متفرق شخصیات

شیخ عبدالقادر جیلانی کی زندگی اور نظریات کا جامع تعارف

37 ملاحظات

صوفیوں میں عبدالقادر جیلانی (متوفیٰ 1166ء) کو بہت شہرت ملی ہے۔ گیارہویں شریف اسی سے منسوب ہے۔ شیخ مرتضٰی مطہری نے کتاب ”اسلامی علوم کا تعارف – عرفان“ میں لکھا ہے:

”عبد القادر گیلانی: دنیائے اسلام کی اختلافی شخصیت ہیں۔ صوفیہ کا سلسلہ قادریہ انہیں سے منسوب ہے۔ ان کی قبر بغداد میں مشہور و معروف ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اول اول بلند بانگ دعوے نقل کیے گئے۔ ساداتِ حسنی میں سے ہیں۔ یہ 560 یا 561 ہجری میں فوت ہوئے۔“

عبدالقادر جیلانی کی زندگی اور افکار و نظریات کا ایک مختصر جائزہ قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔

حیات و آثار

پیدائش و وفات

ابو محمد محیی الدین عبدالقادر جیلانی قادریہ سلسلے کا بانی ہے۔ [1] وہ 1078ء میں گیلان کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوا۔ [2] اس کے باپ کا نام موسیٰ جنگی دوست اور ماں کا نام فاطمہ ام الخیر تھا۔ اسے محیی الدین، غوث اعظم اور دستگیر [3] جیسے القاب سے پکارا جاتا ہے۔ [4] وہ 1166ء میں بغداد میں فوت ہوا۔ [5]

نسب

گیلانی کے پیروکار اس کے نسب کو باپ کی طرف سے جناب حسن المثنیٰ سے منسوب کرتے ہیں اور ماں کی طرف سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے جوڑتے ہیں۔ [6] تاہم ابنِ میمون نسابہ جیسے ممتاز ماہرینِ انساب نے اس کے ایرانی نژاد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی زریت کی جانب سے سیادت کا دعویٰ کرنے کی کوششوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ [7]

ہجرت اور تعلیم

نوجوانی میں جیلانی مذہبی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغداد گیا۔ وہاں اس نے ابو زکریا تبریزی سے عربی ادبیات کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد علم حدیث میں سولہ اساتذہ سے استفادہ کیا۔ اس نے چار سنی مکاتب فقہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) میں بھی پانچ ممتاز فقہا سے مہارت حاصل کی۔ [8]

تصوف کی طرف رجحان

55 سال کی عمر میں، حماد بن مسلم دُباس سے ملاقات کے بعد، جو ایک اَن پڑھ لیکن بغداد کے صوفیاء میں اثر و رسوخ رکھنے والا صوفی تھا [9]، وہ تصوف میں دلچسپی لینے لگا اور بغداد میں حنبلی مکتب کے سربراہ قاضی ابو سعید مبارک مخرمی کے ہاں خرقہ پوشی کی رسم ادا کی۔ [10] کہا جاتا ہے کہ اس نے کسریٰ کے محل کے کھنڈرات میں کئی سال ریاضت کی یہاں تک کہ اس نے آخر کار الہام اور لوگوں کی ہدایت پر مامور ہونے دعویٰ کیا۔ [11]

شیوخ اور اقطاب

اس کے دو بڑے مرشد حماد دُباس اور ابو سعید مخزومی تھے۔ قادریہ کا سلسلہ مخزومی سے ہوتا ہوا جنید بغدادی اور معروف کرخی (یا ابوبکر شبلی) تک جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبد القادر کی شہرت اس حد تک بڑھی کہ پورا سلسلہ اس کے نام سے جانا جانے لگا۔ [12]

اولاد اور شاگرد

جیلانی کی نسل سے قادریہ کی مختلف شاخیں عالمِ اسلام میں پھیل گئیں۔ اس کے بعض بیٹوں اور پوتوں نے، بشمول نصر ابن ابی بکر، اپنی سیادت ثابت کرنے کی بہت کوششیں کیں، لیکن اس دعوے کو محققین نے باطل قرار دیا۔ [13]

کتب و رسائل

گیلانی سے منسوب کتابوں میں الفتح الربانی، غنیۃ الطالبین، طریق الحق، جلا الخاطر، چہار رسالہ اور سر الاسرار شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں، خاص طور پر چہار رسالہ، کی اس سے نسبت پر معاصر علماء نے سوال اٹھایا ہے۔ [14]

صوفیاء کے درمیان مقام

صوفیاء میں عبدالقادر جیلانی کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس کا نام شمس بلا افل اور قطب الاقطاب جیسے غلو آمیز القاب کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ زرین کوب کے مطابق اس سے منسوب افسانوں اور بے شمار من گھڑت کرامات نے اس کے تاریخی اور حقیقی چہرے کو پہچاننا مشکل بنا دیا ہے۔ [15]

افکار و نظریات

عقیدتی اور سیاسی موقف

جیلانی عقائد میں اشعری [16]اور فقہ میں حنبلی ہے۔ [17] وہ تصوف میں داخلے کے لیے سنی المذہب ہونے کو شرط سمجھتا تھا۔ [18] اسی وجہ سے ابنِ تیمیہ جیسے لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ [19] اس نے شیعہ مکتبِ فکر کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کیا۔ وہ امامیہ شیعوں کو مرجیہ اور قدریہ جیسے فرقوں کی طرح بدعتی قرار دیتا تھا۔ [20] وہ اموی اور عباسی خلفاء کی خلافت کا انکار نہیں کرتا تھا۔ [21]

اس نے عاشوراء کے دن کو یوم رب العزت قرار دیتے ہوئے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جو شیعہ روایت کے برعکس تھا۔ [22] وہ شیعوں کا یہودیوں سے موازنہ کرتا اور ان پر قرآن میں تحریف جیسے جھوٹے الزامات لگاتا تھا۔

علم دشمنی

جیلانی کتابی علم کو بے فائدہ سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ حقیقی علم صرف حضوری اور باطنی کشف و شہود سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ [23] اس کی نظر میں کامل صوفی سیر و سلوک کے مراحل طے کرنے کے بعد براہِ راست رسول اللہ ؐ کی روحِ مقدس سے جڑ جاتا ہے اور بلاواسطہ ان سے الہام دریافت کرتا ہے۔ [24] اس کے کتابوں کو تلف کرنے کا حکم دینے کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے۔ [25] یہ پاگل پن شروع سے صوفیاء میں موجود رہا ہے۔ غزالی نے بھی آخری عمر میں کشف کو کتاب پر ترجیح دی۔ جیلانی نے اس علم دشمنی کو بہت بڑھا دیا۔ مسلم دنیا میں سائنس کے زوال کا بڑا سبب صوفیوں کی علم دشمنی ہے۔

