مضامین

تصوف میں انسانِ کامل کا نظریہ اور اس کا شدت پسندی سے تعلق

19 ملاحظات

انسانِ کامل (Total Human) کا تصور صوفیوں کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو ان کے ہاں ولایتِ نوعی اور قطبیت کے تصور کی بنیاد ہے۔ یہ تصور صوفیانہ انسان شناسی کا اہم ستون ہے، جسے آج کل اسلامی فلسفے کے لبادے میں انسان شناسی، انسان سازی اور خود سازی کے عنوانات کے ساتھ بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام میں سب انسانوں کیلئے ایک جیسے سانچے کا تصور نہیں ہے۔ ہر انسان کے خاندانی اور سماجی حالات اور بدن کی کیمسٹری مختلف ہے۔ ہر انسان اپنی حدود کو سمجھنے اور اپنے زمان و مکان کے مطابق اپنے اخلاقی فرائض کے تعین کا ذمہ دار ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفسًا اِلَّا وُسعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَت وَ عَلَیہَا مَا اکتَسَبَت. (سورہ بقرہ، آیت 286۔)

ترجمہ: ”اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا، ہر شخص جو نیک عمل کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو بدی کرتا ہے اس کا انجام بھی اسی کو بھگتنا ہے۔“

انسانِ کامل (Ideal Man) کا نظریہ دو پہلوؤں میں پیش کیا جاتا ہے: نظری اور عملی۔ عملی پہلو نظامِ کائنات اور دوسرے انسانوں کے کمال تک پہنچنے میں صوفی پیر کی ہدایات کے کردار سے متعلق ہے۔ نظری جہت کائنات میں اس کے مقام سے متعلق ہے۔

یہ باطل عقیدہ صوفی پیر کو مریدوں کے جتھے کا رہبر (Cult Leader) بنا دیتا ہے۔ وہ ان کو مختلف نفسیاتی حربوں کے ذریعے مکمل اطاعت (Total Submission) پر مجبور کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ان کو معاشرے سے جدا کرتا ہے اور معلومات سے کاٹ دیتا ہے تاکہ وہ انہیں پتلیوں کی طرح نچا سکے اور وہ اس کی خاطر جان دینے اور کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہ کریں۔ یہ عقیدہ جدید دور میں سیاسی رنگ اختیار کر کے شدت پسندی کی بنیاد بن رہا ہے۔ یہ سوچ کہ ہر انسان کو مکمل طور پر کسی ایک سانچے میں ڈھل جانا چاہئے تشدد کی بنیاد ہے۔ سیاست میں صوفیانہ افکار جمہوریت کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی پہلو سے تصوف کو مختلف تباہ کن آئیڈیالوجیز، مثلاً کمیونزم اور فاشزم، کی صف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

تعریف

انسانِ کامل (Perfect Man) سے صوفیوں کی مراد اعلٰی ترین انسان ہے۔ صوفی تعلیمات کے مطابق ایک کامل انسان وہ ہے جس نے خدا کے ساتھ اتحاد اور ان کے زعم میں «فناء فی اللہ و بقاء باللہ» کی حالت حاصل کی ہو۔ جناب مرتضٰی مطہری نے لکھا ہے: ”عرفاء کا عقیدہ ہے کہ اگر انسان اپنے باطن کی صفائی کرے، عشق کی سواری کے ساتھ حرکت کرے اور راستے کی منزلیں ایک کامل تر انسان کی زیر نگرانی طے کرے، تو اس راستے کی انتہا یہ ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان سے حجاب اٹھ جاتا ہے اور خود ان کی تعبیر کے مطابق وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ ۔ ۔ وہ ایسا انسان ہے جو خدا تک پہنچتا ہے۔ اور جب وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے تو خدا کے تمام اسماء و صفات کا کامل مظہر بن جاتا ہے اور اصطلاح میں وہ ایک ایسا آئینہ بن جاتا ہے جس میں ذاتِ حق ظہور کرتی ہے۔“ [1] نسفی کے نزدیک کامل انسان وہ ہے جو شریعت، طریقت اور حقیقت میں کامل اور تمام ہو۔ [2] ان کے نزدیک ہر شخص انسانِ کامل بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کیلئے ریاضت اور سیر و سلوک ضروری ہے۔ صوفیا عقل کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں اور جذبے یا عشق سے جینے کی تعلیم دیتے ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی لکھتے ہیں:
”یہ لوگ عقلی استدلالات کو ترک کرتے اور اس قسم کے بہانے بنا کر تعلیمی اداروں، درس اور مباحثے سے دور بھاگتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کے قیل و قال سے کچھ نہیں ملتا۔“ [3]

