احادیثِ معصومین

صوفیوں کی مذمت میں احادیثِ معصومین علیہم السلام

100 ملاحظات

صوفیوں، ان کے بنیادی نظریات، ان کے طور طریقوں اور ان کی بعض اہم شخصیات کی مذمت میں معصومین ؑ سے متعدد احادیث مروی ہیں۔ ان میں سے کچھ احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

پہلی حدیث

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

يا أبا ذَرٍّ، يكونُ في آخِرِ الزَّمانِ قَومٌ يَلبَسُونَ الصُّوفَ في صَيفِهِم وشِتائهِم، يَرَونَ أنّ لَهُمُ الفَضلَ بذلكَ على غيرِهِم، اولئكَ يَلعَنُهُم أهلُ السَّماواتِ والأرضِ. (1)

ترجمہ:’’اے ابوذر! آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو گرمیوں اور سردیوں میں صوف کا لباس پہنیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ اس لباس کو پہن کر وہ دوسروں سے افضل ہو گئے ہیں۔ اُن پر آسمانوں اور زمین کے فرشتے لعنت کریں گے۔‘‘

دوسری حدیث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

لا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أُمَّتِي حَتَّى يَقُومَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي اسْمُهُمُ الصُّوفِيَّةُ لَيْسُوا مِنِّي وَ إِنَّهُمْ يَحْلَقُونَ لِلذِّكْرِ وَ يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ عَلَى طَرِيقَتِي بَلْ هُمْ أَضَلُّ مِنَ الْكُفَّارِ وَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ لَهُمْ شَهِيقُ الْحِمَارِ. (2)

ترجمہ:’’میری امت پر قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ان میں ایک ایسا گروہ نہ نکل آئے جس کا نام صُوفیہ ہو گا اور وہ ہم میں سے نہیں ہوں گے اور وہ دائرے بنا کر ذکر کیا کریں گے اور اپنی آوازوں کو بلند کریں گے۔ وہ گُمان کریں گے کہ وہ میرے طریقے پر ہیں حالانکہ وہ کفار سے بھی زیادہ گمراہ اور اہلِ جہنّم میں سے ہوں گے۔ وہ گدھوں کی طرح ہنہنانے والے ہوں گے۔‘‘

تیسری حدیث

علاء ابنِ زیاد نے حضرت امیرالمؤمنین علیؑ سے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! مجھے اپنے بھائی عاصم ابن زیاد کی آپؑ سے شکایت کرنا ہے۔ حضرتؑ نے پوچھا: ’’کیوں، اسے کیا ہوا؟‘‘ علاء نے کہا کہ: اس نے بالوں کی چادر اوڑھ لی ہے اور دنیا سے بالکل بے لگاؤ ہو گیا ہے۔ تو حضرتؑ نے کہا کہ: ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘۔ جب وہ آیا تو آپؑ نے فرمایا کہ:

یَا عُدَیَّ نَفْسِهٖ! لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكَ الْخَبِیْثُ! اَمَا رَحِمْتَ اَهْلَكَ وَ وَلَدَكَ! اَتَرَی اللهَ اَحَلَّ لَكَ الطَّیِّبٰتِ، وَ هُوَ یَكْرَهُ اَنْ تَاْخُذَهَا! اَنْتَ اَهْوَنُ عَلَی اللهِ مِنْ ذٰلِكَ!. قَالَ: یَاۤ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! هٰذَاۤ اَنْتَ فِیْ خُشُوْنَةِ مَلْبَسِكَ وَ جُشُوْبَةِ مَاْكَلِكَ؟ قَالَ: وَیْحَكَ! اِنِّیْ لَسْتُ كَاَنْتَ، اِنَّ اللهَ فَرَضَ عَلٰۤی اَئِمَّةِ الْعَدْلِ اَنْ یُّقَدِّرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِضَعَفَةِ النَّاسِ، كَیْلَا یَتَبَیَّغَ بِالْفَقِیْرِ فَقْرُهٗ!.

ترجمہ: ’’اے اپنی جان کے دشمن! تمہیں شیطان خبیث نے بھٹکا دیا ہے، تمہیں اپنی آل اولاد پر ترس نہیں آتا؟ اور کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ نے جن پاکیزہ چیزوں کو تمہارے لئے حلال کیا ہے اگر تم انہیں کھاؤ برتو گے تو اسے ناگوار گزرے گا؟ تم اللہ کی نظروں میں اس سے کہیں زیادہ گرے ہوئے ہو کہ وہ تمہارے لئے یہ چاہے۔

اس نے کہا کہ یا امیر المومنینؑ! یہ آپؑ کا پہناوا بھی تو موٹا جھوٹا اور کھانا روکھا سوکھا ہوتا ہے؟ تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: تم پر حیف ہے! میں تمہارے مانند نہیں ہوں۔ خدا نے آئمہ حق پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے کو مفلس و نادار لوگوں کی سطح پر رکھیں، تاکہ مفلوک الحال اپنے فقر کی وجہ سے پیچ و تاب نہ کھائے۔‘‘ (3)

چوتھی حدیث

امیر المومنینؑ نے ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:

ترجمہ: ’’اے دنیا کی برائی کرنے والے! اس کے فریب میں مبتلا ہونے والے! اور اس کی غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے! تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو۔ کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرانے کا حق رکھتے ہو؟ یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے؟

دنیا نے کب تمہارے ہوش و حواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا؟ کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گرنے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خوابگاہوں سے؟ کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی اور کتنی دفعہ خود تیمار داری کی، تم ان کیلئے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے۔ اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کیلئے کچھ مفید تھا۔ ان میں سے کسی ایک کیلئے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا مقصد حاصل نہ ہوا اور اپنی چارہ سازی سے تم موت کو اس بیمار سے ہٹا نہ سکے، تو دنیا نے تو اس کے پردہ میں خود تمہارا انجام اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھا دیا۔

بلاشبہ دنیا اس شخص کیلئے جو باور کرے سچائی کا گھر ہے، اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کیلئے امن و عافیت کی منزل ہے، اور جو اس سے زادِ راہ حاصل کر لے اس کیلئے دولتمندی کی منزل ہے، اور جو اس سے نصیحت حاصل کرے اس کیلئے وعظ و نصیحت کا محل ہے۔ وہ دوستانِ خدا کیلئے عبادت کی جگہ، اللہ کے فرشتوں کیلئے نماز پڑھنے کا مقام، وحی الٰہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے۔ انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا۔

تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے، جبکہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے، اور اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، اور اپنے بسنے والوں کی موت کی خبر دے دی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی ابتلا سے ابتلا کا پتہ دیا ہے، اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتوں کا شوق دلایا ہے۔ وہ رغبت دلانے اور ڈرانے، خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کیلئے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے۔

تو جن لوگوں نے شرمسار ہو کر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہوں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی۔‘‘ (4)

پانچویں حدیث

عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب جنگِ جمل ختم ہو گئی تو لوگوں نے اونٹوں کے پالان کا ایک منبر بنایا اور حضرت علی ؑ اس پر گئے۔ اللہ کی حمد وثناء کے بعد نہایت دکھ سے آپ ؑ نے فرمایا:

’’اے اہلِ بصرہ، اے وہ لوگو جو منحرف ہو گئے ہو، اے لا علاج مریضو، چوپایوں کے پیروکارو اور محترمہ کے سپاہیو!، اے چوپایے کی آواز پر جمع ہو جانے والے گروہ، جو چوپایے کی آواز پر جمع ہو گئے اور جب اسے نحر کر دیا گیا تو منتشر ہو گئے۔ تمہارے پینے کا پانی تلخ و ناگوار ہے اور تمہارا قانون نفاق پر مبنی ہے اور تم اخلاق و عقل کے لحاظ سے کمزور اور سست ہو۔‘‘

پھر آپ ؑ منبر سے نیچے اتر آئے۔ ہم ان کے ساتھ چل رہے تھے کہ درمیان میں حسن بصری سے ملاقات ہوئی جو وضو کر رہا تھا۔

امیر المومنین ؑ نے کہا: اے حسن بصری اپنے وضو میں غور کرو۔ اس کی شرائط کی رعایت کرو اور اس کے ظاہری و باطنی آداب کو پورا کرو۔

حسن بصری نے کہا: کل آپ ؑ ان لوگوں سے جنگ کر رہے تھے جو خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتے تھے اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے معتقد تھے۔ وہ وضو کے آداب و شرائط کی رعایت کرتے تھے اور اپنے فرائض کو انجام دیتے تھے۔

امیر المومنین ؑ نے فرمایا: اگر یہی صورت حال تھی اور تم اس کے شاہد تھے تو تم نے ہمارے خلاف ان لوگوں کی طرفداری و نصرت کیوں نہیں کی؟

حسن بصری نے کہا: خدا کی قسم آپ ؑ نے صحیح فرمایا اور میں آپ ؑ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ جنگ کے پہلے دن میں گھر سے باہر آیا۔ میں نے غسل کیا اور اپنے جسم پر حنوط لگایا اور اپنا ہتھیار ساتھ لیا۔ میں معتقد تھا کہ ام المومنین عائشہ کی ہمراہی نہ کرنا کفر کے برابر ہے۔ میں اس حالت میں بصرہ کے لشکر کی طرف چل پڑا۔ جب خریبہ کے نزدیک پہنچا تو میرے کان میں آواز آئی کہ اے حسن! واپس جاؤ۔ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں اضطراب اور وحشت میں اپنے گھر پلٹ آیا۔

جب دوسرا دن ہوا تو اسی اعتقاد نے پھر مجھے اپنی جگہ سے حرکت دی اور جنگ و قتال کی نیت سے اپنے گھر سے باہر آیا اور شہادت کیلئے تیار ہو کر حنوط و اسلحہ لگا کر چل دیا۔ پھر خریبہ پہنچا، وہی آواز دوبارہ سنی کہ اپنے گھر واپس چلے جاؤ، قاتل و مقتول دونوں دوزخی ہیں۔

امیر المومنین ؑ نے فرمایا: یہ بات صحیح ہے لیکن جانتے ہو کہ وہ آواز کس کی تھی؟ وہ آواز تمہارے بھائی ابلیس کی تھی۔ اس کی بات بھی درست ہے۔ اہل بصرہ اور اصحابِ عائشہ میں سے قاتل و مقتول دونوں دوزخ کی آگ میں داخل ہوں گے۔

حسن بصری نے کہا، اے امیر المؤمنین ؑ میں اس وقت سمجھا کہ یہ گروہ ہلاکت و گمراہی میں ہے۔ (5)

یہ بھی پڑھئے: امیرالمؤمنین علی ؑ نے صوفی حسن بصری کو امت کا سامری قرار دیا

چھٹی حدیث

طوافِ کعبہ کے دوران حضرت امام زین العابدین ؑ نے صوفی حسن بصری کو حجرِ اسود کے پاس کھڑے ہو کر لوگوں کو کہانی سناتے ہوئے دیکھا تو فر مایا:

کیا تُو نے اپنے نفس کو موت پر را ضی کر لیا ہے؟ کیا تجھے اپنے اعمال نامے کا حساب معلوم ہے؟

حسن بصری نے کہا: نہیں۔

امام ؑ نے فرمایا: ’کیا تم نے دارُالعمل کی تیاری کرلی؟

حسن بصری نے کہا: نہیں۔

امام ؑ نے فرمایا: کیا اِس گھر کے سوا اور کوئی پناہ گاہ ہے؟

حسن بصری نے کہا: نہیں۔

امام ؑ نے فرمایا: تو پھر تُم نے لوگوں کو اپنی باتوں میں لگا کر طواف سے کیوں روک رکھا ہے‘؟

یہ فرماکر آپؑ چلے گئے۔

حسن بصری نے کہا : آج تک اس کلام سے زیادہ کسی بات نے مجھ پر اثر نہیں ڈالا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ ان کو جا نتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ یہ امام زین العابدین ؑ ہیں۔

یہ سُن کر حسن بصری نے بے اختیار کہا: بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہے۔ (6)

ساتویں حدیث

ایک صوفی عباد بصری نے حج کے راستے پر امام علی زین العابدینؑ سے ملاقات کی اور طنز کرتے ہوئے کہا:

قَدْ آثَرْتَ الْحَجَّ عَلَى الْجِهَادِ وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ‌ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى‌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ إِلَى آخِرِهَا.

ترجمہ: ’’آپ نے جہاد کے مقابلے میں حج کو ترجیح دی ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: بے شک اللہ نے مؤمنین سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔‘‘

اس کے جواب میں امام علی بن الحسینؑ نے فرمایا:

فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنؑ: فَاقْرَأْ مَا بَعْدَهَا

ترجمہ: ’’اس آیت کے بعد جو کچھ ہے، اسے پڑھو۔‘‘

فَقَالَ‌ التَّائِبُونَ الْعابِدُونَ الْحامِدُونَ‌ إِلَى أَنْ بَلَغَ آخِرَ الْآيَةِ.

