مسلم فلاسفہ کو کافر نہیں سمجھنا چاہیے – علامہ مجلسی
علامہ مجلسیؒ مسلم دنیا کے فرقۂ فلاسفہ کی کتابوں میں دینی و اعتقادی ضروریات اور مسلّمات سے متعارض چیزیں ہونے کی بنا پر ان کو گمراہ کن کتابوں میں شمار کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’علماء کے درمیان مشہور قول یہ ہے کہ منسوخ شدہ الہامی کتابوں، مثلاً تورات و انجیل، اور اہلِ ضلالت و بدعت کی کتابوں، مثلاً اہلِ سنت اور دیگر مخالفین کی کتابوں، نیز فلاسفہ، صوفیہ اور ملحدین کی کتابوں کو لکھنا، محفوظ کرنا، ان کا مطالعہ کرنا اور انہیں سیکھنا سکھانا حرام ہے، سوائے اس کے کہ اس کا مقصد ان کی تردید اور ابطال کرنا، ان کے خلاف حجت قائم کرنا، ان سے درست باتیں اخذ کرنا یا تقیہ ہو۔‘‘ (1)
اگرچہ علامہ مجلسیؒ مسلم فلاسفہ کو بعض ضروریاتِ دین، مثلاً حدوثِ عالم اور معادِ جسمانی، کا منکر قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک محض ان عقائد کے انکار کی بنا پر تمام فلسفیوں کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بعض فلسفیانہ عقائد کو اختیار کرنے والے افراد شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور فلسفیوں کے باطل اقوال کو برہانی دلائل سمجھ کر ان کی بنیاد پر دینی نصوص کی تاویل کرنے لگتے ہیں۔ ضروریاتِ دین کا انکار اسی وقت کفر کا موجب بنتا ہے جب وہ انکار حقیقتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت کی تکذیب اور انکار پر منتج ہو۔ علامہ مجلسیؒ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’کسی امرِ ضروری کے منکر کو کافر قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس امر کا انکار کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کی اور آپ ؐ کی نبوت کا انکار کیا؛ نہ یہ کہ محض اس امر کا انکار بذاتِ خود کفر کا سبب ہے۔ اسی لیے جو شخص کسی احتمالی شبہے کو حق سمجھتا ہو، اسے کافر قرار نہیں دیا جاتا۔ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ دین کی بعض ضروریات، مثلاً حدوثِ عالم اور معادِ جسمانی وغیرہ کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ بظاہر وہ ہمارے نبی حضرت محمد ؐ کی نبوت کا اقرار کرتے اور دین کی دیگر ضروریات نیز ان تعلیمات کو تسلیم کرتے ہیں جو رسول اللہ ؐ لے کر آئے۔ ان کے اس انکار کے دو اسباب ہو سکتے ہیں:
پہلا: وہ کسی ایسے شبہے کی وجہ سے گمراہ ہو گئے ہوں جو ان کے ذہن میں پیدا ہوا، مثلاً انہوں نے بعض فلاسفہ اور دیگر زندیقوں کے باطل اقوال کو برہانی دلائل سمجھ لیا ہو، جن کی بنیاد پر وہ نقلی دلائل اور دینی نصوص کی تاویل کو ضروری سمجھتے ہوں۔
دوسرا: وہ باطنی طور پر نبوت کے منکر ہوں، لیکن قتل یا مالی و دنیاوی نقصان کے خوف سے اپنے انکار کو ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے بعض ضروریات کا انکار اس لیے ظاہر کیا ہو کہ فلسفیوں اور دوسروں کے عقائد مسلمانوں کے عقائد کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو چکے تھے کہ ان میں امتیاز کرنا، سوائے ان لوگوں کے جنہیں خدا نے معصوم بنایا ہے، ممکن نہ رہا تھا۔
لہٰذا جو لوگ پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اسلام سے خارج ہونے کا حکم دینے میں اشکال ہے؛ کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا، وہ ان کے حق میں ضروریِ دین نہیں رہی، اگرچہ دوسروں کے حق میں اسے ضروری کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حق کی تلاش میں کوتاہی کے سبب گمراہ نہ ہوں یا اپنے انکار کی وجہ سے سزا کے مستحق نہ ہوں۔
اس کے برعکس، دوسری قسم کے لوگ رسول اللہ ؐ کی نبوت کے انکار کے سبب اسلام سے خارج اور مرتد ہو جاتے ہیں۔
پس واضح ہوا کہ کسی ضروریِ دین کا ایسا انکار جو کفر کا موجب بنتا ہے، درحقیقت نبوت کے انکار سے الگ نہیں، کیونکہ نبوت کا انکار تمام ضروریاتِ دین کے انکار کو مستلزم ہے۔‘‘ (2)
یہ بھی پڑھئے: وحدت الوجود کے قائلین کا شرعی حکم – آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد کاظم یزدی
حوالہ جات
1۔ حق الیقین، صفحہ 517۔
2۔ بحار الانوار، جلد 30، صفحہ 483۔



