مراجع کے فتاویٰ

قتلِ سید الشہداء پر خوش ہونے والوں سے دوری اختیار کریں ۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی

8 ملاحظات

آئمۂ اطہار ؑ نے سید الشہداء امام حسین ؑ کا غم منانے پر بہت تاکید کی ہے۔ شیعہ ثقافت میں دسویں محرم کو امام حسین ؑ کا غم منانا صدیوں سے چلی آ رہی روایت کا حصہ ہے۔ اہلسنت کی کتابوں میں اس دن کے روزے کو سنتی روزہ تو کہا گیا ہے لیکن ان کے ہاں مروی احادیث کے مطابق اس دن غمگین ہونا بھی سنتِ رسول ؐ ہے۔ (1) چنانچہ اہلسنت اس دن کو خوشی منانے کا دن نہیں سمجھتے۔ تاہم بعض مکاتبِ فکر اس دن کو خوشی کا دن بھی سمجھتے ہیں، جن کا تعارف مندرجہ ذیل ہے:

1۔ بنی امیہ اور نواصب

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”بنی امیہ اور اہلِ شام میں سے وہ لوگ جنہوں نے قتلِ حسین ؑ میں معاونت کی تھی، نے یہ منت مانی تھی کہ اگر حسین ؑ قتل ہو جائیں اور خلافت آلِ ابو سفیان کو مل جائے تو وہ روزِ عاشوراء کو اپنے لئے عید کا دن قرار دیں گے اور اس دن شکرانے کا روزہ رکھیں گے۔“ (2)

شمالی افریقہ کے ان علاقوں میں جہاں بنی امیہ کئی صدیوں تک حکومت کرتے رہے، عاشوراء کو خوشی کے تہوار کی صورت میں اب بھی منایا جاتا ہے۔

2۔ غلات

غالیوں اور نُصیریوں کے رہنما میمون طبرانی نے لکھا ہے:

ترجمہ: ”عام لوگ عاشوراء کے دن کالا لباس پہنتے اور غمگین رہتے ہیں۔ لیکن اہلِ توحید اس دن کو متبرک سمجھ کر خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ امام حسین ؑ قتل نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسٰی ؑ کی طرح آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ ۔ ۔ ہمارے بزرگ خصیبی نے یہی بات ایک شعر کی صورت میں بیان کی ہے۔“ (3)

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”جو کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ امام حسین ؑ قتل نہیں ہوئے وہ رسول اللہ ؐ اور آئمہ ؑ کی تکذیب کرتا ہے۔“ (4)

یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روز عاشوراء کو عزاداری کرنے، امام حسین ؑ کے قتل پر غمگین رہنے اور سیاہ لباس پہننے والے شخص پر غلو کا الزام لگانا درست نہیں، جب تک کہ اس کے عقائد کا غلو پر مبنی ہونا واضح نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو اس تک اہلبیت ؑ کی صحیح تعلیمات پہنچانا ضروری ہو گا تاکہ اس کی غلط فہمی دور ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے: غلو کیا ہے؟ – آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی

3۔ صوفیاء

ملا صدرا کے ممدوح (5) اور صوفیوں کے امام ابو حامد غزالی کا کہنا ہے:

ترجمہ: ”قتلِ حسین ؑ کا ذکر کرنا خطیب پر حرام ہے، کیونکہ اس سے بعض صحابہ کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اور وہ ان پر اعتراض کر سکتے ہیں۔‏“ (6)

وہ لکھتا ہے:

ترجمہ: ”اگر بالفرض یزید قاتلِ حسین ؑ ہو لیکن اگر اس نے مرنے سے پہلے توبہ کر لی تھی تو اس پر لعنت جائز نہیں۔ جیسا کہ کسی کافر پر اس کی توبہ کے بعد لعنت نہیں کرنی چاہئے۔‏“ (7)

عبدالقادر جیلانی کہتا ہے کہ روزِ عاشوراء غم کا دن نہیں، اس دن غم کرنا خوشی منانے سے بہتر نہیں ہے۔ (8)

محیی الدین ابن عربی فتوحاتِ مکیہ میں ”الرکبان أصحاب التدبیر: شمائلہم و خصائصہم‏“ کے عنوان سے باندھے گئے باب میں روز عاشورا کو بابرکت شمار کرتے ہوئے اسے ماہِ رمضان، لیلۃ القدر، روزِ جمعہ اور روزِ عرفہ کا ہم پلہ قرار دیتا ہے۔ (9)

مولوی رومی روز عاشوراء کی عزاداری کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتا ہے:

نالہ و نوحہ كند اندر بكا
شيعہ عاشورا براى كربلا

پس عزا بر خود كنيد اى خفتگان
ز انكہ بد مرگى است اين خواب گران‏

ترجمہ: ”شیعہ حضرات عاشوراء کے دن روتے اور نوحے پڑھتے ہیں۔ اے غافلو! اپنے اوپر ماتم کرو۔ یہ خوابِ گراں بہت بری موت ہے۔‏“

آگے چل کر کہتا ہے:

روح سلطانى ز زندانى بجست
جامہ چہ درانيم و چون خاييم دست‏

چون كہ ايشان خسرو دين بودہ ‏اند
وقت شادى شد چو بشكستند بند (10)

ترجمہ: ”ایک بادشاہ کی روح جسم کے زندان سے آزاد ہو گئی تو اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ وہ دین کے بادشاہ تھے۔ تم لوگ اپنا سینہ چاک مت کرو، یہ تو خوشی کا موقع ہے کہ انہوں نے اس بند کو توڑا۔“

آج کل بعض صوفی، جو شیعہ علماء کا بھیس اپنائے ہوئے ہیں اور خود کو علامہ اور آیت اللہ کہلواتے ہیں، صوفیوں کی خرافات کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک آغا محمد حسین طہرانی نے اپنے پیر سید ہاشم حداد کے بارے میں لکھا ہے:

ترجمہ: ”عزاداری کے پورے عشرے کے دوران ان میں کوئی غم اور حزن نہیں ہوتا تھا۔ وہ سراسر ابتہاج اور مسرت ہوتے تھے۔ فرماتے تھے: لوگ کس قدر غافل ہیں کہ جان فدا کرنے والے شہید کیلئے دکھی ہیں، ماتم کر رہے ہیں اور غم منا رہے ہیں؟ تحقیق کی بات یہ ہے کہ یہ دن اہلبیت ؑ کیلئے خوشی کا دن ہے۔ لوگ بے خبر ہیں۔ دنیا کی محبت نے ان کی آنکھوں اور کانوں پر پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔ یوں روتے ہیں جیسے کسی ماں کا بیٹا مر گیا ہو۔“ (11)

آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی کا فتویٰ

آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی سے آغا محمد حسین طہرانی کے ان خیالات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

باسمہ تعالی
این عقیدہ اشتبا محض است زیرا روایات بی شماری از ائمہ معصومین (علیہم السلام) داریم کہ دستور سوگواری بر شہیدان کربلا دادہ است. و خود امامان نیز سوگواری می کردند و جلسہ عزاداری تشکیل می دادند و انکار این مطلب از قبیل انکار بدیہیات است و نشانہ بی اطلاعی انکار کنندہ است. چنین شخصی را نصیحت کنید و اگر نصیحت پذیر نیست، از او فاصلہ بگیرید که بہ نظر می رسد شیطانی است در لباس انسان.

ترجمہ: ”بنام خدائے متعال،
یہ عقیدہ مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ آئمہ معصومین ؑ سے مروی بے شمار احادیث میں شہیدانِ کربلا کا غم منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ خود آئمۂ اطہار ؑ بھی مجالسِ عزا برپا کرتے تھے۔ اس بات کا انکار سامنے کی چیزوں سے مکر جانے کی طرح ہے اور انکار کرنے والے کی جہالت کی نشانی ہے۔ ایسے شخص کو نصیحت کریں اور اگر وہ نصیحت قبول نہیں کرتا تو اس سے دور ہو جائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ انسان کے لباس میں شیطان ہے۔“

حوالہ جات

1۔ طبرانی، معجم الکبیر، جلد 8، صفحات 107، 108، 285، موصل، 1983۔
2۔ شیخ طوسی، امالی، صفحہ 667۔
https://lib.eshia.ir/27725/1/667
3۔ میمون طبرانی، مجموع الأعیاد، صفحہ 110۔
4۔ شیخ صدوق، علل الشرايع، باب 172، حدیث 1۔
5۔ ملا صدرا، اسفارِ اربعہ، جلد 2، صفحہ 326۔
https://lib.eshia.ir/71465/2/326
6۔ ابن حجر ہیثمی، الصواعق‌ المحرقہ، صفحہ 257۔
7۔ غزالی، إحیاء علوم الدین، ج‏لد 9، صفحات 19، 20۔
8۔ عبدالقادر گیلانی، غنیۃ الطالبین، ص46۔
9۔ ابنِ عربی، فتوحاتِ مکیہ (عثمان یحیى)، ج‏ 3، ص 290۔
10۔ مولوی رومی، مثنوی، صفحہ 847۔
11۔ محمد حسین طہرانی، روحِ مجرد، صفحہ 79۔

یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ اور علامہ کہلوانے والے صوفیوں کے بارے میں شیعہ مراجعِ عظام کے فتاویٰ

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button