ترجمہ: ’’اس شخص نے پڑھا: التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ…توبہ کرنے والے، عبادت گزار، ثناء کرنے والے، ۔ ۔ اور یہاں تک پڑھا کہ آیت کے آخر تک پہنچ گیا۔‘‘

فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هَؤُلَاءِ فَالْجِهَادُ مَعَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ مِنَ الْحَجِّ.

ترجمہ: ’’تب امام علیہ السلام نے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو، تو اس وقت ان کے ہمراہ جہاد کرنا حج سے افضل ہے۔‘‘

وَ رُوِيَ أَنَّهُ علیه السلام قَرَأَ التَّائِبِينَ الْعَابِدِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. (7)

ترجمہ: ’’یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ امام علیہ السلام نے خود اس آیت کی تلاوت کی: وہ توبہ کرنے والے، عبادت گزار، ثناء کرنے والے، سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کی دعوت دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے ہیں اور مومنین کو خوشخبری سنا دیجئے۔‘‘

آٹھویں حدیث

امام محمد باقر ؑ نے صوفی حسن بصری سے کہا:

یاجاہل أہل البصرة! لم أقل فيک إلا ما علمتہ منك، وظہر لي عنك، وإياک أن تقول بالتفويض، فإن الله عز وجل لم يفوض الامر إلى خلقہ وہنا منہ وضعفا، ولا أجبرہم على معاصيہ ظلما. (8)

ترجمہ: ’’اے بصرہ والوں کے جاہل! میں نے تیرے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تجھ سے میرے سامنے ظاہر ہُوا ہے، خصوصاً تمہارا تفویض کا قائل ہونا کہ اللہ نے بندوں کو خلق کیا پھر اُن کے تمام امور اُنہی کے سپرد کردئیے۔ بے شک اللہ عزّوجلّ نے امور کو مکمل طور پر اپنی مخلوق کے سپرد نہیں کیا کہ اس سے کاہلی و کمزوری ظاہر ہو اور نہ ہی اپنی معصیت پر انہیں مجبور کیا کہ ظُلم وسِتم ہو جائے۔‘‘

نویں حدیث

شیخ کلینی معتبر سند کے ساتھ سُدَیر صیرفی سے روایت کی ہے کہ: ایک دن میں مسجد سے باہر آ رہا تھا اور امام باقرؑ مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ حضرتؑ نے میرا ہاتھ پکڑا، کعبہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

ترجمہ: ”اے سُدَیر! لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ آئیں، اس گھر کا طواف کریں، ہمارے پاس آ کر ہماری ولایت کا اقرار کریں۔“

پھر فرمایا:

یا سدیر فاُریک الصادین عن دین الله. ثمّ نظر إلی ابی حنیفه و سفیان الثوری فی ذلک الزمان و هم حلق فی المسجد فقال: هؤلاء الصادّون عن دین الله بلا هدی من الله و لا کتاب مبین. إنّ هؤلاء الأخابث لو جلسوا فی بیوتهم فجال الناس فلم یجدوا أحدا یخبرهم عن دین الله تبارک و تعالی و عن رسوله (ص) حتّی یأتونا فنخبرهم عن الله تبارک و تعالی عن رسوله.

ترجمہ: ”اے سُدَیر! کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں وہ لوگ دکھاؤں جو لوگوں کو دینِ خدا سے روکتے ہیں؟

پھر حضرتؑ نے ابو حنیفہ اور صوفی سفیان ثوری کی طرف دیکھا جو اس وقت میں مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے اور فرمایا:

یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جانب سے ہدایت اور واضح کتاب کے بغیر دینِ خدا سے روکتے ہیں۔ اگر یہ خبیث لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں اور لوگوں کو گمراہ نہ کریں تو لوگ ہماری طرف آئیں گے اور ہم انہیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے علم و آگاہی فراہم کریں گے۔“ (9)

دسویں حدیث

جناب احمد ابن ابی نصر بزنطی صحیح سند کے سا تھ حدیث نقل کرتے ہیں:

قال رجل من أصحابنا للصادق جعفر بن محمّد عليہ السّلام: قد ظہر في ہذا الزمان قوم يقال لہم الصّوفيۃ فما تقول فيہم؟ فقال: إنہم من أعدائنا فمن مال إليہم فہو منہم، وسوف يحشر معہم، وسيكون أقوام يدّعون حبّنا، ويميلون إليہم ويتشبّہون بہم، ويلقّبون أنفسہم بلقبہم ويولون أقوالہم، ألا فمن مال إليہم فليس منا وإنّا منہ برآء، ومن أنكرہم وردّ عليہم كان كمن جاہد الكفار بين يدي رسول اللّہ صلى اللّہ عليہ وآلہ وسلم. (10)

ترجمہ: ’’ایک شخص نے حضرت امام جعفرِ صادق ؑ کی خدمت میں عرض کیا:

آج کل ایک نیا گروہ سامنے آیا ہے جو صوفیا کہلاتے ہیں۔ حضورؑ کا اُن کے متعلق کیا ارشاد ہے؟

امام ؑ نے فرمایا: بے شک یہ لوگ اہلِ بیتِ نبوتؑ کے دشمن ہیں۔ جو شخص ان کی طرف مائل ہو اور ان سے محبت و رغبت رکھتا ہو وہ بھی اُن ہی میں شمار ہو گا اور اُن کے سا تھ ہی محشور ہو گا۔

بہت جلد ایک اور گروہ آئے گا جو ہماری محبت اور دوستی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے باوجود وہ لوگ صوفیوں کی طرف مائل ہوں گے۔ ان کا لباس اور ان کی باتیں انہی جیسی ہوں گی اور وہ صوفیوں کے القاب اپنائیں گے (جیسے واصل باللہ، فانی فی اللہ، انسانِ کامل، عارفِ کامل، وغیرہ) اور ان کے ایسے اقوال کی تاویل کریں گے جو عین کفر اور زندقہ ہوں گے۔ پس وہ ہم میں سے نہیں ہوں گے۔ ہم اُن سے بیزار ہیں۔

جو شخص اُن سے دور ہو جائے اور ان کا انکار کر ے اور اُن کی باتوں کو رد کرے، اُس کا ثواب ایسے شخص کی مانند ہے جس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ جہاد کرنے کا شرف حاصل کیا ہو۔‘‘

