سوال: جناب عالی! ہم ابنِ عربی کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ امام خمینی نے اس کی کتاب فصوص الحکم کی شرح لکھی۔ علاوہ ازیں محمد حسین تہرانی نے اپنی کتاب روح مجرد میں ابنِ عربی کی بڑی تعریف و توصیف کی ہے اور اس کے کچھ اشعار کی تشریح بھی کی ہے۔ انھوں نے ابنِ عربی کے کچھ اشعار سے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ بارہ آئمۂ اہلبیت ؑ کی امامت پر یقین رکھتا تھا۔ آپ سے التماس ہے کہ ابنِ عربی اور اس کے ہم نوا صوفیاء کے متعلق وضاحت فرمائیں۔
جواب: جہاں تک ابنِ عربی کے تشیع یا تسنن کا تعلق ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے خلفائے اثنا عشر کی حدیث پر نظر رکھنی چاہیے۔ اہلِ سنت کی صحاح اور ان کی معتبر کتابوں مثلا بخاری، مسلم، سنن ابی داؤد، مسند احمد ابن حنبل اور دوسری کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ’’میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے۔ ان سبھی کا تعلق قریش سے ہو گا۔‘‘
بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق بنی ہاشم سے ہو گا۔ قندوزی حنفی بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت بیس سے زیادہ صحابہ سے منقول ہے۔ اس حدیث نے علمائے اہل سنت کو حیران کر دیا ہے اور انھوں نے اس کی تشریح میں مختلف باتیں کہی ہیں۔ اس حدیث کے تحت کچھ سنی علماء نے بارہ آئمہ ؑ کے حالات لکھے اور ان کی کرامات اور سیرت کو نقل کیا ہے اور لکھا کہ وہ دین کے حقیقی امام تھے اور اللہ کے سچے ولی تھے۔
الغرض سنی اور شیعہ علماء آئمۂ اثنا عشر ؑ کی تعریف میں رطب اللسان دکھائی دیتے تھے۔ بہت سے سنی علماء نے آئمۂ اثنا عشر ؑ کی سیرت پر کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں شبلنجی کی کتاب نور الابصار، قندوزی حنفی کی کتاب ینابیع المودۃ اور کنجی کی کتاب کنایۃ الطالب اور سبط ابن جوزی کی کتاب تذکرۃ الخواص کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ آئمۂ اثنا عشر ؑ کی تعریف و توصیف کرنے والے لوگوں میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنھوں نے مذہبِ شیعہ اور عقائدِ شیعہ کی کھل کر تردید کی تھی اور ان میں سے بعض مذہبِ شیعہ کے بدترین مخالف بھی تھے۔ ایسے ہی لوگوں میں فضل بن روزبہان بھی شامل ہے۔ اس نے جہاں علامہ حلی کے رد میں لکھا وہیں اس نے آئمۂ اثنا عشر ؑ کی سیرت پر کتاب بھی لکھی جس میں اس نے آئمۂ کرام ؑ کے فضائل و کرامات نقل کیں۔ اسی طرح سے ابنِ حجر مکی بھی ایک متعصب سنی تھا۔ اس نے شیعیت کی رد میں صواعقِ محرقہ نامی کتاب لکھی تھی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس نے صواعقِ محرقہ میں ہی بارہ آئمہ ؑ کے حالات زندگی بھی لکھے۔
یاد رکھیں آئمۂ اہل بیت ؑ کے کردار سے متاثر ہونا اور بات ہے لیکن شیعہ ہونا اور بات ہے۔ وہ سنی علماء جنھوں نے آئمۂ ہدیٰ ؑ کی سیرت و فضائل پر کتابیں لکھی تھیں انھوں نے خلفائے ثلاثہ کی خلافت کے اثبات پر بھی کتابیں لکھی تھیں۔ اس کی واضح مثال فضل بن روزبہان اور ابنِ حجر مکی ہیں۔
اور یہی حال ابنِ ابی الحدید کا ہے۔ وہ بغداد کے معتزلی عالم تھے اور وہ حضرت علی ؑ کی تفضیل کا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے کئی ضخیم جلدوں میں نہج البلاغہ کی شرح لکھی۔ مگر اس کے باوجود وہ خلفائے ثلاثہ کی خلافت کے شدومد سے قائل تھے۔
بعض شیعہ برادران جب ایسے ہی لوگوں کی کتابوں میں فضائلِ اہل بیت ؑ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ شیعہ ہیں حالانکہ وہ شیعہ نہیں ہوتے۔
یہی حال ابنِ عربی اور اس کے ہم نواؤں کا ہے۔ وہ خلفائے اربعہ کو زمین کے چہار گانہ ستون سمجھتا تھا مگر کہیں کہیں اہلبیت ؑ کی تعریف بھی کیا کرتا تھا۔
صوفیاء کی ایک مجبوری یہ ہے کہ یہ لوگ غوث، قطب، ابدال و اوتاد کے قائل ہیں اور یہ لوگ ولایتِ نوعی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے ایک سلسلہ نقشبندی کے علاوہ باقی تمام سلسلے ان کے بزرگوں کے ذریعہ سے حسن بصری سے متصل ہوتے ہیں اور صوفیاء کے بقول حسن بصری نے ولایت کا خرقہ حضرت امیر المومنین علی ؑ سے حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امیرالمؤمنین علی ؑ نے حسن بصری کو امت کا سامری قرار دیا
صوفیاء کی نظر میں حضرت علی ؑ کو باب ولایت کی حیثیت حاصل ہے اسی لیے وہ آپ کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔ مگر صوفیا اول و آخر سنی ہیں۔ انھیں شیعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی حال ابنِ عربی کا ہے۔ اگر چہ اس نے آئمۂ ہدیٰ ؑ کی تعریف و توصیف بھی کی ہے۔ پھر بھی وہ سنی ہے۔ بہت سے شیعہ علماء نے اس پر سخت تنقید کی ہے۔
یاد رکھیں تشیع اس بات کی محتاج نہیں ہے کہ ابنِ عربی شیعہ ہو۔ ہمیں ایسے افراد سے کوئی غرض نہیں ہے اور یہ موضوع ویسے بھی غیر ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بات امام زمانہ صلوات اللہ علیہ کو ناپسند ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ابنِ عربی زندیق تھا – آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ محمد اسحاق فیاض
حوالہ: علامہ سید جعفر مرتضٰی عاملی، احسن الجوابات، جلد اول، صفحات 199 تا 201، ادارہ منہاج الصالحین، لاہور، 2010ء۔
