ لہٰذا مادی چیزوں سے ہر ممکن دوری اختیار کرنی چاہئے۔ عارفین کے مطابق حقیقی روحانی دنیا کا عرفان کشف و شہود سے حاصل ہوتا ہے اور اس سے انسان کی عقل کامل ہو جاتی ہے۔ (34)
مسیحی چونکہ اس زمانے میں رومی سلطنت کے زیرِ عتاب تھے، چنانچہ انہوں نے اس عرفان بافی سے متاثر ہو کر رہبانیت اختیار کر لی۔ اس طرح انہوں نے تلخ حالات اور مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے تصوف میں پناہ لی۔ بعض یہودیوں نے بھی صاحبانِ اقتدار سے مرعوب ہو کر اپنی آسمانی کتابوں کی تفسیر یونانی فلسفے کے مطابق کرنا شروع کر رکھی تھی۔ اس سلسلے میں سکندریہ کے فیلو یہودی (متوفیٰ 50ء) کا نام قابلِ ذکر ہے، جس نے تورات کی اپنی رائے سے باطنی تفسیر کر کے یہودیت اور افلاطون کے فلسفے میں قربت پیدا کرنے کی کوشش کی۔
فلوطین

سنہ 204ء میں سکندریہ کے ایک بت پرست یونانی خاندان میں فلوطین (Plotinus) نے آنکھ کھولی۔ اس دور کے یونانیوں میں عارفین کے علاوہ فیثاغورث کے پیروکار اور رواقیوں کے پیروکار بھی پائے جاتے تھے۔ یہ مادی دنیا سے نفرت کا زمانہ تھا۔ فلوطین نے اس پس منطر اور اپنے ہندو استاد ایمونیس سکاس سے متاثر ہو کر ایک نئے فلسفے کی بنیاد رکھی۔ وہ 244ء میں روم چلا گیا جہاں اس نے 270ء میں اپنی وفات تک افلاطون اور ارسطو کے فلسفے پڑھائے اور ان پر تنقید بھی کی۔ اس کے نظریات اس کے شاگرد فرفوریوس نے کتابی شکل میں جمع کئے اور یہ بعد میں نوفلاطونی فلسفہ کہلایا۔
فلوطین افلاطون کے کائنات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے، ایک حسی اور دوسری عقلی، کا قائل ہے۔ حسی دنیا کی چیزیں حرکتِ جوہری کے ذریعے عالمِ عقل کی چیزوں کی صفات کا جلوہ دکھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ عقلی دنیا مجردات کی دنیا ہے۔ وہ عقلی دنیا کے آخر میں ارواح کو قرار دیتا ہے، جن کا ایک حصہ مجرد ہوتا ہے اور دوسرا مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔
فلوطین وحدت میں تشکیک کا قائل ہے۔ وہ مادے کو تو لامتناہی تقسیم کے قابل سمجھتا ہے اور ایٹموں کا منکر ہے، لیکن روح کے بارے میں اسکا کہنا ہے کہ اسکا کچھ حصہ قابلِ تقسیم ہے جو جسم سے تعلق پیدا کرتا ہے اور ہر عضو میں الگ کارکردگی دکھاتا ہے اور کچھ قابلِ تقسیم نہیں ہے جو اعضائے بدن میں رابطہ پیدا کر کے جسم کی وحدت کو برقرار رکھتا ہے۔ یوں روح کا سفر مادے سے شروع ہو کر عقل پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے مطابق روح زمان رکھتی ہے مگر مکان نہیں رکھتی۔
روحانی دنیا کے اوپر معقولات کی دنیا ہے۔ یہاں مجرد حقائق پائے جاتے ہیں جو آپس میں مربوط ہیں اور ان میں سے ہر ایک بالقوہ باقی سبھی کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ یوں وہ مل کر ایک مرکب کل بناتے ہیں۔ اس کثرت میں وحدت بھی ہے۔ وہ نہ صرف جگہ نہیں گھیرتے بلکہ وقت سے بھی آزاد ہیں۔ یہ ہمیشگی کی دنیا ہے۔ فلوطین یہاں ریاضی کی مثال دیتا ہے، لیکن ریاضی تو انسانوں میں تبادلۂ خیال کا ایک ذریعہ ہے اور اس کی کئی اقسام کا واقعیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جنہیں مجہول ریاضی (Abstract Mathematics) کہا جاتا ہے۔