گیارہویں حدیث

محدث کلینی نے اپنی کتاب کافی میں امام جعفرِ صادق ؑ کا صوفیوں سے ایک طویل مناظرہ نقل کیا ہے اور اس باب کا عنوان یہ رکھا ہے: دخول الصّوفیۃ علی ابی عبد اللّٰہ علیہ السّلام۔ سفیان ثوری جو ابو ہاشم کوفی کا شاگرد تھا، مدینہ میں رہتا تھا۔ ایک دن اس نے حضرت امام جعفرِ صادق ؑ کو اچھا لباس زیب تن کئے دیکھا تو کہا: ایسا لباس آپ کے لئے مناسب نہیں۔ آپؑ زہد و تقویٰ اختیار کریں اور اپنے آپ کو دنیا سے دور رکھیں۔

یہ سن کر امامؑ نے فر مایا: ’’مگر میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے زمانے اور ماحول میں زندگی گزار رہے تھے جِس پر فقر وفاقہ اور سختی و تنگ دستی چھائی ہوئی تھی۔ عام لوگ زندگی کی ابتدائی چیزوں سے محروم تھے۔ نبی پاکؐ اور ان کے اصحاب کی زندگی کا انداز اُس وقت کی عام زندگی کے حالات سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر آج جِس زمانے میں وسائل زندگی فراہم ہو گئے ہیں اور نعماتِ الٰہی سے بہرہ مند ہونے کے حالات پیدا ہو چکے ہیں، تو لوگوں میں سب سے زیادہ اُن نعمتوں سے بہرہ مند ہونے اور فائدہ اُٹھانے کے سزا وار نیک مومن اور اللہ کے صالح بندے ہیں یا فاسق و بدکار لوگ؟ مسلمان ان نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے یا کافر؟‘‘

سفیان ثَوری امام ؑ کی باتوں کا کوئی جواب نہ دے سکا اور باہر جا کر اپنے دوستوں اور ہم مسلکوں کو ساتھ لے کر امام ؑ کی خدمت واپس آیا۔ انہوں نے مزید کج بحثی کی تو امامؑ نے فرمایا:

’’خدائے متعال فرماتا ہے: وَ الَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَ لَمْ يَقْتُرُوا وَ كانَ بَيْنَ ذلِكَ قَواماً. (11) ’اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں بلکہ ان کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں۔‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے برخلاف فرمایا ہے جس کی طرف تم لوگوں کو اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے (غیروں پر دولت لٹانے اور نذرانے پیش کرنے) کی دعوت دیتے ہو؟ اور جس شخص نے وہ کام کیا جس کی طرف تم لوگوں کو دعوت دیتے ہو، اسے اللہ نے اسراف کرنے والا قرار دیا ہے۔ اور اللہ اپنی کتاب کی ایک اور آیت میں فرماتا ہے: إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ. (12) بے شک وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

یہ گفتگو کافی طولانی ہے۔ آگے چل کر امامؑ نے فرمایا:

’’حضرت سلیمان ؑ بن داؤدؑ کے متعلق مجھے جواب دو کہ کیا انہوں نے خدا تعالیٰ سے ایسے ملک و سلطنت کی دُعا نہیں کی کہ اُن کے بعد پھر کسی دوسرے کونصیب نہ ہو؟ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا ملک عطا بھی فر ما یا۔ حضرت سلیمانؑ نے جو طلب کیا تھا وہ بالکل حق تھا۔ نہ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی مذمت کی اور نہ کوئی مومن مذمت کرتا ہے کہ اُنہوں نے کیوں ایسی حکومت و سلطنت مانگی؟ یہی حال حضرت داؤد ؑ کا ہے، جو حضرت سلیمان ؑ سے پہلے تھے اور ایسا ہی واقعہ حضرت یُوسُفؑ کا ہے، انہوں نے بادشاہِ وقت سے فرمایا کہ خزانہ میرے حوالے کر دے۔ ایسا ہی واقعہ ذُوالقرنین کا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے مشرق و مغرب کی حکومت دے کر اسے ساری دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔‘‘

آخر میں آپؑ نے اس گروہ سے کہا کہ وہ اس غلط راستے کو چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو اسلام کے حقیقی آداب و تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ کریں۔ قرآن کی متشابہ آیات کی تفسیر محکم آیات کے تناظر میں کریں۔ خدا کے اوامر و نواہی اور احادیثِ رسول ؐ میں سمجھ بوجھ حاصل کریں۔ (13)

بارہویں حدیث

مقدس اردبیلی اپنی کتاب حدیقۃ الشیعہ میں جناب احمد بن محمد بزنطی سے صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ اما م علی رضا ؑ نے فرمایا:

من ذكر عندہ الصّوفيۃ ولم ينكرہم بلسانہ وقلبہ، فليس منا، ومن أنكرہم ، فكأنما جاہد الكفار بين يدي رسول اللہ صلى الله عليہ وآلہ. (14)

ترجمہ: ’’جس شخص کے نزدیک صوفیوں کا ذکر ہو اور وہ شخص اپنی زبان اور قلب سے اُن کا اِنکار و ردّ نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص اُن کا انکار اور ردّ کرے اُس کا ثواب ایسے شخص کی مانند ہے جس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ جہاد کرنے کا شرف حاصل کیا ہو۔‘‘

تیرہویں حدیث

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

لا يقول بالتصوف احد الا لخدعۃ او ضلالۃ او حماقۃ و اما من سمّى نفسہ صوفيا للتقيۃ فلا اثم عليہ و علامتہ ان يكتفي بالتسميۃ فلا يقول بشي‌ء من عقائدہم الباطلۃ. (15)

ترجمہ: ”کوئی شخص تصوف کا قائل نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ فریب، جہالت، گمراہی یا حماقت کا شکار ہوتا ہے۔ البتہ اگر کوئی اپنے آپ کو کسی کے شر سے بچانے کے لیے تقیہ کی بنا پر صوفی کہتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ نام کی حد تک صوفی کہلوائے اور ان کے کسی باطل عقیدے کا قائل نہ ہو جائے۔“

چودہویں حدیث

محدث مُقدّس اردبیلی آقائے شیخ مفید کی سند سے حضرت امام علی نقیؑ کا فرمان نقل کرتے ہیں:

کنت مع الہادی علی بن محمد علیہما السّلام فی مسجد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ فاتاہ جماعۃ من اصحابہ ابو ہاشم الجعفری کان رجلا بلیغاً وکانت لہ منزلۃ عظیمۃ عندہ علیہ السّلام ثم دخل المسجد جماعۃ من الصّوفیۃ و جلسوا فی جانبہ مستدیراً واخذ وا بالتہلیل، فقال علیہ السلام:

لا تلفتو بہؤلاء الخداعین، فانہم خلفأ الشّیاطین و مُخرّبو قواعد الدّین یتزہدون لراحۃ الاجسام ویتہجدون لصید الانعام. یتجوعون عمراً حتیٰ یدبخوا للایکاف حمراً لا یہللون الالغرور النّاس، ولا یقللون الغذاء الّالملاء العساس واختلاس قلب دفناس یکلمون النّاس، باملائہم فی الحب و یطرحونہم با ذلالہم فی الجب، اورادہم الرقص والتّصدیۃ واذکارہم التّرنم و التّغنیۃ.

