کتابیں

کتاب ”تصوف کا انسانِ کامل اور سیاسی شدت پسندی“ کو ڈاؤنلوڈ کریں

238 ملاحظات

کتاب ”تصوف کا انسانِ کامل اور سیاسی شدت پسندی“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔ تالیف: وحید کوثری

ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک

انسانِ کامل (Total Human) کا تصور صوفیوں کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو ان کے ہاں ولایتِ نوعی اور قطبیت کے تصور کی بنیاد ہے۔ یہ تصور صوفیانہ انسان شناسی کا اہم ستون ہے، جسے آج کل اسلامی فلسفے کے لبادے میں انسان شناسی، انسان سازی اور خود سازی کے عنوانات کے ساتھ بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام میں سب انسانوں کیلئے ایک جیسے سانچے کا تصور نہیں ہے۔ ہر انسان کے خاندانی اور سماجی حالات اور بدن کی کیمسٹری مختلف ہے۔ ہر انسان اپنی حدود کو سمجھنے اور اپنے زمان و مکان کے مطابق اپنے اخلاقی فرائض کے تعین کا ذمہ دار ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفسًا اِلَّا وُسعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَت وَ عَلَیہَا مَا اکتَسَبَت. (سورہ بقرہ، آیت 286۔)

ترجمہ: ”اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا، ہر شخص جو نیک عمل کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو بدی کرتا ہے اس کا انجام بھی اسی کو بھگتنا ہے۔“

انسانِ کامل (Ideal Man) کا نظریہ دو پہلوؤں میں پیش کیا جاتا ہے: نظری اور عملی۔ عملی پہلو نظامِ کائنات اور دوسرے انسانوں کے کمال تک پہنچنے میں صوفی پیر کی ہدایات کے کردار سے متعلق ہے۔ نظری جہت کائنات میں اس کے مقام سے متعلق ہے۔

یہ باطل عقیدہ صوفی پیر کو مریدوں کے جتھے کا لیڈر (Cult Leader) بنا دیتا ہے۔ وہ ان کو مختلف نفسیاتی حربوں کے ذریعے مکمل اطاعت (Total Submission) پر مجبور کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ان کو معاشرے سے جدا کرتا ہے اور معلومات سے کاٹ دیتا ہے تاکہ وہ انہیں پتلیوں کی طرح نچا سکے اور وہ اس کی خاطر جان دینے اور کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہ کریں۔ یہ عقیدہ جدید دور میں سیاسی رنگ اختیار کر کے شدت پسندی کی بنیاد بن رہا ہے۔ یہ سوچ کہ ہر انسان کو مکمل طور پر کسی ایک سانچے میں ڈھل جانا چاہئے تشدد کی بنیاد ہے۔ سیاست میں صوفیانہ افکار جمہوریت کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی پہلو سے تصوف کو مختلف تباہ کن آئیڈیالوجیز، مثلاً کمیونزم اور فاشزم، کی صف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

تعریف

انسانِ کامل (Perfect Man) سے صوفیوں کی مراد اعلٰی ترین انسان ہے۔ صوفی تعلیمات کے مطابق ایک کامل انسان وہ ہے جس نے خدا کے ساتھ اتحاد اور ان کے زعم میں «فناء فی اللہ و بقاء باللہ» کی حالت حاصل کی ہو۔ جناب مرتضٰی مطہری نے لکھا ہے: ”عرفاء کا عقیدہ ہے کہ اگر انسان اپنے باطن کی صفائی کرے، عشق کی سواری کے ساتھ حرکت کرے اور راستے کی منزلیں ایک کامل تر انسان کی زیر نگرانی طے کرے، تو اس راستے کی انتہا یہ ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان سے حجاب اٹھ جاتا ہے اور خود ان کی تعبیر کے مطابق وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ ۔ ۔ وہ ایسا انسان ہے جو خدا تک پہنچتا ہے۔ اور جب وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے تو خدا کے تمام اسماء و صفات کا کامل مظہر بن جاتا ہے اور اصطلاح میں وہ ایک ایسا آئینہ بن جاتا ہے جس میں ذاتِ حق ظہور کرتی ہے۔“ [1] نسفی کے نزدیک کامل انسان وہ ہے جو شریعت، طریقت اور حقیقت میں کامل اور تمام ہو۔ [2] ان کے نزدیک ہر شخص انسانِ کامل بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کیلئے ریاضت اور سیر و سلوک ضروری ہے۔ صوفیا عقل کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں اور جذبے یا عشق سے جینے کی تعلیم دیتے ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی لکھتے ہیں:
”یہ لوگ عقلی استدلالات کو ترک کرتے اور اس قسم کے بہانے بنا کر تعلیمی اداروں، درس اور مباحثے سے دور بھاگتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کے قیل و قال سے کچھ نہیں ملتا۔“ [3]

برائے تفصیل: علامہ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔

الفاظ کا گورکھ دھندہ

صوفیوں کے نزدیک انسانِ کامل تخلیق کا حتمی سبب ہے، اسمِ اعظم کی حقیقت، [4]کائنات کی تخلیق اور بقا کا سبب، اللہ کے تمام اسماء و صفات کا ظہور اور اللہ کے اسمِ جامع کا ظہور ہے۔ [5] وہ خدا اور مخلوق میں واسطہ ہے، وہ خدا کا نائب [6] اور تکوینی اور تشریعی ولایت کا حامل ہے۔ [7] وہ بنی نوع انسان کا ظاہری اور باطنی رہنما ہے۔ [8] وہ ان کی جسمانی اور روحانی بیماریوں اور تکالیف سے واقف ہے اور ان کو شفا دینے والا ہے۔ اس میں جو خدائی صفات اور اسماء آئے ہیں وہ اس کی ذات الٰہی کے ساتھ وحدت کی وجہ سے ہیں، کیونکہ اس سے دوگانگی دور ہو گئی ہے، پردے ہٹ چکے ہیں اور اس نے خدا کی ماورائی ہویت کے ساتھ ذاتی وحدت حاصل کر لی ہے۔ [9] وہ انسانِ کامل کے بارے میں اس قسم کے القابات استعمال کرتے ہیں: حقیقتِ محمدیہ، مرآت‌ الحضرتین‌، [10] حقیقت الحقائق، اصل عالم، القلم الاعلی، الکلمۃ الجامعہ، المد الاول، الحق المخلوق بہ، کون جامع، [11] قطب عالَم، الشجرہ، [12] لسان الحق، [13] انسان‌العین‌، بصرالحق‌ و عین‌ العالم‌، [14] کلمہ فاصلہ، [15] جام جہان‌ نما، خلیفہ، امام، امام زمان، صاحب‌ زمان، روح عالم [16]، ام الکتاب، [17] اکسیر اعظم، مظہر ذات، آیتِ توحید، خضر، ہادی، مہدی، کامل، مکمّل، پیشوا، دانا، بالغ [18]، وغیرہ وغیرہ۔ [19]

اصطلاح کی تاریخ

قرآن و حدیث میں اس اصطلاح کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ بایزید بسطامی نے ”الکامل التام“ کی اصطلاح ایک ایسے انسان کے لیے استعمال کی ہے جو اسمائے اربعہ کا جامع ہو۔ وہ عام انسانوں کی صفات سے بالاتر ہو اور اعلیٰ روحانی مقام تک پہنچ گیا ہو۔ [20]

”انسانِ کامل“ کی اصطلاح سب سے پہلے فرید الدین عطار نیشاپوری کے اشعار میں استعمال ہوئی تھی، لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال سب سے پہلے محیی الدین ابن عربی نے کیا تھا۔ ابن عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم کے پہلے باب میں فص آدمی کے عنوان کے تحت انسان کامل کی اصطلاح کو بیان ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ کائنات کی کلی اور جزئی حقیقتوں کا جامع ہے اور خلافت الٰہی کا واحد حقدار ہے۔ [21]

ابنِ عربی کے بعد اس کے ممتاز شاگرد صدر الدین قونوی نے اپنی کتاب مفتاح الغیب کا آخری باب انسان کامل کی بحث کے لیے وقف کیا۔ [22] عزیز الدین نسفی پہلا مصنف تھا جس نے فارسی میں لکھے گئے اپنے بائیس مقالوں کے مجموعے کے لیے ”الانسان الکامل“ کا عنوان استعمال کیا، [23] اس نے اور اس کے بعد عبدالکریم جیلانی نے بھی اپنی کتاب کے لیے اس عنوان کا انتخاب کیا۔ [24]