برائے تفصیل: علامہ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔

الفاظ کا گورکھ دھندہ

صوفیوں کے نزدیک انسانِ کامل تخلیق کا حتمی سبب ہے، اسمِ اعظم کی حقیقت، [4]کائنات کی تخلیق اور بقا کا سبب، اللہ کے تمام اسماء و صفات کا ظہور اور اللہ کے اسمِ جامع کا ظہور ہے۔ [5] وہ خدا اور مخلوق میں واسطہ ہے، وہ خدا کا نائب [6] اور تکوینی اور تشریعی ولایت کا حامل ہے۔ [7] وہ بنی نوع انسان کا ظاہری اور باطنی رہنما ہے۔ [8] وہ ان کی جسمانی اور روحانی بیماریوں اور تکالیف سے واقف ہے اور ان کو شفا دینے والا ہے۔ اس میں جو خدائی صفات اور اسماء آئے ہیں وہ اس کی ذات الٰہی کے ساتھ وحدت کی وجہ سے ہیں، کیونکہ اس سے دوگانگی دور ہو گئی ہے، پردے ہٹ چکے ہیں اور اس نے خدا کی ماورائی ہویت کے ساتھ ذاتی وحدت حاصل کر لی ہے۔ [9] وہ انسانِ کامل کے بارے میں اس قسم کے القابات استعمال کرتے ہیں: حقیقتِ محمدیہ، مرآت‌ الحضرتین‌، [10] حقیقت الحقائق، اصل عالم، القلم الاعلی، الکلمۃ الجامعہ، المد الاول، الحق المخلوق بہ، کون جامع، [11] قطب عالَم، الشجرہ، [12] لسان الحق، [13] انسان‌العین‌، بصرالحق‌ و عین‌ العالم‌، [14] کلمہ فاصلہ، [15] جام جہان‌ نما، خلیفہ، امام، امام زمان، صاحب‌ زمان، روح عالم [16]، ام الکتاب، [17] اکسیر اعظم، مظہر ذات، آیتِ توحید، خضر، ہادی، مہدی، کامل، مکمّل، پیشوا، دانا، بالغ [18]، وغیرہ وغیرہ۔ [19]

اصطلاح کی تاریخ

قرآن و حدیث میں اس اصطلاح کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ بایزید بسطامی نے ”الکامل التام“ کی اصطلاح ایک ایسے انسان کے لیے استعمال کی ہے جو اسمائے اربعہ کا جامع ہو۔ وہ عام انسانوں کی صفات سے بالاتر ہو اور اعلیٰ روحانی مقام تک پہنچ گیا ہو۔ [20]

”انسانِ کامل“ کی اصطلاح سب سے پہلے فرید الدین عطار نیشاپوری کے اشعار میں استعمال ہوئی تھی، لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال سب سے پہلے محیی الدین ابن عربی نے کیا تھا۔ ابن عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم کے پہلے باب میں فص آدمی کے عنوان کے تحت انسان کامل کی اصطلاح کو بیان ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ کائنات کی کلی اور جزئی حقیقتوں کا جامع ہے اور خلافت الٰہی کا واحد حقدار ہے۔ [21]

ابنِ عربی کے بعد اس کے ممتاز شاگرد صدر الدین قونوی نے اپنی کتاب مفتاح الغیب کا آخری باب انسان کامل کی بحث کے لیے وقف کیا۔ [22] عزیز الدین نسفی پہلا مصنف تھا جس نے فارسی میں لکھے گئے اپنے بائیس مقالوں کے مجموعے کے لیے ”الانسان الکامل“ کا عنوان استعمال کیا، [23] اس نے اور اس کے بعد عبدالکریم جیلانی نے بھی اپنی کتاب کے لیے اس عنوان کا انتخاب کیا۔ [24]

