ابنِ عربی کے خیالات

ابنِ عربی کی زندگی اور فکری میراث کا مختصر تعارف

83 ملاحظات

سنہ 1165ء میں سپین کے شہر مرسیہ (Murica) میں پیدا ہونے والے محمد ابنِ عربی کو صوفیوں کے ہاں شیخِ اکبر، سلطان العرفاء اور محیی الدین جیسے القاب سے جانا جاتا ہے۔ اس کی زندگی اور افکار کا ایک مختصر تعارف حسبِ ذیل ہے:

ابتدائی زندگی

ابنِ عربی نے اپنی ابتدائی زندگی شبیلیہ (Seville) میں گزاری، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دو صوفی خواتین سے ملا۔ قرطبہ میں اس کی ملاقات ابنِ رشد سے ہوئی جو قرون وسطی کے مسلم فلسفیوں کی طرح فلوطین (Plotinus) کے فلسفے میں گرفتار تھا۔ اس دور کے فلاسفہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک فرقہ بن چکے تھے اور جب کبھی دربار پر زور چلتا تو مخالفین کا جینا حرام کر دیتے۔ جوانی میں ابنِ عربی نے مشرقِ بعید تک کا سفر کیا۔ وہ قاہرہ، مکہ، قونیہ، بغداد، حلب اور دمشق میں قیام پذیر رہا۔

تصانیف

ابنِ عربی نے تقریباً 350 تصانیف چھوڑیں، جن میں مختصر مقالات سے لے کر فتوحاتِ مکیہ جیسی ضخیم کتاب تک شامل ہیں۔ فتوحاتِ مکیہ میں پانچ سو ساٹھ ابواب ہیں جن میں اسکی نفسیاتی الجھنیں عجیب و غریب خیالات کی صورت میں ظاہر ہوئی ہیں۔

اسکی مشہور ترین کتاب فصوص الحکم ہے جس کے چھبیس کے لگ بھگ ابواب میں وہ نظری تصوف کے بنیادی عقائد کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کی شاعری پر مشتمل کتاب کا نام ترجمان الاشواق ہے۔ بنی امیہ کی حکومت کے زیرِ سایہ تربیت پانے کی وجہ سے وہ بہت متعصب سنی بن گیا تھا۔

فلوطین کی طرح اس کی زبان بھی بہت پیچیدہ ہے جس سے قاری کا ذہن الجھاؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض لوگ جو اس لسانی دھند سے آگے نہ دیکھ پائے اور انہوں نے اس جہلِ مرکب (pseudoscience) پر علم کا گمان کیا۔

صوفیانہ معرفت شناسی

ابنِ عربی کا تعلق تصوف کی ایک خاص قسم سے ہے جسے باطنیت کہا جا سکتا ہے: وہ صوفیانہ تجربات کی تلاش میں رہتا ہے اور نوفلاطونی فلسفے (Neoplatonism) سے بہت متاثر ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس غیبی علم ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے آیا ہے۔ نوفلاطونی عقائد اور مرموز اصطلاحات کے استعمال نے اس کی کتابوں کو قدیم فلسفے کا شغف رکھنے والوں کیلئے بھی دلچسپ بنا دیا۔

ابن عربی کے نزدیک سچ کے دو پہلو ہیں، ظاہری اور باطنی۔ باطنی سچائی وہ ہے جس تک انسان باطنی راستے پر چل کر پہنچتا ہے۔ اس تک انسان عقل سے نہیں، بلکہ دل کے راستے پہنچتا ہے۔ باطنی کشف ہی صوفیانہ ادراک کا مرکز ہے۔ یہی بات فلوطین بھی اپنی تاسوعات میں کہتا ہے۔ اس سوچ کو علمیات، زبان شناسی اور نیورو سائنس میں ہونے والی پیش رفت نے رد کر دیا ہے۔

وہ کشف اور خوابوں کو بھی علم کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس نے کئی بار انبیاء ؑ سے ملاقات اور ماضی کے بعض صوفی پیروں سے ملاقات کے دعوے کئے۔ فصوص الحكم کی ابتداء میں ہی اس نے لکھا ہے کہ یہ کتاب اسے سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود عطا کی۔ فتوحاتِ مکیہ میں تو اس نے خدا کو واقعاً و محققاً دیکھنے اور اس سے باتیں کرنے کا دعوی بھی کیا۔