معقولات کے اوپر خدائے واحد کی ذات ہے جو بسیط الحقیقہ ہے۔ وہ سبھی کمالات کا جامع اور ہر نقص سے پاک ہے۔ وہ سب موجودات کی اصلِ اول ہے۔ وہ اتنا باکمال ہے کہ اس کیلئے خود کو ظاہر نہ کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ اس سے کائنات صادر ہوئی۔ خدائے واحد سے مادی دنیا تک کے راستے کو قوس نزولی کہا گیا۔ تاہم ہر چیز واپس خدا کی طرف جانا چاہتی ہے اور اس راستے کو قوس صعودی کا نام دیا گیا جس میں وہ قابلِ تقسیم کثرت کو درجہ بدرجہ ترک کر کے وحدت حاصل کرتی ہے۔
فلوطین خدا کو قدیم ذاتی اور باقی عوالم کو قدیم زمانی سمجھتا ہے۔ وہ کائنات کے حادث ہونے یا عدم سے خلق ہونے کا قائل نہیں، بلکہ اسے خدا کی تجلی سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں جیسے سورج سے روشنی کو الگ نہیں کیا جا سکتا، یا جیسے آئینے کے سامنے جانے سے ہمارا عکس فوراً بن جاتا ہے، ایسے ہی جب سے خدا ہے، تب سے کائنات ہے۔
فلوطین نے عارفین پر تنقید بھی کی۔ وہ افلاطون کی طرح مادی دنیا کے بارے میں اس خیال کا قائل تھا کہ یہ جتنی اچھی ہو سکتی تھی اتنی اچھی ہے۔ اس کے نقائص اس کی پستی کا لازمہ ہیں۔ وہ بھی مادے کو برائی کی جڑ سمجھتا تھا تاہم اس کے نزدیک مادہ خدائے واحد سے صادر شدہ کائنات کا آخری درجہ ہے، وہ عقل کی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات کا آخری مرتبہ ہے۔ یوں وہ بھی مادی چیزوں سے دوری کو ضروری سمجھنے لگا۔
فلوطین غور و فکر کے ساتھ ساتھ شہود، جذب اور وجد کو بھی حکمت کے حصول کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ اس کے مطابق حکمت کا حصول ایک سفر ہے جو منطقی فکر کے ساتھ ساتھ حضوری شہود اور روح کو مادی آلائشوں سے پاک صاف کرنے سے طے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے نزدیک فلسفہ دانی کا مقصد ہستی اور کائنات کو جاننا نہیں بلکہ روح کو خدا تک پہنچانا ہے۔
فلوطین معادِ جسمانی کا منکر تھا۔ اس کے خیال میں روح موت کے بعد بدن کی قید سے رہا ہو کر قوس صعودی پر سفر طے کر کے خدا سے ملتی ہے، اس لئے روح کا دوبارہ جسم میں قید ہو جانا تنزل ہو گا۔ تاہم وہ ہندوؤں کی طرح تناسخ یا آواگون کا قائل تھا۔ یعنی اگر انسان نے اپنی روح کو مادی آلائشوں سے پاک نہ کیا ہو تو وہ موت کے بعد کسی اور جسم میں منتقل ہو جائے گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک کہ وہ پاک ہو کر مادیت سے آزاد نہ ہو جائے۔ وہ لوگوں سے دور جا کر تنہائی میں چِلّے بھی کاٹتا تھا۔ (35)
جدید سائنس مادے کو بنیادی ذرات پر مشتمل سمجھتی ہے۔ مادی اشیاء مالیکیولز یا کرسٹلز سے بنی ہوتی ہیں جو ایٹموں کی مختلف ترکیبوں سے بنے ہوتے ہیں۔ روشنی بھی اپنے ذرات سے مرکب ہوتی ہے اور اسی لئے اس کی شدت کے مختلف مراتب ہوتے ہیں۔ روشنی میں تشکیک اسکی ترکیب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ حرکتِ جوہری کا مفروضہ نیوٹن کے قوانین نے رد کر دیا ہے۔ زمان و مکان کو بھی آئن سٹائن کی تحقیقات نے متحد اور نسبی ثابت کیا ہے۔ عقل کے بارے میں بھی کانٹ کی تحقیقات نے یونانی خیالات پر خط بطلان کھینچا ہے۔ روح کے بارے میں بھی فلوطین کی فلسفہ بافی ناقابلِ تصدیق ہے۔
