مولانا نعمت علی سدھو نے جواد نقوی صاحب کی طرف سے صوفیت کی حمایت کو گمراہی قرار دیا
(لاہور، پاکستان) لاہور کے معروف خطیب جناب جواد نقوی صاحب نے مرکز بلال جلو نامی خانقاہ میں تصوف کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا:
”حضورؐ کا یہ فرمانا ہے کہ امت کے تمام امور کی زمام علماء کے ہاتھ میں ہے، علماء کے سپرد ہے۔ العلماء ورثۃ الانبیاء۔ علماء ہیں وارثانِ انبیاء، اور خصوصاً مشائخِ تصوف، آج ایک تصوف کے مرکز میں یہ عظیم الشان کانفرنس برگزار ہو رہی ہے۔ اور اس میں پیر صاحب نے، جس طرح کہا وزیر صاحب نے کہ سنت شکن پیر ہیں ہمارے، سید شفاعت رسول صاحب، کہ تصوف کے مرکز میں انہوں نے جدت کی باتیں کی ہیں۔ اور تصوف، میں بھی ایک ادنی سا، چھوٹا سا طالب علم ہوں تصوف کا، پیر نہیں ہوں لیکن طالب علم ہوں۔ اور تصوف وہ عظیم طاقت ہے درحقیقت، تمام مذہبی سلسلوں میں، تمام جو مختلف قسم کے سلسلے ہیں، جیسے علماء ہیں، مفتیان ہیں، مدرسین ہیں، اور مختلف طبقات ہیں اہلِ علم کے، ان میں اگر ہم دیکھیں تو طاقت کی سب سے بڑی جو نفری ہیں، اہلِ تصوف ہیں۔“
حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نعمت علی سدھو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا:
”بسم الله الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم! محترم، یہ حسن زادہ آملی صاحب کے جو کارنامے ہیں، ان کے بارے میں جو مرضی بیان کرتے رہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا پتا ہے کہ اس موجودہ دور میں جب سے ہم نے ہوش سنبھالی ہے، تصوف کا نام عرفان رکھ کے، اگر صوفی ازم رکھتے ناں کہ تصوف ہے، صوفیاء ہیں، تو شیعہ قوم صدیوں سے صوفیوں سے آشنا ہے۔ ان پر اتنا اثر نہیں ہونا تھا۔ مگر چونکہ قم جیسے ہمارے علمی مرکز کو استعمال کیا گیا۔ عبا، قبا اور عمامے کے ساتھ، آیت اللہ بن کر، یہ کام سامنے آیا۔ جس کو ہمارے نوجوان طبقے نے اپنایا۔ یہ کام خطرناک ہوا۔ باقاعدہ سبقاً تصوف کا نام عرفان رکھ کر پڑھایا۔ اور یہ سلسلے پاکستان میں آنے شروع ہو گئے۔ ابنِ عربی کی کتاب فصوص الحکم کو وہاں پر درساً پڑھانا شروع کر دیا۔ باقاعدہ اس کی شروح لکھ کر، یہ سلسلہ جب سامنے آیا، تو ہمارے نوجوان طبقے، خاص طور پر پڑھے لکھے آئی ایس او اور آئی او کے نوجوان، جو علماء سے مربوط تھے، انہوں نے سمجھا کہ یہ واقعی عرفان ہے۔ پھر علمائے حقہ نے، جو شیخیت کے خلاف تھے، کہ جیسا کہ پہلے بھی ہم نے عرض کیا کہ پارٹیشن سے پہلے عبدالعلی ہروی تہرانی نے آ کر شیخیت کو پھیلایا۔ مگر شیخ احمد احسائی کا نام نہیں لیا۔ تو غلو قومِ شیعہ نے اپنا لیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید یہی شیعیت ہے کیونکہ اتنے بڑے علامہ نے یہ چیزیں بتائی ہیں۔ بعد میں ذاکرین اسی چیز کو منبروں پر پھیلاتے رہے اور لوگ اپناتے رہے۔
اسی طرح، صوفیت کا اِنہوں نے تو نام بھی لیا ہے۔ ابنِ عربی، جو ان کا بابا آدم ہے، اس کو پدرِ عرفان قرار دے دیا۔ پدرِ عرفان! عرفان کا معنی تو ان لوگوں سے پوچھا جائے!
کہتے ہیں عرفانِ عملی، عرفانِ نظری، میں کہتا ہوں یہ جو تاویلیں کرنے والے اور وکالت کرنے والے ہیں، انکو کسی کی نظر ہی لگ گئی ہے۔ مولا ؑ نے اُس زمانے میں فرمایا تھا کہ عنقریب ایک ایسا گروہ آئے گا جو ہماری محبت کا دعوی کرے گا مگر صوفیت کی طرف مائل ہو گا اور ان کے کلام کی تاویلیں کرے گا۔ ان کی مراد یہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے، آپ سمجھے نہیں ہیں، وہ یہ کہنا چاہتے ہیں، وہ کہنا چاہتے ہیں، وغیرہ۔ اس طرح وہ زہر کو شہد میں ملا کے، تاویلیں کر کے، قوم کو دیں گے۔ تو مولا ؑ نے فرمایا تھا کہ تاویلیں کرنے والا انہی کے ساتھ محشور ہو گا۔ اور جو ان کے کلام کا رد کرے گا، وہ گویا کہ پیغمبرؐ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو گا۔ (1)
یہ اب ہم نے راستہ خود چننا ہے۔ ہم نے صوفیت کا رد کرنا ہے۔ رد کریں گے تو جہاد میں شریک ہوں گے۔ ان کی تاویلیں، آئیں بائیں شائیں کر کے ترویج، کریں گے تو انہی کے ساتھ محشور ہوں گے۔ یہ اب خود ہمارا انتخاب ہے۔“
حوالہ:
1۔ روي بسند صحیح عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر، قال: قال رجل من أصحابنا للصادق جعفر بن محمّد علیه السّلام قد ظهر في هذا الزمان قوم یقال لهم الصوفیة فما تقول فیهم؟ فقال: إنهم من أعدائنا فمن مال إلیهم فهو منهم، و سوف یحشر معهم، و سیکون أقوام یدّعون حبّنا، و یمیلون إلیهم و یتشبّهون بهم، و یلقّبون أنفسهم بلقبهم و یولون أقوالهم، ألا فمن مال إلیهم فلیس منا و إنّا منه برآء، و من أنکرهم و ردّ علیهم کان کمن جاهد الکفار بین یدي رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله.
مستدرک الوسائل، جلد 12، صفحہ 323؛ سفینة البحار، ج 2، ص 57۔