کبھی کبھار اس نے اپنے زمانے کے فرقۂ فلاسفہ کی مخالفت کا مؤقف بھی اختیار کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ فلاسفہ کا علم بالکل باطل ہے۔ لیکن اس کی بنیادی وجہ عقل دشمنی تھی۔ اس نے غور و فکر کرنے کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ معرفت کی کمی اور الجھن کا سبب بنتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ علم ایک حجاب ہے، جو انسان کو حقیقت سے دور رکھتا ہے۔

وہ اکثر صوفیا کی طرح عقل کا مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی فلسفی نفسیاتی کیفیتوں کا تجربہ کرے، اور اگر کسی فلسفی پر ایسے حالات طاری ہوں، تو وہ صوفیوں کی حالتوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق سچا عالم وہ شخص ہے جو غور و فکر کے علاوہ روحانی تجربے کے ذریعے بھی اپنے علم کو مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مطابق جو لوگ صرف اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں، وہ حقیقت کے معمولی سے ادراک سے آگے نہیں بڑھیں گے۔

ابنِ عربی کی زبان بہت مشکل اور گنجلک ہے جس سے اس کی تحریروں پر علم کا گمان ہوتا ہے۔ اس نے مخصوص صوفیانہ انداز میں عجیب و غریب ذومعنی لفاظی سے کام لیا ہے۔ اس کا درست علمی مقام متعین کرنے کیلئے نہ صرف ان اصطلاحات کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے، بلکہ جدید علوم میں مہارت بھی لازم ہے۔

زیادہ تر صوفیاء کی طرح وہ لفظوں کا مداری تھا۔ اس نے توہم پرستی اور جہلِ مرکب کو اصطلاحات کی ملمع کاری سے آراستہ کیا۔ اس نے صوفیوں کے پراکندہ خیالات اور شطحیات کو ایک باضابطہ فکری عمارت کی شکل دے کر ایک ایسا تصورِ کائنات وضع کیا جو جدید سائنس کی بدیہیات کے بالکل برعکس ہے۔

تصورِ کائنات

ابنِ عربی کی فکر وحدت الوجود کے محور پر گھومتی ہے۔ ابنِ عربی نے وجود اور مظاہر جیسے الفاظ کو عرفی معنوں کے بجائے مخصوص باطنی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس نے خدا کی ذات، اسماء و صفات، اس کی نشانیوں اور اس قسم کے دیگر مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس دور کے فرقۂ فلاسفہ کی زبان بھی استعمال نہیں کی۔

ابنِ عربی کے نزدیک خدا کی حقیقت ایک ایسی وحدت ہے جو اضداد کی جامع اور ان کی تکمیل کرنے والی ہے۔ وہ ایسا مرکز ہے جس میں تمام تضادات ملتے ہیں، اور وہ خود ان تمام تضادات سے بالاتر ہے۔ اُس میں ایک دوسرے سے الگ چیزیں آ کر مل جاتی ہیں۔ متضاد صفات ایک واحد حقیقت کو تشکیل دیتی ہیں۔

خدا ایک ہی وقت میں اشیاء کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، واحد بھی ہے اور کثیر بھی، اول بھی ہے اور آخر، خالق بھی ہے اور مخلوق بھی، ابدی بھی ہے اور فانی بھی، واجب بھی ہے اور ممکن بھی، عاشق بھی ہے اور معشوق بھی، عاقل بھی ہے اور معقول بھی۔ یہ تمام متضاد صفات ایک ہی حقیقت کی تشکیل کرتی ہیں۔ اس نظریئے کی وجہ سے اکثر شیعہ علماء اسے گمراہ اور بعض زندیق بھی سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وحدتِ وجود کے قرآنی دلائل کا تنقیدی جائزہ – ڈاکٹر محمد علی صابری

ابنِ عربی مسلمانوں میں وہ پہلا شخص تھا جس نے وحدت وجود کا نظریہ کھول کھول کر بیان کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ خدا کائنات سے ماوراء ہے، لیکن کائنات سے بالکل الگ نہیں ہے بلکہ کائنات اسی کی تجلی ہے اور ازلی و ابدی ہے۔