فرفوریوس

فلوطین کا ممتاز ترین شاگرد فُرفُورِيُوس (متوفیٰ 305ء) تھا۔ اس نے منطق پر ایک کتاب ایساغوجی لکھی تھی جس کا عربی ترجمہ صدیوں تک مسلم دنیا میں مدارس کے نصاب کا حصہ رہا ہے۔ فرفوریوس (Porphyry) نے اپنے استاد فلوطین کے دروس کو کتابی شکل میں لکھا۔ یہ کتاب ”تاسوعات“ (Enneads) کہلائی اور اُس نے اس پر مختصر حاشیہ بھی لگایا۔ عباسی دور میں اس کتاب کے چوتھے، پانچویں اور چھٹے ابواب پر مشتمل ایک ادھورا نسخہ ملا جس کا عربی ترجمہ ”اثولوجیا“ کے عنوان سے ہوا اور مترجم کی غلطی کی وجہ سے ارسطو سے منسوب ہو گیا۔ (36) مترجم کی اس معمولی لغزش کی وجہ سے مسلم دنیا میں جو لوگ فلاسفہ کہلائے وہ ہزار سال تک ارسطو اور افلاطون کے فلسفوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں کوشاں رہے۔ ابونصر فارابی نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب ”الجمع بین رايی الحکيمین“ لکھ ڈالی۔ ملا صدرا کی اسفارِ اربعہ میں متعدد مقامات پر اثولوجیا کو ارسطو سے ہی منسوب کیا گیا ہے اور جہاں ارسطو افلاطون سے اختلاف کرتا ہے وہاں اثولوجیا کا حوالہ دے کر اس اختلاف کو چھپا دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بعض اوقات صاحبِ اثولوجیا کو نبی بھی قرار دیتے رہے جبکہ زمانۂ فترت میں کوئی نبی نہیں آیا۔
ایک المیہ
مسلم فلاسفہ کو یونانی زبان نہیں آتی تھی۔ چنانچہ وہ صدیوں تک اس ابتدائی ترجمے پر ہی اکتفا کرتے رہے اور کسی نے اثولوجیا کے ماخذ کے اصلی نسخے ڈھونڈنے یا اس کا دوبارہ ترجمہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بعد ازاں جب مغرب نے صلیبی جنگوں کے بعد مسلمانوں کے علوم کا لاطینی میں ترجمہ شروع کر کے اس کام کو آگے بڑھایا تو ان کی تحقیقات کا لاطینی سے عربی میں ترجمہ نہ ہوا، کیونکہ مسلم دنیا میں لاطینی زبان کے ماہرین ہی موجود نہیں تھے۔ ملا صدرا کو بھی صرف عربی اور فارسی پر عبور تھا۔ آج بھی دینی مدارس میں مسلم فلاسفہ کے مسلک پر کاربند اساتذہ کسی یونانی فلسفی کی اصل تحریر کو یونانی میں نہیں پڑھ سکتے، نہ ہی جدید فلسفے کی کسی کتاب کو انگریزی، جرمن یا فرانسیسی میں پڑھ سکتے ہیں۔ دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا کہ فلسفے کے استاد کو فلسفیوں کی زبانیں ہی نہ آتی ہوں۔
یامبلیخوس

فرفوریوس کا شاگرد یامبلیخوس (متوفیٰ 325ء) نسلی اعتبار سے ایک عرب تھا۔ اسے فلوطین کے بعد عہدِ قدیم متأخر (Late Antiquity) کا سب سے اہم نوفلاطونی فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ یامبلیخوس (Iamblichus) نے فلوطین اور فرفوریوس کے تصور روح پر تنقید کرتے ہوئے روح کے نقائص بیان کئے۔ اس نے کہا کہ روح نہ صرف خدا کی طرف کشش رکھتی ہے بلکہ مادی دنیا کی طرف بھی کشش رکھتی ہے۔ چنانچہ اس نے غور و فکر اور مراقبے کے علاوہ عبادت کے مختلف طریقوں کو روح کی پرواز کیلئے بہت ضروری قرار دیا۔ یوں مشرکین میں عبادت کے نت نئے طریقے رائج ہو گئے۔ یامبلیخوس یونانی فلسفیوں کو خدا کی برگزیدہ اور مقدس ہستیاں سمجھتا تھا۔ یامبلیخوس نے کئی کتابیں اور رسالے لکھے جن کا انگریزی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ (37)