مفہوم کی تاریخ

رہبانیت اور ریاضتوں کے زور پر خدا سے ذاتی قربت پیدا کرنے کا تصور مختلف مکاتب و مذاہب میں رہا ہے۔ نوفلاطونی فلسفی عقل کے ساتھ ساتھ شہود، جذب اور وجد کو حکمت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ زمانۂ فترت کے مشرک فلسفی فلوطین (متوفیٰ 270ء عیسوی) کے نزدیک فلسفے کا راستہ اندرونی شہود اور خالص مفاہیم پر مبنی فکر کے ساتھ ساتھ رہبانیت کے ذریعے روح کو پاک صاف کرنے سے طے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے نزدیک فلسفے کا معنی اور مقصد ہستی اور کائنات کو جاننا نہیں بلکہ معرفت اور تزکیہ کی مدد سے روح کو ذاتِ واحد سے ملانا ہے۔ وہ عقل استعمال کرنے کو مناسب نہیں سمجھتا۔ فلو یہودی اور سکندر افرودیسی کو فلوطین کا پیش رو سمجھا جاتا ہے۔ عباسی دور میں جب اثولوجیا کا عربی ترجمہ ہوا اور وہ غلطی سے ارسطو سے منسوب ہو گئی تو فلوطین کے افکار مسلم فلاسفہ کے ہاں رائج ہونے لگے۔ قرآن میں رہبانیت کی مذمت آئی ہے۔

منصور حلاج

مسلم سماج میں منصور حلاج (متوفیٰ 922 عیسوی) کو یہ مفہوم رائج کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس نے انسان کامل کی اصطلاح استعمال نہیں کی لیکن اس نے خدا نما انسان اور انسان نما خدا، اسی طرح ناسوتی انسان اور لاہوتی انسان جیسے خیالات پیش کئے۔ قرآن کی تفسیر بالرائے کرتے ہوئے اس نے خُلُق عظیم کے معنی خدا کی ذات سے ملحق ہو جانا کیے۔ [25] اس نے سورہ نور کی آیت 35 کی تفسیر میں غلو کا ارتکاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازلیت اور ان کے قدیم ہونے کا دعوٰی کیا۔ [26] [27] وہ اس سوچ کا قائل تھا کہ انسان کے زہد و ریاضت کی بدولت خدا اس کی روح میں حلول کر جاتا ہے اور ہر چیز اس کیلئے مسخر ہو جاتی ہے اور اس کا حکم خدا کا حکم بن جاتا ہے۔ [28]

حسین بن منصور حلاج اپنی تحریر و تقریر میں ”اناالحق“ اور ”زمینی خدا“ ہونے کے دعوے کیا کرتا تھا۔ شیعہ مسلک غالیوں کے امام علی ؑ کو خدا کہنے کو کفر سمجھتا ہے تو ایک شعبدہ باز شخص کے اپنے بارے میں اس قسم کے غلو کو کیسے قبول کر سکتا تھا؟ امام مہدی ؑ کی جانب سے ان کے نائبِ خاص جناب حسین بن روح ؒ کے پاس آنے والی توقیع میں اس پر لعنت کی گئی۔ (طبرسی، احتجاج، جلد 2، صفحہ 289۔)

حلاج امام مہدی ؑ سے رابطے کے جھوٹے دعوے بھی کرتا تھا اور اس نے اپنے مریدوں میں اپنی بہت سی جعلی کرامات، مثلاً مردے زندہ کرنا، بھی مشہور کر رکھی تھیں۔ اکابرِ مذہبِ حقہ نے اس کی مخالفت کی۔ ابنِ ندیم نے الفہرست میں لکھا ہے کہ حلاج نے ابوسہل نوبختیؒ کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دی تو انہوں نے اس کے قاصد سے کہا کہ حلاج سے کہو کہ بطورِ کرامت ان کے سر کا گنجا پن دور کرے تو وہ اس کا مذہب قبول کر لیں گے۔ حلاج لاجواب ہو گیا۔ (ابن الندیم، الفہرست، صفحہ 284، مصر۔)

حلاج نے قم جا کر علی ابن بابویہ قمیؒ کو اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہا تو انہوں نے اسے شہر بدر کر دیا۔ (شیخ طوسی، کتاب الغیبۃ، صفحہ 247۔) بعد میں آنے والے شیعہ علماء، جیسے شیخ صدوق ؒ، شیخ مفید ؒ، قطب راوندیؒ، علامہ حلی ؒ، سید مرتضٰی رازیؒ، مقدس اردبیلیؒ، ملا باقر مجلسی ؒ اور شیخ حر عاملیؒ وغیرہ نے بھی اس کے مذہب کو رد کیا۔البتہ کچھ شیعہ علماء نے اس کی شطحیات کی تاویلیں کرنے کی کوشش بھی کی۔ حلاج پر اس کے دوست سمری کی بیٹی نے جنسی ہراسانی کا الزام بھی لگایا تھا۔ (خطیب بغدادی، تاریخِ بغداد، جلد 8، صفحات 129 تا 131۔) حلاج سے برآمد ہونے والی تحریروں سے اس کا قرامطہ سے مربوط ہونا بھی ثابت ہوا جو عباسی خلیفہ کے سیاسی مخالفین تھے۔ (ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 6، صفحہ 168، مصر۔)

یہ سب چیزیں مل کر اس کی سزائے موت کا سبب بنیں۔ حلول و اتحاد کے علاوہ حلاج کے دیگر باطل عقائد میں جبرِ کامل، تناسخ اور جادو ٹونے پر یقین کرنا شامل ہیں۔ شیعہ و سنی علماء کے علاوہ حلاج کے معاصر صوفیوں، جیسے ابو محمد جریری اور ابوبکر شبلی، نے بھی اس کی مذمت کی تھی۔ عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کے دور میں حلاج کو طویل قید کے بعد سزائے موت دی گئی۔ اس کی موت کے بعد آنے والے صوفیوں، جیسے غزالی، شہاب الدین سہروردی، ابنِ عربی، شیخ عطار، جامی، رومی وغیرہ، نے اس کی روزافزوں حمایت کی جس کی وجہ سے تصوف زدہ لوگ اس فریب کار کو پہنچا ہوا پیر سمجھنے لگے۔ مثلاً ملا صدرا (متوفیٰ 1641ء) کے شاگرد اور دہلی میں مدفون معروف صوفی سرمد کاشانی (متوفیٰ 1661ء) کا شعر ہے:

عمریست کہ آوازۂ منصور کہن شد
من از سرِ نو جلوہ دہم دار و رسن را

سرمد وحدت الوجود کا قائل تھا۔ وہ کہتا ہے:

آن ذات برون زگنبدِ ارزق نیست
ذاتیست مقید کہ بجز مطلق نیست

حق باطل نیز ہست، باطل حق نیست
آن ذات بجز مصدرِ ہر مشتق نیست

اس کی ایک اور رباعی ہے:

ہستی بہ نظر چہ شد اگر پنہانی
این راز نہفتہ را تو ہم می دانی

چون شمع زفانوس نمائی خود را
پیوستہ درین لباسِ خود عریانی

سرمد نے شیطان کی مدح میں یہ رباعی کہی:

سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مکن
در وادئ شک چو گمرہان سیر مکن

این شیوۂ بندگی ز شیطان آموز
یک قبلہ گزین، سجدہ بر غیر مکن

سرمد کاشانی مادر زاد ننگا رہتا تھا۔ وہ ایک کم عمر ہندو لڑکے ابھے چند کا عاشق ہو گیا تھا، جسے وہ ہر وقت ساتھ رکھتا۔ سرمد کی بھی بہت سی کرامات مشہور تھیں، لیکن جب مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے عنایت خان کو اس کے پاس بھیجا تاکہ اس کی کرامات کی جانچ پڑتال کرے تو سرمد کوئی کرامت نہ دکھا سکا۔ عنایت خان نے اس شعر کی صورت میں اورنگزیب عالمگیر کو روداد پیش کی:

بر سرمد برہنہ کرامات تہمت است
کشفی کہ ظاہر است از او کشفِ عورت است

سرمد چونکہ دارا شکوہ سے وابستہ رہا تھا چنانچہ اسے اورنگزیب عالمگیر نے قتل کروا دیا۔ یوں سرمد بھی حلاج اور شہاب الدین سہروردی کی طرح ”شہیدِ تصوف“ قرار پایا۔ حلاج ہی کی طرح سرمد بھی صوفیوں کے بزرگوں میں شمار ہوتا ہے۔ جدید دور میں بعض سنی علماء نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے مطابق تاریخ کو بگاڑنا شروع کیا تو جہاں شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ اور سید احمد بریلوی وغیرہ کے تاریخ میں کردار کے بارے میں غلو کیا، وہیں لفاظی کے زور پر حلاج اور سرمد کو بھی عشقِ الٰہی کا استعارہ بنا ڈالا۔

حکیم ترمذی

محمد بن علی ترمذی (متوفیٰ 869 عیسوی) نے اپنی کتاب خاتم الاولیاء کو لکھ کر تصوف کی انسان شناسی کی تشکیل میں بہت بڑا قدم اٹھایا۔ اگرچہ اس نے اس مسئلہ کو ولایت کی بحث میں شامل کیا، جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اس کی سوچ اور طریقت کی بنیاد ولایت تھی۔ [29] اس نے کامل آدمی کی اصطلاح کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس کے خیالات اور نظریات نے بعد کی صدیوں میں کامل انسان کے عنوان سے پیش کئے گئے کئی نظریات کی بنیاد اور ستون کے طور پر کام کیا۔ [30]

حکیم ترمذی نے ”الرّد علی الرافضہ“ کے عنوان سے شیعوں کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی جو مذہبِ حقہ کے خلاف لکھی گئی ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ شیعوں کے خلاف نفرت انگیزی میں صوفی وہابیوں سے ہمیشہ دو قدم آگے رہے ہیں۔

ابنِ عربی

استاد مرتضٰی مطہری لکھتے ہیں:

”کامل انسان کی اصطلاح اسلامی ادبیات میں ساتویں صدی ہجری سے استعمال ہونے لگی ہے۔ اس سے پہلے اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ۔ ۔ وہ پہلا شخص کہ جس نے کامل انسان کا مسئلہ اٹھایا اور اسے کامل انسان کی اصطلاح سے تعبیر کیا، وہ مشہور عارف محیی الدین ابنِ عربی اندلسی طائی ہے۔“ (مرتضٰی مطہری، انسانِ کامل، صفحہ 16، کراچی۔)

یہ بھی پڑھئے: ابنِ عربی کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں – آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی میلانی

محیی الدین ابن عربی (متوفیٰ 1240 عیسوی) اور اس کی کتابوں کے مفسرین نے انسانِ کامل کے تصور کے تحت انسانوں کے بارے میں صوفیوں کے پراکندہ خیالات کو جمع کیا۔ ابن عربی نے اپنے تمام خیالات اور افکار کو وحدت شخصی وجود کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کامل وجود حق کی کامل ترین تجلی ہے۔ [31] تمام علوم کا منبع وہ ہے۔ [32] وہ سب حقائق اور سب مراتب ہستی کا جامع ہے۔ [33]

کل تویی و جملگان اجزای تو
بر گشا کہ ہست پاشان، پای تو

از تو عالم روحزاری می‌شود
پشت صد لشکر سواری می‌شود [34]

یہ بھی پڑھئے: کثرت در وحدت یا تشکیکِ وجود کا عقیدہ درست نہیں – ڈاکٹر سید محمود ہاشمی نسب

کلی سطح پر انسان بحیثیت نوع حقیقتِ محمدیہ ہے۔ [35] انسان وجود کا سب سے کامل مظہر ہے اور خدا کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے۔ وہ چھوٹی دنیا ہے اور کائنات بڑی دنیا ہے۔ لیکن دوسرے درجے پر انسانِ کامل کو ایک مخصوص فرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مخصوص خصوصیات کا حامل ہے۔ [36] وہ شخص جو چار سفر مکمل کر کے اپنے زمانے میں حقیقت محمدیہ کا مظہر بن گیا ہے۔ وہ ایک انسانِ کامل ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت انسانِ حیوان ہے۔ ابنِ عربی کی آراء کی شرح کرنے والوں میں صدر الدین قونوی کا نام زیادہ نمایاں ہے۔ عزیز الدین نسفی اور عبدالکریم جیلی نے انسان کامل کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں۔ یہ سب لفاظی جہل مرکب کا مصداق ہے۔

تصوف کے انسانِ کامل اور شیعہ عقیدۂ امامت میں فرق

صوفیوں کا کامل انسان اور ان کی انسان شناسی، امامی شیعوں کی انسان شناسی اور عقیدۂ امامت سے بہت مختلف ہے۔ ان دونوں نظریات میں سے ہر ایک کو بالکل مختلف تناظر میں پیش کیا گیا ہے، اور ہر ایک کی بنیادیں، مقاصد اور مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بنیادی نوعیت کے اختلافات دو ہیں:

ماہیت کا فرق

تصوف کی نظر میں کامل انسان وہ ہے جو خدا کی ذات میں فانی ہو اور جس کی بندگی اور عبودیت تمام ہو چکی ہو۔ جبکہ شیعوں کی نظر میں بندگی کبھی ختم نہیں ہوتی اور امام وہ ہے جس کی عبودیت دوسرے انسانوں سے زیادہ ہو۔ تصوف کی نظر میں خالق اور مخلوق میں ذاتی ربط ہے، وہ ایک ہی وجود ہیں صرف مراتب کا فرق ہے۔ لیکن شیعہ عقیدے میں خالق اور مخلوق کے درمیان کسی قسم کی یگانگی یا شباہت کو جائز نہیں سمجھا جاتا۔

مصادیق کا فرق

اثنا عشری شیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے لے کر قیامت تک، صرف بارہ اماموں کو بہترین انسان اور امام مانتے ہیں۔ غیبت کے دور میں بھی زندہ، حاضر اور باخبر امام حضرت مہدی علیہ السلام ہیں۔ یہ افراد خدا کی طرف سے منتخب کیے گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ مقرر کیے گئے ہیں، اور خود لوگوں کو اس سلسلے میں انتخاب کا حق حاصل نہیں تھا۔

لیکن صوفی اس قسم کی تخصیص پر یقین نہیں رکھتے اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان کامل انسان کے مرتبے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قیامت تک ہزاروں لوگ اس درجہ کو پہنچ جائیں گے۔ اس وقت بھی ہر فرقہ اپنے رہبر اور قطب کو ایک کامل انسان سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تصوف امامتِ اہلبیت ؑ سے انحراف ہے – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین نوری ہمدانی

یہ بھی پڑھئے: خالق اور مخلوق کی اصلیت جدا ہے ۔ آیۃ اللہ سید محمود بحرالعلوم میردامادی

تنقیدی جائزہ

غیر علمی روشِ تحقیق

صوفی انسان شناسی کی بنیادیں نہ تو معقول ہیں اور نہ ہی آیات و احادیث سے ان کی تصدیق ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں صوفیاء کے کلام کو قبول کرنے کی کوئی عقلی، کلامی یا نقلی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمام دلائل اس کے برعکس کو ثابت کرتے ہیں۔ صوفیاء چند ایک احادیث کا ہی حوالہ دے پاتے ہیں، جیسے خلق اللہ آدم علی سورتہ، لیکن یہ واضح ہے کہ ان استدلالات میں علمی اور استنادی روش کا فقدان ہے۔ یہ ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے باقی احادیث اور آیات قرآن کا لحاظ نہیں رکھتے، نہ ہی ان کی اسناد پر توجہ دیتے ہیں۔ خود صوفیوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی شاذ احادیث زیادہ تر مخالفین اور ناقدین سے بحث کرنے کے لیے ہیں اور صوفی انسان شناسی کے اصول ان کے مشائخ کی ذاتی کشفیات سے اخذ کئے گئے ہیں۔

انسان کی نوعی انفرادیت سے انکار

تصوف کے مطابق انسان کو خلق اور حق کے تمام درجات کا جامع ہونا چاہیے۔ اس میں ایک صریح خرابی یہ ہے کہ انسان اس وسیع کائنات کی بے شمار اقسام کی مخلوقات کا جامع کیوں ہونا چاہئے؟ کائنات میں ایٹموں سے بنی کئی چیزیں ہیں۔ مختلف اقسام کی گیسوں اور مائعات سے لے کر سمندر کی گوناگوں مچھلیوں تک، اور خوبصورت تتلیوں سے لے کر خطرناک اور زہریلے جانوروں تک، اربوں اقسام و انواع کی مخلوقات ہیں۔ واضح ہے کہ انسان میں ان سب کی صفات جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگرچہ جدید دور میں کئی عجیب و غریب چیزیں دریافت کی جا چکی ہیں لیکن یہ سلسلہ جاری ہے اور نہ صرف یہ کہ موجودہ علم نامکمل ہے بلکہ بے شمار مخلوقات کے بارے میں انسان سرے سے علم ہی نہیں رکھتا۔

خالق اور مخلوق میں جدائی سے انکار

صوفی انسان شناسی کا نظریۂ انسانِ کامل، وحدت الوجود اور صوفی الٰہیات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ دینی علماء و محققین نے صوفیاء کی خدا شناسی کو محکم دلائل سے رد کیا ہے۔ جدید سائنس نے صوفیا کی جہان شناسی کو رد کیا ہے۔ جدید علم نفسیات نے صوفیاء کی ذہنی مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔  یوں صوفیاء کی انسان شناسی کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور وہ بھی باطل ثابت ہو گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وحدت الوجود کے نظریہ کو تمام علماء، فقہاء اور متکلمین نے قبول نہیں کیا اور اسے اسلامی اور شیعہ توحید نہیں سمجھا جا سکتا۔

تصوف اور سیاسی شدت پسندی

صوفی انسان شناسی اپنی سرشت میں تمامیت خواہ (Totalitarian) ہے۔ صوفی تصوف کو مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے ہیں۔ یہ فکر جدید دور میں عدم برداشت اور تشدد کو جنم دے رہی ہے۔ یہ سوچ کہ سب انسان ایک ہی قسم کے کمال تک پہنچ سکتے ہیں، فردی آزادی اور ذاتی انتخاب کیلئے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔ جدید ذرائع ابلاغ، بالخصوص سوشل میڈیا، کی مدد سے نوجوان نسل کو پروپیگنڈے کا شکار کر کے مختلف جتھوں (Cults) میں شامل کیا جا رہا ہے۔ وہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ ان کی جوانی کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ ان کو خیالی دنیا میں لے جا کر معاشرے کا ناکارہ حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ ان کو رہنما یا قائد کا مطیع محض بنا کر اس کے مفادات کیلئے دنگا فساد کرنے والا ہجوم (Mob) بنا دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے اسلام کا نام زور و شور سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسلام ذہن کو تالے لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام میں ان افراد کو ہدایت یافتہ اور عقلمند کہا گیا ہے جو مختلف آراء کو برداشت سے سن کر ان میں درست اور غلط کی تشخیص دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:

فَبَشِّرْ عِبَادِ○ الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ○ (37)

ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: اسلام میں تنقیدی سوچ کی اہمیت – آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی

قرآن میں ایک اور مقام پر عقلمندوں (اولوالالباب) کی صفات یوں بیان ہوئی ہیں:

اِنَّ فِیۡ خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ وَ اختِلَافِ الَّیلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الاَلۡبَابِ. الَّذِینَ یَذکُرُونَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُودًا وَّ عَلٰی جُنُوبِہِم وَ یَتَفَکَّرُونَ فِی خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (سورہ آلِ عمران،آیات 190، 191۔)

ترجمہ: ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں صاحبانِ عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے بیٹھتے اور اپنی کروٹوں پر لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور و فکر کرتے ہیں، (اور کہتے ہیں:) ہمارے رب! یہ سب کچھ تو نے بے حکمت نہیں بنایا، تیری ذات (ہر عبث سے) پاک ہے، پس ہمیں عذاب جہنم سے بچا لے۔“

قرآن و حدیث میں بار بار مخلوقات پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اور جدید سائنس اور جدید فلسفے کا موضوع بھی مخلوقات ہی ہیں۔ لیکن اللہ کے بارے میں علم بنانے سے روکا گیا ہے، چاہے اس کا نام علمِ حصولی رکھ دیا جائے، اسے علمِ حضوری کہا جائے یا کشف و شہود پر مبنی علم کہا جائے۔ یہ وہ گمراہی ہے جس میں قدیم فلاسفہ اور صوفیہ مبتلا تھے اور اس کی حیثیت قیل و قال سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ ارشادِ الٰہی ہے:

وَ لَا یُحِیطُونَ بِہٖ عِلمًا. (سورہ طٰہٰ، آیت 110۔)

ترجمہ: ”تمہارا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“

کیونکہ:

لَیسَ کَمِثلِہٖ شَیءٌ. (سورہ شورىٰ، آیت 11۔)

ترجمہ: ”اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“

امیرالمؤمنین علی ؑ فرماتے ہیں:

فَمَدَحَ اللهُ اعْتِرَافَہُمْ بِالْعَجْزِ عَنْ تَنَاوُلِ مَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِہٖ عِلْمًا، وَ سَمّٰی تَرْكَہُمُ التَّعَمُّقَ فِیْمَا لَمْ یُكَلِّفْہُمُ الْبَحْثَ عَنْ كُنْہِہٖ رُسُوْخًا، فاقْتَصِرْ عَلٰی ذٰلِكَ. وَ لَاتُقَدِّرْ عَظَمَۃَ اللہِ سُبْحَانَہٗ عَلٰی قَدْرِ عَقْلِكَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْہَالِكِیْنَ. (نہج البلاغہ، خطبہ 89، خطبہ اشباح۔)

ترجمہ: ”اللہ نے اس بات پر ان (علم میں پختہ لوگوں) کی مدح کی ہے کہ جو چیز ان کے احاطۂ علم سے باہر ہوتی ہے اس کی رسائی سے اپنے عجز کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نہیں دی اس میں تعمق و کاوش کے ترک ہی کا نام رسوخ رکھا ہے۔ لہٰذا بس اسی پر اکتفا کر و اور اپنی عقل کے پیمانہ کے مطابق اللہ کی عظمت کو محدود نہ بناؤ، ورنہ تمہارا شمار ہلاک ہونے والوں میں قرار پائے گا۔“

امام محمد باقر ؑ سے مروی حدیث میں آیا ہے:

تَكَلَّمُوا فِي خَلْقِ اللَّہِ وَلَا تَتَكَلَّمُوا فِي اللَّہِ. فَإِنَّ الْكَلَامَ فِی اللَّہِ لَا يَزْدَادُ صَاحِبَہُ إِلَّا تَحَيُّراً. (کافی، کتاب التوحید، باب النہی عن الکلام فی الکیفیۃ، حدیث 1۔)

ترجمہ: ”خدا کی مخلوقات کے بارے میں بات چیت کرو لیکن خدا کی ذات و صفات کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ خدا کی ذات و صفات کے بارے میں کلام کرنے والے کو حیرانی و سرگردانی میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔“

امام باقر ؑ ہی کا فرمان ہے:

كُلَّ مَا مَيَّزْتُمُوہُ بِأَوْہَامِكُمْ فِي أَدَقِّ مَعٰانِیہِ مَخْلُوقٌ مَصْنُوعٌ مِثْلُكُمْ مَرْدُودٌ إِلَيْكُمْ. (وافی، جلد 1، صفحہ 408۔)

ترجمہ: ”تمہارا ذہن جس کو بھی سمجھ لے اور جتنا بھی دقیق معنی حاصل کرے، وہ تمہارے جیسی مصنوع مخلوق ہی ہو گی اور واپس تمہاری طرف ہی پلٹے گی۔“

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

إيّاكُم و التَّفَكُّرَ في اللّہ ِ. فإنَّ التَّفَكُّرَ فی اللّہ ِ لا يَزيدُ إلاّ تِيہا. إنَّ اللّہ َ عَزَّ و جلَّ لا تُدرِكُہُ الأبصارُ و لا يُوصَفُ بِمِقدارٍ. (شیخ صدوق، امالی، جلد 3، صفحہ 340۔)

ترجمہ: ”اللہ میں فکر کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اللہ کے بارے میں تفکر حیرت اور گمراہی کو بڑھاتا ہے۔ بے شک اللہ کو نہ آنکھیں پا سکتی ہیں، نہ اسے مقدار سے متصف کیا جا سکتا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: خدا شناسی میں تعمق کی مذمت – آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

ہمیں قرآنِ مجید میں جابجا ایسی آیات ملتی ہیں جن میں خدا پر ایمان بالغیب رکھنے اور اس کی بندگی کرنے کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ تاہم مخلوقات کا معاملہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ مخلوقات خالق سے بالکل الگ ہیں۔ کائنات حادث ہے، وہ قدیم ہے۔ یہ موجودات ہماری عقل کی طرح ہی زمان و مکان رکھتے ہیں، لیکن ان کا خالق ایسا نہیں۔ کائنات کی مقدار کی اعداد کی صورت میں پیمائش کی جا سکتی ہے، خدا تعدد سے پاک ہے۔ اللہ کی عبادت کرنی چاہئے، لیکن کسی اور کو عبادت میں شریک کرنا ظلمِ عظیم ہے: اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمٌ عَظِیمٌ۔ (سورہ لقمان، آیت 13۔) مخلوقات کے بارے میں علم خدا کی ذات و صفات کا علم نہیں، لیکن خدا پر ایمان اور یقین میں اضافہ کر سکتا ہے۔ خالق و مخلوق میں یہ تفریق بھی صوفیوں کے عقیدۂ وحدت الوجود کے باطل ہونے پر دلیل ہے۔

تمامیت خواہ تحریکوں میں شامل افراد جب اللہ تعالٰی کی ہر ترکیب و تشکیک اور مخلوقات سے پاک ذات کو بھولتے ہیں تو انفرادیت (Individuality) کھو کر تحریک میں پوری طرح ضم ہو جاتے ہیں۔ قرآن اس سے منع کرتا ہے:

وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الفٰسِقُونَ. (38)

ترجمہ: ”اور ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا پھر اللہ نے بھی ان کو (ایسا کر دیا) کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں۔“

اللہ کو بھول کر گروہ میں فناء ہونا عقل کا اندھا، بے ہویت اور تنہا کر دیتا ہے۔ قرآن میں ہے:

وَ مَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فَاِنَّ لَہٗ مَعِیشَۃً ضَنکًا وَّ نَحشُرُہٗ یَومَ القِیٰمَۃِ اَعمٰی. (39)

ترجمہ: ”اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اسے یقینا ایک تنگ زندگی نصیب ہو گی اور بروزِ قیامت ہم اسے اندھا محشور کریں گے۔“

ان افراد کے اندر ایسی ذاتی وحدت قائم ہوتی ہے کہ گویا وہ کسی بڑی مشین کے پرزے ہوں۔ بقولِ اقبال: موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں۔ وہ معاشرے سے ذہنی طور پر کٹ جاتے ہیں۔ ان میں ایسی فطری انسانی قربت برقرار نہیں ہوتی جو فردی اور اجتماعی زندگی کو الگ رکھے۔ یہ ہر انسان کی انفرادیت جیسی بدیہی حقیقت کو برائی سمجھ کر مٹا دینا چاہتے ہیں۔ گروہی تعصب میں یہ لوگ قتل جیسے جرائم کے مرتکب بھی ہو جاتے ہیں۔ اسلام جتھے بندی سے منع کر کے بھائیوں جیسی الفت سکھاتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:

وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوا ۪ وَ اذکُرُوا نِعمَتَ اللّٰہِ عَلَیکُم اِذ کُنتُم اَعدَآءً فَاَلَّفَ بَینَ قُلُوبِکُم فَاَصبَحتُم بِنِعمَتِہٖۤ اِخوَانًا ۚ وَ کُنتُم عَلٰی شَفَا حُفرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنقَذَکُم مِّنہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُم اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُم تَہتَدُونَ. (40)

ترجمہ: ”اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندیوں میں نہ پڑو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی اور اس کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کر تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔“

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

مُنِیبِینَ اِلَیہِ وَ اتَّقُوہُ وَ اَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَ لَا تَکُونُوا مِنَ الۡمُشرِکِینَ. مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُم وَ کَانُوا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزبٍۭ بِمَا لَدَیہِم فَرِحُونَ. (41)

ترجمہ: ”اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور جو گروہوں میں بٹ گئے، ہر جماعت اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔“

صوفی کائنات کو بطورِ کلی خدا مانتے ہیں اور اس سے وصال کو ممکن سمجھتے ہیں۔ اس باطل عقیدے سے ان کی نفسیات پر یہ اثر پڑتا ہے کہ وہ جسم سے نکل کر کائنات میں فناء ہو جانا چاہتے ہیں۔ اس لاحاصل کوشش کو سیر و سلوک کہا جاتا ہے۔ جب یہ سوچ معاشرے میں آتی ہے تو یہ لوگوں کو خدا کی طرف لے جانے کے نام پر ان کی انفرادیت کو کچلنے کیلئے جتھے بنانے لگتے ہیں۔ جدید دور میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام وغیرہ میں گروپس بنانے کی سہولت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

جوان سیر و سلوک کے نام پر دھوکہ نہ کھائیں – آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی

تمامیت خواہی کا تعلق زبان کو گدلا کرنے سے بھی ہے۔ لیڈر لفاظی میں الجھا کر کچھ افراد کو ذہنی طور پر اغواء کر لیتا ہے۔ مولا علی ؑ کے الفاظ میں:

نَصَبَ لِلنَّاسِ اَشْرَاكًا مِّنْ حَبَآئِلِ غُرُوْرٍ، وَ قَوْلِ زُوْرٍ، قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلٰۤی اٰرَآئِہِ، وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلٰۤی اَہوَآئِہِ، یُؤَمِّنُ النَّاسَ مِنَ الْعَظَآئِمِ، وَ یُہَوِّنُ كَبِیْرَ الْجَرَآئِمِ. (42)

ترجمہ: ”اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: عرفانِ نظری اور تفسیر بالرائے – آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی

مغرب میں ہیگل، مارکس اور ہائیڈیگر نے جدلیات اور وجودیت جیسے ناقابلِ تصدیق خیالات پھیلائے تو یہ جہلِ مرکب لینن اور ہٹلر جیسے قاتلوں کے کام آیا۔ تصوف بھی ابہام پھیلاتا ہے جو ظالموں کے کام آتا ہے۔

صوفی پیروں کو مظہرِ نورِ خدا سمجھتے ہیں۔ اس عقیدے کو تاریخ کا فلسفہ بنا لیا جائے تو صوفی سیاسی رہنما روحِ عصر قرار پاتا ہے جس کا قول تاریخ کا اٹل فیصلہ ہوتا ہے جو جبرِ کامل کے ساتھ نافذ ہو گا۔

دین میں کوئی جبر نہیں۔ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ (43)۔ اسلام میں سابقہ امتوں کے زوال کی ایک وجہ پیروں کو رب بنا لینا قرار دی گئی ہے۔

اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّہِ○ (44)

ترجمہ: ”انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔“

اگرچہ اس نصِ صریح کی وجہ سے صوفی لوگ پیر کو کھلم کھلا رب کہنے سے کتراتے ہیں، لیکن اس کو رب کا پرتو یا اس کا ظہور ضرور قرار دیتے ہیں۔ یوں پیر کا قول خدا کے فرمان جیسی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صوفیاء اور ختمِ نبوت

اسلام تمامیت خواہ (Totalitarian) نہیں، اسلام میں مباحات بے شمار ہیں اور واجبات و محرمات صرف چند ایک ہیں۔ اسلام کسی انسان کو دوسروں کی زندگیوں پر تصرف کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن پچھلی صدی میں مسلم دنیا کے جو علاقے تصوف زدہ تھے ان میں جدید ذرائع ابلاغ کے آنے کے بعد شدت پسند تنظیمیں اور ایسے گوناگوں اقلیتی گروہ نمودار ہونے لگے جو دوسروں کو ڈرا اور دبا کر اپنے موہوم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ نے ان کو افراد کی ذہن سازی اور کارکنوں کو آپس میں جوڑنے کا وسیلہ فراہم کیا۔ ہر تمامیت خواہ گروہ میں چند ہزار ہی کارکنان ہوتے ہیں لیکن نشر و اشاعت کی بدولت ان کا شور بہت ہوتا ہے، جس سے کارکنان کو لگتا ہے کہ جلد ہی وہ سارے ملک پر چھا جائیں گے اور ان کے رہنما کا مجوزہ نظام قائم ہو جائے گا۔ یہ لوگ اپنی ناکامیوں کو چھپاتے اور کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ان گروہوں سے منسلک لوگ اکثر ہیگل اور مارکس کی طرح تاریخ کے ”قوانین“ اور ”سننِ الٰہی“ کی کامل معرفت کا دعوٰی کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالٰی کے اس فرمان کی نص کے خلاف ہے:

عٰلِمُ الغَیبِ فَلَا یُظہِرُ عَلٰی غَیبِہٖۤ اَحَدًا. اِلَّا مَنِ ارتَضٰی مِن رَّسُولٍ فَاِنَّہٗ یَسلُکُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَ مِن خَلفِہٖ رَصَدًا. (45)

ترجمہ: ”وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ سوائے اس رسول کے جسے اس نے برگزیدہ کیا ہو، وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔“

جدید فلسفے میں ہونے والی تحقیقات سے بھی یہ واضح ہوا ہے کہ طبیعیات کے برعکس تاریخ کے کوئی لگے بندھے قوانین نہیں۔ ایسے قوانین کو سمجھنے اور معاشروں کے مستقبل کی پیش گوئیاں کرنے کی سوچ درست نہیں تھی اور اسی غلط فہمی وجہ سے ہیگل کے پیروکار فاشزم اور مارکس کے پیروکار کمیونزم کا شکار ہو کر ناکام رہے۔ تاریخ کا علم نئی تحقیقات اور دریافتوں سے بدلتا بھی رہتا ہے۔ اسی لئے تاریخ دان تازہ کتابیں لکھتے رہتے ہیں۔ تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے لیکن اس راستے میں افراط کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

یہ بات بھی جاننی چاہئے کہ انسان کی عقل محدود ہے۔ مغرب میں کانٹ نے اس کی حدود کو واضح کیا لیکن ہیگل نے عقل کو خدا بنا لیا۔ اس نے جدلیات کے نام پر مبہم باتیں لکھیں۔ مارکس نے اسی ابہام کو الٹا کر مادی جدلیات گھڑ لیں۔ ہیگل اور مارکس روشن فکری کے زوال کا سبب بنے۔ آخری زمانے کے وقوع کا علم صرف اللہ تعالٰی کے پاس ہے، ہمیں ذہنی طور پر زمانۂ حال میں رہنا چاہئے اور اپنے امور کو اچھی طرح انجام دینا چاہئے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

یَسـَٔلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرسٰہَا ؕ قُل اِنَّمَا عِلمُہَا عِندَ رَبِّی ۚ لَا یُجَلِّیہَا لِوَقتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَت فِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ ؕ لَا تَاتِیکُم اِلَّا بَغتَۃً ؕ یَسـَٔلُونَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنہَا ؕ قُل اِنَّمَا عِلمُہَا عِندَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لَا یَعلَمُونَ. (46)

ترجمہ: ”یہ لوگ آپ سے آخری زمانے کا وقت پوچھتے ہیں کہ آخری زمانہ کب آئے گا؟ کہہ دیجئے: اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے، اس وقت کو اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کر سکتا۔ یہ آسمانوں اور زمین کا بڑا بھاری حادثہ ہو گا جو ناگہاں تم پر آ جائے گا۔ یہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی کھوج میں ہوں، کہہ دیجئے: اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“

مسلم دنیا میں پچھلے سو سال سے انتہا پسندوں کی جانب سے خبروں اور دنیا کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے امام مہدی ؑ کے ظہور کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض مقررین تو ’’حالاتِ حاضرہ اور مہدویت“ کے علاوہ کسی اور موضوع پر تقریر ہی نہیں کرتے۔ ہر چند سال بعد دعوٰی کیا جاتا ہے کہ ابھی امامِ عصر ؑ ظاہر ہوں گے اور جو کوئی ہماری جماعت میں ہو گا وہی ان کے لشکر میں ہو گا۔ اس طرح وہ ہر تخریب سے تعمیر کی امید لگا لیتے ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہیگل اور مارکس کی طرح تاریخ کی تکامل کی طرف حرکت کے عقیدے کی وجہ سے ہے۔ یہ نیا عقیدہ، جسے ’’اسلامی فلسفۂ تاریخ“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وحدت الوجود سے اخذ شدہ ایک باطل عقیدہ ہے جو سماجی تبدیلیوں کے بارے میں عرفان بافی پر مبنی ہے۔ اسے کمیونسٹوں کی مخالفت میں بنایا گیا تھا، جو تاریخ کے جبر اور ایک بے طبقہ معاشرے کے ظہور پر تاریخ کے خاتمے کی بات کرتے تھے۔ اس کی تفصیل شیخ مرتضٰی مطہری کی کتاب ’’قیام و انقلابِ مہدی ؑ“ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