مفہوم کی تاریخ

رہبانیت اور ریاضتوں کے زور پر خدا سے ذاتی قربت پیدا کرنے کا تصور مختلف مکاتب و مذاہب میں رہا ہے۔ نوفلاطونی فلسفی عقل کے ساتھ ساتھ شہود، جذب اور وجد کو حکمت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ زمانۂ فترت کے مشرک فلسفی فلوطین (متوفیٰ 270ء عیسوی) کے نزدیک فلسفے کا راستہ اندرونی شہود اور خالص مفاہیم پر مبنی فکر کے ساتھ ساتھ رہبانیت کے ذریعے روح کو پاک صاف کرنے سے طے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے نزدیک فلسفے کا معنی اور مقصد ہستی اور کائنات کو جاننا نہیں بلکہ معرفت اور تزکیہ کی مدد سے روح کو ذاتِ واحد سے ملانا ہے۔ وہ عقل استعمال کرنے کو مناسب نہیں سمجھتا۔ فلو یہودی اور سکندر افرودیسی کو فلوطین کا پیش رو سمجھا جاتا ہے۔ عباسی دور میں جب اثولوجیا کا عربی ترجمہ ہوا اور وہ غلطی سے ارسطو سے منسوب ہو گئی تو فلوطین کے افکار مسلم فلاسفہ کے ہاں رائج ہونے لگے۔ قرآن میں رہبانیت کی مذمت آئی ہے۔

1۔ منصور حلاج

مسلم سماج میں منصور حلاج (متوفیٰ 922 عیسوی) کو یہ مفہوم رائج کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس نے انسان کامل کی اصطلاح استعمال نہیں کی لیکن اس نے خدا نما انسان اور انسان نما خدا، اسی طرح ناسوتی انسان اور لاہوتی انسان جیسے خیالات پیش کئے۔ قرآن کی تفسیر بالرائے کرتے ہوئے اس نے خُلُق عظیم کے معنی خدا کی ذات سے ملحق ہو جانا کیے۔ [25] اس نے سورہ نور کی آیت 35 کی تفسیر میں غلو کا ارتکاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازلیت اور ان کے قدیم ہونے کا دعوٰی کیا۔ [26] [27] وہ اس سوچ کا قائل تھا کہ انسان کے زہد و ریاضت کی بدولت خدا اس کی روح میں حلول کر جاتا ہے اور ہر چیز اس کیلئے مسخر ہو جاتی ہے اور اس کا حکم خدا کا حکم بن جاتا ہے۔ [28]

2۔ حکیم ترمذی

محمد بن علی ترمذی (متوفیٰ 869 عیسوی) نے اپنی کتاب خاتم الاولیاء کو لکھ کر تصوف کی انسان شناسی کی تشکیل میں بہت بڑا قدم اٹھایا۔ اگرچہ اس نے اس مسئلہ کو ولایت کی بحث میں شامل کیا، جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اس کی سوچ اور طریقت کی بنیاد ولایت تھی۔ [29] اس نے کامل آدمی کی اصطلاح کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس کے خیالات اور نظریات نے بعد کی صدیوں میں کامل انسان کے عنوان سے پیش کئے گئے کئی نظریات کی بنیاد اور ستون کے طور پر کام کیا۔ [30]

3۔ ابنِ عربی

محیی الدین ابن عربی (متوفیٰ 1240 عیسوی) اور اس کی کتابوں کے مفسرین نے انسانِ کامل کے تصور کے تحت انسانوں کے بارے میں صوفیوں کے پراکندہ خیالات کو جمع کیا۔ ابن عربی نے اپنے تمام خیالات اور افکار کو وحدت شخصی وجود کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کامل وجود حق کی کامل ترین تجلی ہے۔ [31] تمام علوم کا منبع وہ ہے۔ [32] وہ سب حقائق اور سب مراتب ہستی کا جامع ہے۔ [33]

کل تویی و جملگان اجزای تو
بر گشا کہ ہست پاشان، پای تو

از تو عالم روحزاری می‌شود
پشت صد لشکر سواری می‌شود [34]