فلا یتبعہم الا لسفہاء و لا یعتقدہم الا الحمقاء فمن ذہب الٰی زیارۃ احد منہم حیاً و میتاً فکانما ذہب الی زیارۃ الشّیطان و عبادۃ الاوثان و من اعان احداً منہم فکانما اعان یزید و معاویۃ و اباسفیان.

قال رجل من اصحابہ: وان کان معترفا بحقوقکم؟ قال فنظر الیہ علیہ السّلام شبہ المغضب وقال علیہ السلام دع ذاعنک من اعترف بحقوقنا لم یذہب فی عقوقنا، اما تدری انہم اخسُّ طوایف الصُّوفیۃ.

والصُّوفیۃ کلہم من مخالفینا و طریقتہم مغایرۃ لطریقتنا و ان ہم الا نصاریٰ اومجوس ہٰذہٖ الامۃ اولیک لا ۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ كَرِہَ الْكَافِرُونَ۔ (سورہ صف، آیت 8۔)“ (16)

ترجمہ: ’’حضرت امام علی نقی ؑ مسجدِ نبوی ؐ میں اپنے اصحاب کے سا تھ تشریف فرما تھے کہ ابو ہاشم جعفری جو آپ ؑ کے اصحاب میں سے فصیح و بلیغ آدمی تھے اور آپ ؑ کے نزدیک عظیم منزلت کے مالک تھے وہ بھی آپ ؑ کے پاس بیٹھے تھے۔ پھر صوفیوں کا ایک گروہ مسجد میں وارد ہُوا اور ایک طرف دائرے کی شکل میں بیٹھ کر تہلیل کا وِرد (لاالہ الَّا اللّٰہ ) کرنے میں مشغول ہو گیا۔ اس موقع پر آپؑ نے فرمایا:

ان دھوکے بازوں کے لئے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھو۔ یہ شیطان کے خلیفے اور فریب کار لوگ ہیں۔ یہ دین کی بنیادوں کو ڈھانے والے ہیں اور جسمانی کام سے فرار کے لیے زہد و تقویٰ کا اظہار کرتے ہیں اور مخلوق کا شکار کرنے کے لیے راتوں کو تہجد پڑھتے ہیں۔ یہ لوگ تب تک بھوکے رہتے ہیں جب تک کسی سرخ اونٹ کو ذبح نہ کر لیں۔ وہ صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے اللہ کی حمد و تہلیل کرتے ہیں۔ وہ کم کھانا اسلئے کھاتے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں کو اغوا کر کے ان کے مال کو ہڑپ کر سکیں۔ وہ پہلے میٹھی باتوں کے ذریعے لوگوں سے پیار سے پیش آتے ہیں اور پھر انہیں حقارت اور ذلت کے گڑھے میں پھینک دیتے ہیں۔ ان کے وظائف دھمال کرنا اور تالیاں پیٹنا ہیں اور ان کے اذکار نغمہ سرائی اور گانے گانا ہیں۔

پس ان کی پیروی صرف بے وقوف لوگ کرتے ہیں، اور ان کے معتقد صرف احمق ہوتے ہیں۔ جو کوئی ان صوفیوں میں سے کسی ایک، خواہ وہ زندہ ہو یا فوت شدہ، کی زیارت کے لئے گیا تو گویا وہ شیطان کی زیارت کے لئے گیا ہے۔ ان کے درباروں پر حاضری بتوں کی عبادت کے مانند ہے۔ جس نے ان میں سے کسی ایک کی مدد کی گویا اس نے یزید، معاویہ اور ابوسفیان کی مدد کی۔

اسی دوران آپ ؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اگر وہ صوفی آپ اہلبیت ؑ کے حقوق و امامت کا معترف ہو؟ امام ؑ نے اس شخص کی طرف غضبناک حالت میں دیکھ کر فرمایا: یہ بات غلط ہے، جو شخص ہمارے حقوق کا معترف ہو وہ ہرگز ہماری مخالفت و نافرمانی نہیں کریگا۔ پھر فرمایا:

تمام کے تمام صوفی ہمارے مخالف ہیں اور انکے طور طریقے ہم اہلبیت ؑ سے الگ ہیں اور یہ اس امت کے مجوسی اور نصاریٰ ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا، اگرچہ کافر لوگ نا پسند ہی کریں۔ (سورہ صف، آیت8)“

پندرہویں حدیث

جناب ابن بایویہ قمی کی کتاب ”قرب الاسناد“ میں ابو ہاشم کوفی کے بارے میں امام حسن عسکری ؑ سے امام جعفر صادق ؑ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ:

اّنه کانَ فاسدُ العقیدةِ جداً و هُوَ الذّی ِابتَدَعَ َمذهَباً یُقالَ لَهُ التَّصَوُفُ وجَعَلَهُ مَفَرّاً لِعَقیدتِهِ الخَبِیثَۀ. (17)

ترجمہ: ”وہ بہت ہی فاسد ذہن والا آدمی تھا اور اسی نے تصوف نامی مذہب ایجاد کیا اور اسے اپنے ناپاک عقیدے کا محور بنایا۔“

سولہویں حدیث

محدّث حُر عاملی صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن عسکری ؑ نے ابو ہاشم جعفری کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

يا أبا ہاشم، سيأتي زمان على الناس وجوہہم ضاحكۃ مستبشرۃ وقلوبہم مظلمۃ منكدرۃ. السنّۃ فيہم بدعۃ والبدعۃ فيهم سنّۃ. المؤمن بينہم محقّر والفاسق بينہم موقّر. أمراؤہم جائرون، وعلمائہم في أبواب الظلمۃ سائرون، أغنياؤہم يسرقون زاد الفقراء، وأصاغرہم يتقدّمون على الكبراء. كلّ جاہل عندہم خبير، وكلّ محيل عندہم فقير. لا يميّزون بين المخلص والمرتاب، ولا يعرفون الضأن من الذئاب.

