0 2 منٹ مطالعہ
اللہ جل شانہ کہاں ہے؟
روایت ہے کہ علمائے یہود میں سے ایک نے ابوبکر صاحب سے آ کر پوچھا کہ کیا آپ جانشینِ پیغمبر ؐ ہیں؟
ابوبکر: ہاں۔
یہودی عالم: ہم توریت میں پڑھتے ہیں کہ انبیاء ؑ کے جانشین کو امت سے اعلم و افضل ہونا چاہئے۔ آپ مجھے بتائیے کہ پروردگارِ عالم کہاں ہے؟ آیا وہ آسمان میں ہے یا زمین میں ہے؟
ابوبکر: خدا آسمان میں عرش کے اوپر ہے۔
یہودی عالم: ایسی صورت میں لازم آتا ہے کہ زمین خداوندِ عالم کی موجودگی سے خالی ہو، وہ ایک معین جگہ پر قرار پائے اور دوسرے مقامات سے وہ دور ہو۔
ابوبکر: یہ زندیقوں اور بے دینوں کی باتیں ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ورنہ حکم دوں گا کہ تمہیں قتل کر دیں۔
وہ شخص نہایت حیرت و تعجب کے ساتھ اٹھ کر چل دیا اور واپس جاتے ہوئے دینِ اسلام پر ہنس رہا تھا۔ راستے میں امیر المومنین علی ؑ سے اس کی ملاقات ہوئی اور آپ ؑ نے فرمایا:
”تمہارے سوال اور ابوبکر کے جواب کی مجھے اطلاع ہے۔ اس کے بارے میں میرا جواب یہ ہے کہ خدا نے مکان و مقام کو پیدا کیا ہے، اس کیلئے کوئی مکان نہیں ہے۔ وہ اس سے برتر اور بالا تر ہے کہ اس کو کوئی جگہ اپنے احاطہ میں لے، وہ تمام مکان پر محیط ہے اور تمام محل و مقام اس کی ذات اقدس کی نسبت مساوی و برابر ہیں۔ تمہاری آسمانی کتابوں میں سے ایک میں جو بات وارد ہوئی ہے میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم میری تصدیق کرو گے۔ کیا ایسی صورت میں میری بات قبول کر کے اس پر اعتقاد اور ایمان لاؤ گے؟“
یہودی عالم: جی ہاں!
امیر المومنین ؑ نے فرمایا: تمہاری آسمانی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ایک روز حضرت موسیٰ ؑ بیٹھے تھے، ان کے پاس ایک فرشتہ مشرق سے آیا۔ نبی ؑ نے پوچھا: کہاں سے آ رہے ہو؟
اس فرشتے نے جواب دیا: پروردگار کی جانب سے آیا ہوں۔
پھر دوسرا فرشتہ مغرب کی جانب سے آیا، جب نبی ؑ نے اس کی جگہ پوچھی تو اس نے جواب دیا: پروردگار کی سمت سے آ رہا ہوں۔
اسی وقت ایک اور فرشتہ آسمان سے آیا اور اس نے بھی نبی ؑ کے جواب میں کہا: خدا کی طرف سے آرہا ہوں۔
پھر ایک اور فرشتہ زمین کے نیچے سے آیا، نبی ؑ نے اس سے وہی سوال کیا اور اس نے کہا کہ ساتویں سیارے اور پروردگار کی جانب سے آرہا ہوں۔
اس پر حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا: منزہ و برتر ہے وہ خدا جو کسی مکان میں نہیں ہے اور کوئی جگہ اس کا احاطہ بھی نہیں کر سکتی اور خدا کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ کے نزدیک تر نہیں ہے۔
یہودی عالم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حق و حقیقت کی بات وہی ہے جو آپ ؑ نے فرمایا۔ آپ ؑ خلافت اور صایت کے مقام کیلئے اولویت رکھتے ہیں۔
مآخذ: احتجاج طبرسی، جلد اول، ترجمہ اردو، صفحات 333، 334، ادارہ تحفظ حسینیت، 2009۔
مزید معلومات کیلئے پڑھئے: مشرکینِ مکہ کا فلسفہ کیا تھا؟