پروکلس

پروکلس (متوفیٰ 485ء) ایک اور بڑا مشرک فلسفی تھا۔ وہ کئی سال تک ایتھینز کی اکیڈمی کا مدیر رہا۔ جب رومی سلطنت نے اس پر مسیحیت قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تو وہ مشرق میں لیدیہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ پروکلس (Proclus) نے متعدد ضخیم کتابیں لکھیں جن کا انگریزی میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے اور وہ کئی جلدوں پر محیط ہے۔ وہ بھی معادِ جسمانی کا منکر تھا لیکن روح کے مادیت سے آزاد ہونے کیلئے تناسخ کے امکان کا قائل تھا۔ اس کے شاگرد نے اس سے کئی جعلی کرامات بھی منسوب کی ہیں۔ (38)
یہ بھی پڑھئے: ملا صدرا اور پروکلس کے ہاں صادرِ اول کا تصور – ڈاکٹر سعید رحیمیان، ڈاکٹر زہرا اسکندری
مشرکین کی اہلِ کتاب کے خلاف محاذ آرائی
عہدِ قدیم متأخر (Late Antiquity) کے مشرک فلسفی حضرت عیسٰی ؑ کی نبوت کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے اہلِ کتاب کے خلاف متعدد کتابیں لکھیں۔ سنہ 180ء میں افلاطون کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے فلسفی سلسوس (Celsus) نے ”کلمۂ حق“ (Λόγος Ἀληθής) کے عنوان سے مسیحیت کے خلاف ایک کتاب لکھی جس میں اس نے حضرت عیسٰیؑ کے بن باپ پیدا ہونے کو عقلاً محال قرار دیا۔ اس نے شیطان کے وجود کو افسانہ قرار دیا اور اس کو اللہ کی قدرت کے منافی قرار دیا۔
فرفوریوس نے ”عیسائیوں کا رد“ (Κατὰ Χριστιανῶν) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ اس نے حضرت عیسٰی ؑ کے معجزات کو جادو اور انجیلِ مقدس کو افسانوی کہانیوں کی کتاب قرار دیا۔ اس نے تورات کی حضرت موسیٰ ؑ کی طرف نسبت کا انکار کیا اور حضرت دانیال ؑ کی پیشگوئیوں پر مبنی کتاب کا بھی انکار کیا کیونکہ اس کے بقول اس میں صرف آنتیوخوس چہارم کے عہد تک کے حالات تاریخ سے مطابقت رکھتے تھے۔
رومی شہنشاہ جولین مرتد (متوفیٰ 363ء) نے مسیحیت کو چھوڑ کر نوفلاطونی مسلک کو اپنایا تو اس نے مشرکین پر ہونے والی سختیوں کا خاتمہ کیا اور کئی بت کدوں کو دوبارہ آباد کیا۔ اس نے بھی ایک رسالہ بعنوان ”جلیلیوں کا رد“ (Κατὰ Γαλιλαίων) لکھا۔ اس نے کائنات کی تخلیق کے بارے میں کتاب پیدائش کی عبارات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ افلاطون کے مکالمے ”تیماؤس“ کے بیان کو زیادہ معقول سمجھتا ہے جس میں خدائے بزرگ و برتر نے تو مواد کو خلق کیا لیکن چھوٹے خداؤں نے اسے مختلف صورتیں عطا کیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ایک ہی خدا سب کا خالق ہوتا اور اس کے ساتھ تنزل یافتہ چھوٹے خدا شریکِ کار نہ ہوتے تو کائنات میں تنوع اور رنگارنگی نہ ہوتی۔ اس کے مطابق چھوٹے خدا واسطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ہر قوم کے معبود الگ ہیں اور ہر قوم کا نہ صرف رنگ اور جسمانی ساخت جداگانہ ہے بلکہ اس کے قوانین اور رسوم و رواج بھی باقی اقوام سے الگ ہیں۔ اس نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ یہ کیسا خدا ہے جس نے ساری کائنات بنائی مگر ہدایت کیلئے صرف بنی اسرائیل کو چنا اور باقی انسانوں کو ہزاروں سالوں تک باطل معبودوں کی عبادت کرنے جیسی گمراہی میں مبتلا رکھا؟ وہ مسیحیوں اور یہودیوں کے عقائد میں اختلاف پر بھی سوال اٹھاتا ہے اور حضرت عیسٰی ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر ایک ثانوی خدا کے طور پر متعارف کروانے کو یہودیت کی تعلیمات سے انحراف سمجھتا ہے۔
ان مشرک عرفان بافوں کی انبیاء ؑ کے پیروکاروں کے ساتھ کشمکش فکری محاذ تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ جب تک رومی سلطنت پر انکا زور چلا انہوں نے یہودیوں اور مسیحیوں پر زندگی تنگ کئے رکھی۔ مسیحی چونکہ تبلیغ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے لہٰذا مشرکین کا سب سے زیادہ زور انہی کو دبانے پر تھا۔ جب رومی سلطنت نے مسیحیت کو اپنایا اس کے بعد بھی کئی صدیوں تک مشرکین اور مسیحیوں میں خونی تصادم جاری رہا کیونکہ اکثر خواص ہنوز مشرک ہی تھے۔ سنہ 2009ء میں بننے والی انگریزی فلم آگورا ( 2009 Agora) https://youtu.be/nAGk4Sa6h5I?is=0rS599ps50VR8zIu میں سنہ 415ء کے سکندریہ کے اندر اس کشمکش کی ایک جھلک فلمائی گئی ہے۔
مشرکین کی اسلام کے خلاف محاذ آرائی
مشرکینِ مکہ کی اسلام دشمنی کو اس تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ مشرک فلاسفہ کی انبیائے کرام ؑ، کتبِ آسمانی اور ادیان الٰہی کے پیروکاروں سے دشمنی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ حضرت بلال ؓ کو اللہ کو ”احد“ کہنے پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے والے یہ لوگ مادی جسم کے دوبارہ اٹھائے جانے کا شدت سے انکار کرتے تھے۔ اس کا تذکرہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ (39) ان لوگوں نے کبھی رسول اللہ ؐ کا مذاق اڑایا تو کبھی نوفلاطونی فلاسفہ کی پیروی کرتے ہوئے آپ ؐ پر جادوگر اور شاعر ہونے کی تہمت لگائی۔ کبھی لالچ دے کر لوگوں کو باز رکھنا چاہا تو کبھی شور مچا کر آپ ؐ کی صدائے حق کو دبانا چاہا۔ کبھی اقتصادی محاصرہ کیا تو کبھی تشدد اور مسلح کاروائیوں سے کام لیا۔
عمرو بن ہشام، جسے مکہ والے ابوالحکم کہتے تھے، زبانِ رسالت ؐ سے ابوجہل قرار پایا۔ وہ جس نام نہاد حکمت کا باپ تھا وہ گویا نوفلاطونی فلسفہ ہی تھا۔
مشرکین کی تکبر بھری جہالت جہلِ مرکب تھی، جس پر علم کا گمان ہوتا ہے مگر وہ کھوکھلی لفاظی پر مشتمل ہوتی ہے۔ جہلِ مرکب میں مبتلا انسانوں کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے:
قُل ہَل نُنَبِّئُکُم بِالاَخسَرِینَ اَعمَالًا. اَلَّذِینَ ضَلَّ سَعیُہُم فِی الحَیٰوۃِ الدُّنیَا وَ ہُم یَحسَبُونَ اَنَّہُم یُحسِنُونَ صُنعًا. (40)