یہ بھی پڑھئے: کثرت در وحدت یا تشکیکِ وجود کا عقیدہ درست نہیں – ڈاکٹر سید محمود ہاشمی نسب

کلی سطح پر انسان بحیثیت نوع حقیقتِ محمدیہ ہے۔ [35] انسان وجود کا سب سے کامل مظہر ہے اور خدا کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے۔ وہ چھوٹی دنیا ہے اور کائنات بڑی دنیا ہے۔ لیکن دوسرے درجے پر انسانِ کامل کو ایک مخصوص فرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مخصوص خصوصیات کا حامل ہے۔ [36] وہ شخص جو چار سفر مکمل کر کے اپنے زمانے میں حقیقت محمدیہ کا مظہر بن گیا ہے۔ وہ ایک انسانِ کامل ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت انسانِ حیوان ہے۔ ابنِ عربی کی آراء کی شرح کرنے والوں میں صدر الدین قونوی کا نام زیادہ نمایاں ہے۔ عزیز الدین نسفی اور عبدالکریم جیلی نے انسان کامل کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں۔ یہ سب لفاظی جہل مرکب کا مصداق ہے۔

تصوف کے انسانِ کامل اور شیعہ عقیدۂ امامت میں فرق

صوفیوں کا کامل انسان اور ان کی انسان شناسی، امامی شیعوں کی انسان شناسی اور عقیدۂ امامت سے بہت مختلف ہے۔ ان دونوں نظریات میں سے ہر ایک کو بالکل مختلف تناظر میں پیش کیا گیا ہے، اور ہر ایک کی بنیادیں، مقاصد اور مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بنیادی نوعیت کے اختلافات دو ہیں:

1۔ ماہیت کا فرق

تصوف کی نظر میں کامل انسان وہ ہے جو خدا کی ذات میں فانی ہو اور جس کی بندگی اور عبودیت تمام ہو چکی ہو۔ جبکہ شیعوں کی نظر میں بندگی کبھی ختم نہیں ہوتی اور امام وہ ہے جس کی عبودیت دوسرے انسانوں سے زیادہ ہو۔ تصوف کی نظر میں خالق اور مخلوق میں ذاتی ربط ہے، وہ ایک ہی وجود ہیں صرف مراتب کا فرق ہے۔ لیکن شیعہ عقیدے میں خالق اور مخلوق کے درمیان کسی قسم کی یگانگی یا شباہت کو جائز نہیں سمجھا جاتا۔

2۔ مصادیق کا فرق

اثنا عشری شیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے لے کر قیامت تک، صرف بارہ اماموں کو بہترین انسان اور امام مانتے ہیں۔ غیبت کے دور میں بھی زندہ، حاضر اور باخبر امام حضرت مہدی علیہ السلام ہیں۔ یہ افراد خدا کی طرف سے منتخب کیے گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ مقرر کیے گئے ہیں، اور خود لوگوں کو اس سلسلے میں انتخاب کا حق حاصل نہیں تھا۔

لیکن صوفی اس قسم کی تخصیص پر یقین نہیں رکھتے اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان کامل انسان کے مرتبے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قیامت تک ہزاروں لوگ اس درجہ کو پہنچ جائیں گے۔ اس وقت بھی ہر فرقہ اپنے رہبر اور قطب کو ایک کامل انسان سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تصوف امامتِ اہلبیت ؑ سے انحراف ہے – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین نوری ہمدانی

یہ بھی پڑھئے: خالق اور مخلوق کی اصلیت جدا ہے ۔ آیۃ اللہ سید محمود بحرالعلوم میردامادی

تنقیدی جائزہ

1۔ صوفی انسان شناسی کی بنیادیں نہ تو معقول ہیں اور نہ ہی آیات و احادیث سے ان کی تصدیق ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں صوفیاء کے کلام کو قبول کرنے کی کوئی عقلی، کلامی یا نقلی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمام دلائل اس کے برعکس کو ثابت کرتے ہیں۔ صوفیاء چند ایک احادیث کا ہی حوالہ دے پاتے ہیں، جیسے خلق اللہ آدم علی سورتہ، لیکن یہ واضح ہے کہ ان استدلالات میں علمی اور استنادی روش کا فقدان ہے۔ یہ ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے باقی احادیث اور آیات قرآن کا لحاظ نہیں رکھتے، نہ ہی ان کی اسناد پر توجہ دیتے ہیں۔ خود صوفیوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی شاذ احادیث زیادہ تر مخالفین اور ناقدین سے بحث کرنے کے لیے ہیں اور صوفی انسان شناسی کے اصول ان کے مشائخ کی ذاتی کشفیات سے اخذ کئے گئے ہیں۔