انسان شناسی

انسان کے بارے میں ابنِ عربی کے خیالات بہت زیادہ غلو پر مبنی ہیں۔ وہ نوعِ بشر کی انفرادیت کا قائل نہیں بلکہ انسان کو تمام انواع کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق کامل انسان وجودِ خدا سے فیض کے اخراج میں واسطے کردار ادا کرتا ہے اور اسی کے واسطے سے ہی اشیاء واپس خدا میں لوٹتی ہیں۔ یہ فلوطین کے نظریۂ نزول و صعود کا ہی ایک مختلف بیان ہے۔

ابنِ عربی کا انسانِ کامل اس کا بنایا ہوا ایک خیالی پیکر ہے۔ وہ اسے کائنات کے وجود کی علت سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کا مکمل مظہر ہے اور وہ مجازی معنوں میں نہیں، بلکہ حقیقت میں ایک چھوٹی کائنات ہے۔ وہ تخلیق کا بہترین نمونہ ہے، اور اس کا کمال خدا کے کمال کا عکس ہے۔ وہ زمین پر خدا کا نمائندہ اور ظلِ الٰہی ہے۔

بہرحال، ابن عربی ذاتِ الٰہی کے ساتھ ملحق ہو جانے کو اہلِ تصوف کی زندگی کا ہدف سمجھتا ہے۔ صوفیاء یہ کام عشق کے راستے سے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق عشق انسانوں کے اندر حسنِ الٰہی کی تجلی ہے۔ ان کے مطابق خدا و انسان کی وحدت، انسان کے وجود کے معدوم ہونے کے معنوں میں نہیں ہے، بلکہ انسان کا اپنے وجود کو خدا کے وجود کی ایک کرن کے طور پر سمجھنا ہے۔

تم اک گورکھ دھندہ ہو

ابنِ عربی بھی انسان کو مجبورِ محض سمجھتا ہے۔ وحدت الوجود کے عقیدے کے باطل لوازمات میں سے «لَیسَ فِی الدّارِ غَیرُہُ دیّار» اور «لا مُؤَثّر فی الوُجودِ اِلّا اللہ» جیسے عقائد ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ انسان کے اختیاری افعال کو بھی جبرِ اختیاری قرار دیتے ہیں۔

ان کے نزدیک انسان خدا کے اسماء و صفات کا پرتو ہے اور اس کی قدرت و ارادے کی جلوہ گاہ ہے۔ اس کا کوئی انفرادی وجود ہی نہیں تو اس کے اختیارات اور افعال سب اللہ ہی کے ہیں۔

ابنِ عربی کے مطابق جبر انسان کی ذات کا تقاضا ہے، وہ فقرِ محض ہے۔ وہ اپنی استعداد اور ذاتی تقاضوں کو بدل نہیں سکتا۔ اہلبیت ؑ کی تعلیمات کے مطابق یہ عقیدہ باطل ہے۔

وفات

ابنِ عربی کا انتقال 1240ء میں 75 سال کی عمر میں ہوا۔ اسے دمشق میں بنو زکی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ابنِ عربی کے متاثرین

ابنِ عربی (متوفیٰ 1240ء) کے نظریات کی تشریح کا کام سب سے پہلے اس کے شاگرد اور سوتیلے بیٹے صدر الدین قونوی (متوفیٰ 1273ء) نے کیا۔ فارسی میں اس کی ترجمانی مولوی رومی (متوفیٰ 1273ء) نے اپنی شاعری کے ذریعے کی۔ ان دونوں کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ابن عربی کی سوچ کی ترویج میں کردار ادا کیا۔ فارسی اور اردو شاعری پر اس کے افکار نے دیرپا اثرات چھوڑے۔

ابنِ عربی نے کشف و شہود کا درس دے کر اور عقل اور کتابی علم کی مخالفت کر کے مسلم معاشروں میں سائنس کے زوال کی بنیاد رکھی۔ علمی میدان میں ابنِ عربی کے اس خودکش حملے نے جو تباہی مچائی ہے وہ عملی میدان میں چنگیز خان (متوفیٰ 1227ء) کی مچائی ہوئی تباہی سے زیادہ دیرپا ثابت ہوئی۔ دنیا بھر میں اب بھی بہت سے صوفی فرقے اور برادریاں موجود ہیں جن پر ابنِ عربی کا سحر طاری ہے۔

