شیعہ فقہاء کی نظر میں تصوف، فلسفہ اور عرفان

عرفانِ حقیقی – علامہ محمد تقی جعفری

73 ملاحظات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ. وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (سورہ آلِ عمران، آیت 31۔)

ترجمہ: ”کہہ دیجئے کہ: اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

عرفانِ حقیقی ایک ایسا مکتب ہے کہ رسول گرامئ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد علی ؑ اور آپ ؑ کی اولاد نے اس پر بطورِ مطلق فرمانروائی کی ہے۔ اس بحث کا عنوان عرفانِ حقیقی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ نفسِ انسانی کی معرفت اور معرفتِ خداوندی کے تمام مبادیات و علل اور روح کے بلند اوصاف کی شناخت اور اسکے موزوں روشِ زندگی اور تمام دوسرے حقائق اور حوادثِ ہستی و کائنات کی شناخت کو نہ فقط تجویز کرتا ہے بلکہ ضروری و لازم بھی سمجھتا ہے۔

اس عرفانِ حقیقی سے روح کا مثبت پہلو مراد ہے۔ یعنی عقل و اشراقاتِ قلبی کی بنا پر جو حقائق روح پر روشن ہوتے ہیں، اور کسی نہ کسی صورت میں اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر وہ حقیقت یا واقعہ جو روح کے اس مثبت دائرے سے باہر ہے اسکو عرفان حقیقی میں خیال، توہم اور تجسیم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عرفانِ حقیقی کے مطابق خدا اور طبیعت قطعاً ہم سنخ سے نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وحدت الوجود اور توحیدِ خالص میں فرق – آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

عرفانِ حقیقی ان تمام اوصافِ عالیہ اور کمالات کو انسان کیلئے ضروری سمجھتا ہے کہ جن کو منادیانِ توحید نے ہم تک پہنچایا ہے۔ حقیقی عرفان قربِ خدا کیلئے انبیائے کرام ؑ کے ذریعہ بیان کردہ دستورات کو ضروری گردانتا ہے۔ حقیقی عرفان تمام انسانوں کو تمام روحانی کمالات حاصل کرنے کے قابل سمجھتا ہے۔ عرفانِ حقیقی میں خدائے منزہ کی طرف توجہ کے وقت ہر قسم کا واسطہ جو تجسیمِ قلبی کی صورت میں ہو، شرک ہے خواہ یہ مجسم شدہ واسطہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ابنِ عربی اور اللہ کی رؤيت کا باطل عقیدہ

عرفانِ حقیقی کا اولین و آخرین کامل نمونہ، اپنے دستِ مبارک سے زراعت کرنے والے، شب کی تاریکی و تنہائی میں اپنے محاسبۂ نفس کے بعد بارگاہِ خداوند عالم میں حاضر ہونے والے، اشتیاق، خوف، پرہیزگاری اور فراقِ معشوق میں بے خود ہونے والے علی بن ابی طالب ؑ ہیں۔ عرفانِ حقیقی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جس کو رہبرانِ راہِ توحید نے بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ فقط اور فقط خیالات و تخیلات کے ذریعہ خود کو تسکین دینے اور وقت گزاری کا ذریعہ ہے اور بس!

علی ؑ کی زندگی ہمارے لئے عرفان کی حقیقت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ علی ؑ کے عرفان میں خدا ستائی کے عنوان سے خود ستائی کرنا عین شرک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معرفتِ نفس اور خالق و مخلوق میں شباہت کی نفی – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

ایک مشہور داستان ہے کہ امیرالمومنین ؑ نے باغ بفیغہ سے کھجوروں کے پانچ وسق (تقریباً 847 کلوگرام) ایک ضرورت مند شخص کو ارسال کئے۔ اس وقت ایک دوسرا شخص بھی امام ؑ کے نزدیک موجود تھا۔ اس نے امام ؑ سے کہا کہ اے علی ؑ! اس شخص نے آپ ؑ سے کچھ مانگا نہیں تھا پھر بھی آپ یہ کھجوریں اسے کیوں ارسال کر رہے ہیں؟ امیرالمومنین ؑ نے فرمایا:

’’خدا تجھ جیسے افراد کو مومنین کے درمیان زیادہ نہ کرے۔ میں دے رہا ہوں اور تم کنجوسی اور بخل کر رہے ہو۔ اگر ان کھجوروں کو اس کے درستِ سوال دراز کرنے کے بعد دیتا تو اس وقت اپنی اس عطا کی قیمت مجھے مل چکی ہوتی کیونکہ دستِ سوال دراز کرنے کے بعد وہ شخص مجبوراً اپنی آبرو اور عزت دے کر یہ کھجوریں حاصل کرتا۔‘‘