2۔ تصوف کے مطابق انسان کو خلق اور حق کے تمام درجات کا جامع ہونا چاہیے۔ اس میں ایک صریح خرابی یہ ہے کہ انسان اس وسیع کائنات کی بے شمار اقسام کی مخلوقات کا جامع کیوں ہونا چاہئے۔ کائنات میں ایٹموں سے بنی کئی چیزیں ہیں۔ مختلف اقسام کی گیسوں اور مائعات سے لے کر سمندر کی گوناگوں مچھلیوں تک، اور خوبصورت تتلیوں سے لے کر خطرناک اور زہریلے جانوروں تک، اربوں اقسام و انواع کی مخلوقات ہیں۔ واضح ہے کہ انسان میں ان سب کی صفات جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگرچہ جدید دور میں کئی عجیب و غریب چیزیں دریافت کی جا چکی ہیں لیکن یہ سلسلہ جاری ہے اور نہ صرف یہ کہ موجودہ علم نامکمل ہے بلکہ بے شمار مخلوقات کے بارے میں انسان سرے سے علم ہی نہیں رکھتا۔

3۔ صوفی انسان شناسی کا نظریۂ انسانِ کامل، وحدت الوجود اور صوفی الٰہیات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ دینی علماء و محققین نے صوفیاء کی خدا شناسی کو محکم دلائل سے رد کیا ہے۔ جدید سائنس نے صوفیا کی جہان شناسی کو رد کیا ہے۔ جدید علم نفسیات نے صوفیاء کی ذہنی مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔  یوں صوفیاء کی انسان شناسی کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور وہ بھی باطل ثابت ہو گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وحدت الوجود کے نظریہ کو تمام علماء، فقہاء اور متکلمین نے قبول نہیں کیا اور اسے اسلامی اور شیعہ توحید نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسلام تمامیت خواہ (Totalitarian) نہیں، اسلام میں مباحات بے شمار ہیں اور واجبات و محرمات صرف چند ایک ہیں۔

4۔ صوفی انسان شناسی اپنی سرشت میں تمامیت خواہ (Totalitarian) ہے۔ یہ فکر جدید دور میں عدم برداشت اور تشدد کو جنم دے رہی ہے۔ یہ سوچ کہ سب انسان ایک ہی قسم کے کمال تک پہنچ سکتے ہیں، فردی آزادی اور ذاتی انتخاب کیلئے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔ جدید ذرائع ابلاغ، بالخصوص سوشل میڈیا، کی مدد سے نوجوان نسل کو پروپیگنڈے کا شکار کر کے مختلف جتھوں (Cults) میں شامل کیا جا رہا ہے۔ وہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ ان کی جوانی کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ ان کو خیالی دنیا میں لے جا کر معاشرے کا ناکارہ حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ ان کو رہبر یا استاد کا مطیع محض بنا کر اس کے مفادات کیلئے دنگا فساد کرنے والا ہجوم (Mob) بنا دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے اسلام کا نام زور و شور سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسلام ذہن کو تالے لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام میں ان افراد کو ہدایت یافتہ اور عقلمند کہا گیا ہے جو مختلف آراء کو برداشت سے سن کر ان میں درست اور غلط کی تشخیص دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:

فَبَشِّرْ عِبَادِ○ الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ○ (سورہ زمر، آیات 17، 18۔)

ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: اسلام میں تنقیدی سوچ کی اہمیت – آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی

دین میں کوئی جبر نہیں۔ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ (سورہ بقرہ، آیت 256)۔ اسلام میں سابقہ امتوں کے زوال کی ایک وجہ پیروں کو رب بنا لینا قرار دی گئی ہے۔

اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّہِ○ (سورہ توبہ، آیت 31۔)