بعض شیعہ اہل قلم بھی ابنِ عربی کے متاثرین میں شامل ہیں۔ ان میں سید حیدر آملی (متوفیٰ 1385ء) اور ملا صدرا (متوفیٰ 1641ء) جیسے لوگ سرِ فہرست ہیں۔ حالیہ دور میں شیخ مرتضٰی مطہری (متوفیٰ 1979ء) نے اگرچہ اس کے متعصب سنی ہونے کا اقرار کیا، لیکن اسے بہت بڑا عارف بھی کہا۔

موصوف نے کتاب ”اسلامی علوم کا تعارف – عرفان“ میں ساتویں صدی کے عارفوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

”محی الدین عربی حاتم طائی اندلسی، حاتم طائی کی نسل سے ہیں۔ یوں تو اندلس کے باشندہ ہیں لیکن بظاہر اپنی زیادہ تر عمر مکہ اور شام میں گزاری ہے۔ موصوف چھٹی صدی کے عارف شیخ ابو مدین مغربی اندلسی کے شاگرد ہیں۔ ان کا سلسلۂ طریقت ایک واسطہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی تک پہنچتا ہے۔ محی الدین، جنہیں ابنِ عربی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، بلاشبہ اسلام کے عظیم ترین عارف ہیں۔ ان سے پہلے اور ان کے بعد، کوئی شخص ان کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکا۔ اسی لیے انہیں شیخِ اکبر کا لقب دیا گیا ہے۔ ۔ ۔ اگر کچھ لوگ انہیں ولئ کامل اور قطب الاقطاب مانتے ہیں تو بعض افراد انہیں کفر کی حد تک گراتے ہیں۔ کبھی انہیں دین کو تباہ و بر باد کرنے والا قرار دیا جاتا ہے اور کبھی دین کو حیاتِ نو بخشنے والا بتایا جاتا ہے۔ عظیم اسلامی فلسفی صدر المتالہین کی نگاہ میں ابنِ عربی کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ ان کی نظر میں محی الدین ابن عربی، بوعلی سینا اور فارابی سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: جناب مرتضیٰ مطہری نے گمراہ صوفیوں ہی کو عارف قرار دیا ہے – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو

تنقیدی جائزہ

الٰہیاتِ امامیہ

تصوفِ نظری کا بنیادی عقیدہ وحدت الوجود ہے جو امامیہ کے خلق از عدم، خالق و مخلوق میں ذاتی جدائی، جبر کی نفی اور امر بین الامرین، اور حدوثِ عالم جیسے بنیادی عقائد سے متصادم ہے۔ سورہ توحید میں ارشاد الٰہی ہے:

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ. قُل ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ. اَللّٰہُ الصَّمَدُ. لَم یَلِد وَ لَم یُولَد. وَ لَم یَکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ.

ترجمہ: ”خدا کے نام سے جو سب سے مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ کہہ دیجئے: وہ اللہ اپنے آپ میں یکتا ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کچھ خارج ہوا اور نہ وہ کسی سے خارج ہوا۔ اور کوئی بھی اس کا ہم کفو نہیں ہے۔“

آئمۂ اہلبیت ؑ نے قاعدۂ تَبایُن، یعنی خدا کے کائنات سے بالکل الگ ہونے، کی بار بار تلقین کی ہے۔ دعائے صباح میں آیا ہے:

يَا مَنْ دَلَّ عَلَىٰ ذَاتِہِ بِذَاتِہِ. وَتَنَزَّہَ عَنْ مُجَانَسَۃِ مَخْلُوقَاتِہِ.

ترجمہ: ”اے وہ جو خود اپنی ذات کی دلیل ہے اور جو مخلوقات کا ہم جنس ہونے سے پاک ہے۔“

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

إن اللہ تبارک و تعالى خلو من خلقہ، وخلقہ خلو منہ وكل ما وقع عليہ اسم شيء ما خلا اللہ عزوجل فہو مخلوق. (شیخ صدوق، کتاب التوحيد، باب 7، حدیث 3۔)

ترجمہ: ”بے شک اللہ کی بابرکت اور بلند ذات اپنی مخلوق سے خالی ہے اور اس کی مخلوق اس سے خالی ہے۔ جس چیز کو لفظ چیز سے تعبیر کیا جا سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہے اور اس کی مخلوق ہے۔“

امام علی رضا ؑ کا فرمان ہے:

كنہہ تفريق بينہ وبين خلقہ. (شیخ صدوق، کتاب التوحيد، باب 2، حدیث 2۔)