علمائہم شرار خلق اللّہ على وجہ الأرض لأنّہم يميلون إلى الفلسفۃ والتّصوّف. وأيم اللّہ إنّہم من أہل العدوان والتّحرّف. يبالغون في حبّ مخالفينا ويضلّون شيعتنا وموالينا. فإن نالوا منصبا لم يشبعوا عن الرّشا، وإن خذلوا عبدوا اللّہ على الرّياء. ألا إنّہم قطّاع طريق المؤمنين والدّعاۃ إلى نحلۃ الملحدين. فمن أدركہم فليحذرہم وليصن دينہ وإيمانہ.

ثمّ قال: يا أبا ہاشم، ہذا ما حدّثني أبي عن آبائہ عن جعفر بن محمّد عليہم السّلام وہو من أسرارنا فاكتمہ إلّا عن أہلہ. (18)

ترجمہ: ”اے ابو ہاشم! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اُن کے چہرے ہنستے مسکراتے اور ہشاش بشاش ہوں گے لیکن ان کے دل تاریک اور میلے ہوں گے۔ وہ سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت سمجھیں گے۔ مؤمن ان کے لئے حقیر و خوار ہو گا جبکہ فاسق شخص کی اُن کے یہاں بہت قدر و قیمت ہوگی۔ ان کے حکمران جاہل اور ظالم ہوں گے اور ان کے علماء ظالموں کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے۔ ان کے ثروتمند، فقیر و نادار لوگوں کو لوٹنے والے ہوں گے۔ ان کے کم عمر اور مبتدی لوگ اپنے بزرگوں سے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔ ہر جاہل و نادان ان کے ہاں عالم اور طاقتور ہو گا جبکہ ہر حیلہ باز بھکاری کو وہ مسکین اور نادار سمجھیں گے۔ لوگ خالص دل والے اور شک کرنے والے میں فرق نہیں کر سکیں گے ۔ گویا وہ بھیڑ اور بھیڑئیے کے بیچ فرق نہیں کر سکیں گے۔

اُن کے علماء زمین پر خدا کی بدترین مخلوق ہوں گے کیونکہ وہ فلسفہ اور تصوف کی طرف راغب ہوں گے۔ خدا کی قسم ! یہ ٹیڑھے راستوں کے راہی ہوں گے ۔ وہ ہمارے مخالفین کی محبت میں مبالغے سے کام لیں گے اور ہمارے شیعوں اور موالیوں کو گمراہ کریں گے۔ اگر کوئی عہدہ و منصب اُنہیں مل جائے تو رشوت خوری سے سیر نہیں ہوں گے۔ اور اگر ذلیل و رسوا ہو جائیں تو دکھاوے اور ریا کاری کے لئے عبادت کرنے لگیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ ایسے لوگ مؤمنین کے راستوں کے ڈاکو ہیں۔ وہ الحاد کی طرف بلانے والے ہیں۔ پس جو بھی ایسے لوگوں کو پائے وہ ان سے دوری اختیار کرے اور اپنا دین و ایمان بچائے۔

پھر آپؑ نے فرمایا: اے ابوہاشم! یہ وہ حدیث ہے جو میرے باپ نے اپنے آبأؑ سے اور انہوں نے جعفر بن محمد ؑ سے نقل فرمائی ہے اور یہ ہمارے رازوں میں سے ہے۔ اِس کو چھپاؤ اور صرف اِس کو سمجھنے کی اہلیت رکھنے والے سے بیان کرو۔“

کچھ اہم وضاحتیں

تصوف کی مختصر تاریخ:

”صوفی“ کا لقب نبی ؐ کے زمانے میں مستعمل نہیں تھا۔ صوفیاء کے اپنے دعوؤں کے مطابق بھی یہ نام دوسری صدی ہجری کے آخر میں یا اس کے بھی کچھ عرصے بعد ظاہر ہوا۔ (19) بظاہر جاحظ (متوفیٰ 255 ہجری) وہ پہلا شخص ہے جس نے کتاب ”البیان والتبیین“ میں یہ لفظ استعمال کیا اور سب سے پہلے جس شخص کو اس لقب سے پکارا گیا وہ ابو ہاشم کوفی تھا۔ (20)

عبدالرحمٰن جامی نے سفیان ثوری کا یہ قول لکھا ہے: لو لا ابوہاشم الصوفی ما عرفت دقایق الریاء، ”اگر ابو ہاشم صوفی نہ ہوتا تو مجھے ریا کی باریکیاں معلوم نہ ہوتیں۔“

وہ یہ بھی کہتا ہے: ”مجھے ابو ہاشم صوفی سے ملنے تک یہ پتا نہیں تھا کہ صوفی کیا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے زہد، ورع، نیکو کاری، توکل، تقویٰ اور خدا کی محبت کی راہ پر چلنے والے بڑے بڑے آدمی گزرے۔ لیکن صوفی صرف اسے کہا گیا۔ اس سے پہلے کسی کو صوفی کے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ صوفیوں کیلئے سب سے پہلی جو خانقاہ بنائی گئی وہ شام میں رملہ کے مقام پر تھی۔ اسے ایک مسیحی گورنر نے بنایا تھا۔“ (21)

حدیقۃ الشیعہ کے مصنف مقدس اردبیلی (متوفیٰ 1585ء) کہتے ہیں:

”سب سے پہلے صوفی کہلانے والا شخص ابو ہاشم کوفی تھا، جو راہبوں کی طرح موٹا اونی لباس پہنتا تھا اور عیسائیوں کی طرح خدا کے مخلوق کے اندر حلول کرنے اور اس سے متحد ہونے پر یقین رکھتا تھا۔ عیسائی لوگ حضرت عیسٰی ؑ کیلئے حلول و اتحاد کے قائل تھے مگر اس نے اپنے بارے میں یہ دعویٰ کیا۔“ (22)

متذکرہ بالا دوسری حدیث میں رسول اللہؐ نے صوفیوں کے بارے میں پیشگوئی کی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تصوف ان ؐ کے دور میں نہیں تھا اور وہؐ آنے والے زمانے کے بارے میں لوگوں کو خبردار کر رہے تھے۔

تفصیل کیلئے: آیۃ اللہ العظمیٰ علامہ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب ”جلوۂ حق – تصوف کا ایک مطالعہ“ ڈاؤنلوڈ کریں۔

