بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوال -1: صوفیوں کی مجالس و محافل میں شرکت اور ان کے مخصوص اعمال و اذکار بجا لانے اور ان کے درباروں میں جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسا کرنا جائز نہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ لوگ جو قرآن کریم کے اوامر و نواہی کو مانتے ہیں اور آئمۂ اطہار علیہم السلام کی امامت کے قائل ہیں، غیرضروری طور پر الگ نام اور الگ آداب و رسوم اپنانے کے بجائے، جو نقصان دہ ہیں، ان کو ترک کریں اور خود کو عظیم مسلم ملت کے ساتھ جوڑ دیں۔ (1)
سوال – 2: بعض مدعیانِ عرفان تصوف کی طرف میلان رکھتے ہوئے صوفیوں کے بعض نظریات کی ترویج کر رہے ہیں، جیسے شادی سے پرہیز کرنا، مریدوں کا پیروں سے مناجات کرنا اور شریعت و طریقت جیسے الفاظ کا استعمال، کیا یہ افکار قابلِ قبول ہیں اور ان لوگوں کی مجالس میں شرکت کا کیا حکم ہے؟
جواب: مذکورہ افکار صحیح نہیں ہیں اور باطل کی ترویج جائز نہیں ہے۔ (2)
سوال – 3: خانقاہ میں جانا، صوفیوں کی مجالس میں شرکت اور روحانی مرشد کے دستور العمل کی پیروی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: موارد مختلف ہیں، نجات اور فلاح کا راستہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طریقے پر چلنا ہے جس کی وضاحت بڑے مراجعِ تقلید کرتے ہیں۔ (3)
حوالہ جات:
1۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 1، صفحہ 20۔
2۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 5، صفحہ 29۔
3۔ سید محسن محمودی، مسائلِ جدید، جلد 3، صفحہ 101۔
مندرجہ بالا سوالات اور ان کے جوابات کے عکوس یہاں سے ڈاؤنلوڈ کیجئے:
تصوف کے رد میں رہبر معظم اور مراجع کے فتاویٰ
یہ بھی پڑھئے: صوفیوں کی محافل میں شرکت کے بارے میں مراجعِ کرام کے فتاویٰ
سوال – 4: کچھ مدت سے ہمارے بچے ایسی مجالس میں جا رہے ہیں جن میں مندرجہ ذیل خیالات کو درس کی بنیاد بنایا جاتا ہے:
1۔ حق متعال کا وجود جمادات، نباتات، حیوانات اور انسانوں کے وجود کا متن ہے۔ یعنی وجود دو نہیں ہیں، جو بھی ہے ایک ہی وجود ہے جو مختلف قالبوں اور اندازوں میں ظاہر ہوا ہے۔ ایسا نہیں کہ زمین کا وجود آسمان کے وجود سے الگ ہو اور آسمان کا وجود اللہ کے وجود سے الگ ہو۔ (صمدی آملی، شرح نہایۃ الحکمہ، صفحہ 124۔)
2۔ چونکہ حقائقِ ہستی بے انتہا ہیں لہٰذا ان کا فہم بھی لامحدود ہو گا اور اب تک جاری ہے۔ یا تو الف کو ہی زبان پر نہ لائیں، ان سوفسطائیوں کی طرح جو اپنے موجود ہونے کے بھی منکر تھے۔ یا اس کا اقرار کر کے آگے بڑھا جائے۔ کتنا آسان ہے کہ ابتداء میں ہی سوفسطائی ہو جائیں اور کہیں کہ الف ہی نہیں ہے۔ کتنا عجیب ہے کہ آخر کار ہمیں سوفسطائی ہی ہونا پڑتا ہے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ نہ ہم ہیں نہ دوسرے لوگ، بلکہ صرف خدا ہے اور بس خدا۔ اول و آخر خدا ہے۔ خدا ہے جو خدائی کر رہا ہے۔ اس کے بعد انسان پریشان نہیں ہوتا اور اسے راحت مل جاتی ہے۔ (ایضاً، صفحہ 15۔)
3۔ نہ فقط یہ کہ ہم معلول سے علت تک نہیں پہنچنا چاہتے، بلکہ ہم علت سے معلول تک بھی نہیں جانا چاہتے، کیونکہ ہم علت اور معلول کی جدائی کے قائل ہی نہیں۔ (ایضاً، صفحات 110، 111۔)
4۔ وحدتِ وجود سے ہماری مراد زمین و آسمان کی خدائے متعال کے وجود کے ساتھ عینیت ہے۔ (ایضاً، صفحہ 115۔)
5۔ فیلسوف اور عارف ہر دو وحدت الوجود کے قائل ہیں۔ تمام انبیاء اور آئمہ، سبھی حجج اور رسولان الٰہی فیلسوف ہیں۔ یہی حقیقی فلاسفہ ہیں۔ (ایضاً، صفحہ 47۔)
6۔ انسان مقامِ ذات تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب دیکھتا ہے کہ اس ذات کو نیچے نہیں لا سکتا اور اسے اپنا آپ نہیں بنا سکتا تو خود اوپر جا کر وہ بن جاتا ہے۔ (ایضاً، صفحہ 86۔)
7۔ جنتوں کے درجات ہیں، یہاں تک کہ ارشاد ہوتا ہے، وادخلی جنتی، یہ جنتِ ذات ہے۔ (صمدی آملی، آداب سالک الی اللہ، صفحہ 79۔)
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ان مجالس میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بسمہٖ تعالٰی
انحرافی عقائد کی ملاوٹ اور باطل کی ترویج کا موجب بننے کی وجہ سے مذکورہ مجالس میں شرکت جائز نہیں ہے۔ لیکن وہ لوگ شریک ہو سکتے ہیں جو ان شبہات کا جواب دینے، ان مجالس کے بانیان کو ہدایت و ارشاد کرنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: کسی کو روحانی مرشد بنانے کا مسئلہ – آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی



