فہرست
کئی دوسرے عرفان بافوں کی طرح مولوی رومی کے ہاں بھی ایسے باطل نظریات کی بھرمار ہے جنہیں اس کے ہم مسلک علماء بھی قبول نہیں کرتے۔
شانِ رسالت ؐ میں گستاخی
رومی اپنی مثنوی میں کہتا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے کئی بار پہاڑ سے گر کر خودکشی کرنے کا ارادہ کیا لیکن ہر بار جبرائیل ؑ نے انہیں اس کام سے روکا:
مصطفی را ہجر چون بفراختی
خویش را از کوہ می انداختی
تا بگفتی جبرئيلش ہين مكن
کہ ترا بس دولتست از اَمرِ کُن (1)
ترجمہ: ”مصطفیٰؐ کو جب جدائی نے بے قرار کر دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا دینا چاہا۔ تب جبرئیلؑ نے کہا: ٹھہریں، ایسا نہ کریں، آپ کو امرِ کُن کی ہی کافی ہے۔“
یہ روایت اہلسنت کی کتاب صحیح بخاری میں خبرِ واحد کے طور پر آئی ہے۔ (2) ابن حجر عسقلانی اس کتاب پر اپنی شرح فتح الباری میں حدیث کے آخری حصے کو من گھڑت قرار دیتے ہیں جسے بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ (3) ناصر الدین البانی اس حدیث کو اپنی کتاب سلسلۃ الاحادیث الموضوعۃ میں جعلی روایات میں شمار کرتے ہیں۔ (4) وہ اپنی ایک اور کتاب فقہ السیرۃ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: ”مذکورہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے بھی جھوٹی اور من گھڑت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بھی یہ پیغمبر اکرم ؐ کے بلند مقام اور آپ ؐ کی عصمت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ آپ ؐ نے فرمایا ہے: جو شخص پہاڑ سے گر کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں گرے گا اور دائمی عذاب اور ذلت سے دوچار ہوگا۔“ (5)
مولوی رومی اپنی کتاب مجالس سبعہ میں رسول اللہ ؐ سے یہ جعلی قول منسوب کرتا ہے کہ آپ ؐ نے حضرت عمر سے کہا:
لَوْ لَمْ أُبْعَثْ لَبُعِثْتَ يَا عُمَرُ. (6)
ترجمہ: ”اے عمر! اگر میں مبعوث نہ کیا گیا ہوتا تو یقیناً تم اللہ کی جانب سے مبعوث کیے جاتے۔“
اس سے بڑی گستاخی کیا ہو سکتی ہے؟ ابنِ جوزی نے اس قول کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ (7) معتزلی سنی عالم ابوجعفر اسکافی نے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے:
ترجمہ: ”اللہ اس سے پاک و منزہ ہے کہ کسی مشرک اور کافر کو رسالت کیلئے مبعوث کر دے۔“ (8)
ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت ؐ کی بعثت سے پہلے کافر و مشرک تھے اور انکا بچپن اور جوانی نجس رہی، رسالت کے اہل نہیں ہو سکتے۔
حضرت ابوطالب ؑ کی تکفیر
مولوی رومی کا کہنا ہے:
خود یکی بوطالب ؑ آن عمِ رسول ؐ
می نمودش شنعۂ عرباں مہول
ترجمہ: ایک ابوطالب، وہ رسولؐ کے چچا، جن پر ان عربوں کا طعن و تشنیع حاوی رہا۔
کہ چہ گویندم عرب کز طفل خود
او بگردانید دین معتمد
ترجمہ: کہ عرب مجھے کیا کہیں گے کہ اپنے بچے کی وجہ سے اس نے اپنا معتمد دین بدل دیا۔
گفتش اے عم یک شہادت تو بگو
تا کنم با حق خصومت بہر تو
ترجمہ: کہا کہ اے چچا! کلمۂ شہادت پڑھ لیجئے تا کہ میں اللہ تعالیٰ سے آپ کی سفارش کروں۔
گفت لیکن فاش گردد از سماع
کل سر جاوز الاثنين شاع
ترجمہ: انہوں نے کہا: لیکن کانوں کان خبر پھیل جائے گی، جو راز دو سے بڑھا مشہور ہوا۔
من بمانم در زبان ابنِ عرب
پیش ایشان خوار گردن زین بسبب
ترجمہ: ان عربوں کی زبانوں پر میں اس سبب سے اُن کے نزدیک ذلیل قرار پاؤں گا۔
لیک اگر بودیش لطف ما سبق
کی بدے این بددلی با جذب حق (9)
ترجمہ: لیکن اگر ان پر ازلی مہربانی ہوتی تو حق کی کشش کے سامنے یہ بددلی کب رہتی؟
عزادارئِ سید الشہداؑء پر طعن
مولوی رومی روز عاشوراء کی عزاداری کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتا ہے:
نالہ و نوحہ كند اندر بكا
شيعہ عاشورا براى كربلا
پس عزا بر خود كنيد اى خفتگان
ز انكہ بد مرگى است اين خواب گران
ترجمہ: ”شیعہ حضرات عاشوراء کے دن روتے اور نوحے پڑھتے ہیں۔ اے غافلو! اپنے اوپر ماتم کرو۔ یہ خوابِ گراں بہت بری موت ہے۔“
آگے چل کر کہتا ہے:
روح سلطانى ز زندانى بجست
جامہ چہ درانيم و چون خاييم دست
چون كہ ايشان خسرو دين بودہ اند
وقت شادى شد چو بشكستند بند (10)
ترجمہ: ”ایک بادشاہ کی روح جسم کے زندان سے آزاد ہو گئی تو اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ وہ دین کے بادشاہ تھے۔ تم لوگ اپنا سینہ چاک مت کرو، یہ تو خوشی کا موقع ہے کہ انہوں نے اس بند کو توڑا۔“
یاد رہے کہ اہلسنت کے ہاں بھی ایسی احادیث پائی جاتی ہیں جن میں خود نبی کریم واقعۂ کربلا کی خبر پا کر غمگین ہوئے۔ غمِ حسین ؑ سنت رسول ؐ ہے۔ (11)
قرآن کی تفسیر بالرائے
رومی کہتا ہے:
معنی قرآن ز قرآن پرس و بس
وز کسی کآتش ز دست اندر ہوس
پیش قرآن گشت قربانی و پست
تا کہ عین روح او قرآن شدست (12)
ترجمہ: ”قرآن کے معنی خود قرآن ہی سے پوچھو یا اُس شخص سے جس نے اپنی ہوا و ہوس کو جَلا کر خود کو قرآن کے سامنے قربان کیا اور اپنی انانیت کو ختم کیا اور اس کی روح عین قرآن ہو گئی۔“
یہ بھی پڑھئے: عرفانِ نظری اور تفسیر بالرائے – آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی
حدیثِ ثقلین کے مطابق رسول اللہ ؐ امت کو قرآن کے ساتھ عترتؑ بھی دے گئے ہیں اور یہی ایک دوسرے کے مفسر ہیں۔ ان دونوں سے جڑے رہنا گمراہی سے بچنے کا واحد طریقہ ہے۔
تاہم صوفی حضرات قرآن کی من مانی تفسیریں کرنے کیلئے اہلبیت ؑ کے دامن کو چھوڑ دیتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں مولا علی ؑ فرماتے ہیں:
وَ اِنَّهٗ سَیَاْتِیْ عَلَیْكُمْ مِنْۢ بَعْدِیْ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْهِ شَیْءٌ اَخْفٰی مِنَ الْحَقِّ، وَ لَاۤ اَظْهَرَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَ لَاۤ اَكْثَرَ مِنَ الْكَذِبِ عَلَی اللهِ وَ رَسُوْلِهٖ، وَ لَیْسَ عِنْدَ اَهْلِ ذٰلِكَ الزَّمَانِ سِلْعَةٌ اَبْوَرَ مِنَ الْكِتَابِ اِذَا تُلِیَ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ، وَ لَاۤ اَنْفَقَ مِنْهُ اِذَا حُرِّفَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ، وَ لَا فِی الْبِلَادِ شَیءٌ اَنْكَرَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَ لَاۤ اَعْرَفَ مِنَ الْمُنْكَرِ!.
ترجمہ: ”میرے بعد تم پر ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں حق بہت پوشیدہ اور باطل بہت نمایاں ہو گا اور اللہ و رسولؐ پر افترا پردازی کا زور ہو گا۔ اس زمانہ والوں کے نزیک قرآن سے زیادہ کوئی بے قیمت چیز نہ ہو گی جبکہ اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسے پیش کرنے کا حق ہے اور اس قرآن سے زیادہ ان میں کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں ہو گی اس وقت جبکہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے اور نہ (ان کے) شہروں میں نیکی سے زیادہ کوئی برائی اور برائی سے زیادہ کوئی نیکی ہو گی۔“
فَقَدْ نَبَذَ الْكِتَابَ حَمَلَتُهٗ، وَ تَنَاسَاهُ حَفَظَتُهٗ، فَالْكِتَابُ یَوْمَئِذٍ وَّ اَهْلُهٗ مَنْفِیَّانِ طَرِیْدَانِ، وَ صَاحِبَانِ مُصْطَحِبَانِ فِیْ طَرِیْقٍ وَّاحِدٍ لَّا یُؤْوِیْهِمَا مُؤْوٍ، فَالْكِتَابُ وَ اَهْلُهٗ فِیْ ذٰلِكَ الزَّمَانِ فِی النَّاسِ وَ لَیْسَا فِیْهِمْ، وَ مَعَهُمْ وَ لَیْسَا مَعَهُمْ! لِاَنَّ الضَّلَالَةَ لَا تُوَافِقُ الْهُدٰی وَ اِنِ اجْتَمَعَا. (13)
ترجمہ: ”چنانچہ قرآن کا بار اٹھانے والے اسے پھینک کر الگ کریں گے اور حفظ کرنے والے اس کی (تعلیم) بھلا بیٹھیں گے اور قرآن اور قرآن والے (اہلبیتؑ) بے گھر اور بے در ہوں گے اور ایک ہی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ انہیں کوئی پناہ دینے والا نہ ہو گا۔ وہ (بظاہر) لوگوں میں ہوں گے مگر ان سے الگ تھلگ۔ ان کے ساتھ ہوں گے مگر بے تعلق۔ اس لئے کہ گمراہی ہدایت سے سازگار نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ یک جا ہوں۔“
حوالہ جات
1۔ مولوی رومی، مثنوی، دفتر پنجم، بخش 149۔
2۔ بخاری، صحیح، کتاب التعبیر، حدیث 6982۔
3۔ ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، المجلد السادس عشر، صفحہ 290، دار طیبہ۔
4۔ ناصر الدین البانی، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ، المجلد العاشر، القسم الاول، صفحہ 451، مکتبۃ المعارف للنشر والتوزیع، ریاض۔
5۔ ناصر الدین البانی، فقہ السیرۃ، صفحہ 42، دمشق۔
6۔ مولوی رومی، مجالسِ سبعہ، المجلس الثانی، صفحہ 50۔
7۔ ابن جوزی، کتاب الموضوعات، جلد 1، صفحہ 320، مکتبۃ السلفیہ، مدینہ۔
8۔ ابوجعفر اسکافی، المعیار والموازنہ، صفحہ 222۔
9۔ مثنوی دفتر 6، صفحہ 561، طبع ایران و مترجم، جلد 6، صفحہ 32، طبع لاہور۔
10۔ مولوی رومی، مثنوی، صفحہ 847۔
11۔ طبرانی، معجم الکبیر، جلد 8، صفحات 107، 108، 285، موصل، 1983۔
12۔ مولوی رومی، مثنوی، دفتر پنجم، بخش 134۔
13۔ نہج البلاغہ، خطبہ 145، ترجمہ: مفتی جعفر حسین۔