ترجمہ: ”کہہ دیجئے: کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے نامراد کون لوگ ہیں؟ (وہ) جن کی سعی دنیاوی زندگی میں لاحاصل رہی جب کہ وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: تصوف کا انسانِ کامل اور سیاسی شدت پسندی
ملا صدرا اور فلوطین
ملا صدرا کی کتب اصل میں فلوطین (متوفیٰ270ء) کے نظریات کو اسلامی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش ہیں۔ وہ ارسطو اور افلاطون کے اختلاف کو فلوطین کی کتاب کے کچھ ابواب کے عربی ترجمے کا حوالہ دے کر ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بھی اسے ارسطو کی کتاب سمجھتا تھا:
”ارسطو کی کتاب اثولوجیا کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مذہب بھی اس باب میں وہی تھا جو اس کے استاد کا تھا وہ بھی انواع کے لیے مثلِ عقلیہ اور ایسی مجرد نوری صورتوں کا قائل تھا، جن کا قیام بذات خود عالم ابداع میں ہے۔“ (41)
حرکتِ جوہری کے مفروضے کو اثولوجیا سے ماخوذ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے:
”یونانی فلاسفہ کے استاد نے اپنی کتاب اثولوجیا، جس کے معنی حق شناسی کے ہیں، میں یہ لکھا ہے۔
کسی قسم کا کوئی جرم (جسم) کیوں نہ ہو، مرکب ہو یا بسیط، وہ کسی طرح ثابت اور قائم نہیں رہ سکتا، اگر اس میں کوئی نفسانی (روحانی) قوت موجود نہ ہوگی اور یہ بات اس لیے ضروری ہے کہ اجرام کی طبیعت میں سیلانی کیفیت اور فنا پذیری داخل ہے، پس اگر سارا عالم صرف جرم ہی جرم ہو اور اس میں کوئی نفس (روح) اور کسی قسم کی حیات و زندگی نہ ہو، تو تمام چیزیں برباد و تباہ ہلاک و درہم برہم ہوکر رہ جائیں گی۔
مذکورہ بالا عبارت میں تو اس کی بھی تصریح موجود ہے، کہ جسمانی طبیعت اس شخص کے نزدیک بھی ایک سیال جوہر ہے، اور اس بات کی بھی صراحت ہے کہ تمام اجسام خود اپنی ذات کی حیثیت سے تباہ و برباد ہونے والے ہیں اور عقلی ارواح باقی رہتے ہیں۔“ (42)
ملا صدرا معادِ جسمانی کے قائل علمائے دین کے خلاف بہت گھٹیا زبان استعمال کرتا ہے:
”یہ لوگ فی الحقیقت صرف بدعت و گمراہی کے علمبردار ہیں، جہال اور کمینوں کے پیشوا ہیں۔ ان کی ساری شرارتیں محض اربابِ دین و تقویٰ کے ساتھ مخصوص ہیں اور علماء کو ہی نقصان اور ضرر پہنچاتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ عداوت حکماء کے اس گروہ سے ہے جو ایمان والے ہیں اور فلاسفہ کی جماعت میں جو ربانی ہیں۔ یہ جھگڑے والوں کا وہ طائفہ ہے جو معقولات کے اندر گھسنا چاہتے ہیں حالانکہ ابھی تک انہوں نے محسوسات ہی کا علم حاصل نہیں کیا۔ یہ براہین و قیاسات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ابھی ریاضیات کو بھی انہوں نے درست نہیں کیا ہے۔ یہ الہٰیات پر گفتگو کرنے کیلئے آمادہ ہو جاتے ہیں حالانکہ ابھی یہ طبیعیات کے مسائل سے بھی ناواقف ہیں۔“ (43)
ستم ظریفی یہ ہے کہ جدید دور میں طبیعیات کے بارے میں ملا صدرا کے اپنے نطریات، جو یونانی فلاسفہ ہی کے نظریات تھے، مکمل طور پر باطل ثابت ہو چکے ہیں۔ وہ مادے کے ایٹموں سے تشکیل پانے کا قائل نہیں، جبکہ کیمسٹری کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ نیوٹن کی تحقیقات نے حرکت اور روشنی جبکہ آئن سٹائن کی تحقیقات نے زمان و مکان کے بارے میں ملا صدرا کے مفروضے باطل ثابت کر دیئے ہیں۔