ترجمہ: ”اس کی حقیقت اس میں اور اس کی مخلوق میں فرق ہے۔“

قیامت کے دن میں انسان کی روح مادی جسم کے ساتھ ہو گی۔ مکتبِ امامیہ خدا کو دنیا یا آخرت میں آنکھوں سے دیکھنے کو محال سمجھتا ہے۔

وہ گورکھ دھندہ نہیں

مکتبِ امامیہ جبر و اختیار کے مسئلے میں معتزلہ اور اشاعرہ کی نفی کرتا ہے اور اعتدال پر مبنی امر بین الامرین کا عقیدہ سکھاتا ہے۔ اصول کافی کے بَابُ الْجَبْرِ وَ الْقَدَرِ وَ الْأَمْرِ بَيْنَ الْأَمْرَيْنِ‌ میں اس موضوع پر احادیث آئی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:

وَأَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى. (سورہ نجم، آیت 39)

ترجمہ: ”اور بے شک انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے۔“

وجود کیا ہے؟

وجود ایک لفظ ہے جسے انسان کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کو بیان کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اسے ان معنوں سے ہٹا کر استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ یہ لفظ اشیاء کے بارے گفتگو یا فکر کرنے کیلئے استعمال ہونے والے دیگر الفاظ، جیسے ماہیت، رنگ، بو، ٹھنڈک، حجم وغیرہ کی طرح ایک ذہنی اوزار ہے۔ خارج میں جو کچھ ہوتا ہے اس کیلئے موجود کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ وجود اور موجود دو الگ الگ الفاظ ہیں جن کے جداگانہ معنی ہیں۔ احادیث میں اللہ کیلئے موجود کا لفظ آیا ہے، لیکن وجود کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ دعائے مجیر میں ہم پڑھتے ہیں:

سُبْحانَكَ يا مَعْبُودُ، تَعالَيْتَ يا مَوْجُودُ، أَجِرْنا مِنَ النّارِ يا مُجِيرُ.

ترجمہ: ”تو پاک ہے اے معبود، تو بلند ہے اے موجود، ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے!“

وجود پر روشنی کا قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے۔ روشنی مرکب ہوتی ہے اور اس کی شدت کے درجات کی پیمائش اس کے ذرات کی تعداد سے ہوتی ہے۔ وجود کی شدت و ضعف کی بات کرنے سے پہلے اس کے ترکیبی اجزاء کو مشخص کرنا ہو گا۔

عقلی معرفت شناسی

قرآن میں بار بار عقل کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن نے عشق و محبت کو علم کا ذریعہ قرار نہیں دیا۔ ارشادِ خداوندی ہے:

وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ. (سورہ یونس، آیت 100۔)

ترجمہ: ”اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ان پر نجاست طاری کر دی جاتی ہے۔“

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِندَ اللّٰہِ الصُّمُّ البُکمُ الَّذِینَ لَا یَعقِلُونَ. (سورہ انفال، آیت 22۔)

ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک تمام حیوانوں میں بدترین یقینا وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔“

یہاں عقل سے مراد قدیم فلاسفہ کے اقوال کو قواعد کہہ کر ذہن پر تالے لگانا نہیں بلکہ حریتِ فکر (Critical Thinking) اور زبان (Language) کا درست استعمال ہے۔

عقل کی حد زبان کی حد تک ہوتی ہے، عقل الفاظ و اعداد کی مدد سے علم کی تشکیل کرتی ہے۔ ریاضی بھی زبان کی ایک قسم ہے۔ علم سب انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہوتا ہے جس میں باہمی تبادلۂ خیال سے اضافہ ہوتا ہے۔ جن زبانوں میں علمی مباحثے نہ ہوں اور اظہارِ رائے پر پابندیاں ہوں تو وہ پر اسراریت اور باطنیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ یوں عقلیں کُند ہو جاتی ہیں۔ مسلمانوں میں تصوف کی وبا اموی دور میں پھیلی اور اس نے عربی زبان کو گدلا کر کے ظالموں کے سہولت کاری کی۔ ہر ظالم بادشاہ، ہر آمر اور ہر فریب کار سیاسی رہنما صوفیوں کو مالی مدد پہنچاتا اور ان کے آستانوں پر حاضری دیتا رہا ہے اور روشن فکری کا مخالف رہا ہے۔

