مراجع کے فتاویٰ

شیعوں میں ابنِ عربی اور رومی کے عقائد پھیلانے والوں کا مسئلہ – آیۃ اللہ العظمیٰ حاج میرزا جواد تبریزی

46 ملاحظات

سوال: عرضِ سلام اور آداب کے بعد ربِ جلیل سے حضرتِ عالی کی سلامتی اور شیعیت کی خدمت کی توفیقات میں اضافے کی دعا ہے۔ مندرجہ ذیل دو سوالوں کے بارے میں جناب کی رائے درکار ہے:

1۔ ایسے افراد کے عقائد کے بارے میں پوچھنا ہے جو کہتے ہیں کہ: ”خدائے بلند مرتبہ کی ذات، بذاتہٖ ان معلومات اور ان کے حقائق کی صورت میں تجلی کرتی ہے۔ پس ان معلومات اور ان کی حقیقت کی صورت میں ظاہر ہونا ذات الٰہی کا تقاضا اور مظاہر میں واجب الوجود کو ظاہر کرنے کی قابلیت کی وجہ سے ہے۔“
یا وہ یہ کہتے ہیں کہ: ”ان ذات الٰہیہ ہی الذی تظہر بصور العالم و ان اصل تلک الحقائق و صورہا تلک الذات.“
ترجمہ: ”بے شک اللہ ہی کائنات کی صورت میں ظاہر ہوا اور وہی ذات اس کی سب حقیقتوں اور صورتوں کی جڑ ہے۔“
یا اس بات کے قائل ہیں: ”فما عبد غیر اللہ فی کل معبود اذ لا غیر فی الوجود.“
ترجمہ: ”جتنے معبودوں کو لوگ پوجتے ہیں وہ کب اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت ہے؟ کائنات میں اللہ کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔“
”فکل ما تدرکہ فہو وجود الحق فی اعیان الممکنات. فالعالم متوہم ما لہ وجود حقیقی. (ملا صدرا، اسفارِ اربعہ، جلد 2، صفحات 293، 294۔) و ہذا معنی الخیال.“
ترجمہ: ”ہم جس چیز کا بھی علم حاصل کرتے ہیں وہ ممکنات میں چھپا حق تعالٰی کا وجود ہی ہوتا ہے۔ یہ کائنات سب مایا ہے، حقیقت میں وجود نہیں رکھتی۔ یہی اس خیال کا معنی ہے۔“

اور اپنے اشعار میں یہ کہتے ہیں:

یکی شمسِ حقیقت می درخشد در ہمہ عالم
تعینہای امکانی بود مانند روزنہا

بہ جز یکتا جمال حُسنِ مطلق نیست در ہستی
حَسَن را چشمِ حق بین است و حق گویند روشنہا

ترجمہ: ”ساری کائنات میں حقیقت کا ایک ہی سورج چمک رہا ہے۔ امکانی تعینات کی حیثیت چھیدوں کی سی ہے جن سے روشنی چھن کر آ رہی ہے۔ کائنات میں حُسن مطلق کا ایک ہی جمال ہے۔ حسن زادہ آملی کی آنکھ حق کو دیکھ سکتی ہے اور روشن لوگ تو سچ ہی بولتے ہیں۔“

اور یہ کہ:

وجود اندر کمالِ خویش ساری است
تعین ہا امورِ اعتباری است

امورِ اعتباری نیست موجود
عدد بسیار و یک چیز است موجود

ترجمہ: ”وجود اپنے کمال میں جاری و ساری ہے۔ تعینات اعتباری ہیں۔ اعتباری چیزیں موجود نہیں ہیں۔ تعدد بہت ہے لیکن موجود صرف ایک چیز ہے۔“

یا یہ کہتے ہیں کہ:

گویند کہ کنہ ذات نتوان یافت
ما یافتہ ایم کہ کنہ ذاتش مائیم

ترجمہ: ”کہتے ہیں کہ ذاتِ خدا کا راز کوئی نہیں پا سکتا۔ (توحید صدوق، 70/26؛ کنز العمال 5705) ہم نے تو یہ پا لیا ہے کہ اس کی ذات کا راز ہم ہیں۔“

وہ قائل ہیں کہ: ”کائنات وجودِ مطلق کی تجلی سے عبارت ہے جو خود کو تعیناتِ کونیہ کے لباس میں چھپائے ہوئے ہے۔ اعیاناً و اجساماً، غیباً و شہوداً، جبروتاً و ملکوتاً و ملکاً.“

آخرِ کار وہ اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں کہ:

”اگر غور کریں تو کائنات میں جو کچھ بھی ہے واجبِ الوجود ہے اور ممکن الوجود کے ہونے کی بات صرف سرگرمی ہے۔“

اسلام کی رو سے اوپر ذکر کردہ عقائد کی کیا حیثیت ہے؟

2۔ وحدت الوجود پر ایمان رکھنا کیسا ہے؟

خدا آپ کا سایہ دیر تک مومنین کے سروں پر قائم و دائم رکھے۔

آپ کا ادنیٰ شاگرد

جواب: بسمہٖ تعالٰی، اگر یہ معلوم ہو کہ یہ لوگ اپنے مذہب کے لوازمات کے پابند ہیں تو یہ نجاست اور کفر کا حکم رکھتے ہیں۔ واللہ العالم

یہ بھی پڑھئے: آغا حسن زادہ آملی کے انحرافات – علامہ ڈاکٹر محسن طیب نیا

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button