معروف صوفیاء اور عرفاء

تصوف نئے لباس میں؟ — استاد رسول جعفریان

60 ملاحظات

عوامی ثقافت میں سامنے آنے والا ہر نیا مظہر، خواہ وہ دینی ہو یا غیر دینی، اپنے پس منظر میں ایک قدیم تاریخ رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ دیگر ثقافتی مظاہر کے ساتھ امتزاج اور نئی تخلیقی کاوشوں کے نتیجے میں ایک نیا رنگ و روپ اختیار کرکے سامنے آتا ہے۔

فارسی زبان اور ثقافت پر تصوف کے اثرات

میں ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہوں کہ تاریخی طور پر ہمارے ملک ایران میں تصوف کو جو قوت اور اثر و رسوخ حاصل تھا، اور جس نے ہمارے ملک کے مشرق و مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، وہ اچانک کہاں چلا گیا؟ آخر کیا ہوا کہ پانچ سو سال پہلے حِلّہ، نجف، کَرَک اور جِزّین، یعنی درحقیقت جنوبی لبنان اور عراق سے آنے والے چند عرب شیعہ علماء ایران پہنچے اور اس تصوف کو ایران سے ختم کر دیا جس کی بنیاد پر شیعہ صفوی سلطنت قائم ہوئی تھی؟ تصوف سے متعلق اتنی ساری کتابیں، تحریریں، شاعری اور ادبی سرمایہ آخر کیسے زمین میں دفن ہو گیا کہ پھر اس کی کوئی صدا بلند نہ ہوئی؟ اور صرف چند چھوٹے چھوٹے فرقے، مثلاً گنابادی اور ذہبی، معاشرے کے کونے کھنڈروں میں رینگتے رہ گئے؟

کیا تصوف نے نیا روپ اپنا لیا ہے؟

آہستہ آہستہ، اور اسی اصول کی روشنی میں جس کا ذکر میں نے ابتدائی سطور میں کیا، میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہی تصوف کسی دوسری شکل میں ہمارے درمیان ظاہر ہو چکا ہو اور ہمیں اس کا علم ہی نہ ہو؟

آج جب میں نے ایک نئی شائع شدہ کتاب دیکھی جس کا عنوان ہے ’’عاشقِ دلباختۂ امام زمانہؑ: ملا آقاجان زنجانی‘‘ (یہ وہی شخصیت ہے جس کے ساتھ شیخ سید حسن ابطحی کے مخصوص روحانی احوال وابستہ ہیں)، تو کتاب کے سر ورق پر موجود انتہائی خوب صورت تصویر، اور حالیہ دور کے بعض علماء نما عرفا مثلاً شیخ جعفر آقا مجتہدی اور دولابی کی تصاویر، نیز ان کے ملا آقاجان سے پہلے کے عرفا تک پہنچنے والے سلسلۂ طریقت کو دیکھ کر میں مزید غور و فکر میں ڈوب گیا۔

میں متوجہ ہوا کہ گزشتہ برسوں میں مرحوم آقائے بہاءالدینی اور مرحوم آقائے محمد تقی بہجت وغیرہ کی کرامات کے بارے میں کس قدر کہا اور لکھا گیا ہے۔ بعض اوقات ان کی تردید کی گئی اور اکثر اوقات خاموشی اختیار کی گئی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ خود ان شخصیات کی ان کہانیوں کے بارے میں کیا رائے تھی؟

بعض عمامہ پوش ذاکرین کی قصہ گوئی

اس حوالے سے تہران کے ایک مولوی صاحب، جو ہمیشہ گریہ و زاری میں لگے رہتے ہیں، کا تو گویا کام ہی کرامات سنانا رہ گیا ہے۔ اسی طرح آقائےخز علی نے بھی بعض مواقع پر چٹ پٹے واقعات بیان کیے ہیں۔

کیا یہ واقعات، جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اور جن میں نئی شخصیات بھی شامل ہوتی جا رہی ہیں، ہمارے پہلے سوال کا جواب نہیں ہو سکتے؟ یہ سلسلہ تقریباً دو دہائیاں قبل ملا آقاجان، مرحوم نخودکی، ہاشم حداد، رجب علی خیاط وغیرہ کے بارے میں مضامین کی اشاعت کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ بلاشبہ ان لوگوں کی پاکیزگی کا ان کے بارے میں اس انداز سے بیان کی جانے والی کرامات سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

نئی بوتل میں پرانی شراب

اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے تصوف کو ایک دوسری صورت میں زندہ کردیا ہو، اسے اپنے بعض دوسرے نظریات کے ساتھ ملا کر ایک نئی ترتیب اور نئی شکل دے دی ہو، اور اب اسی نئی شکل میں اسے تیزی سے پھیلا رہے ہوں؟

تصوف کی یہ نئی صورت بظاہر ایران میں پانچویں سے نویں صدی ہجری (گیارہویں سے پندرہویں صدی عیسوی) تک رائج صوفیانہ تعلیمات سے بہت مختلف دکھائی دیتی ہے، لیکن بعض پہلوؤں سے ان دونوں کے درمیان بہت گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی بڑی حد تک ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔

ان میں سے ایک پہلو ان حالیہ عقیدتی رجحانات میں ان واقعات کا کردار ہے جن پر تصوف زدگی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اور شاید یہ الزامات درست بھی ہوں۔ بہرحال ان کا بازار گرم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ کھیلوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ فٹ بال ٹیم کا ایک معروف کوچ مسلسل ان عارفوں کی خدمت میں حاضر ہوتا رہتا تھا!

ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جس نے تاریخ کا تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ قدیم ثقافتی تہوں کے بعض نئی صورتوں میں ظاہر ہونے کے بارے میں وہ بات درست ہے جو میں نے مضمون کی ابتداء میں بیان کی۔ گزشتہ ایک دو دہائیوں میں اس طرح کے رجحانات کا بازار گرم ہو جانا یقیناً تصوف سے ہماری گہری ثقافتی وابستگی غیر متعلق نہیں ہوسکتا۔ ہم صدیوں اس کے ساتھ مانوس رہے ہیں۔

اس عمل کی واضح ترین مثال کرامات اور دیگر عجیب و غریب واقعات کا بیان ہے، جنہیں بعض اہلِ منبر بیان کرتے ہیں، اور پھر ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بھی انہیں نشر کیا جاتا ہے۔

عطار ہائے عصرِ نو

یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نے معروف سنی صوفی عطار نیشاپوری کی کتاب ’’تذکرة الاولیاء‘‘ کو نئی شکلوں میں دوبارہ پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔

بلاشبہ عطار کی خوب صورت نثر اور اس کا حیرت انگیز ادبی اسلوب آج کل کم ہی دکھائی دیتا ہے، لیکن میرے جیسے تاریخ پڑھنے والے شخص کے لیے، جو ظاہری شکل و صورت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور جس کے نزدیک اصل اہمیت مضمون اور مواد کی ہے، یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں بیان کی جانے والی کرامات کی تعداد کتنی زیادہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان افراد سے منسوب کرامات کی مجموعی تعداد ان واقعات سے کہیں زیادہ ہے جو ماضی میں صوفیوں کے حالات و مقامات پر لکھی جانے والی کتابوں میں درج کیے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کرامات گھڑنے والوں سے ہوشیار رہیں: رہبرِ معظم سید مجتبیٰ خامنہ ای

بطورِ مثال میں اس نئی شائع ہونے والی کتاب سے ملا آقاجان کی ایک کرامت نقل کرتا ہوں۔ آپ اس کا موازنہ ان واقعات سے کیجیے جو عطار نے ’’تذکرة الاولیاء‘‘ میں بعض مشائخ کے بارے میں طی الارض کے حوالے سے بیان کیے ہیں:

ملا آقاجان زنجانی سے منسوب پہلی کرامت

جناب یگانہ نے روایت بیان کی کہ آقا یونس نامی ایک موچی کہتے تھے:

’’میں ہر سال حضرت علی بن موسیٰ رضاؑ کی زیارت کے لیے جایا کرتا تھا۔ ایک سال ایسا ہوا کہ میں زیارت کے لیے نہ جاسکا۔ اس بات سے مجھے بہت رنج ہوا، یہاں تک کہ 29 شعبان کو میں گھر سے نکل کر بیابان میں چلا گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ مرحوم حاج ملا آقاجان ظاہر ہوئے اور مجھ سے پوچھا:

’فلاں شخص! تم اتنے پریشان کیوں ہو؟‘

میں نے انہیں اپنا سارا ماجرا سنایا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا:

’میں تمہیں ایک شرط پر زیارت کے لیے لے چلوں گا، اور وہ شرط یہ ہے کہ تم اپنی آنکھیں بند کرلو اور صلوات پڑھتے رہو۔‘

میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ میں حضرت امام رضاؑ کے حرم میں موجود ہوں۔

زیارت کے بعد میں نے حاج ملا آقاجان سے کہا کہ ہم یہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:

’نہیں، آج رات ماہِ مبارک رمضان کی پہلی رات ہے، ہمیں واپس جانا چاہیے۔‘‘‘ (1)

یہ کتاب اس قسم کی خرافات سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی اشاعت پر وزارتِ ارشاد اور شعبۂ ثقافت سے وابستہ تمام عہدیداروں کو ہم مبارک باد نہ کہیں تو کیا کہیں؟

ایک اور مثال

’’ایک دن حاج ملا آقا جان گھر بہت دیر سے پہنچے۔ ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا:

’بیٹا! میں گھر کی طرف آرہا تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ نجف کے ایک عظیم عالم کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھانا تمہارے ذمے ہے۔ چنانچہ میں اللہ کے اذن سے پلک جھپکتے ہی نجف گیا، ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور واپس آ گیا۔‘‘‘ (2)

بقولِ شاعر

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہ بھی پڑھئے: آغا قاضی طباطبائی: کرامات یا نوسربازی؟

حوالہ جات

1۔ عاشق دلباختۂ امام زمانؑ، صفحہ 176۔
2۔ عاشق دلباختۂ امام زمانؑ، صفحہ 126۔

مآخذ: رسول جعفریان، تصوف در لباس جدید، خبر آنلاين، ۱۴ اسفند، ۱۳۹۱ ہجری شمسی.

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button