ترجمہ: ”انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔“

حوالہ جات

1۔ شیخ مرتضٰی مطہری، انسان کامل، صفحات 201 تا 203، جامعہ تعلیمات اسلامی، کراچی۔
2۔ عزیز الدین نسفی، انسان کامل، صفحی 74۔
3۔ آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی، جلوۂ حق، صفحہ 36، ادارہ تحقیقات امامیہ۔
4۔ «بدان که اسم اعظم حقیقتی از عالم حقائق و معنایی از عالم معانی است، و صورتی و معنایی از عالم صور و الفاظ است؛ اما حقیقتش پس او احدی است، جمع جمع حقائق جمعیۀ کمالیۀ است. اما معنایش پس آن انسان کامل در هر عصر است. و او قطب اقطاب، حامل امانت الهیه، خلیفه خدا و نائب اوست. اما صورتش از جهت حس، پس صورت کامل آن عصر است.» [جندی، مؤیدالدین، شرح فصوص الحکم، ص۸۰.] 5۔ «محققان صوفیه بر این عقیده‌اند که تخلّق و تحقق به اسم الله امکان پذیر نیست، چون که آن دو اختصاص به حقّ دارد و اسم الله قائم مقام اسماء است.این از باب ادب با خداست، ولی اقتضای کشف و شهود این است که اسم الله از تمام وجوه عین مسمّا نیست و چون انسان کامل به احدیت جمع تمام اخلاق الهی و به راز: من در دل بنده پاک خود می‌گنجم، اتصاف یافت؛دلش عرش ذات حق و اسماء الهی گردیده و اسم عَلَم اعظم می‌باشد»[فناری، محمد بن حمزه، مصباح الانس، ص376.] 6۔ «کسی که از پدرش آدم، میراث خلافت را حاصل کرده باشد انسان کامل و خلیفۀ خداست و کسی که از سر خلافت فقط نصف میراث را ستانده باشد، زن است زیرا مرد میراث خود را بطور کامل می‌ستاند و زن نصف آنچه را که مرد می‌ستاند، می گیرد»[آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، ص505.] 7۔ «در حال احتضار که حال انسلاخ از حجب خیال باشد آن ولایت تکوینیۀ انسان که متحد با ولی امر است در مقام و مرتبۀ انسان ظاهر شود که آشکارا [انسان کامل] را ببیند، ولکن با هرکسی موافق استعداد او ظاهر شود.»[سلطانعلیشاه گنابادی، محمد، ولایت نامه، ص۳۲.] 8۔ داود قیصری قدس الله سره: «حق تعالی به قلب انسان کامل تجلی میکند و انوار از قلب او به عالم منعکس میگردد»[قیصری، داود، شرح فصوص الحکم، ص۱۷۳.] 9۔ ‌ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الفتوحات‌ المکیه، ج۱۳، ص۱۲۹-۱۳۰؛ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الانسان‌ الکامل‌، ج۱، ص۸ -۱۱؛ نسفی‌، عزیزالدین‌، الانسان‌ الکامل‌، ج۱، ص۲۵۵؛ جامی‌، عبدالرحمن‌، نقد النصوص‌، ج۱، ص۹۲-۹۳.
‌10۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، الفتوحات‌ المکیه، به‌ کوشش‌ عثمان‌ یحیی‌، چ بولاق‌، ۱۲۹۳ق‌