یہی عرفانِ حقیقی ہے کہ جو اولادِ آدم کو دوسرے افراد سے متعلق ذمہ داریوں اور وظائف کا احساس دلاتا ہے۔ یہ وہی عرفان حقیقی ہے کہ اگر بشریت، فرد، معاشرے اور حکومت کے درمیان ہر انسانی جہت سے ممکنہ روابط کی اصلاح کیلئے غور و فکر کرے تو خود بخود مجبور ہو جائے گا کہ اس عرفان کو اپنا سرمایۂ عمل قرار دے۔

یہ وہی عرفانِ حقیقی ہے کہ ہمارے الٰہی رہنماؤں نے جس کی طرف ساری دنیا کو دعوت دی ہے۔ یہ عرفان شریعت کے وہ دروس ہیں جنہیں قرآنِ مجید ہر صبح و شام دنیا والوں کیلئے بیان کرتا رہتا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِی. (سورہ آل عمران، آیت 31۔)

ترجمہ: ”اے رسول ؐ کہہ دیجئے! اگر خدا کو دوست رکھتے ہو میری پیروی کرو۔“

اس عرفان میں معاشرے کے افراد ان معنوں میں ایک دوسرے کے عضو کی مانند ہیں کہ ان اعضاء میں سے ہر ایک کو دوسرے عضو کے آرام و سکون کی خاطر حتی الامکان سعی و کوشش کرنا چاہئے۔ اگر کسی عضو کی تکلیف دور کرنے کا علاج رات میں کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا اگلی صبح پر موقوف کر دیا جائے تو ایسا عرفان حقیقی نہیں ہے اور ایسا عمل انجام دینے والا شخص بھی عارف نہیں۔

عرفانِ حقیقی روزمرہ زندگی کے امور کی تنظیم و ترتیب کو نہایت اہمیت دیتا ہے:

وَمَن كَانَ فِی هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِی الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا. (سورہ اسراء، آیت 72)

ترجمہ: ”جو شخص اس دنیا میں نابینا ہے وہ آخرت میں بھی نابینا اور گم کردۂ راہ رہے گا۔“

اس کے علاوہ حدیث میں آیا ہے:

مَنْ لَا مَعَاشَ لَهُ لَا مَعَادَ لَهُ.

ترجمہ: ”جس شخص کی دنیاوی زندگی اچھی نہ ہو، اس کی آخرت بھی اچھی نہیں ہو سکتی۔“

اسی حوالے سے امام علی ؑ اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اُوْصِیْكُمَا وَ جَمِیْعَ وَلَدِیْ وَ اَهْلِیْ وَ مَنْۢ بَلَغَهٗ كِتَابِیْ، بِتَقْوَى اللّٰهِ وَ نَظْمِ اَمْرِكُمْ، وَ صَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِكُمْ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّكُمَا ؐ یَقُوْلُ: صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلٰوةِ وَ الصِّیَامِ.

ترجمہ: ”میں تم کو، اپنی تمام اولاد کو، اپنے کنبہ کو اور جن جن تک میری یہ تحریر پہنچے سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، اپنے معاملات درست اور آپس کے تعلقات سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: لوگوں کا آپس کے تعلقات کو سلجھانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔“

عرفانِ حقیقی میں کائنات سے متعلق سائنسی انداز میں غور و فکر کرنا بھی ضروری ہے:

إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ. الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (سورہ آلِ عمران، آیات 190، 191۔)

ترجمہ: ”بے شک لیل و نہار کی آمد و رفت میں صاحبان عقل کیلئے قدرت خدا کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی خلقت میں غور و فکر کرتے ہیں کہ خدا تو نے یہ سب بیکار نہیں پیدا کیا ہے۔ تو پاک ہے، ہمیں جہنم سے محفوظ فرما!“

لہٰذا عرفانِ حقیقی ایک ایسی حالت نہیں ہے کہ بعض مواقع پر کچھ لمحوں کیلئے حاصل ہو جائے اور بقیہ عمر ہوا و ہوس کی پیروی کرتے ہوئے گزار دی جائے کہ جس میں نہ ایسی زندگی کی خبر ہے جو قربِ الٰہی کا وسیلہ ہو اور نہ ذمہ داریوں اور وظائف کا احساس، بلکہ عرفانِ حقیقی اس کے برعکس ہے۔

عرفانِ حقیقی میں انسان کا مرتبہ اشرف المخلوقات تک پہنچ جاتا ہے۔ یعنی انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے نظر ہمیشہ اور ہر جگہ زندگی کے عالی ترین ہدف پر رہتی ہے۔ اس کیلئے مادی زندگی قربِ الٰہی کی راہوں کو مسدود نہیں کرتی۔ روح کی عظمت و بزرگی کے مقابل موجودات کے ظاہری اجسام کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہی اجسام، ذہن کی پاکیزگی، خود سازی اور روح کی عظمت کو فعلیت کی حد تک پہنچانے کا بہترین وسیلہ ہیں۔ لہذا عرفانِ حقیقی میں کائنات سے متعلق غور و فکر اور اس کے حقائق و موجودات سے حتی الامکان استفادے کو تکاملِ انسانی کے لئے اصل و اساس قرار دیا گیا ہے۔