برائے تفصیل: علامہ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب: ”جلوۂ حق“ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔

خدا کے جسم اور دیدار پر یقین

جیلانی ان لوگوں میں سے ہے جو خدا کے تجسم اور رؤیت پر یقین رکھتا ہے۔ الفتح الربانی میں صریحاً کہتا ہے کہ خدا کو دنیا میں دل کی آنکھ اور آخرت میں سر کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ [26] اگرچہ اس نے تجسیم کے معاملے میں خود کو انتہا پسندوں سے الگ کیا۔ [27] یہ عقیدہ باطل ہے۔ امام جعفر صادق ؑ نے رؤیتِ خدا کی نفی کی ہے:

إيّاكُم و التَّفَكُّرَ في اللّہ ِ. فإنَّ التَّفَكُّرَ فی اللّہ ِ لا يَزيدُ إلاّ تِيہا. إنَّ اللّہ َ عَزَّ و جلَّ لا تُدرِكُہُ الأبصارُ و لا يُوصَفُ بِمِقدارٍ. [28]

ترجمہ: ”اللہ میں فکر کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اللہ کے بارے میں تفکر حیرت اور گمراہی کو بڑھاتا ہے۔ بے شک اللہ کو نہ آنکھیں پا سکتی ہیں، نہ اسے مقدار سے متصف کیا جا سکتا ہے۔“

فناء فی اللہ

عبدالقادر جیلانی کے نزدیک فناء فی اللہ کا مطلب انسان کی بشری ہویت کا مٹ جانا اور خدائی ہویت اور صفات اپنا لینا ہے۔ [29] اس کی رائے میں یہ سلوک کا حتمی نتیجہ ہے اور سالک کی روح میں وحدتِ شہود کا تحقق ہے۔ فنا کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے جیلانی ایک من گھڑت تقسیم بندی کرتا ہے: پہلا مرحلہ اذنِ الٰہی سے فناء از خلق ہے۔ دوسرا ہوا و ہوس سے فنا ہونا، جو کہ امرِ الٰہی سے ہوتا ہے۔ آخر میں ارادے سے فناء ہونا ہے جو فعلِ الٰہی سے ہوتا ہے۔ [30] ہندوؤں کے ہاں اسی کو نروان (Nirvana) اور مکش (Moksha) کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ادویتا ویدانتا اور نظریۂ وحدت الوجود – مولانا نعمت علی سدھو

اسماء اور انوارِ الٰہی

جیلانی نے اپنی تحریروں میں اسمائے الہٰی کا ایک خفیہ اور باطنی نظام پیش کیا ہے۔ وہ خدا کے ناموں میں سے سات کو بنیادی نام اور چھ کو فرعی نام کہتا ہے۔ پھر ہر ایک کیلئے مخصوص عدد، رنگ، وجودی مرتبہ اور مخصوص ذکر بیان کرتا ہے۔ ان تیرہ ناموں کو اس کے فکری نظام میں ایک مرکزی مقام حاصل ہے۔ سالک کو ہر نام کو اس کے حروف کے اعداد کی تعداد میں دہرانا ہوتا ہے تاکہ اس نام کی مخصوص روشنی حاصل ہو سکے اور وہ اپنے آپ کو اس اسم الٰہی کے معنی کا مظہر پائے۔ [31]

جیلانی کا ان اسماء کو یونانیوں کے نام نہاد علومِ غریبہ، جنہیں جہلِ مرکب کہنا زیادہ مناسب ہے، کے ساتھ جوڑنا بعد میں آنے والے صوفیوں، بالخصوص قادری پیروں، کے ہاں تعویذ گنڈوں، جنات کی حاضری، جادو اور طلسمات جیسی خرافات کے عام ہونے کا سبب بنا۔ جسمانی بیماریوں سے نجات اور نفسانی طاقتوں کے حصول کے لئے ان چیزوں میں پڑنا قیمتی وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جہلِ مرکب پر مبنی حرکات کے بارے مراجعِ عظام کے فتاویٰ

ولایتِ نوعی کا تصور

عبدالقادر جیلانی ولایت کو روحانی سفر کا اعلیٰ ترین درجہ سمجھتا تھا۔ اس کے مطابق ہر دور میں ایک ہی ولئ کامل ہوتا ہے اور اس کی ولایت اور ہدایت کا دائرہ سب انسانوں کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ [32]

اس کے مطابق یہ کامل ولی علم غیب، عصمت اور کائنات کی ہر چیز پر تصرف رکھتا ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو کے مصداق وہ اپنے آپ کو نہ صرف قطب بلکہ قطب الاقطاب کہتا ہے، جس کا قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہے۔ [33] جیلانی کے بعد لکھے گئے صوفی ادب میں یہ چیز صوفیوں کی ولایتِ مطلقہ کا ایک بنیادی ستون بن گئی۔

اس دعوے کی بنا پر بہت سے صوفیاء نے عبدالقادر جیلانی کو پیرانِ پیر سمجھا اور دوسرے پیروں کی ولایت کو اس کی ولایت کے ماتحت سمجھا ہے۔ [34] جیلانی کے بقول آدمؑ کے زمانے سے لے کر قیامت تک ’’پیر اور مرید‘‘ کا رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور رہے گا۔ [35] نجات کا دارومدار پیر سے ارادت اور اس کی اطاعت پر ہے۔ [36]

اس نے مرشد کی اطاعت کو ان کاموں میں بھی ضروری قرار دیا جہاں مرشد بظاہر خلافِ شریعت عمل کر رہا ہو۔ [37] وہ اپنے مریدوں سے کہتا تھا کہ اس کی ولایت قبول کرنے کی بدولت وہ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ [38] اس کا ماننا تھا کہ اس کا فیض مرید کی سات نسلوں تک جائے گا اور دنیا کے مشرق اور مغرب میں ان کے عیوب کو چھپائے گا۔ [39]

جبر کا عقیدہ

جیلانی واضح طور پر جبر‌ِ کامل کے عقیدے کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ [40] مکتبِ اشعری میں کسبِ افعال کے نظریئے کی بنیاد پر وہ فاعلیتِ حقیقی کو خدا میں منحصر سمجھتا ہے اور انسان کے ارادے کو محض قضا و قدر الٰہی کے عملی جامہ پہننے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ [41] اسی وجہ سے وہ ابلیس کو آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے میں مجبور اور معذور سمجھتا ہے۔ وہ شیطان کی تقدیس کے صوفیانہ نقطۂ نظر کو قبول کرتا ہے۔ [42]

اسی تناظر میں وہ تقدیر کو بدلنے میں دعا اور مناجات کے کسی کردار کا قائل نہیں ہے۔ یوں وہ ایک قسم کے جبرِ مطلق پر پہنچتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کی اخلاقی ذمہ داریوں کی روح سے متصادم ہے۔ [43]

