معروف صوفیاء اور عرفاء

صوفیوں کی طرف مائل ہونے والے شیعوں کو علامہ مجلسی کی نصیحت

14 ملاحظات

علامہ مجلسیؒ فرماتے ہیں:

’’پس اگر تم روزِ جزا پر اعتقاد رکھتے ہو تو آج ہی اپنا قبلہ درست کر لو، تاکہ جب کل حق تعالیٰ تم سے زندگی کا حساب لے تو تمہارے پاس تسلی بخش جواب اور پسندیدہ عذر موجود ہو۔ اور میں نہیں جانتا کہ اہلِ بیتِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہونے اور صوفیوں کے عقائد و اعمال کے باطل ہونے پر علمائے شیعہ ؓ کی گواہی کے بعد، ان کی پیروی کرنے کے بارے میں حق تعالیٰ کے حضور تم کیا عذر پیش کرو گے؟!

کیا تم کہو گے کہ میں نے حسن بصری کی پیروی کی، جن کی مذمت اور اس پر لعنت کے بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں؟ یا کہو گے کہ میں نے سفیان ثوری کی پیروی کی، جو امام جعفر صادق ؑ سے دشمنی رکھتا تھا اور ہمیشہ آپ کی مخالفت کرتا رہتا تھا؟ ہم نے کتاب کے آغاز میں ان کے بعض حالات بیان کیے ہیں۔

کیا تم محمد غزالی کی پیروی کو اپنا عذر قرار دو گے، جبکہ وہ یقیناً ناصبی تھا۔ وہ اپنی کتابوں میں کہتا ہے کہ جس طرح علی مرتضٰی ؑ امام ہیں، اسی طرح میں بھی امام ہوں۔ اور وہ کہتا ہے کہ جو شخص یزید پر لعنت کرتا ہے، وہ گناہ گار ہے۔ اس نے شیعوں پر لعنت کرنے اور ان کے ردّ میں کئی کتابیں لکھی ہیں، مثلاً کتاب ’المنقذ من الضلال‘ اور اس کے علاوہ دوسری کتابیں۔ یا تم اس کے بھائی احمد غزالی کی پیروی کو اپنی حجت بناؤ گے، جو کہتا ہے کہ شیطان اللہ کے بڑے اولیاء میں سے ہے؟!

کیا تم مولوی رومی کو اپنا شفیع بناؤ گے، جو کہتا ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین ؑ ابنِ ملجم کی شفاعت کریں گے اور وہ جنت میں جائے گا، اور یہ کہ حضرت امیر ؑ نے اس سے فرمایا کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں، ایسا ہی مقدر تھا اور تم اس عمل میں مجبور تھے۔ اور وہ کہتا ہے:

چون کہ بی رنگی اسیر رنگ شد

موسیی با موسیی در جنگ شد

ترجمہ: ’’جب بے رنگی، رنگ کی اسیر ہوئی تو ایک موسیٰ، دوسرے موسیٰ سے لڑ پڑا۔‘‘

مثنوی کے صفحات میں کوئی صفحہ ایسا نہیں جس میں ایسے اشعار نہ ہوں جو جبرِ محض، وحدت الوجود، عبادات کے ساقط ہو جانے یا ان کے علاوہ دیگر فاسد عقائد کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔

جیسا کہ مشہور ہے اور اس کے پیروکار بھی تسلیم کرتے ہیں، وہ ساز، دف اور بانسری بجانے کو عبادت سمجھتا تھا۔

کیا تم محیی الدین ابنِ عربی کی پناہ لو گے، جس کی بیہودہ باتیں تم اس کتاب کے آغاز اور اختتام میں پڑھ چکے ہو؟ وہ کہتا ہے کہ اللہ کے اولیاء میں ایسے لوگ بھی ہیں جو رافضیوں کو خنزیر کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اور وہ کہتا ہے کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے علی ؑ کا مرتبہ ابوبکر، عمر اور عثمان کے مرتبے سے کم دیکھا۔ میں نے ابوبکر کو عرش پر دیکھا۔ جب میں واپس آیا تو میں نے علی ؑ سے کہا کہ دنیا میں تم یہ دعویٰ کرتے تھے کہ میں ان سب سے بہتر ہوں، لیکن اب میں نے تمہارا مرتبہ دیکھا تو تمہیں سب سے کم درجے پر پایا!!

اس کے اور اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ایسے بہت سے بہتان ہیں، جن کی طرف توجہ کرنے سے گفتگو طویل ہو جائے گی۔

اگر تم ان کے بلند و بانگ دعوؤں سے دھوکا کھاتے ہو تو آخر تم غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر یہ باتیں اپنے بارے میں مشہور کرتے ہیں؟ اگر تم چاہو تو اس مرشد کو آزما لو، جو کہتا ہے کہ میں تمام غیبی اسرار جانتا ہوں، ہر چیز مجھ پر منکشف ہوتی ہے اور میں رات میں دس مرتبہ عرش پر جاتا ہوں۔ اس سے نماز کے مسائلِ شک میں سے کوئی ایک مسئلہ پوچھو، یا میراث وغیرہ کا کوئی مشکل مسئلہ پوچھو، یا کوئی مشکل حدیث دریافت کرو۔ اگر وہ ان دعوؤں میں سچا ہے تو یہ مسائل بھی تمہارے لیے بیان کر دے گا۔

چنانچہ امام جعفر صادق ؑ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ جھوٹے کی علامت یہ ہے کہ وہ آسمان و زمین اور مشرق و مغرب کی چیزوں کی خبریں دینے کے دعوے کرتا ہے، لیکن جب تم اس سے اللہ کے حلال و حرام کے بارے میں کوئی مسئلہ پوچھتے ہو تو وہ اسے نہیں جانتا!

آخر یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے وحدت الوجود کے پیچیدہ مسئلے کو سمجھ لیا ہے، جسے سمجھنے سے تمام اہلِ فضل کی عقلیں عاجز ہیں، تو وہ ایک آسان بات کیوں نہیں سمجھ پاتا، خواہ اسے پچاس مرتبہ سمجھائی جائے؟!

جو لوگ معانی کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں، وہ اس کی سمجھی ہوئی باتوں کو کیوں نہیں سمجھ پاتے؟

پھر جب وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کشف، کفر کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے اور ہندوستان کے کافر بھی صاحبِ کشف ہو سکتے ہیں، تو بالفرض اگر ان کا کشف حقیقی بھی ہو اور انہوں نے تمہیں دھوکا بھی نہ دیا ہو، تب بھی یہ ان کے نیک ہونے پر کیسے دلالت کرتا ہے؟

چونکہ اس موضوع پر گفتگو کا دائرہ بہت وسیع ہے اور حق کے طالبوں کی ہدایت کے لیے کافی باتیں میں اس کتاب کے آغاز میں اور ’لمعات‘ میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں، اس لیے اس مقام پر اختصار کرتے ہوئے اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: صوفیاء کے اقوال کا رد – سید العلماء سید حسین علیین مکان

حوالہ: علامہ مجلسیؒ، عین الحیات، صفحات 257 تا 259، قم، 1382ھ۔

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button