ابتدائی دور کے صوفیوں میں بعد والوں کی فکر کے مرکزی نظریات کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ نہ نظریۂ وحدتِ وجود اور انسانِ کامل، نہ فنا و بقاء کی باتیں، نہ صحو و سکر یا قبض و بسط، نہ وقت، حال، وجد، ذوق، محو، اثبات، تجلی، محاضره، مکاشفہ، لوائح اور طوالع وغیرہ کا تذکرہ۔ نیز قابلِ غور بات یہ ہے کہ تقریباً تمام مشہور صوفی مشائخ سنی ہیں، یعنی اہلبیت ؑ کے پاک معارف سے محروم رہے۔ حتیٰ کہ شیعوں میں بھی جو صوفی ہوئے ہیں ان کی گمراہی کا سرا بھی کسی نہ کسی سنی شیخ سے جا ملتا ہے۔

ابتدائی دور کے صوفیوں کے آثار میں صرف ترکِ دنیا اور مایوسی کا ایک رجحان نظر آتا ہے جو بنی امیہ کے ظلم و فساد کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ظلم و تشدد سے جب افراد میں دہشت پھیلا کر تبادلۂ خیال کو محدود کیا جاتا رہا تو عقلیں کند ہو گئیں۔ لوگوں نے زبان کا استعمال غلط طریقے سے کر کے الفاظ کے مجازی اور باطنی معنوں کی ایک دنیا بسا لی۔ آہستہ آہستہ یہ ٹیڑھی سوچ ایک خفیہ مکتبِ فکر کی شکل اختیار کر گئی۔ آزادئِ بیان پر پابندی کے سبب جو گوناگوں نفسیاتی نجاستیں پیدا ہوئیں انہیں روحانی مقامات سمجھ کر فخر کیا جانے لگا۔

اسلام مشکل سے مشکل حالات میں بھی عقل کا استعمال ترک کرنے کو جائز نہیں سمجھتا:

وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ. (23)

ترجمہ: ”جو لوگ عقل استعمال نہیں کرتے وہ نجاست میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔“

یہ پلیدی ذہنی نجاست (linguistic fog) ہے۔ اس سے بچنے کیلئے مؤمنین کو یہ حکم دیا گیا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ. (24)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! بے شک مشرکین نجس ہیں، پس وہ مسجد الحرام کے قریب نہ آنے پائیں۔“

عقل سے قرآن کی مراد انسانوں کے مابین تبادلۂ خیال کی صلاحیت ہے:

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ. (25)

ترجمہ: ”جو لوگ بات کو سنتے ہیں پھر اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔“

قرآن مشکلات میں تنقیدی سوچ کا چراغ جلائے رکھنے والوں کو یوں خوشخبری دیتا ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ. (26)

ترجمہ: ”اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کریں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔“

نیز:

اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا. (27)

ترجمہ: ”اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے گا۔“

مقدس اردبیلی کے مطابق صوفی ہندو مت اور یونانی مشرکین سے متاثر ہیں۔ صوفیوں کے عقائد، یعنی وحدتِ وجود، حلول، اتحاد، جبرِ مطلق کا قائل ہونا، تمام ادیان کو برابر کہنا، اصل میں آئمہؑ کے مقام و مرتبے اور ان کے امتیازات کو نظر انداز کرنا ہے۔ وہ صوفیوں کے اعمال، مثلاً شریعت سے بے اعتنائی، کسبِ معاش اور کسبِ علم کو ترک کرنا، ہم جنسی رغبت، ریاضت اور سماع کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ نیز ابن عربی، عبدالرزاق کاشانی اور عزیزالدین نسفی کو کفر کی نجاست میں مبتلا اور زندیق قرار دیتے ہیں۔

حدیقۃ الشیعہ کی نسبت:

جدید دور میں بعض حضرات نے کتاب حدیقۃ الشیعہ کی جناب مقدس اردبیلی سے نسبت کو جھٹلایا ہے۔ تاہم بزرگ شیعہ علماء کی ایک بڑی تعداد نے کہا ہے کہ کتاب ”حدیقۃ الشیعہ“ مقدّس اردبیلی علیہ الرحمہ کی ہی تصنیف ہے۔ جیسے: 1: ملا محمد طاہر قمی (متوفیٰ 1687ء)، 2: شیخ حر عاملی (متوفیٰ 1693ء)، 3: شیخ سلیمان بن عبداللہ محقق بحرانی (متوفیٰ 1709ء)، 4: میرزا عبداللہ آفندی (متوفیٰ 1717ء)، 5: شیخ عبداللہ حاج بن صالح سماہیجی (متوفیٰ 1722ء)، 6: شیخ یوسف بحرانی (متوفیٰ 1772ء)، 7: میرزا حسین نوری (متوفیٰ 1902ء)، 8: شیخ عباس قمی (متوفیٰ 1941ء)۔ (28)

صوفیوں اور تصوف کی مذمت میں آنے والی احادیث فقط حدیقۃ الشیعہ سے ہی نقل نہیں ہوئیں۔ جیسا کہ اس مضمون کے حوالہ جات سے واضح ہے، بہت سی احادیث دوسری کتابوں میں بھی آئی ہیں۔ اسی طرح علامہ باقر مجلسی نے بھی صوفیوں کی مذمت میں آنے والی احادیث کو بحار الانوار کی جلد 11، 15 اور 17 میں جمع کیا ہے۔ مرحوم محدث قمی نے ان میں سے اکثر احادیث کو سفینۃ البحار کی دوسری جلد میں مادہ ”صوف“ کے ذیل میں درج کیا ہے۔

تاہم اگر یہ کتاب جناب مقدس اردبیلی کی تصنیف نہ ہو پھر بھی صفوی دورِ حکومت کے دیندار شیعوں کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دور میں محقق کرکی (متوفیٰ 1533ء) نے المطاعن المجرمیہ، شہیدِ ثانی (متوفیٰ 1559ء) نے السہام المارقۃ، ملا محمد طاہر قمی (متوفیٰ 1687ء) نے تحفۃ الاخیار اور شیخ حر عاملی (متوفیٰ 1693ء) نے اثنا عشریہ کے عنوانات سے تصوف کے جہلِ مرکب کے رد میں کتابیں لکھیں۔

تصوف اور جدید علوم:

قرآن جابجا اہلِ ایمان کو مخلوقات کے بارے میں تحقیق کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسے:

قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ. (29)

ترجمہ: ”کہہ دیجئے: آسمانوں اور زمین میں نظر ڈالو کہ ان میں کیا کیا چیزیں ہیں۔“

اور:

سَنُرِیہِم اٰیٰتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَ فِی اَنفُسِہِم حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُم اَنَّہُ الحَقُّ. (30)