شریعت، طریقت اور حقیقت

جیلانی دینی معرفت کے تین درجے بناتا ہے: شریعت (ظاہر)، طریقت (شریعت کا باطن) اور حقیقت (طریقت کا باطن)۔ [44] اس کے خیال میں حصولی علوم عام لوگوں کے لیے ہیں۔ اہلِ حقیقت کو ان کے باطن میں اترنا چاہیے، جو عوام نہیں کر سکتے۔ اس بنا پر وہ حقیقت تک پہنچنے کے بعد عبادت کو شرک سمجھتا ہے۔ [45] اس کے خیال میں صوفی فناء فی اللہ ہونے کے بعد تکالیفِ شرعی سے آزاد ہو جاتا ہے اور اس کے تمام کام اصل میں خدا کے کام ہوتے ہیں۔ یہ سوچ قادری صوفیوں میں بے راہ روی عام ہونے کا بڑا سبب بنی۔

شطحیات

عبدالقادر جیلانی کی تحریروں میں شطحیات بہت ہیں جو اس کی خود پسندی اور صوفیانہ غلو کا اظہار کرتی ہیں۔ [46] وہ اپنے آپ کو جنوں، انسانوں اور فرشتوں کا شیخ اور پیشوا کہتا ہے۔ [47] وہ اپنے آپ کو رسول اللہ ؐ کا نائب سمجھتا ہے جس نے بزعمِ خود نبی کریم ؐ کی پیروی میں تمام روحانی مقامات طے کئے ہیں۔ [48]

جیلانی کا دعویٰ ہے کہ جو بھی اس کی طرف رجوع کرے گا اس کی حاجات پوری ہوں گی، حتیٰ کہ انبیاء ؑ بھی ضرورت کے وقت اسے پکارتے ہیں۔ [49] وہ اپنے آپ کو مخلوق کے کاموں کی تکمیل کرنے والا اور جنت کے مالک کے طور پر متعارف کراتا ہے اور انسانوں کو اپنی رعایا کے طور پر دیکھتا ہے۔ [50]

صوفیوں کی کتابوں میں عبدالقادر جیلانی سے متعدد ریاضتیں اور کرامتیں منسوب کی گئی ہیں۔ جیسے کہ بچپن میں رمضان کے دوران ماں کا دودھ نہ پینا، [51] چالیس سال تک شام کے وضو کے ساتھ صبح کی نماز ادا کرنا، یا مُردوں کو زندہ کرنا، وغیرہ۔ [52]

اس طرح کی باتیں اگرچہ واقعیت سے دور ہیں لیکن قرون وسطیٰ کے صوفیوں میں کہانیاں گھڑنے کے رواج کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب علم اور تحقیق کی جگہ جہلِ مرکب اور خیال پردازی نے لے لی۔ صوفیوں کا مسلمانوں کی عقل پر یہ حملہ چنگیز خان کے حملوں سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا اور مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔

ذکرِ جلی اور سماع

جیلانی نے ذکرِ جلی کو بہت اہمیت دی ہے۔ یعنی بلند آواز میں خدا کا ذکر کرنے اور شور مچانے کو آرام سے خدا کا ذکر کرنے پر ترجیح دی ہے۔ [53] اس نے اس بات پر زور دیا کہ مرید کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خود سے کوئی بھی ذکر کرے، بلکہ ذکر شیخ کی تلقین سے ہی کیا جائے۔ یہاں تک کہ اس نے قبولِ اسلام اور توحید کو بھی گرو کی طرف سے باطنی تلقین سے مشروط قرار دیا۔ [54]

یہ بھی پڑھئے: حقیقی مکاشفے کیلئے دستور العمل کے طالب جوان کو نصیحت – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں ”سماع کے دوران فقراء کے آداب“ کے عنوان سے ایک الگ باب باندھا ہے اور سماع، یا صوفیانہ رقص، کو روحانی احوال کی تجلی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ [55] اس قسم کا رویہ بعد کے صوفی سلسلوں میں ایک رسم کی حیثیت حاصل کر گیا۔

کرامات کے افسانے

عبدالقادر جیلانی کی زندگی اور شخصیت کرامات اور غلو پر مبنی افسانوں میں گھری ہوئی ہے۔ [56] ان میں سے بہت سی کرامات تو ایسی ہیں جن میں انبیاء ؑ کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ خوانساری نے روضات الجنات میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس سے منسوب کرامات کو عقل و نقل سے ماوراء قرار دیا ہے۔ [57] ان کرامات میں سے کچھ تو زبان زد عام ہیں:

1۔ پیدائش کے وقت سے رمضان کے احترام میں ماں کا دودھ پینے سے پرہیز [58]

2۔ خطبہ دیتے ہوئے منبر پر اڑنا [59]

3۔ موت کے فرشتے سے لڑنا اور فوت شدگان کو دوبارہ زندہ کرنا [60]

ظاہر ہے کہ ان کا واقعیت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہانیاں محض عوام کو فریب دینے کیلئے بنائی گئی ہیں۔

عائشہ اور امیر معاویہ کیلئے عذر تراشی

غنیۃ الطالبین میں عبدالقادر جیلانی نے عدالتِ صحابہ کے عقیدے کو اسلام کے اصولوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ وہ معتقد ہے کہ معاویہ ابن ابی سفیان سمیت تمام صحابہ عادل اور قابلِ احترام ہیں اور ان پر تنقید نہیں کی جانی چاہئے۔ اس نے معاویہ کا ذکر اہلسنت کے خلفائے راشدین کے ساتھ کیا اور نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ بھی لگایا۔ [61] جنگِ جمل و صفین کے بارے میں جیلانی کہتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ شخصی اجتہاد کا نتیجہ تھا اور دوسروں کو اس میں قضاوت کرنے کا حق نہیں ہے۔

عبدالقادر جیلانی سے منسوب خواب میں بتایا گیا ہے کہ اس نے خود کو ام المؤمنین عائشہ کی گود میں ان کی چھاتی سے دودھ پیتے ہوئے پایا۔ [62] اس کی تشریح یوں کرنا مناسب ہو گا کہ اس کا مطلب ام المؤمنین سے کسبِ فیض ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ صوفیاء اس قسم کے خواب نہ سنایا کریں؟

حضرت ابو طالب ؑ کی تکفیر

آیتِ مبارکہ «إِنَّكَ لا تَہدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَہدِی مَنْ يَشَاءُ» [63] کا حوالہ دے کر عبدالقادر جیلانی نے کہا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب ؑ کی ہدایت کرنا چاہی لیکن وہ ناکام رہے، جبکہ سید الشہداء حضرت حمزہ ؑ کے قاتل وحشی نے ہدایت پا لی۔ [64]

یہ بھی پڑھئے: جناب مرتضیٰ مطہری نے گمراہ صوفیوں ہی کو عارف قرار دیا ہے – آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو

صوفیاء کے بارے میں علامہ باقر مجلسی ؒ کا نظریہ

علامہ مجلسی (متوفیٰ 1699ء) ”رسالہٴ لیلیہ“ میں اہلِ تصوف کے بارے میں لکھتے ہیں:

”کچھ اہل زمانہ نے بدعتوں کو اپنا دین بنا رکھا ہے جن سے وہ بخیال خویش خدا کی عبادت کرتے ہیں اور انہوں نے اس کا نام تصوف رکھا ہے۔ ان لوگوں نے رہبانیت کو اپنی عادت و عبادت قرار دے دیا ہے، حالانکہ پیغمبرِ اسلام ؐ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے اور شادی بیاہ کرنے، لوگوں سے تعلقات و مراسم بڑھانے، جمعہ و جماعت میں حاضر ہونے، اہلِ ایمان کی مجالس و محافل میں شرکت کرنے، ایک دوسرے کو ہدایت کرنے، احکام خداوندی پڑھنے اور پڑھانے، بیماروں کی مزاج پرسی کرنے، جنازوں کی مشایعت کرنے، اہلِ ایمان کی ملاقات وزیارت کرنے، ان کی حاجت برآری میں کدو کاوش کرنے، نیکی کا حکم دینے اور بُرائی سے روکنے اور حدود خداوندی جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ان کی خود ساختہ رہبانیت کا لازمی نتیجہ ان تمام فرائض و مستحبات کا ترک کرنا ہے۔

اس گروہ نے رہبانیت میں کچھ خود ساختہ عبادات (اور اوراد و وظائف) بھی اختراع کر رکھے ہیں۔ منجملہ انکے ایک ذکرِ خفی ہے۔ یہ ان کا ایک خاص عمل ہے جو مخصوص ہیئت و کیفیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے متعلق نہ کوئی نص وارد ہے اور نہ ہی قرآن وسنت میں اس کا کہیں کوئی نام و نشان پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی ہی چیز کو بلا شک و شبہ بدعت کہا جاتا ہے جو کہ حرام ہے۔ جناب رسولِ خدا ؐ فرماتے ہیں: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا راستہ سیدھا جہنم کی طرف جاتا ہے۔

دوسرا ذکرِ جلی ہے جس میں یہ لوگ اشعار گاتے اور گدھے کی طرح ہینگتے ہیں۔ اور کفارِ مکہ کی طرح سیٹیاں اور تالیاں بجا کر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ ان دو خود ساختہ ذکروں کے سوا اللہ کی کوئی عبادت ہی نہیں ہے۔

ان اذکار کے علاوہ وہ تمام نوافل وسنن کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہاں البتہ جس طرح کوا ٹھونگے مارتا ہے اس طرح برائے نام صرف نمازِ فریضہ ادا کر لیتے ہیں۔ اور اگر ان کو علماء کا خوف دامن گیر نہ ہو تو یہ نمازِ فریضہ بھی ترک کر دیں۔

پھر یہ لوگ، کہ خدا ان پر لعنت کرے، صرف انہی بدعتوں پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اصولِ دین میں تحریف و تغییر بھی کرتے ہیں اور وحدۃ الوجود کا باطل عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس کے جو معنی اس زمانہ میں مشہور ہیں اور اس گروہ کے بزرگوں سے سننے میں آئے ہیں، وہ سراسر کفر و شرک ہے۔

نیز یہ فرقہ عقیدۂ جبر اور تمام عبادات کے ساقط ہونے اور اس قسم کے دوسرے بعض باطل عقائد و نظریات کا قائل ہے۔

اے برادرانِ اسلامی! ڈرو ان سے، اور ان شیطانوں کے وسوسوں اور شبہوں سے اپنے دین و ایمان کو بچاؤ۔ اور خیال رکھو، مبادا کہیں ان کے ظاہری اور مصنوعی اخلاق و اطوار سے، جو جاہلوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، کہیں دھوکہ نہ کھا جانا۔“ [65]

تجزیہ و تحلیل

صوفیوں کے بنیادی عقائد دراصل زمانۂ جاہلیت کے مشرک فلسفی فلوطین (Plotinus) کی فکر سے متاثر ہیں۔ تیسری صدی ہجری میں معتصم باللہ کے دورِ حکومت میں فلوطین کی کتاب کے تین ابواب اثولوجیا کے عنوان سے ترجمہ ہوئے اور ارسطو کے نام پر شائع ہوئے تھے۔

فلوطین کا فلسفہ

فلوطین خدائے واحد کو مانتا تھا لیکن اس کی معرفت کے حصول کیلئے انبیائے کرامؑ سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا تھا۔ وہ کتاب اور گفتگو کے بجائے علمِ حضوری اور کشف کو معرفت کا ذریعہ سمجھتا ہے:

Our awareness of that One is not by way of reasoned knowledge or of intellectual perception, as with other intelligible things, but by way of a presence superior to knowledge. [66]

ترجمہ: ”ہمیں ذاتِ واحد کے بارے میں معرفت عقلی علم یا ذہنی تصور کے راستے سے میسر نہیں آتی، اگرچہ معقولات کی پہچان انہی ذرائع سے ہوتی ہے، لیکن ذاتِ واحد کی معرفت حضوری طور پر ملتی ہے اور یہ علم سے افضل ہے۔“

فلوطین کہتا ہے:

This is the soul’s true end, to touch that light and see it by itself, not by another light, but by the light which is also its means of seeing. [67]

ترجمہ: ”روح کی حقیقی منزل اُس نور کو محسوس کرنا اور اُس سے اُسے دیکھنا ہے، کسی اور روشنی کے وسیلے کے بغیر، خود اُسی نور سے!“

فناء فی اللہ کا عقیدہ فلوطین کے نظریۂ فیض کی بازگشت ہے کہ کائنات خدا سے ذاتاً صادر ہوئی اور قدیم ہے۔ پہلے عقل، پھر روح اور آخر میں مادہ نکلا، اور یہ عمل قوسِ نزولی (The Downward Path) پر مکمل ہوا۔ مرحلہ وار کثرت بڑھی: عالمِ عقل کی معقولات مجرد ہیں اور ان میں وحدت ہے، عالمِ ارواح میں متعدد ارواح ہیں جو مادے اور عقل کا امتزاج ہیں، عالمِ مادہ میں متعدد اجسام لامتناہی اجزاء سے مرکب ہیں۔ روح کو قوسِ صعودی (The Upward Path) پر کثرت سے وحدت کی طرف جانا ہے۔ چنانچہ موت کے بعد روح مادی جسم سے ملحق نہیں ہو سکتی۔ یوں مشرکین قیامت میں مادی جسم کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھ کر ادیانِ ابراہیمی کا انکار کرتے رہے۔

آئمہ اہلبیت ؑ کا فکری جہاد

حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے دشمنوں کی عملی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی تو انکا فکری رہنما ابوجہل عمرو ابن ہشام تھا جسے وہ ابو الحکم، یعنی معقولات کا ماہر، کہتے تھے۔ آپؐ کی رحلت کے بعد مشرکینِ مکہ کے بعض پسماندگان نے نفاق کا رویہ اپنا کر اپنے آباء و اجداد کے ورثے کو اسلامی رنگ دے کر باقی رکھنا چاہا۔ آئمۂ اہلبیت ؑ نے دین کے تحفظ کیلئے سیاسی میدان میں بنی امیہ کی سازشوں کا مقابلہ کیا اور فکری میدان میں مشرکین کی الٰہیات کے احیاء کی کوششوں کے خلاف جدوجہد کی۔

امام علی رضاؑ نے وحدتِ خالق و مخلوق کو رد کرتے ہوئے فرمایا:

كُنْہُہُ تَفْرِيقٌ بَيْنَہُ وَ بَيْنَ خَلْقِہِ.

ترجمہ: ”اس کی اصلیت اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان فرق ہے۔“ [68]

ادیان ابراہیمی اور مشرکین میں ایک اور بنیادی اختلاف کائنات کے ازلی و ابدی ہونے کا تھا۔

ادیانِ ابراہیمی کائنات، اس کے زمان و مکان اور جو کچھ اس میں ہے، کو حادث قرار دیتے ہیں۔

امام علی رضا ؑ نے ابو قرّہ کے سوال کے جواب میں فرمایا:

أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنَّ مَا سِوَى اللَّہِ فَانٍ وَ مَا سِوَى اللَّہِ فِعْلُ اللَّہِ وَ التَّوْرَاۃُ وَ الْإِنْجِيلُ وَ الزَّبُورُ وَ الْفُرْقَانُ فِعْلُ اللَّہِ أَ لَمْ تَسْمَعِ النَّاسَ يَقُولُونَ رَبُّ الْقُرْآنِ وَ إِنَّ الْقُرْآنَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ يَا رَبِّ ہَذَا فُلَانٌ وَ ہُوَ أَعْرَفُ بِہِ مِنْہُ قَدْ أَظْمَأْتُ نَهَارَہُ وَ أَسْہَرْتُ لَيْلَہُ فَشَفِّعْنِي فِيہِ وَ كَذَلِكَ‌ التَّوْرَاۃُ وَ الْإِنْجِيلُ وَ الزَّبُورُ وَ ہِیَ كُلُّہَا مُحْدَثَةٌ مَرْبُوبَةٌ أَحْدَثَہَا مَنْ‌ لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْ‌ءٌ ہُدًى لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ فَمَنْ زَعَمَ أَنَّہُنَّ لَمْ يَزَلْنَ مَعَہُ فَقَدْ أَظْہَرَ أَنَّ اللَّہَ لَيْسَ بِأَوَّلِ قَدِيمٍ وَ لَا وَاحِدٍ وَ أَنَّ الْكَلَامَ لَمْ يَزَلْ مَعَہُ وَ لَيْسَ لَہُ بَدْءٌ وَ لَيْسَ بِإِلٍَہ.

ترجمہ: ”اجماعِ مسلمین ہے کہ خدا کے سوا ہر چیز نابود ہو جائے گی۔ خدا کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کا فعل ہے۔ تورات، انجیل، زبور اور قرآن بھی اس کے افعال ہیں۔ تم نے لوگوں کو یہ کہتے نہیں سنا، ربِ قرآن؟ خود قرآن قیامت کے دن کہے گا اے میرے رب! یہ فلاں ہے، حالانکہ خدا اُس کو اِس سے بہتر پہچانتا ہے، اس کا دن پیاس اور رات بیداری کی حالت میں گزرتی تھی۔ اس کیلئے میری شفاعت قبول کرو۔ یہی معاملہ تورات، زبور اور انجیل کا ہے۔ سبھی آسمانی کتب مخلوق اور حادث ہیں۔ ان کا خالق وہ ہے جس کی مثل کوئی نہیں اور وہ عقلمندوں کو ہدایت دیتا ہے۔ پس جو یہ کہتا ہے کہ یہ کتابیں ازلی ہیں، وہ اصل میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا پہلا اور یکتا قدیم نہیں ہے۔ اس کا کلام ہمیشہ اس کے ساتھ تھا۔ یہ ابتدا میں صرف خدا کے ہونے اور اسی کے لائقِ عبادت ہونے کا انکار ہے۔“

جناب ابو قرّہ نے امام علی رضا ؑ کی خدمت میں عرض کی:

إِنَّا رُوِّينَا أَنَّ الْكُتُبَ كُلَّہَا تَجِي‏ءُ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ وَ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ صُفُوفٌ قِيَامٌ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ يَنْظُرُونَ حَتَّى تَرْجِعَ فِيہِ لِأَنَّہَا مِنْہُ وَ ہِیَ جُزْءٌ مِنْہُ فَإِلَيْہِ تَصِيرُ.

ترجمہ: ”ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب آسمانی کتابیں آئیں گی اور سب لوگ ایک سطح پر صفیں بنا کر خدا کیلئے کھڑے ہونگے۔ وہ دیکھیں گے کہ یہ سب کتابیں خدا کے اندر چلی جائیں گی کیونکہ یہ خدا سے آئی تھیں۔ یہ اس کا جزء ہیں اور اس سے مل جائیں گی۔“

امام ؑ نے فرمایا:

فَہَكَذَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي الْمَسِيحِ إِنَّہُ رُوحُہُ جُزْءٌ مِنْہُ وَ يَرْجِعُ فِيہِ وَ كَذَلِكَ قَالَتِ الْمَجُوسُ فِي النَّارِ وَ الشَّمْسِ إِنَّہُمَا جُزْءٌ مِنْہُ تَرْجِعُ فِيہِ تَعَالَى رَبُّنَا أَنْ يَكُونَ مُتَجَزِّياً أَوْ مُخْتَلِفاً. [69]

ترجمہ: ”یہی سب تو مسیحی حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خدا کی روح اور اس کا جزء ہیں اور اس کی ذات میں چلے جائیں گے۔ مجوسیوں نے بھی سورج اور آگ کے بارے میں یہی کہا کہ سورج اور آگ خدا کا حصہ ہیں اور اس میں چلے جائیں گے۔ ہمارا رب اس سے بلند ہے کہ اجزاء اور اختلاف رکھتا ہو۔ “

اگر کلامِ الٰہی کے بارے میں فناء فی اللہ اور بقاء باللہ کا عقیدہ رکھنا غلط ہے، تو باقی موجودات کیلئے ایسا عقیدہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟

آئمۂ برحق ؑ نے جہاں ذاتِ باری تعالٰی کی معرفت سے عقل کو معذور جانا وہیں مخلوقات کو پہچاننے کیلئے عقل کے استعمال اور اجماعی علوم (Sciences) پر تبادلۂ خیال کرنے (Group Discussion) کی حوصلہ افزائی کی۔ امام محمد باقر ؑ سے مروی حدیث میں آیا ہے:

تَكَلَّمُوا فِي خَلْقِ اللَّہِ وَلَا تَتَكَلَّمُوا فِي اللَّہِ. فَإِنَّ الْكَلَامَ فِی اللَّہِ لَا يَزْدَادُ صَاحِبَہُ إِلَّا تَحَيُّراً. [70]

ترجمہ: ”خدا کی مخلوقات کے بارے میں بات چیت کرو لیکن خدا کی ذات و صفات کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ خدا کی ذات و صفات کے بارے میں کلام کرنے والے کو حیرانی و سرگردانی میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔“

قرآن نے مشرکین اور ان کے متاثرین کی من گھڑت الٰہیات کی مذمت کی ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَن یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیرِ عِلمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیرٍ. ثَانِیَ عِطفِہٖ لِیُضِلَّ عَن سَبِیلِ اللّٰہِ. [71]

ترجمہ: ”اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم، ہدایت اور روشن کتاب کے کج بحثیاں کرتے ہیں، تاکہ متکبرانہ انداز میں لوگوں کو راہِ خدا سے گمراہ کریں۔“

ایسے لوگ لایعنی لفاظی سے عوام پر دھاک بٹھاتے ہیں اور الفاظ سے گوناگوں باطنی معنی نکالتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو ان اصطلاحات میں الجھا کر گمراہ کرتے ہیں۔ امام علی ؑ کے الفاظ میں:

وَ اٰخَرُ قَدْ تَسَمّٰی عَالِمًا وَّ لَیْسَ بِهٖ، فَاقْتَبَسَ جَهَآئِلَ مِنْ جُهَّالٍ وَّ اَضَالِیْلَ مِنْ ضُلَّالٍ، وَ نَصَبَ لِلنَّاسِ اَشْرَاكًا مِّنْ حَبَآئِلِ غُرُوْرٍ، وَ قَوْلِ زُوْرٍ، قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلٰۤی اٰرَآئِہِ، وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلٰۤی اَہوَآئِہِ، یُؤَمِّنُ النَّاسَ مِنَ الْعَظَآئِمِ، وَ یُہَوِّنُ كَبِیْرَ الْجَرَآئِمِ. [72]

ترجمہ: ”ایک اور شخص ہوتا ہے جس نے (زبردستی) اپنا نام عالم رکھ لیا ہو، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔“

جدید فلسفہ کیا کہتا ہے؟

جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ نے عقل کے نقائص کو واضح کر کے جدید فلسفے کی بنیاد رکھی۔ ان کا کہنا ہے:

“Reason concludes that the Supreme Being, as the primal basis of all things, possesses an existence which is absolutely necessary.” [73]

ترجمہ: ”عقلِ نظری اس نتیجے پر پہنچ جاتی ہے کہ سب چیزوں کی اولین اساس ایک عظیم وجود ہے جس کی موجودگی لازم ہے۔“

تاہم کانٹ کہتے ہیں کہ ہم اپنی عقلِ نظری کے ناقص ہونے کی وجہ سے صرف واجب الوجود کے ہونے کو ضروری کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کے وجود کی حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے۔

“The conception of an absolutely necessary being is a mere idea, the objective reality of which is far from being established by the mere fact that it is a need of reason.” [74]

ترجمہ: ”واجب الوجود کا تصور ایک خیال ہی تو ہے۔ یہ کہ اس کا ہونا عقلاً ضروری ہے، اس کی حقیقتِ واقعیہ کو معین نہیں کرتا۔“

تاہم عقلِ عملی، جو ہمارے ارادے کے ذریعے کام کرتی ہے، اس نقص سے پاک ہو سکتی ہے۔ معاشرتی زندگی میں ہمیں من مانی کرنے کی خواہش اور اخلاقی ذمہ داری کے باہمی تضاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کانٹ کے مطابق اخلاقی حدود کی پابندی سے خدا کا تصور ایک خیال سے بڑھ قابلِ تصدیق ایمان بن جاتا ہے۔

“The moral law, through the concept of the highest good as the object and the final purpose of pure practical reason, leads to religion, i.e., to the cognition of all duties as divine commands, not as sanctions, i.e., chosen and by themselves contingent ordinances of another’s will, but as essential laws of every free will by itself. (Even as such,) these laws must nonetheless be regarded as commands of the supreme being, because we can hope to reach the highest good, which the moral law makes it our duty to posit as the object of our endeavor, only through a will that is morally perfect (holy and benign) and simultaneously also all-powerful, and thus through harmony with this will.” [75]

ترجمہ: ”اعلیٰ ترین نیکی کے حصول کے خالص عقلِ عملی کا مقصد اور آخری ہدف ہونے کے تصور کے ذریعے اخلاق کا فطری اصول ہمیں دین تک پہنچا دیتا ہے: یعنی اخلاقی ذمہ داریوں کو ایسی پابندیاں نہ سمجھنا جن کا انتخاب کسی دوسرے شخص کے اردے سے ہوا ہو اور وہ کسی غیر کے عائد کردہ ضوابط ہوں، بلکہ ان کو آزادئ ارادہ کے لازمی قوانین سمجھنا۔ پھر ان قوانین کو ذاتِ کبریا کے احکام سمجھنا بھی ضروری ہے کیونکہ ہم ایک مقتدر اور اخلاقی طور پر کامل ارادے کے ساتھ اپنے ارادے کو ہم آہنگ کر کے ہی نیکی کے اس اعلیٰ ترین درجے تک پہنچنے کی امید رکھ سکتے ہیں جسے اخلاق کے فطری اصول نے ہماری سعی و کوشش کا مقصد قرار دیا ہے۔“

آگے چل کے کہتے ہیں:

“He must be omniscient, in order to cognize my conduct even to my innermost attitudes in all possible cases and throughout the future; omnipotent, in order to assign to this conduct the appropriate consequences; likewise omnipresent, eternal, etc. Hence the moral law, through the concept of the highest good, determines the concept of the original being as supreme being.” [76]

ترجمہ: ”اس کو ہر نقص سے پاک علم کا مالک ہونا چاہئے تاکہ وہ میرے کردار اور میرے باطن کی گہرائیوں اور میرے مستقبل میں چھپے حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہو۔ اسے قادرِ مطلق ہونا چاہئے تاکہ وہ مجھے میرے کردار کے مطابق اجر دے سکے۔ اسے حاضر و ناظر اور ازلی و ابدی بھی ہونا چاہئے۔ ۔ ۔ عَلیٰ ہٰذا الْقِیاس۔ یوں اخلاق کا فطری اصول واجب الوجود کی کبریائی کے تصور کو معین کرتا ہے۔“

الفاظ کو ان کے عرفی معنوں میں استعمال نہ کرنا جہل مرکب ہے۔ جدید فلسفے کی اہم شخصیت وِٹگنشٹائِن زبان کو انسانی اجتماعات کا مشترکہ اوزار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق الفاظ کے معنی ان کے اجماعی استعمال کے تناظر میں متعین ہوتے ہیں۔ [77] وہ مبہم لفاظی کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

When philosophers use a word—knowledge, being, object, I, proposition, name—and try to grasp the essence of the thing, one must always ask oneself: is the word ever actually used in this way in the language-game which is its original home? — What we do is to bring words back from their metaphysical to their everyday use. [78]

ترجمہ: ”جب بھی فلسفی کوئی لفظ استعمال کریں، مثلاً علم، وجود، شے، میں، مسئلہ، نام، وغیرہ، اور اس چیز کی ماہیت کو بیان کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں ہمیشہ خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے: کیا یہ لفظ کبھی لوگوں کے زبانی تبادلے میں، جو اس کا اصل مقام ہے، اس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ یوں ہم الفاظ کو طلسمات سے نکال کر روزمرہ کے استعمال میں واپس لائیں گے۔“

علمِ غیب کے دعوے کرنے والوں کے بارے میں کہتے ہیں:

When people talk about the possibility of foreknowledge of the future they always forget the fact of the prediction of one’s own voluntary movements. [79]

ترجمہ: ”جب لوگ مستقبل کی پیشگوئیوں کے امکان کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے ارادی افعال کی پیشگوئی کرنا ہمیشہ بھول چکے ہوتے ہیں۔“

تصوف و تشیع میں فرق

تصوف میں دینی معارف کا منبع ثقلین کی جگہ صوفیوں کو بنا لیا جاتا ہے۔ آیات و فرامینِ معصومین ؑ کی جگہ کشف و شہود لے لیتے ہیں۔ یہ امامت کا منصب غصب کرنے کی کوشش ہے۔ تصوف کی نظر میں کامل ولی وہ ہے جو خدا سے ملحق ہو چکا ہو اور اس کی بندگی تمام ہو چکی ہو۔ جبکہ تشیع میں بندگی کبھی ختم نہیں ہوتی اور امام کی عبودیت دوسروں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ اثنا عشری شیعہ رسول اللہ ؐ کے زمانے سے لے کر قیامت تک، صرف بارہ اماموں کو ولی اور امام مانتے ہیں۔ یہ آئمہ ؑ خدا کی طرف سے منتخب کیے گئے ہیں اور رسول اللہ ؐ کے فرمان کے ذریعے مقرر کیے گئے ہیں۔ امام ؑ کی پہچان صرف قرآن و حدیث کی بنا پر ہوتی ہے۔

جیلانی سمیت اکثر صوفی جبر پسند اشعریت کے قائل ہیں۔ جبرِ محض کا مذہب ظالموں کا پسندیدہ مذہب ہے۔ شیعہ عقیدہ «لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِيضَ وَ لَكِنْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ» سے عبارت ہے۔ انسان نہ مجبورِ محض ہے نہ مختارِ کل، بلکہ ان دو انتہاؤں کے بیچ میں اعتدال پر مبنی عقیدہ ہی درست ہے۔ [80]

پس واضح ہوا کہ تصوف و تشیع کے راستے جدا جدا ہیں۔ امام علی نقی ؑ نے کا فرمان ہے:

الصوفیۃ کلہم من مخالفینا و طریقتہم مغایرۃ لطریقتنا. [81]

ترجمہ: ”صوفی سب کے سب ہمارے مخالف ہیں اور ان کا راستہ ہمارے راستے سے جدا ہے۔“

حوالہ جات

1۔ سمعانی، عبدالکریم، الانساب، ج2، ص145.
2۔ زرین‌کوب، عبدالحسین، ارزش میراث صوفیہ، ص112.
3۔ مدرس تبریزی، محمد علی، ریحانہ الادب، ج3، ص494.
4۔ خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات، ج5، ص85؛ مدرسی چہاردہی، نورالدین، سلسلہ ہای صوفیہ ایران، ص115.
5۔ ابن شاکر، فوات الوفیات، ج2، ص4، ابن الوردی، تاریخ ابن الوردی، ج2، ص107، زرکلی، الاعلام، ج4، ص47.
6۔ ابن شاکر، محمد، فوات الوفیات، ج2، ص273.
7۔ گیلانی، عبدالقادر، سر الاسرار، مقدمہ کتاب السیف الربانی، احمد فرید المزیدی (1428ق)، ص422؛ محلاتی، ذبیح الله، السیوف البارقہ، ص72؛ ابن‌عنبہ، جمال‌الدین احمد، الفصول الفخریہ، ص۱۱۷؛ ابن‌طقطقی، محمد بن علی، الاصیلی فی انساب الطالبیین، ص۹۵-۹۶.
8۔ شطّنوفی، ابوالحسن علی بن یوسف، بہجہ الاسرار، ص106.سیدین، علی، پَشمینہ پوشان، ص251.
9۔ جامی، نفحات الانس، ص510.
10۔ معصوم علیشاہ، طرائق الحقائق، ج2، ص365.
11۔ عبدالرحمن جامی، نفحات الأنس، ص588: يازدہ سال در يک برج بنشستم و با خداى تعالى عہد كردہ بودم كه نخورم تا نخورانند و لقمہ در دهان من ننہند، و نياشامم تا مرا نياشامانند. يك بار چہل روز ہيچ نخوردم.
12۔ حموی، یاقوت، معجم الادباء، ص230.
13۔ حسيني زبيدي، محمد مرتضى‏، تاج العروس من جواہر القاموس‏، ج6، ص83.گیلانی، سر الاسرار، مقدمہ کتاب السیف الربانی، احمد فرید المزیدی، ص422.صافی، بہار ادب، ص57.
14۔ ابن عربی، ترجمہ رسالہ غوثیہ، ص10-11.
15۔ ذہبی، سیر أعلام النبلاء، ج20، ص439-441. تاذفی، قلائد الجواہر، ص9 و 66. ندوی، ابی الحسن، رجال الفکر و الدعوہ فی الاسلام، ج1، ص298.
16۔ خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات، ج5، ص85.
17۔ شعرانی، عبدالوہاب، الطبقات الکبری، ج1، ص228.
18۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص277.
19۔ ابن تیمیہ، احمد، الفتاوی، ج10، ص455.
20۔ زرین‌کوب، عبدالحسین، جستجو در تصوف ایران، ص357.
21۔ قنبری، صباح، بررسی مقایسه‌ای سیاست دولت ایران و عثمانی نسبت به طریقت قادریہ، ص12.

22۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ، ص46، به نقل از محلاتی، ذبیح اللہ، سیوف البارقہ، ص88 و قمی، عباس، سفینہ البحار، ج6، ص270.
23۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص412.
24۔ گیلانی، عبدالقادر، جلاء الخاطر، ص95؛ جوادی تالشی، (نیما) رفعت، فیوضات رحمانی، ص110.
25۔ تأدّفی حنبلی، محمد، قلائد الجواہر، ص49.
26۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص143.
27۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، 124.
28۔ شیخ صدوق، امالی، جلد 3، صفحہ 340۔
29۔ گیلانی، عبدالقادر، رسائل، رساله حلاج نامہ، ص52.
30۔ گیلانی، عبدالقادر، فتوح الغیب، ص64_69.
31۔ گیلانی، عبدالقادر، رسائل: رسالہ فی الاسماء العظیمہ للطریق الی الله، (1393ش)، ص50.
32۔ گیلانی، عبدالقادر، جلاء الخاطر، ص19و 142.
33۔ زیدان، یوسف محمد طہ، دیوان عبدالقادر الجیلانی باز اللہ الاشہب، ص98 و 102.
34۔ یافعی یمنی، عبداللہ، خلاصہ المفاخر، ص44.
35۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ، ج2، ص280.
36۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص151.
37۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ، ج2، ص275 الی 285.
38۔ گیلانی، عبدالقادر، سر الاسرار، ص143.
39۔ التادفی الحنبلی، محمد، قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبدالقادر، ص207.
40۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ، ج1، ص65.
41۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ، ج1، ص64.
42۔ گیلانی، عبدالقادر، فتوح الغیب، ص139.
43۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص132.
44۔ گیلانی، عبدالقادر، سر الاسرار، ص445.
45۔ داراشکوہ، حسنات العارفین، ص33، گیلانی، عبدالقادر، سر الاسرار، ص446.
46۔ مطہری، مرتضی، عرفان، آشنایی با کلیات علوم اسلامی، ص57.
47۔ یافعی، عبدالله، خلاصہ المفاخر فی مناقب الشیخ عبدالقادر، ص228.
48۔ خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات، ج5، ص87.
49۔ التادفی الحنبلی، محمد، قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبدالقادر، ص237.گیلانی، عبدالقادر، سر الاسرار، ص496.
50۔ گیلانی، عبدالقادر، الفتح الربانی، ص310، جوادی تالشی، (نیما) رفعت، فیوضات رحمانی، ص84.گیلانی، عبدالقادر، فتوح الغیب (سر الأسرار و مظہر الأنوار فیما یحتاج إلیہ الأبرار)، ص171.
51۔ جامی، عبدالرّحمن، نفحات الأنس، ص587.
52۔ سیدین، علی، پشمینہ پوشان، ص251. شہابی سعدی قادری، محمدصادق، مناقب غوثیہ، منقبت 16، برگ شمارہ 177.إربلی قادری، عبدالقادر، تفریح الخاطر فی مناقب تاج الاولیا و برہان الاصفیا الشیخ عبدالقادر الجیلانی، ص17.
53۔ گیلانی، عبدالقادر، سرالاسرار، فصل ہشتم، ص۸۳.
54۔ گیلانی، عبدالقادر، وصایا و مکتوبات، ص74.
55۔ گیلانی، عبدالقادر، الغنیہ لِطالبی طریقُ الحق، ترجمه زاہد ویسی، ص1178.
56۔ زرین‌کوب، عبدالحسین، جستجو در تصوف ایران، ص160.
57۔ «نسبوا الیہ خوارق عادات عجیبات لا تنسبہا عوض الی احمد من الانبیا الارکان» خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات، ج5، ص85.
58۔ جامی، عبدالرحمن، نفحات الأنس، ص587.
59۔ یافعی، عبداللہ، خلاصہ المفاخر فی مناقب الشیخ عبدالقادر، ص226.
60۔ شہابی سعدی قادری، محمد صادق، مناقب غوثیہ، منقبت 16، برگ شمارہ 177.إربلی قادری، عبدالقادر، تفریح الخاطر فی مناقب تاج الاولیا و برہان الاصفیا الشیخ عبدالقادر الجیلانی، ص17.
61۔ گیلانی، الغنيہ لطالبی طريق الحق، ص203.
62۔ اتحاف الاکابر فی سیرہ و مناقب الامام محیی الدین عبدالقادر ص ۱۱۶.
63۔ قصص: 56.
64۔ سأل النبي هدايۃ عمک أبي طالب، فأبى أن يہدي، وہدى وحشياً قاتل حمزۃ رضی اللہ عنہما.
گیلانی، الغنية، ج2، ص287-288.
65۔ آیۃ اللہ محمد حسین نجفی ڈھکو، اعتقاداتِ امامیہ، صفحات 32 تا 36۔
66. Plotinus, Vol. 7 (Enneads, VI. 6-9), p. 315, translation: A. H. Armstrong, Cambridge.
https://archive.org/details/plotinus-in-seven-volumes.-vol.-7-loeb-468/page/n161/mode/1up
67. Ibid, Vol. 5, p. 135.
https://archive.org/details/plotinus-in-seven-volumes.-vol.-5-loeb-444/page/n70/mode/1up
68۔ شیخ صدوق ؒ، کتاب التوحيد، صفحہ 36۔
69۔ احتجاجِ طبرسی، جلد 2، صفحہ 405۔
70۔ کافی، کتاب التوحید، باب النہی عن الکلام فی الکیفیۃ، حدیث 1۔
71۔ سورہ حج، آیات 8، 9۔
72۔ نہج البلاغہ، خطبہ 85۔
73. Kant, The Critique of Pure Reason, p. 342, Hazelton 2010.
74. Ibid, p. 345.
75. Kant, The Critique of Practical Reason, pp. 163, 164, Hackett, 2002.
76. Ibid, p. 177.
77. Wittgenstein, Philosophical Investigations, p. 20, Basil Blackwell, 1986.
78. Ibid, p. 48.
79. Ibid, p. 162.
80۔ اصول کافی، ج۱، ص۱۶۰، دار الکتب الاسلامیہ، تہران.
81۔ شیخ عباس قمی، سفينۃ البحار، ج 5، ص 199۔

 

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button