ثقلین سے تمسک کی ضرورت
ہمیں صرف ثقلین، یعنی قرآن و اہلبیت ؑ، سے دین لینا چاہئے۔ رسولِ خداؐ نے فرمایا:
”میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں اللہ کی کتاب اور اہلِ بیت ؑ چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر ان دونوں سے متمسک رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ یہ قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔“ (44)
امام علی زین العابدین ؑ فرماتے ہیں:
«إِنَ دِینَ اللَّہِ لَا یُصَابُ بِالْعُقُولِ النَّاقِصَہِ وَ الْآرَاءِ الْبَاطِلَہِ وَ الْمَقَایِیسِ الْفَاسِدَہِ وَ لَا یُصَابُ إِلَّا بِالتَّسْلِیمِ فَمَنْ سَلَّمَ لَنَا سَلِمَ وَ مَنِ اہتَدَى بِنَا ہُدِیَ وَ مَنْ دَانَ بِالْقِیَاسِ وَ الرَّأْیِ ہَلَکَ وَ مَنْ وَجَدَ فِی نَفْسِہِ شَیْئاً مِمَّا نَقُولُہُ أَوْ نَقْضِی بِہِ حَرَجاً کَفَرَ بِالَّذِی أَنْزَلَ السَّبْعَ الْمَثَانِی وَ الْقُرْآنَ الْعَظِیمَ وَ ہُوَ لَا یَعْلَمُ.» (45)
ترجمہ: ”بے شک خدا کا دین ناقص ذہنوں اور باطل نظریات اور فاسد اور بے بنیاد قیاس آرائیوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس تک پہنچنے کا واحد راستہ تسلیمِ محض ہونا ہے۔ لہٰذا جو ہم اہلِ بیت ؑ کا تابع ہو گا وہ ہر قسم کے انحراف سے محفوظ ہے اور جو ہماری رہنمائی میں چلے گا خوش بخت ہو گا۔ جو شخص مذہب کو اپنی ذاتی خیال بافی سے سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ تباہ ہو جائے گا۔“
یہ بھی پڑھئے:جدید دور میں عرفانی فلسفے کی ساکھ ختم ہو چکی ہے
یہ بھی پڑھئے: معادِ جسمانی پر ملا صدرا اور اکابرِ شیعہ کے مابین اختلاف – ڈاکٹر سید محمود ہاشمی نسب، ڈاکٹر شعیب حدادی
حوالہ جات
1۔ مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 6، صفحہ 367؛ مستدرک علی الصحیحین، جلد 3، صفحہ 123۔
2۔ سورہ عنکبوت، آیت 61۔
3۔ سورہ زخرف، آیت 87۔
4۔ سورہ مومنون، آیات 84 تا 90۔
5۔ سورہ غافر، آیات 82 تا 85۔
6۔ سورہ ص، آیت 5۔
7۔ سورہ زخرف، آیات 15، 16۔
8۔ سورہ انعام، آیت 100۔
9۔ سورہ اسراء، آیت 40۔
10۔ سورہ نجم، آیات 19 تا 23۔
11۔ سورہ یونس، آیات 17،18۔
12۔ سورہ توبہ، آیات 30 ، 31۔
13۔ سورہ مائدہ، آیت 73۔
14۔ سورۂ توحید۔
15۔ شیخ صدوق، ”التوحید“، باب أدنى ما يجزئ من معرفۃ التوحيد، صفحہ 283، حدیث 2۔
16۔ سورہ زمر، آیات 3، 4۔
17۔سورہ الحدید، آیت 27۔
18۔ سورہ زمر، آیات 17، 18۔
19۔ سورہ جاثیہ، آیت 24۔
20۔ سورہ یس، آیات 78، 79۔
21۔ سورہ بقرہ، آیت 260۔
22۔ سورہ ق، آیت 16۔
23۔ سورہ طٰہٰ، آیت 110۔
24۔ سورہ اسراء، آیت 85۔
25۔ بحار الأنوار، جلد 58، صفحہ 251۔
26۔آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانی، ”میزان المطالب“، صفحہ 365۔
27۔ سورہ حشر، آیت 19۔
28. Al-Jallad, A., and H. Sidky. 2026. “Late Antique Allāh: Ancestral Arabian Religion and the Monotheistic Zeitgeist.” Arabian Archaeology and Epigraphy 0: 1–10. https://doi.org/10.1111/aae.70019.