ترجمہ: ”ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں اور خود ان کی ذات میں بھی دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یقینا وہی حق ہے۔“

صوفیاء عقل، تفکر اور پڑھنے لکھنے کے مخالف ہوتے ہیں۔ ان کا گفتگو اور مطالعے کے بجائے کشف، شہود اور خوابوں پر تکیہ کرنا انہیں حقیقی علم سے محروم رکھتا ہے اور جہلِ مرکب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ چنانچہ صوفیوں کے بہت سے نظریات جدید علوم نے رد کر دیئے۔ مثال کے طور پر شہاب الدین سہروردی اور ملا صدرا وغیرہ نے ایٹم کا انکار کیا، جبکہ جدید فزکس اور کیمسٹری کا علم اسی نظریئے پر استوار ہے۔ (31) یہ لوگ اتفاقات کے وقوع پذیر ہونے کے قائل بھی نہ تھے۔ (32) جبکہ جدید دور میں ڈیٹا سائنس بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے جس میں اتفاقی واقعات کے گوناگوں رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صوفیا روشنی کی ترکیب کو بھی نہ سمجھ سکے اور اس کی تشکیک سے خدا کے تنزلات کا قیاس کرتے رہے۔ معاذ اللہ

اکثر نام نہاد عرفاء نے زمین کو ساکن قرار دیا اور سورج کے گرد سیاروں کی گردش کا انکار کیا۔ کششِ ثقل( gravity) سے بھی یہ لوگ ناواقف تھے۔ (33) اسی طرح انہوں نے خارجی قوتوں کے بجائے حرکتِ جوہری کو اشیاء کی حرکت کا سبب بتایا، جو کہ نیوٹن کی تحقیقات سے باطل ثابت ہوا۔

جدید علمِ طب نے بھی نام نہاد عرفا کے کئی اقوال کو باطل ثابت کیا ہے۔ ذہنِ انسانی کے بارے جدید علمِ نفسیات کی تحقیقات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ صوفیاء نفسیات کے رازوں سے آشنا نہیں اور ان کے طریقے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں۔

معیشت اور طاقت کی تقسیم جیسے مسائل پر تو ماضی کے صوفیاء بالکل خاموش ہیں۔

کائنات کی معرفت:

سائنس پڑھ کے ہم خدا کی تنزیہی معرفت (negative theology) حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ معبودِ حقیقی وہ ہے جو مخلوقات کی صفات سے پاک اور منزہ ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کائنات کی مختلف چیزوں پر غور کرنے کے بعد اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔ (34) انسانی جسم کی معرفت بھی کائنات کی معرفت میں شامل ہے۔ تنزیہِ معبود انسان کے ذہن کو پاکیزہ کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ اس میں اخلاقی اوصاف پیدا ہونے اور خود خواہی (narcissism) کے خاتمے کی صورت نکلتا ہے۔ کائنات کی وسعت پر توجہ کرنا ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔

معرفتِ نفس:

نفس کی معرفت سے مراد انسانوں کا آپس میں حسنِ معاشرت کیلئے خدا پر ایمان کا محتاج ہونا ہے۔ خدائے منزہ پر ایمان ہی اخلاقی اقدار کی واحد بنیاد ہے۔ قرآن میں اپنی خواہشاتِ نفس کو معبود بنا لینے سے منع کیا گیا ہے۔ (35) صوفی معرفتِ نفس کے حوالے سے جو کہتے ہیں وہ درست نہیں اور یہ افکار ان کے بد اخلاق ہونے کی بڑی وجہ ہیں۔ ان کا لوگوں سے تبادلۂ خیال نہ کر سکنا ان کو معاشرے میں اخلاقی ذمہ داری کے تعین سے محروم رکھتا ہے۔

حوالہ جات

1۔ امالی شیخِ طوسی، جلد 2، صفحات 342 ,539 ، 152، 37۔

2۔ سفینۃ البحار، جلد 2، صفحہ 58، جلد 5 صفحہ 200 ،طبع جدید۔

3۔ نہج البلاغہ، خطبہ 207۔

4۔ نہج البلاغہ، حکمت 131۔

5۔ احتجاج طبرسی، جلد اول، ترجمہ اردو، صفحات 257، 258، لاہور۔

6۔ مناقبِ ابنِ شہر آشوب، جلد 4، صفحہ 159، طبع جدید، ایران۔

7۔ من لايحضرہ الفقيہ، جلد 2، صفحہ 219، طبع قم، 1413 ہجری۔

8۔ احتجاج طبرسی، جلد 1، صفحہ 178۔

9۔ اصول کافی، جلد 1، صفحہ 392، چاپ بیروت۔

10۔ سفینۃ البحار، جلد 2، صفحہ 57۔

11۔ سورہ فرقان، آیت 67۔

12۔ سورہ اعراف، آیت 31۔

13۔ فروعِ کافی، جلد 5، صفحات 65 تا 70، طبع جدید تہرا ن۔

14۔ حدیقۃ الشّیعہ، صفحہ 563۔

15۔ حدیقۃ الشیعہ، طبع جدید، جلد ‏2، صفحہ 803۔

16۔ حدیقۃ الشیعہ، صفحات 602، 603۔

17۔ شیخ عباس قمی، سفینۃ البحار، جلد 5، صفحہ 198۔

18۔ حدیقۃ الشیعہ، صفحہ 592۔

19۔ ترجمہ رسالہ قشیریہ، صفحہ 7۔

20۔ البیان والتبیین، جلد 1، صفحہ 232۔

21۔ نفحات الانس، صفحہ 31۔

22۔ حدیقۃ الشیعہ، جلد 2، صفحہ 560۔

23۔ سورہ یونس، آیت 100۔

24۔ سورہ توبہ، آیت 28۔

25۔ سورہ زمر، آیت 18۔

26۔ سورہ عنکبوت، آیت 69۔

27۔ سورہ انفال، آیت 29۔

28۔ سفینۃ البحار، جلد 2، صفحہ 57۔

29۔ سورہ یونس، آیت 101۔

30۔ سورہ فصلت، آیت 53۔

31۔ شرح حکمۃ الاشراق سہروردی، صفحہ 233، قاعدہ فی ابطال الجوہر الفرد؛ اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 94، بیروت۔

32۔ اسفار اربعہ، جلد 2، صفحات 253 تا 256 بیروت۔

33۔ اسفار اربعہ، جلد 3، صفحہ 217، بیروت۔

34۔ سورہ انعام، آیت 78۔

35۔ سورہ جاثیہ، آیت 23۔

 

اسی زمرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button