جدید سیاسی علوم میں آخری زمانے کی پیش گوئیوں پر مبنی سیاست (Apocalyptic Politics) کا نادرست بلکہ تباہ کن ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخلوق کے خالق میں ضم ہوتے جانے کا عقیدہ درست نہیں، خالق مخلوق سے مکمل طور پر جدا اور ہر ترکیب و تشکیک سے پاک ہے۔ صوفیوں کا جبرِ کامل کا عقیدہ بھی آئمۂ اہلبیت ؑ کی تعلیمات کے خلاف ہے، اسے معاشرے تک بڑھا کر تاریخ کے جبرِ کامل کی شکل دینا درست نہیں۔ جنابِ مطہری کے عرفانی خیالات کو آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو نے اپنی کتاب اقامۃ البرہان میں رد کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظہورِ امامِ زمان ؑ میں ہزاروں سال بھی لگ سکتے ہیں اور یہ قیامت کی طرح ان غیبی امور میں سے ہے جنہیں لوگ نہیں جان سکتے، نہ ان کے وقوع کیلئے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اس نئے بدعتی عقیدے پر بھی تشیع کو تصوف سے اختلاف ہے۔ حضرت امام محمد باقر ؑ کا فرمان ہے: ’’ظہورِ مہدی ؑ کے وقت کا تعین کرنے والے جھوٹے ہیں، جھوٹے ہیں، جھوٹے ہیں۔“ (47)

یہ بھی پڑھئے: وحدتِ وجود کے قرآنی دلائل کا تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر محمد علی صابری

جدید زمانے کے عرفان بافوں نے تاریخ کے سفر کو انسانی معاشرے کا خدا کی طرف سیر و سلوک کرنا سمجھ لیا ہے۔ پرانی صوفیت کا کامل انسان کا تصور اب کامل ریاست کے تصور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ان کیلئے دین ایک تمامیت خواہ سیاسی نظام کا نام بن کر رہ گیا ہے جس میں ریاست کا سربراہ پوری انسانیت کو خدا کی طرف لے کر جانے والا شیخ ہو گا اور عوام فنا فی الشیخ ہو کر جتھے (Mob) کا کردار ادا کریں گے۔ زندگی کا ہر پہلو سیاسی ہو جائے گا۔ مرشد مثالی اقتصادی نظام، مثالی تعلیمی نظام، یہ نظام، وہ نظام، وغیرہ کے خیالی پلاؤ پکاتا رہے گا اور سادہ لوح لوگ چندے دیتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ فناء فی اللہ و بقاء باللہ کا عقیدہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے برعکس ہے۔ احتجاجِ طبرسی میں روایت ہے کہ امام علی رضا ؑ نے ابو قرّہ کے سوال کے جواب میں فرمایا:

أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنَّ مَا سِوَى اللَّہِ فَانٍ وَ مَا سِوَى اللَّہِ فِعْلُ اللَّہِ وَ التَّوْرَاۃُ وَ الْإِنْجِيلُ وَ الزَّبُورُ وَ الْفُرْقَانُ فِعْلُ اللَّہِ أَ لَمْ تَسْمَعِ النَّاسَ يَقُولُونَ رَبُّ الْقُرْآنِ وَ إِنَّ الْقُرْآنَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ يَا رَبِّ ہَذَا فُلَانٌ وَ ہُوَ أَعْرَفُ بِہِ مِنْہُ قَدْ أَظْمَأْتُ نَهَارَہُ وَ أَسْہَرْتُ لَيْلَہُ فَشَفِّعْنِي فِيہِ وَ كَذَلِكَ‌ التَّوْرَاۃُ وَ الْإِنْجِيلُ وَ الزَّبُورُ وَ ہِیَ كُلُّہَا مُحْدَثَةٌ مَرْبُوبَةٌ أَحْدَثَہَا مَنْ‌ لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْ‌ءٌ ہُدًى لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ فَمَنْ زَعَمَ أَنَّہُنَّ لَمْ يَزَلْنَ مَعَہُ فَقَدْ أَظْہَرَ أَنَّ اللَّہَ لَيْسَ بِأَوَّلِ قَدِيمٍ وَ لَا وَاحِدٍ وَ أَنَّ الْكَلَامَ لَمْ يَزَلْ مَعَہُ وَ لَيْسَ لَہُ بَدْءٌ وَ لَيْسَ بِإِلٍَہ.

ترجمہ: ”اجماعِ مسلمین ہے کہ خدا کے سوا ہر چیز نابود ہو جائے گی۔ خدا کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کا فعل ہے۔ تورات، انجیل، زبور اور قرآن بھی اس کے افعال ہیں۔ تم نے لوگوں کو یہ کہتے نہیں سنا، ربِ قرآن؟ خود قرآن قیامت کے دن کہے گا اے میرے رب! یہ فلاں ہے، حالانکہ خدا اُس کو اِس سے بہتر پہچانتا ہے، اس کا دن پیاس اور رات بیداری کی حالت میں گزرتی تھی۔ اس کیلئے میری شفاعت قبول کرو۔ یہی معاملہ تورات، زبور اور انجیل کا ہے۔ سبھی آسمانی کتب مخلوق اور حادث ہیں۔ ان کا خالق وہ ہے جس کی مثل کوئی نہیں اور وہ عقلمندوں کو ہدایت دیتا ہے۔ پس جو یہ کہتا ہے کہ یہ کتابیں ازلی ہیں، وہ اصل میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا پہلا اور یکتا قدیم نہیں ہے۔ اس کا کلام ہمیشہ اس کے ساتھ تھا۔ یہ ابتدا میں صرف خدا کے ہونے اور اسی کے لائقِ عبادت ہونے کا انکار ہے۔“

یہ سن کر ابو قرّہ نے عرض کی:

إِنَّا رُوِّينَا أَنَّ الْكُتُبَ كُلَّہَا تَجِي‏ءُ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ وَ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ صُفُوفٌ قِيَامٌ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ يَنْظُرُونَ حَتَّى تَرْجِعَ فِيہِ لِأَنَّہَا مِنْہُ وَ ہِیَ جُزْءٌ مِنْہُ فَإِلَيْہِ تَصِيرُ.

ترجمہ: ”ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب آسمانی کتابیں آئیں گی اور سب لوگ ایک سطح پر صفیں بنا کر خدا کیلئے کھڑے ہونگے۔ وہ دیکھیں گے کہ یہ سب کتابیں خدا کے اندر چلی جائیں گی کیونکہ یہ خدا سے آئی تھیں۔ یہ اس کا جزء ہیں اور اس سے مل جائیں گی۔ “

امام علی رضا ؑ نے جواب میں فرمایا:

فَهَكَذَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي الْمَسِيحِ إِنَّهُ رُوحُهُ جُزْءٌ مِنْهُ وَ يَرْجِعُ فِيهِ وَ كَذَلِكَ قَالَتِ الْمَجُوسُ فِي النَّارِ وَ الشَّمْسِ إِنَّهُمَا جُزْءٌ مِنْهُ تَرْجِعُ فِيهِ تَعَالَى رَبُّنَا أَنْ يَكُونَ مُتَجَزِّياً أَوْ مُخْتَلِفاً. (احتجاجِ طبرسی، جلد 2، صفحہ 405۔)

ترجمہ: ”یہی سب تو مسیحی حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خدا کی روح اور اس کا جزء ہیں اور اس کی ذات میں چلے جائیں گے۔ مجوسیوں نے بھی سورج اور آگ کے بارے میں یہی کہا کہ سورج اور آگ خدا کا حصہ ہیں اور اس میں چلے جائیں گے۔ ہمارا خدا اس سے بلند ہے کہ اجزاء اور اختلاف رکھتا ہو۔ “

امیرالمؤمنین علی ؑ کا فرمان ہے کہ:

وَ اِنَّمَا كَلَامُهٗ سُبْحَانَهٗ فِعْلٌ مِّنْهُ اَنْشَاَهُ، وَ مِثْلُهٗ لَمْ یَكُنْ مِّنْ قَبْلِ ذٰلِكَ كَآئِنًا، وَ لَوْ كَانَ قَدِیْمًا لَّكَانَ اِلٰهًا ثَانِیًا. (نہج البلاغہ، خطبہ 184۔)

ترجمہ: ”اللہ سبحانہٗ و تعالٰی کا کلام بس اس کا ایجاد کردہ فعل ہے۔ اور اس طرح کا کلام پہلے سے موجود نہیں ہو سکتا۔ اور اگر وہ قدیم ہوتا تو دوسرا خدا ہوتا۔“