قرآن نے عقلمندی کی تعریف یوں کی ہے:

فَبَشِّرْ عِبَادِ. الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ. (سورہ زمر، آیت 18)

ترجمہ: ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو، جو باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں۔“

تاہم عقل کی صلاحیت محدود ہے اور انسان ذاتِ الٰہی کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔ الفاظ اور اعداد اس کے کلام اور اس کی مخلوقات کی ماہیت کو سمجھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن خدا کو مقدار اور حدود سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ نہ صرف یہ، بلکہ مخلوقات کی شناخت میں بھی عقل پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اور وقت کے ساتھ ساتھ پرانے علم کی خامیاں نمایاں ہوتی ہیں اور جدید تحقیقات سے ہمارے علم میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ علم میں پختہ لوگ وہی ہیں جو عقل کی محدودیت کا اقرار کرتے ہیں۔

برائے تفصیل: آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں

اہلِ مغرب نے اپنے یونانی بانیانِ تہذیب کے خیالات پر تنقید کر کے جدید علوم کی بنیاد رکھی۔ جدید علوم کا آغاز نیوٹن (متوفیٰ 1727ء) اور کانٹ (متوفیٰ 1804ء) کی تنقید سے ہوا۔ کانٹ کا فلسفہ تنقیدی فلسفہ (Critical Philosophy) کہلاتا ہے۔ اس نے اپنی کتابوں نقد عقلِ محض اور نقد عقلِ عملی میں عقل کی محدودیت کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ اس نے روشن فکری کی تعریف عقلی طور پر بالغ ہونے کے معنوں میں کی۔

جدید دور میں سیاسی تصوف کا فتنہ

جدید دور میں ذرائع ابلاغ نے پیغام پہنچانے کے عمل کو تیز اور آسان کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں تصوف سیاسی ہو گیا ہے۔ ابن عربی کے انسانِ کامل اور ہدف سے ذاتی وحدت جیسے خیالات گروہی تعصب کی آگ بھڑکا کر سیاسی تشدد کو جنم دے رہے ہیں۔ اکثر شدت پسند تنظیموں کے پیچھے تصوف کو عملی زندگی کا مکمل ضابطہ بنانے کی سوچ کارفرما ہے۔ یوں تنظیم کے ارکان اپنی اپنی انفرادیت کو ترک کر کے آپس کے روحانی اتحاد کے نتیجے میں ایک جتھے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مل کر دوسرے لوگوں کو اپنے گروہی تعصب کا نشانہ بناتے ہیں۔

معاشرے میں پرامن بقائے باہمی کے لیے حریتِ فکر اور انفرادیت کے احترام کی ضرورت ہے۔ پیر بھائیوں کی گروہ بندیوں نے مسلم معاشروں کو تقسیم در تقسیم کا شکار بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے یہ وبا تیزی سے پھیلی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تصوف کا انسانِ کامل اور سیاسی شدت پسندی

ابنِ عربی کے نزدیک انسانی نفس کائنات کے کلی نفس کا حصہ ہے۔ ہندو مت میں بھی آتما سے مراد انسان کا نفسِ کلی ہے، وہ نفسِ فردی کو جِیو آتما کہتے ہیں۔ اسی خیال کو صوفی سعدی یوں بیان کرتا ہے:

بنی آدم اعضایِ یک دیگرند
کہ در آفرینش ز یک گوہرند

اردو میں اقبال کہتا ہے:

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

یہ خیالات سیاسی میدان میں تمامیت خواہی (Totalitarianism) کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسلام میں انسانوں کے لئے آتمن یا نفسِ کلی کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام وحدتِ ارواح کا قائل نہیں۔

واقعیت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ذات میں دوسروں سے منفرد ہے، ہر کسی کی کیمسٹری الگ ہے۔ اسی طرح ہر نفس کا ذخیرۂ الفاظ، ثقافتی پس منظر اور سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ نیز انسان کا نفس اس کے جسم میں قید نہیں ہوتا بلکہ جسم نفس کی قید میں ہوتا ہے۔ اسلام میں مباحات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہر نفس پر اس کی طاقت کے مطابق ہی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ اسلام ہمیں زندگی کا توازن بگاڑنے والی چیزوں اور کاموں سے منع کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام میں جسمانی صحت کا خیال رکھنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام خود کو کسی ایک کامل سانچے میں ڈھالنے کیلئے ہلاکت میں ڈال دینے اور انفرادیت کھو دینے سے روکتا ہے۔ تصوف کی انسان شناسی میں گرفتار لوگ جب اللہ تعالٰی کی ہر ترکیب و تشکیک اور مخلوقات کی مجانست سے پاک ذات کو بھولتے ہیں تو انفرادیت (Individuality) کھو کر گروہ میں پوری طرح ضم ہو جاتے ہیں۔ قرآن اس سے منع کرتا ہے:

وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الفٰسِقُونَ. (سورہ حشر، آیت 19۔)

ترجمہ: ”اور ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا پھر اللہ نے بھی ان کو (ایسا کر دیا) کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں۔“

ولایتِ نوعی کا رد

اہلِ تصوف اور مکتبِ امامیہ میں ایک اور فرق ولایتِ نوعی اور ولایتِ شخصی کا ہے۔ مکتبِ امامیہ میں ولایت صرف نبی کریم ؐ اور ان کے بارہ جانشینوں ؑ کو حاصل ہے۔ ان کی پہچان قرآن و حدیث کے دلائل سے ہوتی ہے۔ شیعہ کتب حدیث میں بارہ آئمہ ؑ کے نام بھی آئے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی کو مرشد بنانا درست نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن صوفیوں کے ہاں سبھی پیر ولی ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگوں کا روحانی استحصال کرتے ہیں۔ ابنِ عربی نے تو اپنے آپ کو خود ہی خاتم الاولیاء قرار دیا ہے۔ علمائے شیعہ نے تصوف کے اس پہلو پر بھی تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تصوف امامتِ اہلبیت ؑ سے انحراف ہے – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین نوری ہمدانی

شیعہ علماء کا مؤقف

شیعہ علماء کی اکثریت نے ابن عربی کے افکار کو باطل قرار دیا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد کاظم یزدی (متوفیٰ 1919ء) نے اپنی کتاب العروۃ الوثقی میں ان صوفیوں کی نجاست کا فتویٰ دیا ہے جو عقیدۂ وحدت الوجود کے لوازمات سے ملتزم ہوں:

و أمّا المجسّمۃ و المجبّرۃ و القائلين بوحدۃ الوجود من الصوفيّۃ إذا التزموا بأحكام الإسلام، فالأقوى‌ عدم نجاستہم إلّا مع العلم بالتزامہم بلوازم مذاہبہم من المفاسد.

ترجمہ: ”جسمِ الہیٰ کے قائلین یا جبرِ محض کے ماننے والے یا صوفیوں میں سے وہ جو وحدت الوجود کے قائل ہیں، اگر احکامِ اسلام کے پابند ہوں تو بہتر یہی ہے کہ ان کو نجس نہ سمجھا جائے۔ مگر یہ کہ مفاسد میں سے ان کے اپنے مذہب کے لوازمات میں مبتلا ہو جانے کا بھی علم ہو جائے۔“

اس فتوے پر تائیدی حاشیے لگائے والوں میں امام خمینی (متوفیٰ 1989ء) کا نام بھی شامل ہے۔ وہ وحدت الوجود کے باطل لوازمات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

إن كانت مستلزمۃ لإنکار أحد الثلاثۃ. (امام خمینی، تعلیق بر عروۃ الوثقی، باب نجاسات، صفحہ 37۔)

ترجمہ: ”اگر وہ ان تین عقائد (اللہ کی الوہیت، توحید یا رسالت) میں سے کسی ایک کے بھی منکر ہو جائیں۔“

ابنِ عربی کے عرفان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی نے فرمایا:

این جانب در ارتباط با معارف اعتقادی بہ روش اکابر علمای امامیہ (قدس اللہ اسرارہم) کہ مطابق با آیات قرآن مجید و روایات اہل بیت عصمت و طہارت (علیہم السلام) می باشد معتقد بودہ و روش فوق الذکر را تأیید نمی نمایم.

ترجمہ: ”اعتقادی معارف کے بارے میں میرا عقیدہ بزرگ علمائے امامیہ والا ہے کہ عقائد کو آیاتِ قرآن اور فرامینِ معصومین علیہم السلام سے حاصل کیا جائے۔ ابنِ عربی جیسے عرفان کی ہم تائید نہیں کرتے۔“

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button