29. Norris, Jérôme, “JSNab 16”, in L. Nehmé (ed.), DiCoNab, 2023. https://diconab.huma-num.fr/inscriptions/14
30. OCIANA, ‘JSTham 035,’ ed. A. Al-Jallad and M.C.A. Macdonald, OCIANA. https://ociana.osu.edu/inscriptions/12722.
31. Nehmé, Laïla, “NRAA 4”, in L. Nehmé (ed.), DiCoNab, 2024. https://diconab.huma-num.fr/inscriptions/157
32. Nehmé, Laïla & Al-Jallad, Ahmad, “FaS 7”, in L. Nehmé (ed.), DiCoNab, 2024. https://diconab.huma-num.fr/inscriptions/86
33. Al-Jallad and Sidky (2024).
34. Edward Moore, “Gnosticism”, The Internet Encyclopedia of Philosophy. (iep.utm.edu/gnostic)
35. Kalligas, Paul, “Plotinus”, The Stanford Encyclopedia of Philosophy (Winter 2024 Edition), Edward N. Zalta & Uri Nodelman (eds.).
https://plato.stanford.edu/archives/win2024/entries/plotinus/
36. Adamson, Peter, “The Theology of Aristotle”, The Stanford Encyclopedia of Philosophy (Summer 2025 Edition), Edward N. Zalta & Uri Nodelman (eds.).
https://plato.stanford.edu/archives/sum2025/entries/theology-aristotle/
37. Chiaradonna, Riccardo and Adrien Lecerf, “Iamblichus”, The Stanford Encyclopedia of Philosophy (Winter 2023 Edition), Edward N. Zalta & Uri Nodelman (eds.).
https://plato.stanford.edu/archives/win2023/entries/iamblichus/
38. Helmig, Christoph and Carlos Steel, “Proclus”, The Stanford Encyclopedia of Philosophy (Summer 2025 Edition), Edward N. Zalta & Uri Nodelman (eds.).
https://plato.stanford.edu/archives/sum2025/entries/proclus/
39۔ مثلاً: سورہ رعد، آیت 5؛ سورہ اسراء، آیت 49؛ سورہ حج، آیت 5؛ سورہ مؤمنون، آیات 35، 36، 81، 82؛ وغیرہ۔
40۔ سورہ کہف، آیات 103، 104۔
41۔ فلسفۂ ملا صدرا، ترجمہ اسفار اربعہ، صفحہ 341، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔ بیروت سے شائع شدہ عربی نسخے میں متعدد مقامات پر ”أرسطاطاليس في أثولوجيا“ آیا ہے۔ ملاحظہ ہو: جلد 2، ص 357؛ جلد 3، ص 427؛ جلد 8، ص 356؛ جلد 9، ص 63۔
42۔ (ا) فلسفۂ ملا صدرا، ترجمہ اسفار اربعہ، صفحہ 643، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
(ب) اسفار اربعہ (عربی)، جلد سوم، فصل 28، صفحہ 111، بیروت۔
43۔ (ا) مولانا مناظر احسن گیلانی، ”فلسفہٴ ملا صدرا“ (ترجمہ اسفارِ اربعہ)، صفحہ 246، حق پبلیکیشنز لاہور، 2018ء۔
(ب) ملا صدرا، ”اسفارِ اربعہ“، جلد 1، صفحہ 363، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
44۔ (ا) شیخ کلینی، محمد بن یعقوب، الاصول من الکافی، ج۳، ص۴۲۲-۴۲۴، ناشر:اسلامیہ، تہران، طبع ثانی، ۱۳۶۲ ه. ش.
(ب) سنن الترمذي ج5 ص663، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ – 1975 م. أسد الغابة في معرفة الصحابة ج2 ص13، الناشر: دار الكتب العلمية، الطبعة: الأولى، سنة النشر: 1415هـ – 1994 م. الدر المنثور ج7 ص349، الناشر: دار الفكر – بيروت.
45۔ کافی، ج ۱، ص ۵۶؛ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۲۴؛ مستدرک الوسائل: ج ۱۷، ص ۲۶۲.
یہ بھی پڑھئے: قدیم فلسفیوں کو ملا صدرا کا خراجِ عقیدت