اگر اللہ کے پاک اور مقدس کلام کے بارے میں فناء فی اللہ و بقاء باللہ کا عقیدہ رکھنا شرک ہے، تو باقی موجودات کیلئے ایسا عقیدہ رکھنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: عرفانی فلسفے کی بنیادیں کھوکھلی ہیں – آیۃ اللہ العظمیٰ اسحاق فیاض

تمامیت خواہی جدید معاشرت کا مسئلہ ہے۔ جدید دور میں ہر قوم و مذہب کے افراد اس لہر کا شکار ہوئے ہیں۔ مسلمانوں میں ڈاکٹر اقبال، مولانا مودودی، سید قطب، غلام احمد پرویز، ڈاکٹر شریعتی اور ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ کی فکر میں بھی تمامیت خواہی کی جھلک نمایاں ہے۔ جو قومی اور مذہبی تحریکیں کوئی نہ کوئی آئیڈیالوجی اپنا لیں، وہ چار و ناچار تمامیت خواہ بن جاتی ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام آئیڈیالوجی نہیں ہے لیکن جدید دور میں ”نظامِ خلافت“ جیسے عنوانات سے ہونے والی خیال بافی دین کو آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ حضراتِ ثلاثہ کی حکومت بھی ایسی خلافت نہیں تھی جیسی یہ لوگ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، جدید دور میں ہندوؤں میں ساورکر اور گوالکر کی تمامیت خواہانہ فکر نے ہندوتوا کا فتنہ کھڑا کیا۔ یہودیوں میں یہ فکر صہیونیوں کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ مسیحی دنیا میں کرسچین ازم، کمیونزم، فاشزم اور نازی ازم جیسے کئی فتنے اسی تمامیت خواہی کے مظاہر ہیں۔ جدید دور کے ملحدین بھی کامل ملحد بننا اور دوسروں کو کامل ملحد بنانا چاہتے ہیں۔ تمامیت خواہی (Totalitarianism) جس رنگ میں بھی ہو اس کے معاشرتی اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں۔

تمامیت خواہی (Totalitarianism) حقیقت میں آمریت (Dictatorship) سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے جس میں آمر صرف سیاسی امور پر قابض ہوتا ہے، کیونکہ یہاں مرشد ہر معاملے میں ”رہنمائی“ کرتا ہے اور اس کے غلط فیصلوں سے بھی کوئی نہ کوئی ”بصیرت“ نکال لی جاتی ہے۔ ہر تمامیت خواہ نظام میں لیڈر خود کو آئین کا تابع کہتا ہے لیکن اصل میں آئین اس کا تابع ہوتا ہے۔ صوفی رہنما بھی خود کو شریعت کا تابع کہتے ہیں لیکن تشریع پر ولایت مطلقہ رکھنے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں۔ جدید دور میں آئین کی پابندی صرف جمہوریت میں ممکن ہے جہاں کسی انسان کو دوسروں پر حکومت کا حق نہیں ہوتا اور ریاست کے سربراہ کا کام صرف اجتماعی امور کا انتظام کرنا ہوتا ہے، جس کی روش بھی آئین طے کرتا ہے۔ آئین میں بھی وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ ریاست کو کسی شہری کے انسانی حقوق چھیننے کی اجازت نہیں ہوتی، چاہے اس کا تعلق کسی اقلیت سے ہو۔

مسلم دنیا میں جدید دور میں اٹھنے والی سیاسی شدت پسند تحریکوں کی بنیادیں تصوف کی انسان شناسی میں ملتی ہیں۔ تصوف میں بھی رہنما پیروکاروں کی زندگی کے ہر اظہار کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے۔ ان کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ پیر سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے اور صرف وہی فرد یا سماج کی مصلحت کی تشخیص کر سکتا ہے، گویا وہ کوئی روحانی یا سماجی معالج ہے۔ ممکن ہے بعض شدت پسند صوفیوں کے بعض اعمال کی مذمت کرتے ہوں، لیکن وہ بھی صوفیت کی تمامیت خواہی کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ مکتبِ تشیع کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اچھے صوفی اور برے صوفی کی تفریق نہیں کرتا۔ وہ ابنِ تیمیہ کی طرح اصلی پیر اور جعلی پیر کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا۔ امام علی نقی علیہ السلام سے منقول ہے:

الصوفیۃ کلہم من مخالفینا و طریقتہم مغایرۃ لطریقتنا. (48)

ترجمہ: ”صوفی سب کے سب ہمارے مخالف ہیں اور ان کا راستہ ہمارے راستے سے جدا ہے۔“

برصغیرِ پاک و ہند میں صوفیت کے گہرے اثرات کی بدولت تمامیت خواہی اور شدت پسندی اذہان میں رچی ہوئی ہے۔ چنانچہ بعض صوفی مزاج لوگ ولایتِ فقیہ کو غلط رنگ دے کر ایک تمامیت خواہ آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں۔ رہبرِ شہید سید علی خامنہ ای کا فرمانا ہے:

”جب کچھ لوگ امیر المؤمنین علی ؑ کا نام یا حضرت ولی العصر ؑ کا نام لے کر پھر اسی لَے میں میرا نام بھی لیتے ہیں تو اس حقیر کا بدن لرز جاتا ہے۔ وہ نورانی ہستیاں ہم لوگوں سے جو ظلمت میں ڈوبے ہوئے ہیں، بہت فاصلہ رکھتی ہیں۔ ہم اسی آلودہ دنیا کی پیداوار ہیں۔ ہم کہاں اور ان کا غلام قنبر کہاں؟ ہم کہاں اور کربلا میں امام حسینؑ پر فدا ہونے والا حبشی غلام جون کہاں؟“ (49)

آقائے مشکینی نے امام خمینی کے سامنے غلو کرتے ہوئے اُن کو آئمۂ اطہارؑ سے ملا دیا تو انہوں نے گلہ کرتے ہوئے فرمایا:

”میں سب سے پہلے آقائے مشکینی سے شکوہ کروں گا۔ ہم جتنے اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں وہی کافی ہے۔ ایسی باتیں نہ کریں جو ہمارے اندر اکٹھی ہو جائیں اور ہمیں پیچھے دھکیل دیں۔ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہم ظواہرِ اسلام پر عمل کر لیں۔“ (50)

اس فتنے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو صاحب فرماتے ہیں:

”اربابِ علم و معرفت جانتے ہیں کہ لفظ ولی فقیہ نہ قرآن مجید میں موجود ہے اور نہ سرکار محمد ؐ وآل محمدؑ کے احادیث کے اندر مذکور ہے، بلکہ اس قسم کے الفاظ نظریۂ ضرورت کے تحت بعض لوگوں نے استعمال کیے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ الفاظ معرکہ آرا بن گئے ہیں۔ جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ ۔ ۔ بعض لوگوں نے ولی فقیہ کو اتنا بڑھایا کہ اس کے ڈانڈے نبی و امام سے ملا دیے کہ جو اختیارات نبی و امام کو حاصل ہیں وہی اختیارات ولی فقیہ کو حاصل ہیں۔ حالانکہ ولایتِ نبیؐ، اَلنَّبِیُّ اَولٰی بِالمُؤمِنِینَ مِن اَنفُسِہِم ۔۔۔۔۔ کا مصداق ہے اور امام نبی کے اختیارات کا مالک ہوتا ہے جیسا کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ شاہد ہے۔ اس طرح امام بے شمار بن جائیں گے۔ اور نبی و امام کی عظمت و جلالت کو اتنا بڑھایا کہ ان کے ڈانڈے توحید سے ملا دیے کہ خدا جس طرح کسی کام کا ارادہ کرے تو کن کہتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ اسی طرح نبی و امام کسی کام کا ارادہ کریں تو کن کہتے ہیں اور وہ کام ہو جاتا ہے۔ اس طرح خدا پندرہ بن جائیں گے (العیاذ بالله لا الہ الا اللہ)۔“ (51)

شیعہ علماء کے لباس میں تصوف کا پرچار کرنے والوں کے بارے میں ڈھکو صاحب ان الفاظ میں خبردار کرتے ہیں:

”عرفان بافوں نے شیعہ علمائے اعلام کے فتاویٰ سے خوفزدہ ہو کر عرفان کی آغوش میں پناہ لی ہے۔ ورنہ دنیا جانتی ہے کہ ابنِ عربی کی کتاب فصوص الحکم کی شرح لکھنے والے اور اس کی تحریرات کی تاویلات کرنے والے صوفی نہیں تو اور کیا ہیں؟“ (52)

اہلِ علم کیلئے لازم ہے کہ صوفیوں کی لفظی چورن فروشی اور ان کی نت نئی بدعات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے:

إِذَا ظَہَرَتِ اَلْبِدَعُ فِي أُمَّتِي فَلْيُظْہِرِ اَلْعَالِمُ عِلْمَہُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْہِ لَعْنَۃُ اَللَّہِ. (53)

ترجمہ: ”جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہونے لگیں تو عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہئے۔ پس جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔“

بقولِ جالب:

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا

ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حوالہ جات

1۔ شیخ مرتضٰی مطہری، انسان کامل، صفحات 201 تا 203، جامعہ تعلیمات اسلامی، کراچی۔
2۔ عزیز الدین نسفی، انسان کامل، صفحی 74۔
3۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی، جلوۂ حق، صفحہ 36، ادارہ تحقیقات امامیہ۔
4۔ «بدان که اسم اعظم حقیقتی از عالم حقائق و معنایی از عالم معانی است، و صورتی و معنایی از عالم صور و الفاظ است؛ اما حقیقتش پس او احدی است، جمع جمع حقائق جمعیۀ کمالیۀ است. اما معنایش پس آن انسان کامل در هر عصر است. و او قطب اقطاب، حامل امانت الهیه، خلیفه خدا و نائب اوست. اما صورتش از جهت حس، پس صورت کامل آن عصر است.» [جندی، مؤیدالدین، شرح فصوص الحکم، ص۸۰.] 5۔ «محققان صوفیه بر این عقیده‌اند که تخلّق و تحقق به اسم الله امکان پذیر نیست، چون که آن دو اختصاص به حقّ دارد و اسم الله قائم مقام اسماء است.این از باب ادب با خداست، ولی اقتضای کشف و شهود این است که اسم الله از تمام وجوه عین مسمّا نیست و چون انسان کامل به احدیت جمع تمام اخلاق الهی و به راز: من در دل بنده پاک خود می‌گنجم، اتصاف یافت؛دلش عرش ذات حق و اسماء الهی گردیده و اسم عَلَم اعظم می‌باشد»[فناری، محمد بن حمزه، مصباح الانس، ص376.] 6۔ «کسی که از پدرش آدم، میراث خلافت را حاصل کرده باشد انسان کامل و خلیفۀ خداست و کسی که از سر خلافت فقط نصف میراث را ستانده باشد، زن است زیرا مرد میراث خود را بطور کامل می‌ستاند و زن نصف آنچه را که مرد می‌ستاند، می گیرد»[آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، ص505.] 7۔ «در حال احتضار که حال انسلاخ از حجب خیال باشد آن ولایت تکوینیۀ انسان که متحد با ولی امر است در مقام و مرتبۀ انسان ظاهر شود که آشکارا [انسان کامل] را ببیند، ولکن با هرکسی موافق استعداد او ظاهر شود.»[سلطانعلیشاه گنابادی، محمد، ولایت نامه، ص۳۲.] 8۔ داود قیصری قدس الله سره: «حق تعالی به قلب انسان کامل تجلی میکند و انوار از قلب او به عالم منعکس میگردد»[قیصری، داود، شرح فصوص الحکم، ص۱۷۳.] 9۔ ‌ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الفتوحات‌ المکیه، ج۱۳، ص۱۲۹-۱۳۰؛ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الانسان‌ الکامل‌، ج۱، ص۸ -۱۱؛ نسفی‌، عزیزالدین‌، الانسان‌ الکامل‌، ج۱، ص۲۵۵؛ جامی‌، عبدالرحمن‌، نقد النصوص‌، ج۱، ص۹۲-۹۳.
‌10۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الفتوحات‌ المکیه، به‌ کوشش‌ عثمان‌ یحیی‌، چ بولاق‌، ۱۲۹۳ق‌
‌11۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، شجره الکون‌، به‌ کوشش‌ ریاض‌ عبدالله‌، بیروت‌، ۱۴۰۴ق‌/ ۱۹۸۴م‌
‌12۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، عنقاء مغرب‌، قاهره‌، ۱۳۷۳ق‌/ ۱۹۵۴م‌
‌13۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، فصوص‌ الحکم‌، به‌ کوشش‌ ابوالعلاء عفیفی‌، بیروت‌، دارالکتاب‌ العربی‌.
14۔ اتین‌ ژیلسون‌، روح‌ فلسفه قرون‌ وسطی‌، ترجمه ع‌ داودی‌، تهران‌، ۱۳۶۶ش‌
15۔ اقبال‌ لاهوری‌، محمد، سیر فلسفه‌ در ایران‌، ترجمه اح‌ آریان‌پور، تهران‌، ۱۳۴۹ش‌
16۔ اقبال‌، افضل،‌ زندگی‌ و آثار مولانا جلال‌الدین‌ رومی‌، ترجمه حسن‌ افشار، تهران‌، ۱۳۷۵ش‌
17۔ آشتیانی‌، مهدی،‌ تعلیقه رشیقه علی‌ شرح‌ منظومه السبزواری‌، قم‌، ۱۴۰۴ق‌
18۔ آملی‌، سیدحیدر، جامع‌ الاسرار، به‌ کوشش‌ هانری‌ کربن‌ و عثمان‌ اسماعیل‌ یحیی‌، تهران‌، ۱۳۶۸ش‌
19۔ آملی‌، سیدحیدر، نص‌ النصوص‌، به‌ کوشش‌ همان‌ دو، تهران‌، ۱۳۵۲ش‌
20۔ آن‌ماری‌ شیمل‌، درآمدی‌ بر اسلام‌، ترجمه عبدالرحیم‌ گواهی‌، تهران‌، ۱۳۷۵ش‌
21۔ بابا رکنا شیرازی‌، مسعود، نصوص‌الخصوص‌، به‌کوشش‌ رجبعلی‌ مظلومی‌، تهران‌، ۱۳۵۹ش‌
22۔ بدوی‌، عبدالرحمن،‌ اثولوجیا (افلوطین‌ عندالعرب)،‌ قم‌، ۱۴۱۳ق‌
‌23۔ بدوی‌، عبدالرحمن، الانسان‌ الکامل‌ فی‌ الاسلام‌، کویت‌، ۱۹۷۶م‌
24۔ برتلس‌، یوگنی‌ ادواردویچ،‌ تصوف‌ و ادبیات‌ تصوف‌، ترجمه سیروس‌ ایزدی‌، تهران‌، ۱۳۵۶ش‌
25۔ بقاعی‌، ابراهیم،‌ مصرع‌ التصوف‌، به‌ کوشش‌ عبدالرحمن وکیل‌، بیروت‌، ۱۴۰۰ق‌/ ۱۹۸۰م‌
26۔ بهار، مهرداد، پژوهشی‌ در اساطیر ایران‌، تهران‌، ۱۳۶۲ش‌
27۔ پارسا، محمد، شرح‌ فصوص‌ الحکم‌، به‌ کوشش‌ جلیل‌ مسگرنژاد، تهران‌، ۱۳۶۶ش‌
28۔ پل‌ نویا، تفسیر قرآنی‌ و زبان‌ عرفانی‌، ترجمه اسماعیل‌ سعادت‌، تهران‌، ۱۳۷۳ش‌
29۔ ترمذی‌، محمد بن عیسی، سنن‌، به‌ کوشش‌ ابراهیم‌ عطوه‌ عوض‌، بیروت‌، المکتبه الاسلامیه‌
30۔ تهانوی‌، محمداعلی، کشاف‌ اصطلاحات‌ الفنون‌، به‌ کوشش‌ محمد وجیه‌ و دیگران‌، کلکته‌، ۱۸۶۲م‌
31۔ جامی‌، عبدالرحمن،‌ نقد النصوص‌، به‌ کوشش‌ ویلیام‌ چیتیک‌، تهران‌، ۱۳۷۰ش‌
32۔ جان‌ بایر ناس‌، تاریخ‌ جامع‌ ادیان‌، ترجمه علی‌اصغر حکمت‌، تهران‌، ۱۳۷۰ش‌
33۔ جرجانی‌، علی،‌ التعریفات‌، قاهره‌، ۱۳۵۷ق‌/ ۱۹۳۸م‌
‌34۔ جلالی‌ ترکمانی‌، محمدحسن، التأویل‌ المحکم‌، لکهنو، ۱۳۳۲ق‌
35۔ جندی‌، مؤیدالدین‌، نفحه الروح‌ و تحفه الفتوح‌، به‌ کوشش‌ نجیب‌ مایل‌ هروی‌، تهران‌، ۱۳۶۲ش‌
36۔ جیلانی‌، عبدالکریم،‌ الانسان‌ الکامل‌، قاهره‌، ۱۳۰۴ق‌
37۔ سورہ زمر، آیات 17، 18۔
38۔ سورہ حشر، آیت 19۔
39۔ سورہ طٰہٰ، آیت 124۔
40۔ سورہ آل عمران، آیت 103۔
41۔ سورہ روم، آیات 31، 32۔
42۔ نہج البلاغہ، خطبہ 85۔
43۔ سورہ بقرہ، آیت 256۔
44۔ سورہ توبہ، آیت 31۔
45۔ سورہ جن، آیات 26، 27۔
46۔ سورہ اعراف، آیت 187۔
47۔ شیخ طوسی، کتاب الغیبۃ: 426 / 411۔
48۔ شیخ عباس قمی، سفينۃ البحار، ج 5، ص 199۔
49۔ 12 مہر، 1380 شمسی، اصفہان۔ farsi.khamenei.ir/others-report?id=21018
50۔ صحیفۂ امام، جلد 20، صفحہ 394۔
51۔ دقائقِ اسلام، جولائی – اگست، 2019ء۔
52۔ اقامۃ البرہان، صفحہ 111۔
53۔ اصولِ کافی، جلد 1، صفحہ 54۔

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button