‌11۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، شجره الکون‌، به‌ کوشش‌ ریاض‌ عبدالله‌، بیروت‌، ۱۴۰۴ق‌/ ۱۹۸۴م‌
‌12۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، عنقاء مغرب‌، قاهره‌، ۱۳۷۳ق‌/ ۱۹۵۴م‌
‌13۔ ابن‌ عربی‌، محیی‌الدین، فصوص‌ الحکم‌، به‌ کوشش‌ ابوالعلاء عفیفی‌، بیروت‌، دارالکتاب‌ العربی‌.
14۔ اتین‌ ژیلسون‌، روح‌ فلسفه قرون‌ وسطی‌، ترجمه ع‌ داودی‌، تهران‌، ۱۳۶۶ش‌
15۔ اقبال‌ لاهوری‌، محمد، سیر فلسفه‌ در ایران‌، ترجمه اح‌ آریان‌پور، تهران‌، ۱۳۴۹ش‌
16۔ اقبال‌، افضل،‌ زندگی‌ و آثار مولانا جلال‌الدین‌ رومی‌، ترجمه حسن‌ افشار، تهران‌، ۱۳۷۵ش‌
17۔ آشتیانی‌، مهدی،‌ تعلیقه رشیقه علی‌ شرح‌ منظومه السبزواری‌، قم‌، ۱۴۰۴ق‌
18۔ آملی‌، سیدحیدر، جامع‌ الاسرار، به‌ کوشش‌ هانری‌ کربن‌ و عثمان‌ اسماعیل‌ یحیی‌، تهران‌، ۱۳۶۸ش‌
19۔ آملی‌، سیدحیدر، نص‌ النصوص‌، به‌ کوشش‌ همان‌ دو، تهران‌، ۱۳۵۲ش‌
20۔ آن‌ماری‌ شیمل‌، درآمدی‌ بر اسلام‌، ترجمه عبدالرحیم‌ گواهی‌، تهران‌، ۱۳۷۵ش‌
21۔ بابا رکنا شیرازی‌، مسعود، نصوص‌الخصوص‌، به‌کوشش‌ رجبعلی‌ مظلومی‌، تهران‌، ۱۳۵۹ش‌
22۔ بدوی‌، عبدالرحمن،‌ اثولوجیا (افلوطین‌ عندالعرب)،‌ قم‌، ۱۴۱۳ق‌
‌23۔ بدوی‌، عبدالرحمن، الانسان‌ الکامل‌ فی‌ الاسلام‌، کویت‌، ۱۹۷۶م‌
24۔ برتلس‌، یوگنی‌ ادواردویچ،‌ تصوف‌ و ادبیات‌ تصوف‌، ترجمه سیروس‌ ایزدی‌، تهران‌، ۱۳۵۶ش‌
25۔ بقاعی‌، ابراهیم،‌ مصرع‌ التصوف‌، به‌ کوشش‌ عبدالرحمن وکیل‌، بیروت‌، ۱۴۰۰ق‌/ ۱۹۸۰م‌
26۔ بهار، مهرداد، پژوهشی‌ در اساطیر ایران‌، تهران‌، ۱۳۶۲ش‌
27۔ پارسا، محمد، شرح‌ فصوص‌ الحکم‌، به‌ کوشش‌ جلیل‌ مسگرنژاد، تهران‌، ۱۳۶۶ش‌
28۔ پل‌ نویا، تفسیر قرآنی‌ و زبان‌ عرفانی‌، ترجمه اسماعیل‌ سعادت‌، تهران‌، ۱۳۷۳ش‌
29۔ ترمذی‌، محمد بن عیسی، سنن‌، به‌ کوشش‌ ابراهیم‌ عطوه‌ عوض‌، بیروت‌، المکتبه الاسلامیه‌
30۔ تهانوی‌، محمداعلی، کشاف‌ اصطلاحات‌ الفنون‌، به‌ کوشش‌ محمد وجیه‌ و دیگران‌، کلکته‌، ۱۸۶۲م‌
31۔ جامی‌، عبدالرحمن،‌ نقد النصوص‌، به‌ کوشش‌ ویلیام‌ چیتیک‌، تهران‌، ۱۳۷۰ش‌
32۔ جان‌ بایر ناس‌، تاریخ‌ جامع‌ ادیان‌، ترجمه علی‌اصغر حکمت‌، تهران‌، ۱۳۷۰ش‌
33۔ جرجانی‌، علی،‌ التعریفات‌، قاهره‌، ۱۳۵۷ق‌/ ۱۹۳۸م‌
‌34۔ جلالی‌ ترکمانی‌، محمدحسن، التأویل‌ المحکم‌، لکهنو، ۱۳۳۲ق‌
35۔ جندی‌، مؤیدالدین‌، نفحه الروح‌ و تحفه الفتوح‌، به‌ کوشش‌ نجیب‌ مایل‌ هروی‌، تهران‌، ۱۳۶۲ش‌
36۔ جیلانی‌، عبدالکریم،‌ الانسان‌ الکامل‌، قاهره‌، ۱۳۰۴ق‌

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button