عرفانِ حقیقی میں محبت سے مراد وہ عبادت ہے کہ جس کیلئے خود خدا کی طرف سے حکم جاری ہوا ہے، تا کہ روح، علائق دنیوی سے خود کو آزاد کر سکے۔ کیونکہ اس عرفان میں محبت و عشق براہ راست فقط خدا ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، دوسرے تمام ملائکات و علائق بھی اگر فرمانِ خداوندی کی پیروی کے عنوان سے انجام دیئے جائیں تو ان کا شمار بھی در حقیقت عشقِ خدا میں ہی کیا جائے گا۔

اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے محبت یا دوستی کرتا ہے تو جب بھی اسے کوئی ناگوار حادثہ پیش آتا ہے، پہلا شخص دوسرے کو صبر کی تلقین کرتا ہے، تعزیت پیش کرتا ہے تا کہ اس کو تسکینِ قلب حاصل ہو سکے، اگر وہ مریض ہو جاتا ہے تو اس کی عیادت کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام موارد در حقیقت محبتِ خدا ہی سے سرچشمہ حاصل کرتے ہیں کیونکہ روزِ قیامت خداوندِ عالم سوال کرے گا کہ میں مریض تھا تو نے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ بندہ سوال کرے گا کہ خداوند آخر تو کیسے بیمار ہوتا ہے؟ خدا فرمائے گا کہ میرا ایک بندہ مریض تھا تو اس کی عیادت کے لئے نہیں گیا۔ اسی طرح کے واقعات انبیائے کرام ؑ اور خاتم الانبیاء ؐ کی عترت کی سیرت میں اس کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ ان سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔

روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خداوندِ عالم کو قرض کی قطعاً کوئی حاجت نہیں ہے لیکن قرآن کریم میں وہ فرماتا ہے:

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا. (سورہ بقرہ، آیت 245۔)

ترجمہ: ”کون ہے جو خدا کو قرضِ حسنہ دے؟“

لہٰذا معاشرے میں پائے جانے والے اس طرح کے جائز روابط و تعلقات عین محبتِ خدا ہیں اور چونکہ عین محبت خدا ہیں لہٰذا عرفانِ حقیقی کے اصول مسلمہ اصولوں میں سے بھی ہیں۔ حقیقی عرفاء خدا کے ساتھ جس محبت و عشق کا تعلق رکھتے ہیں وہ قطعاً عشقِ حقیقی ہے نہ کہ عشقِ مجازی۔ وجودِ انسانی میں عشق کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1۔ عشقِ مجازی: اس عشق کا منبع محبوب کے وہ دلنشین اوصاف ہوتے ہیں جو انسان کے نفس کے ساتھ ہم آہنگ اور اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یعنی انسان کا نفس ان اوصاف کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔

2۔ عشقِ حقیقی: اس عشق کا منبع محبوب کے وہ کمالات ہوتے ہیں جو انسان کی روح سے مطابقت رکھتے ہیں یعنی روحِ انسان ان کمالات تک پہنچنا چاہتی ہے۔ جیسے علم و دانش کی محبت کو عشقِ حقیقی کہیں گے۔ اس کے برخلاف مال و جمال جیسی چیزوں کی محبت کو عشقِ مجازی کہیں گے۔ عرفانِ حقیقی میں اساسی کردار عشقِ حقیقی کا ہوتا ہے کیونکہ عرفانِ حقیقی میں محبوب‌ وہ خدائے منزہ ہے جس میں ذرہ برابر نقص کا شائبہ محال ہے۔ علاوہ از ایں، عشقِ مجازی میں محبوب ہمیشہ فنا ہو جانے والا ہوتا ہے، جبکہ عشقِ حقیقی میں محبوب ہمیشہ دائم، قائم اور باقی رہنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وجود کو خدا بنا لینا درست نہیں – آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

عشقِ مجازی میں مبتلا افراد کی نگاہ میں عشقِ حقیقی کی حیثیت ایک غیر معقول اور غیر ممدوح آہنگ یا نغمے کی سی ہوتی ہے جبکہ اربابِ عشقِ حقیقی کی نظر میں عشقِ مجازی میں گرفتار شخص اس پرندے کے مانند ہوتا ہے کہ جو ایک قفس میں قید کر دیا جائے اور ہر لمحہ اس پرندے کی خواہش و کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی طرح اس قفس سے آزاد ہو جائے۔ درحالیکہ وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ قفس میں موجود سوراخ یا شگاف اس کو آزاد نہیں کرا سکتے۔

مآخذ: نگاهی به علی ؑ
مترجم: مولانا عباس اصغر شبریز

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button